علماے دیوبند کا اپنی عوام سے فریب

علماے دیوبند کا اپنی عوام سے فریب

تحریر: طارق مسعود رسول پوری علماے دیوبند کا اپنی عوام سے فریب

علماے دیوبند کا اپنی عوام سے فریب

مختلف مکاتب فکر کا تقابلی مطالعہ کرنے کے بعد میں یہ بات پورے وثوق کے ساتھ کہ سکتا ہوں کہ واللہ جس قدر دھوکا علماے دیوبند نے اپنی عوام کو دیا ہے۔

شاید ہی امت کے کسی دیگر فرقہ نے دیا ہو
ماضی قریب میں جب میں علماے اہل حدیث کو یہ کہتے سنتا کہ دیوبندیوں کے بھی وہی عقائد ہیں جو اہل سنت (بریلوی) حضرات کے ہیں تو مجھے بڑا عجیب سا لگتا تھا

جس کے بعد میں نے تحقیق شروع کی کہ کیا واقعی دیابنہ کے بھی وہی عقائد ہیں جو اہل سنت کے ہیں آپ یقین جانئے اہل دیوبند کی کتب اور ان کے متنازع اکابر کا مطالعہ کرنے کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ کتابوں کی دنیا اور ہے اور بابوں کی دنیا اور

اکابر دیوبند کی کتب کا مطالعہ کرنے کے بعد منکشف ہوا کہ ان کی کتابوں میں بھی وہی عقائد موجود ہیں جن کی بنیاد پر یہ اہل سنت پر شرک و بدعات کا راگ الاپتے ہوئے عوام دیوبند کو مامو بناتے ہیں اور مسلک حق اہل السنۃ و الجماعۃ سے متنفر کرتے ہیں

عوام دیوبند کو یہ نہی بتایا جاتا کہ جن معمولات اہل سنت کی بنیاد پر ہم بریلویوں کو بدعتی و مشرک کہتے ہیں یہ معمولات عصر حاضر کی ایجاد نہی بلکہ ان کے اکابر کے دور میں بھی تھے

لیکن کیا اکابر دیوبند میں سے کسی نے کبھی کسی اہل سنت عالم کو بدعتی یا مشرک کہا تھا ؟

خود احمد رضا خان فاضل بریلوی جن کو تم بدعات کا موجد قرار دیتے ہوے  اشرف علی تھانوی نے ان کو بدعتی کہا ؟
جب کہ فاضل بریلوی تھانوی کی تکفیر تک کرتے تھے

آج میں عوام دیوبند کی عدالت میں اپنا مقدمہ رکھتا ہوں اور یہ ثابت کرتا ہوں کہ جو آپ کو محافل و مجالس میں یہ سنایا جاتا ہے کہ بریلوی حضرات فاتحہ کرتے ہیں, مزاروں پر جاتے ہیں, اولیا سے تبرک حاصل کرتے ہیں

غیر اللہ سے مدد مانگتے ہیں, نبی کے لیے غیب مانتے ہیں, یا رسول اللہ کہتے ہیں اس لیے ان سے ہمارا جھگڑا ہے یہ محض فریب ہے

حقیقت یہ ہے کہ آپ کے اکابر دیوبند کے بھی یہی نظریات ہیں جو اہل بریلی کے ہیں
سوال اس بات کا نہیں کہ یہ صحیح ہیں یا غلط سوال یہ ہے کہ جب ان نظریات کی بنیاد پر تم بریلوی حضرات کو بدعتی و مشرک کہتے ہو تو اپنے ان اکابر کے بارے میں کیا کہو گے جو بعینہ یہی نظریات رکھتے ہیں کیا وہ بھی مشرک ہوں گے؟

آئیے چند مثالیں آپ کے سامنے رکھتا ہوں جن سے آپ خود اندازہ لگا سکتے کہ عوام دیوبند کو کس قدر فریب دیا گیا اور ان سے کس طرح حق کو چھپایا گیا

