عید الفطر اسلام کا عظیم الشان تہوار ہے

عید الفطر اسلام کا عظیم الشان تہوار ہے

از علامہ  محمد غفران رضا قادری رضوی عیدالفطر اسلام کا عظیم الشان تہوار ہے

عیدالفطر اسلام کا عظیم الشان تہوار ہے

 

قارئین کرام !  ہم اپنی بات کا آغاز اس ماہ مبارک کی وجہ تسمیہ اور اس کےفضائل ومناقب سے کرتے ہیں۔ جس کی پہلی تاریخ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے محبوب حضور رحمۃ للعالمین سیئد الانبیاء والمرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے صدقے میں یہ عظیم دن تہوار کی شکل میں عطا فرمایا جس کو ہم عیدالفطر کے مبارک نام سے جانتے ہیں۔ عید الفطر کے فضائل و مسائل، اور اس ماہ مبارک کے نفلی روزوں کے فضائل، اور اس کی کچھ اہم تاریخوں کا ذکر کریں گے آپ کی بارگاہ میں گزارش ہے کہ اپنا قیمتی وقت نکال کر مضمون مکمل ضرور پڑھیں۔ 


شوال کی وجہ تسمیہ


اسلامی سال کے دسویں مہینے کا نام شوال المکرم ہے۔ اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ یہ ”شَول ”سے ماخوذ ہے جس کا معنی اونٹنی کا دُم اٹھانا (یعنی سفر اختیار کرنا) ہے۔ اس مہینہ میں عرب لوگ سیر و سیاحت اور شکار کھیلنے کے لئے اپنے گھروں سے باہر چلے جاتے تھے۔ اس لئے اس کا نام شوال رکھا گیا۔


شوال المکرم کی پہلی تاریخ کو عید الفطر منائی جاتی ہے جو اسلام کا عظیم الشان تہوار ہے


اس مہینہ کی پہلی تاریخ کو عید الفطر ہوتی ہے جس کو یوم الرحمۃ بھی کہتے ہیں ۔ کیونکہ اس دن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر رحمت فرماتا ہے۔ اور اسی روز اللہ تعالیٰ نے شہد کی مکھی کو شہد بنانے کا الہام کیا تھا۔ اور اسی دن اللہ تعالیٰ نے جنت پیدا فرمائی۔ اور اسی روز اللہ تبارک و تعالیٰ نے درختِ طوبیٰ پیدا کیا۔ اور اسی دن کو اللہ عزوجل نے سیدنا حضرت جبرائیل علیہ الصلوٰۃ والسلام کو وحی کے لئے منتخب فرمایا۔ اور اسی دن میں فرعون کے جادوگروں نے توبہ کی تھی۔ (فضائل ایام و الشہور ، صفحہ ٤٤٣،غنیہ الطالبین صفحہ٤٠٥، مکاشفۃ القلوب صفحہ٦٩٣)۔

اور اسی مہینہ کی چوتھی تاریخ کو سید العالمین رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نجران کے نصرانیوں کے ساتھ مباہلہ کےلئے نکلے تھے اور اسی ماہ کی پندرہویں تاریخ کو اُحد کی لڑائی ہوئی۔ جس میں سید الشہداء حضرت امیر حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ شہید ہوئے تھے اور اسی ماہ کی پچیس تاریخ سے آخرِ ماہ تک جتنے دن ہیں وہ قوم عاد کے لئے منحوس دن تھے جن میں اللہ جل شانہ، نے قوم عاد کو ہلاک فرمایا تھا۔ (فضائل ایام والشہور صفحہ ٤٤٤، بحوالہ عجائب المخلوقات صفحہ ٤٦)۔    

  شوال کی فضیلت
دین اسلام دین کامل و اکمل ہے۔ ہمارا دین ہمیں ماں کی گود سے لے کر گور تک زندگی کے ہر مرحلہ کے لئے کافی و وافی اور شافی ہدایات سے نوازتا ہے۔ اسی طرح دین اسلام نے اسلامی، روحانی اور معاشرتی تہوار کے منانے کے انداز اور طور طریقے کے علاوہ اس کے حدود و قیود  بیان فرمادی ہیں۔ ذیل میں ملت اسلامیہ کے عظیم الشان روحانی و معاشرتی تہوار ’’عیدالفطر‘‘ کی بابت عظمت و فضیلت اور فلسفہ کے علاوہ دیگر احکام پر تفصیل سے بات کی جائے گی۔