استعانت بغیر اللہ 

عوام دیوبند کو استعانت بغیر اللہ کے نام پر دھوکا دیا جاتا ہے کہ بریلوی حضرات غیر اللہ سے مدد مانگتے ہیں اس لیے ان سے ہمارا جھگڑا ہے وہ مشرک ہیں

حالاں کہ ان کے اکابر بھی استعانت بغیر اللہ کرتے تھے
چناں چہ اشرف علی تھانوی دیوبندی لکھتے ہیں

’’دستگیری کیجئے میرے نبی

کشمکش میں تم ہی ہو میرے نبی

جُز تمھارے ہے کہاں میری پناہ

فوج کلفت مجھ پہ آ غالب ہوئی

ابن عبداللہ زمانہ ہے خلاف

اے مرے مولا خبر لیجئے مری‘‘

(نشرالطیب فی ذکر النبی الحبیب ص 194)

اس پر ایک چھوٹا سا سوال میرا عوام دیوبند سے ہے کہ کیا علماے دیوبند اشرف علی تھانوی کو مشرک قرار دینے کی جسارت کریں گے ؟

کیوں کہ وہ بھی غیر اللہ سے مدد مانگتے ہیں اور آپ کا قاعدہ کلیہ ہے کہ استعانت بغیر اللہ مطلقا شرک ہے

مزید آگے چلئے اکابر دیوبندیوں کے پیر حاجی امداداللہ نے اپنے پیر نورمحمد جھنجھانوی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا

آسرا دنیا میں ہے ازبس تمہاری ذات کا

تم سوا اوروں سے ہرگز کچھ نہیں ہے التجا

بلکہ دن محشر کے جس وقت قاضی ہو خدا

آپ کا دامن پکڑ کر کہوں گا برملا

اے شہ نورمحمد وقت ہے امداد کا‘‘

(شمائم امدادیہ ص 83، 84 وامدادالمشتاق ص 116 فقرہ: 288، دوسرا نسخہ ص 121، 122
مذکورہ اشعار میں حاجی صاحب استعانت بغیر اللہ کر رہے ہیں کیا اہل دیوبند حاجی صاحب کو بھی مشرک کہیں گے؟

واضح رہے یہ وہی مہاجر مکی ہیں جن کے بارے میں اشرف علی تھانوی نے لکھا ہے

حضرت صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے وہی عقائد ہیں جو اہل حق کے ہیں۔

(امدادالفتاویٰ ج 5 ص 270) نیز دیکھئے خطبات حکیم الاسلام (ج 7 ص 206)

اس کا مطلب یہ نکلا کہ جس طرح حاجی امداد اللہ استعانت بغیر اللہ کا عقیدہ رکھتے تھے اشرف علی تھانوی کا بھی وہی عقیدہ تھا اگر ایسا نہی تو پھر کیا حاجی صاحب کو مشرک کہنے کی جسارت کریں گے آپ؟

یا علی مشکل کشا 

اگر کوئ سنی حضرت علی کو مشکل کشا کہتا ہے تو دیابنہ کی فتوی مشینیں حرکت میں آ جاتی ہیں لیکن آئیے ان کے عبد الحمید سواتی دیوبندی, مولانا محمد عثمان کے بارے میں کسی کتاب فوائد عثمانی سے نقل کرتے ہوئے کیا لکھتے ہیں

’’حضرت خواجہ مشکل کشا سیدالاولیاء سندالاتقیاء زبدۃالفقہاء راس الفقہاء رئیس الفضلاء شیخ المحدثین قبلۃالسالکین امام العارفین برہان المعرفۃ شمس الحقیقہ فریدالعصر وحیدالزماں حاجی الحرمین الشریفین مظہرفیض الرحمن پیردستگیر حضرت مولانا محمدعثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘‘

(فیوضات حسینی /تحفہ ابراہمیہ ص 68)

آپ ملاحظہ فرمائیں اگر کوئ سنی حضرت علی کو مشکل کشا کہے تو یہ اس کو مشرک قرار دیتے ہیں لیکن خود اپنے مولانا کو مشکل کشا بھی کہتے ہیں اور دستگیر بھی