لفظ ’’عید‘‘ کا معنی و مفہوم
’’عید‘‘ کا لفظ ’’عود‘‘ سے مشتق ہے، جس کا معنی ’’لوٹنا‘‘ اور ’’خوشی‘‘ کے ہیں کیونکہ یہ دن مسلمانوں پر بار بار لوٹ کر آتا ہے اور ہر مرتبہ خوشیاں ہی خوشیاں دے جاتا ہے، اس لئے اس دن کو ’’عید‘‘ کہتے ہیں۔
عید کا معنی و مفہوم بیان کرتے ہوئے حضرت امام راغب اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 502ھ) رقمطراز ہیں: ’’عید‘‘ لغت کے اعتبار سے اس دن کو کہتے ہیں جو بار بار لوٹ کر آئے اور اصطلاح شریعت میں ’’عیدالفطر‘‘ اور ’’عیدالاضحی‘‘ کو عید کہتے ہیں اور یہ دن شریعت میں خوشی منانے کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔(المفردات، ص352) (بعض علماءکرام کے اقوال کی روشنی میں عید کی وجہ تسمیہ )۔


پہلا قول۔۔کہ عید کو عید اس لئے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس دن اپنے بندوں کی طرف فرحت و شادمانی باربار عطا کرتاہے یعنی عید اور عود ہم معنی ہیں ۔


دوسراقول۔۔ عید کے دن اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندہ کو منافع، احسانات اور انعامات حاصل ہوتے ہیں یعنی ” “لفظ “عید “عوائد سے مشتق ہے اور عوائد کے معنی ہیں منافع کے یا عید کے دن، بندہ چونکہ گریہ و زاری کی طرف لوٹتا ہے اور اس کے عوض اللہ تعالیٰ بخشش و عطا کی جانب رجوع فرماتا ہے۔  


تیسرا قول۔۔۔ اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ بندہ اطاعت الٰہی سے اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کرتا اور فرض کے بعد سنت کی طرف پلٹتا ہے، ماہ رمضان کے روزے رکھنے کے بعد ماہ شوال کے چھ روزوں کی طرف متوجہ ہوتا ہے اسلئے اس کو عید کہتے ہیں۔


چوتھا قول۔۔ عید کو اس لئے عید کہا گیا ہے کہ اس دن مسلمانوں سے کہا جاتا ہے (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) کہ اب تم مغفور ہو کر اپنے گھروں اور مقامات کو لوٹ جاؤ۔پانچواں قول۔۔ عید اس لئے کہا گیا کہ اس میں وعدہ و وعید کا ذکر ہے ، باندی اور غلام کی آزادی کا دن ہے، حق تعالیٰ اس دن اپنی قریب اور بعید مخلوق کی طرف توجہ فرماتا ہے ، کمزور و ناتواں بندے اپنے رب کے سامنے گناہوں سے توبہ اور رجوع کرتے ہیں ۔ (غنیہ الطالبین صفحہ٤٠٤ اور ٤٠٥)۔
عیدالفطر‘‘ کی وجہ تسمیہ
یکم شوال المکرم کو عیدالفطر کہنے کی وجہ یہ ہے کہ افطار اور فطر ہم معنی ہیں۔ جس طرح ہر روزہ کا افطار غروب آفتاب کے بعد کیا جاتا ہے اسی طرح رمضان المبارک کے پورے مہینے کا افطار اسی عید سعید کے روز ہوتا ہے۔ اس لئے اس یوم مبارک کو عید الفطر کہتے ہیں۔

شبِ عید کی فضیلت         شب عید اور ہم
ہمارے ہاں تو شب عید یعنی چاند رات گھر سے باہر گلیوں اور بازاروں سے گزاری جاتی ہے شاپنگ مالوں کپڑوں کی تیاریوں میں کھیل کود میں اس کا احساس تک نہیں ہوتا کہ آج کی شب کتنی عظمت شان و شوکت قدر و منزلت رحمت و مغفرت خیر وبرکت والی ہے۔ آیۓ کتاب وسنت کی روشنی میں اس عظیم رات کی عظمت تلاش کرتے ہیں چنانچہ احادیثِ نبوی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم میں یکم شوال کی شب (شبِ عید) جسے عرفِ عام میں چاند رات کہا جاتا ہے، اس کی بہت زیادہ فضیلت اور عظمت بیان ہوئی ہے۔


عیدالفطر درحقیقت یوم الجائزہ اور یوم الانعام ہے کیونکہ اس دن اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے بندوں کو انعام و اکرام، اجرو ثواب اور مغفرت و بخشش کا مژدہ سناتا ہے۔ جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا


’’جب عیدالفطر کی رات آتی ہے تو اس کا نام آسمانوں پر لیلۃ الجائزہ (یعنی انعام و اکرام کی رات) لیا جاتا ہے اور جب عید کی صبح ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کو تمام شہروں میں بھیجتا ہے، وہ زمین پر آکر تمام گلیوں اور راستوں پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور ایسی آواز سے (جسے جنات اور انسانوں کے علاوہ ہر مخلوق سنتی ہے) پکارتے ہیں: اے امت محمدیہ( صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم)! اُس ر ب کریم کی بارگاہ کی طرف چلو جو بہت زیادہ عطا فرمانے والا ہے اور بڑے سے بڑے قصور کو معارف فرمانے والا ہے‘‘۔(الترغيب والترهيب)۔
ایک اور روایت میں ہے ’جس نے عید کی رات طلب ثواب کے لئے قیام کیا، اس کا دل اس دن نہیں مرے گا جس دن باقی لوگوں کے دل مرجائیں گے‘‘۔(سنن ابن ماجه)۔


عید الفطر خوشی کا دن ہے
عید سعید خوشی کا یہ دن مسلمانوں کا عظیم اور مقدس مذہبی اورمعاشرتی تہوار ہے جو ہر سال یکم شوال المکرم کو انتہائی عقیدت و احترام، جوش و جذبے اور ذوق و شوق سے منایا جاتا ہے۔یہ مبارک مہینہ وہ ہے کہ جو حج کے مہینوں کا پہلا مہینہ ہے (یعنی حج کی نیت سے آغاز ِسفر) اسے شَہْرُ الْفِطْر بھی کہتے ہیں اس کی پہلی تاریخ کو عید الفطر ہوتی ہے ۔ جس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو بخشش کا مژدہ سناتا ہے۔

جیسا کہ حدیث شریف میں ہے۔ اِذَاکَانَ یَوْمُ عِیْدِہِمْ یَعْنِیْ یَوْمَ فِطْرِہِمْ بَاہـٰی بِہِمْ مَلَائِکَتَہ، فَقَالَ مَاجَزَآءُ اَجِیْرٍ وَفّٰی عَمَلَہ، قَالُوْرَبَّنَا جَزَآءُ ہ، اَنْ یُّوَفّٰی اَجْرُہ، قَالَ مَلَائِکَتِیْ عَبِیْدِیْ وَاِمَائِیْ قَضَوْ فَرِیْضَتِیْ عَلَیْہِمْ ثُمَّ خَرَجُوْا یَعُجُّوْنَ اِلَی الدُّعَآءِ وَ عِزَّتِیْ وَجَلَالِیْ وَکَرَمِیْ وَ عُلُوِّیْ وَارْتِفَاعِ مَکَانِیْ لَاُجِیْبَنَّہُمْ فَیَقُوْلُ ارْجِعُوْا قَدْغَفَرْتُ لَکُمْ وَ بدَّلْتُ سَیِّاٰتِکُمْ حَسَنَاتٍ قَالَ فَیَرْجِعُوْنَ مَغْفُوْرًا لَّہُمْ ۔ رواہ البیہقی فی شعب الایمان (مشکوٰۃ صفحہ ١٨٣)۔

جب عید کا دن آتا ہے یعنی عید الفطر کا دن ۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے کہ اس مزدور کی کیا مزدوری ہے جس نے اپنا کام پورا کیا ہو ۔ فرشتے عرض کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار اس کی جزا یہ ہے کہ اسے پورا اجر دیا جائے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ۔ اے میرے فرشتو! میرے بندوں اور باندیوں نے میرے فریضہ کو ادا کردیا ہے پھر وہ (عیدگاہ کی طرف) نکلے دعا کیلئے پکارتے ہوئے ۔ اور مجھے اپنی عزت و جلال اور اکرام اور بلندی اور بلند مرتبہ کی قسم میں ان کی دعا قبول کروں گا ۔