کیا یہ علماے دیوبند کا مکر و فریب نہیں؟

مسئلہ علم غیب 

علم غیب کے نام پر بھی عوام کو یہ دھوکا دیا جاتا ہے کہ غیب صرف اللہ جانتا ہے غیر اللہ کے لئے علم غیب ماننا شرک ہے

لیکن عوام کو نہی بتایا جاتا کہ ہمارے اشرف علی تھانوی بھی نبی کریم کے لئے غیب مانتے تھے یہ بات الگ ہے کہ بعض کے قائل تھے مگر غیب تسلیم تو کیا

لہذا جس طرح غیر اللہ کے لئے کل غیب (بنسبت مخلوق) شرک ہے بعض غیب بھی شرک ہونا چاہئے بلکہ تھانوی صاحب نے تو زید و عمرو بلکہ جانور و پاگل کے لئے بھی غیب مانا ہے لھذا جو نبی کے لئے غیب مانے وہ مشرک اور جو جانوروں, پاگلوں کے لئے غیب مانے وہ موحد !۔

واہ کیا دوہرا رویہ ہے!۔

وہیں عوام کو یہ نہی بتایا جاتا کہ بریلویوں سے ہمارا اختلاف نفس غیب میں نہی بلکہ اختلاف تو محض کلیت و بعضیت کا ہے

جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اہل سنت بھی نبی کے لیے کل غیب نہیں مانتے اگر بعض اوقات کل بولا بھی جاتا ہے تو اس سے مراد بنسبت مخلوق ہوتا ہے نہ کہ خالق کے مقابل

دیوبندیوں کا بعض علم غیب کا عقیدہ ملاحظہ ہو

اشرف علی تھانوی دیوبندی لکھتے ہیں

آپ کی ذاتِ مقدسہ پر علمِ غیب کا حکم کیا جانا اگر بقولِ زید صحیح ہو تو دریافت طلب یہ امر ہے کہ اس غیب سے مراد بعض غیب ہے یا کل غیب؟۔

اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو اس میں حضو ر ﷺ کی کیا تخصیص ہے ایسا علمِ غیب تو زیدو عمر و بلکہ ہر صبی و مجنون بلکہ جمیع حیوانات وبہائم کے لیے  بھی حاصل ہے ۔

کیوں کہ ہر شخص کو کسی نہ کسی ایسی بات کا علم ہوتا ہے جو دوسرے شخص سے مخفی ہے تو چاہیے کہ سب کو عالم الغیب کہا جاوے۔

(حفظ الایمان ص13، دوسرا نسخہ ص 116 نیز دیکھئے الشہاب الثاقب ص 98)

ندا یا رسول اللہ 

شاید ہی آپ نے کسی دیوبندی کو یا رسول اللہ کہتے سنا ہو کیوں کہ ان کو یہ دھوکا دیا جاتا ہے کہ یا رسول اللہ کہو گے تو مشرک ہو جاؤ گے۔

اگر کوئی ذی فہم دیوبندی ان سے کسی صحابی یا بزرگ کے متعلق سوال کرنے لگے کہ وہ بھی تو یا رسول اللہ کہتے تھے تو یہ اپنے مکر پر پردہ ڈالتے ہوئے اس کو لالی پوپ دینے کی کوشش کرتے ہیں

کہ نہیں نہیں یا رسول اللہ کہ سکتے ہیں مگر اس میں استعانت کا تصور نہ کیا جائے

چلئے آپ کے اسی دعوی پر ایسا حوالہ پیش کرتا ہوں جس میں نداء یا رسول اللہ بھی ہے اور استعانت بھی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا آپ اپنے اس فریب پر عوام دیوبند سے معافی مانگیں گے؟

لیجئے آپ کے اس دعوے پر بھی حوالہ پیش خدمت ہے

حاجی امداد اللہ مہاجر مکی, سیدنا رسول اللہ ﷺ کے بارے میں لکھتے ہیں 

’’یارسول کبریا فریاد ہے یا محمدؐ مصطفی فریاد ہے

آپ کی امداد ہو میرا یانبیؐ حال ابتر ہوا فریاد ہے

سخت مشکل میں پھنسا ہو ں آج کل

اے میرے مشکل کشا فریاد ہے

(کلیات امدادیہ ص 90، 91)