پس فرماتا ہے اے میرے بندو! لوٹ جاؤ میں نے تمہیں بخش دیا۔ اور تمہاری برائیاں نیکیوں سے بدل دیں ۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگ اس حال میں واپس لوٹتے ہیں کہ ان کی بخشش ہوچکی ہوتی ہے۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ، سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس شخص کو جس نے ماہِ رمضان میں روزے رکھے، عید الفطرکی رات میں پورا پورا اجر عطا فرمادیتا ہے اورعید کی صبح فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ زمین پر جاؤ اور ہر گلی، کوچہ اور بازار میں اعلان کردو (اس آواز کو جن و انس کے علاوہ تمام مخلوق سنتی ہے) ۔

کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے امتیوں! اپنے رب کی طرف بڑھو وہ تمہاری تھوڑی نماز کو قبول کرکے بڑا اجر عطا فرماتا ہے اور بڑے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے پھر جب لوگ عید گاہ روانہ ہوجاتے ہیں اور وہاں نماز سے فارغ ہوکر دعا مانگتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس وقت کسی دعا اور کسی حاجت کو رد نہیں فرماتا اور کسی گناہ کو بغیر معاف کئے نہیں چھوڑتا اور لوگ اپنے گھروں کو ”مغفور” ہو کر لوٹتے ہیں ۔ (غنیۃ الطالبین صفحہ ٤٠٥)۔ 

عید انبیاء ماسبق (علیہم السلام) کی مستقل روایت
اگر تاریخ امم سابقہ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات اظہر من الشمس کی طرح روشن ہوتی ہے کہ اسلام سے قبل ہر قوم اور ہر مذہب میں عید منانے کا تصور موجود تھا۔ ان میں سے بعض کا ذکریوں ملتا ہے
ابوالبشر حضرت سیدنا آدم علیہ السلام کی توبہ کو جس دن اللہ رب العزت نے قبول فرمایا۔ بعد میں آنے والے اس دن عید منایا کرتے تھے۔

جدالانبیاء حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی امت اس دن عید مناتی تھی جس دن حضرت حضرت ابراہیم علیہ السلام کو نمرود کی آگ سے نجات ملی تھی۔اسی طرح حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی امت اس دن عید مناتی تھی جس دن انہیں فرعون کے ظلم و ستم سے نجات ملی تھی۔حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی امت اس روز عید مناتی تھی جس روز آسمان سے اُن کے لئے مائدہ خوان نعمت نازل ہوا تھا۔الغرض عید کا تصور ہر قوم، ملت اور مذہب میں ہر دور میں موجود رہا ہے لیکن عید سعید کا جتنا عمدہ اور پاکیزہ تصور ہمارے دین اسلام میں موجود ہے ایسا کسی اور دین میں نہیں۔

عید الفطر اسلام کا عظیم الشان تہوار ہے

عید منانے کا اسلامی طریقہ  ہم عید کس طرح منائیں؟


احادیث مبارکہ میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے سب کچھ بیان فرمادیا ہے۔ ذیل میں اس سلسلہ میں چند روایات حوالہ قرطاس کی جاتی ہیں


عید کی نماز کے لئے پیدل چلنا سنت ہے
حضرت علی المرتضیٰ کرم ﷲ تعالیٰ وجہہ الکریم نے فرمایا نماز عید کے لئے پیدل چلنا اور نماز سے پہلے کچھ کھالینا سنت ہے۔(جامع ترمذی شریف)۔


عید کی نماز خطبہ سے پہلے
حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ عیدالفطر کی نماز پڑھی ہے۔ یہ سب حضرات خطبہ سے پہلے نماز پڑھتے اور بعد میں خطبہ دیتے تھے۔(صحيح مسلم/ صحيح بخاری)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عیدالفطر کی نماز پڑھی۔ پہلے آپ نے نماز پڑھی بعد میں خطبہ دیا۔جب آپ خطبہ سے فارغ ہوگئے تو نیچے اترے اور عورتوں کی طرف آئے پھر انہیں نصیحت فرمائی۔ آپ اس وقت حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے ہاتھ کا سہارا لئے ہوئے تھے۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اپنا کپڑا پھیلا رکھا تھا جس میں عورتیں صدقہ ڈال رہی تھیں۔(صحيح البخاری/ صحيح مسلم)۔

نوٹ ۔ دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں عورتوں کا مسجد جانا عید گاہ جانا جائز تھا دور حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فتنہ وفساد کی وجہ سے بند کر دیا گیا۔


نماز عید سے پہلے غسل کرنا سنت ہے
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عیدالفطر کے روز عید گاہ میں جانے سے پہلے غسل کیا کرتے۔(موطا امام مالک)۔


عیدالفطر میں نماز عید سے پہلے کچھ کھا پی لینا سنت ہے
حضرت عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضورنبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم عیدالفطر کے دن کھائے پئے بغیر عیدگاہ کی طرف تشریف نہ لے جاتے اور عیدالاضحی میں نماز سے پہلے کچھ تناول نہ فرماتے۔(جامع ترمذی شریف)۔


عید گاہ کی طرف آتے جاتے راستہ بدلنا سنت ہے
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم عیدگاہ کی طرف ایک راستہ سے تشریف لے جاتے اور دوسرے راستے سے واپس تشریف لاتے تھے۔(جامع ترمذی شریف)۔


عید کے دن اپنی خوشیوں کا اظہار کرنا

 حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو میرے پاس انصار کی دو لڑکیاں وہ اشعار گا رہی تھیں جو انصار نے بُعاث کی جنگ کے موقع پر کہے تھے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ یہ گانے والیاں نہیں ہیں۔ حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر میں شیطانی باجے؟ اور یہ عید کا دن تھا۔ آخر رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے ابوبکر! ہر قوم کی عید ہوتی ہے اور آج ان کی عید ہے۔


حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ کچھ لوگ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے حراب (چھوٹے نیزے) کا کھیل دکھلا رہے تھے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ آگئے اور کنکریاں اٹھا کر انہیں ان سے مارا۔ لیکن آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عمر! انہیں کھیل دکھانے دو۔(صحيح بخاری/ صحيح مسلم)۔


عید کے دن شیطان کا رونا
حضرت وہب بن منبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ہر عید کے دن ابلیس چلا کر روتا ہے ۔ دوسرے شیاطین اس کے پاس جمع ہوتے ہیں اور پوچھتے ہیں : اے ہمارے سردار آپ کیوں ناراض ہیں ؟ وہ کہتا ہے: اللہ تعالیٰ نے اس دن میں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو معاف کردیا۔ اب تم پر لازم ہے کہ انہیں شہوات و لذّات میں ڈال کر غافل کردو (مکاشفۃ القلوب صفحہ٦٩٣)۔


(نماز عید سے پہلے صدقہ فطر ادا کرنا اس سلسلہ میں حضور نبی رحمت صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا روزوں کی عبادت اُس وقت تک زمین و آسمان کے درمیان معلق (بارگاہ خداوندی میں غیر مقبول) رہتی ہے جب تک کہ صاحب نصاب مسلمان صدقہ فطر ادا نہیں کرلیتا۔ (صحيح مسلم/ جامع ترمذی)۔

صدقہ فطر نماز عید سے پہلے ادا کردینا چاہئے کہ یہی سنت ہے لیکن اگر نماز عید سے پہلے ادا نہیں کرسکا تو عمر بھر اس کی ادائیگی کا وقت ہے، جب بھی ادا کرے گا، واجب ساقط ہوجائے گا لیکن بہتر یہ ہے کہ صدقہ فطر نماز عید سے پہلے ہی ادا کردے۔

 