مذکورہ اشعار میں نداء یا رسول اللہ بھی ہے
استعانت بھی ہے
اور مشکل کشا کے الفاظ بھی ہیں

کیا آپ کی نظر میں حاجی امداد اللہ مشرک ہیں ؟

اگر نہیں تو پھر اسی عمل کی بنیاد اہل بریلی کو مشرک کیوں کہتے ہو؟

 مزارات اولیا  عوام دیوبند کو یہ درس دیا جاتا ہے کہ مزارات پر جانا ان سے استبراک کرنا شرک و بدعت ہے

مگر آئیے ان کے اپنے گھر کی خبر لیتے ہیں

اشرف علی تھانوی دیوبندی نے لکھا ہے

میں (راوی ملفوظات) حضرت کی خدمت میں غذا ئے روح کا وہ سبق جو حضرت شاہ نورمحمد صاحب کی شان میں ہے، سنارہا تھا۔

جب اثر مزار شریف کا بیان آیا آپ نے فرمایا کہ میرے حضرت کا ایک جولاہا مرید تھا بعد انتقال حضرت کے مزار شریف پر عرض کیا کہ۔

حضرت میں بہت پریشان اور روٹیوں کو محتاج ہوں کچھ دستگیری فرمائیے حکم ہوا کہ تم کو ہمارے مزار سے دو آنے یا آدھ آنہ روز ملا کرے گا۔

ایک مرتبہ میں زیارت مزار کوگیا وہ شخص بھی حاضر تھا اس نے کل کیفیت بیان کرکے کہا کہ مجھے ہر روز وظیفہ پائیں قبر سے ملاکرتا ہے (حاشیہ) قولہ: وظیفہ مقررہ، اقول: یہ منجملہ کرامات کے ہے 12۔

(امداد المشتاق ص 117 فقرہ: 290، دوسرانسخہ ص 123)

آپ نے ملاحظہ فرمایا یہ اپنے بزرگوں سے تبرک حاصل کریں تو موحد اور سنی اولیاء کرام سے تبرک حاصل کریں تو مشرک !۔

لہذا اب عوام دیوبند کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کیا آپ کو یہ سب بتایا جاتا ہے یا گول مٹول کرکے گھمایا جاتا ہے کہ نہیں ان کا یہ ارادہ نہی تھا وہ مطلب نہیں تھا

میں سمجھتا ہوں کہ جو مندرجہ بالا حوالاجات میں نے پیش کئے ہیں وہ اپنے مفہوم میں صریح ہیں کسی تاویل کے محتاج نہیں اب یہ فیصلہ آپ کو کرنا ہے کہ آپ کو اب بھی مکر و فریب کی دنیا میں رہنا ہے یا اہل حق کے ساتھ چلنا ہے

نوٹ : یہ کہ کر اب کوئں فریب نہ دے کہ مذکورہ حوالاجات غلط ہو سکتے ہیں میں نے پوری تحقیق کے ساتھ تحریر کئے ہیں آپ خود تلاش کر سکتے ہیں

تحریر: طارق مسعود رسول پوری

ان مضامین کو بھی پڑھیں

غیر مقلد وہابیہ اور کفر کلامی

نماز و تبلیغ کے نام پر دیوبندیوں کے ساتھ

 تکفیر دہلوی اور علماے اہل سنت و جماعت

بدعتی اور بد مذہب کی اقتدا میں نماز کا حکم

گمراہ کافرفقہی وکافر کلامی کی نمازجنازہ

ہندی مضامین کے لیے کلک کریں 

 

1 thought on “علماے دیوبند کا اپنی عوام سے فریب”

  1. آصف رضا
    ہر خاص و عام دیوبندی کو چاہیے کہ وہ اس تحریر کو ضرور پڑھیں
    کیوں کہ آنکھیں کھول دینے والی تحریر ہے
    اور بہت ہی عمدہ طریقے سے حقیقت حال کو بیان کیا گیا ہے

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top