صدقہ فطر کے فقہی مسائل

عید کے دن صبح صادق ہوتے ہی صدقہ فطر واجب ہوجاتا ہے۔ لہذا جو شخص صبح صادق ہونے سے پہلے مرگیا تو اس پر صدقہ فطر واجب نہیں۔صدقہ فطر ہر مسلمان آزاد، مالکِ نصاب پر، جس کا نصاب حاجت اصلیہ سے فارغ ہو، واجب ہے۔ حاجت اصلیہ سے مراد ہے کہ جس کی انسان کو زندگی گزارنے کے لئے ضرورت ہوتی ہے۔صدقہ فطر واجب ہونے کے لئے عاقل، بالغ اور ملکیت کا ہونا شرط نہیں۔جس کو زکوٰۃ دینا جائز ہے اس کو صدقہ فطر دینا بھی جائز ہے۔مرد مالک نصاب پر اپنی اور اپنے چھوٹے بچوں کی طرف سے صدقہ فطر واجب ہے۔ اگر بچہ بالغ اور صاحب نصاب ہو تو اس کا صدقہ فطر اسی کے مال سے ادا کیا جائے گا۔مجنوں بچہ اگرچہ بالغ ہو مگر غنی نہ ہو تو اس کا صدقہ بھی اس کے باپ پر واجب ہے۔باپ نہ ہو تو دادا باپ کی جگہ ہے یعنی وہ اپنے یتیم پوتے، پوتی کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرے گا۔ماں پر اپنے چھوٹے بچوں کی طرف سے صدقہ دینا واجب نہیں۔

صدقہ فطر کی مقدار
صدقہ فطر کی مقدار یہ ہے گندم یا اس کا آٹا یا ستو آدھا صاع، منقٰی یا جو یا اس کا آٹا یا ستو ایک صاع۔ موجودہ دور کے مطابق ایک صاع سوا دو سیر گندم یعنی دو کلو پینتالیس گرام گندم کا ہے۔
(قانون شريعت، ص234)

نماز عید ادا کرنے کا طریقہ

عید کی نماز دو رکعت واجب ہے۔ تکبیر تحریمہ کے بعد ثناء (سبحانک اللہم۔۔۔۔) پڑھیں پھر ہاتھ اٹھا کر تین تکبیریں کہیں، تیسری تکبیر کے بعد ہاتھ باندھ لیں پھر امام صاحب قرات کریں ۔ قرات کے بعد حسب معمول رکوع و سجود کریں پھر دوسری رکعت میں امام صاحب قرات کریں۔ قرات کے بعد تین مرتبہ ہاتھ اٹھا کر تکبیریں کہیں، چوتھی تکبیر پر ہاتھ اٹھائے بغیر رکوع میں چلے جائیں، باقی نماز حسب معمول مکمل کریں۔ نماز عید کے بعد خطبہ سننا واجب ہے۔
مسائل عیدالفطر
عید کی نماز انہیں پر واجب ہے جن پر جمعہ واجب ہے۔ جمعۃ المبارک میں خطبہ شرط ہے، عید کا خطبہ سنت ہے، جمعہ کا خطبہ قبل نماز جبکہ عید کا خطبہ بعد نماز ہے۔ علاوہ ازیں عید کی نماز میں نہ اذان ہے نہ اقامت۔عید کی نماز کا وقت آفتاب کے ایک نیزہ اونچا ہونے سے شروع ہوکر زوال سے پہلے ختم ہوجاتا ہے۔نماز عید سے قبل نفل نماز بشمول اشراق، چاشت مطلقاً مکروہ ہے اور نماز عید کے بعد عید گاہ میں پڑھنا بھی مکروہ ہے۔پہلی رکعت میں مقتدی اس وقت شامل ہوا جب امام تکبیریں کہہ چکا تو اسی وقت تکبیریں کہہ لے اور اگر امام رکوع میں چلا گیا تو تکبیر تحریمہ کہہ کر رکوع میں چلا جائے اور رکوع میں تین تکبیریں کہہ لے اور اگر امام کے رکوع سے اٹھنے کے بعد شامل ہو تو اب تکبیریں نہ کہے بلکہ جب امام کے سلام پھیرنے کے بعد اپنی فوت شدہ رکعت پڑھنے لگے تو تین تکبیریں کہے۔اگر امام صاحب رکوع سے پہلے تکبیر کہنا بھول جائیں اور رکوع میں یاد آئیں تو وہ حالت رکوع میں ہی تکبیریں کہہ لیں۔ قیام کی طرف نہ لوٹیں نماز فاسد نہ ہوگی۔ (واللہ تعالیٰ و رسولہ اعلم بالصواب)۔

عید الفطر کے مستحب کام


۔(١) حجامت بنوانا (٢) ناخن ترشوانا (٣) غسل کرنا (٤) مسواک کرنا (٥) اچھے کپڑے پہننا نیا ہو تو بہتر ورنہ دھلا ہوا ہو ۔ (٦) ساڑھے چار ماشہ چاندی کی انگوٹھی پہننا ۔ (٧) خوشبو لگانا۔ (٨) فجرکی نماز محلہ کی مسجد میں ادا کرنا۔ (٩) نبی کریم اکی بارگاہ میں بصد خلوص درود و سلام کا نذرانہ پیش کرنا (١٠) عید گاہ میں جلدی جانا (١١) عید گاہ کو پیدل جانا (١٢) واپسی پر دوسرا راستہ اختیار کرناراستے میں تکبیرتشریق پڑھتے ہوئے جانا (١٣) نمازعید کو جانے سے پہلے چند کھجوریں کھالینا۔ (١٤) تین یا پانچ یا سات یا کم و بیش مگر طاق ہوں کھجوریں نہ ہوں تو کوئی میٹھی چیز کھالے۔ نماز سے پہلے کچھ نہ کھایا تو گنہگار نہ ہوگا مگر عشاء تک نہ کھایا تو گنہگار بھی ہوگا اورعتاب بھی کیا جائے گا۔ (١٥) نماز عید کے بعد معانقہ و مصافحہ کرنا اور رمضان کی کامیابیوں پر مبارکباد اور عید کی مبارکباد دینا۔ (١٦) سُبْحَانَ اللّٰہِ وَ بِحَمْدِہٖ ٣٠٠ مرتبہ پڑھنا بے حد اجر و ثواب کا باعث ہے۔


عید کے دن کا انمول وظیفہ


حضور اکرم، سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا : جس نے عید کے دن تین سو بار یہ ورد پڑھا سُبْحَانَ اللّٰہِ وَ بِحَمْدِہ (اللہ پاک ہے اور اس کی حمد ہے) پھر اس کا ثواب تمام مسلمان مُردوں کو بخش دیا، تو ہر قبر میں ایک ہزارا نوار داخل ہوں گے اور جب یہ آدمی فوت ہوگا تو اللہ تعالیٰ اس کی قبر میں بھی ایک ہزارا نوار داخل کرے گا۔ (مکاشفۃ القلوب صفحہ ٦٩٢) ۔

 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عید


حضرت ِ جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید کی نمازیں ادا کی ہیں اور ہر دفعہ انہیں اذان اور اقامت کے بغیر ہی ادا کیا ۔ (مسلم شریف ) ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ عادت شریفہ تھی کہ عید کی نماز ہمیشہ جامع مسجد کے باہر یا کسی اور جگہ کھلے میدان میں پڑھنے کا حکم دیتے، البتہ ایک دفعہ جب بارش ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں ہی نماز ادا کرلی۔ (بخاری شریف) ۔
حضور سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم جب عید گاہ کیلئے روانہ ہوتے تو راستے میں اور نمازِ عید شروع کرنے سے قبل تک تکبیر پڑھتے رہتے ، اسے بلند آواز سے پڑھتے، اور واپس ہمیشہ دوسرے راستہ سے آتے، لیکن واپسی کے وقت تکبیر نہیں پڑھتے۔ (بخاری شریف، سننِ کبریٰ بیہقی) ۔


رسول اکرم محبوبِ معظم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ تعالی عنہ کو (جب وہ نجران میں تھے ) خط لکھا کہ عید الاضحی کی نماز جلدی پڑھاؤ اور عید الفطر کی دیر سے اور اس کے بعد لوگوں کو وعظ و نصیحت کرو ۔ (مسند امام شافعی) ۔


صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کی عید


حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عید
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے بیٹے کو عید کے دن دیکھا، اس کی قمیض پرانی تھی، تو رو پڑے۔ اس نے کہا: آپ کیوں روتے ہیں ؟ فرمایا: اے بیٹا ! مجھے خطرہ ہے عید کے دن تیرا دل ٹوٹ جائے گا، جب بچے تمہیں یہ پُرانی قمیض پہنے دیکھیں گے۔ اس نے کہا: دل اس کا ٹوٹتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل نہ ہو، یا اس نے ماں باپ کی نافرمانی کی ہو اور مجھے امید ہے کہ آپ کی رضا کے باعث اللہ تعالیٰ مجھے سے راضی ہوگا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ روپڑے اور اسے سینہ سے لگالیا اور اس کے لیے دعا کی۔ (مکاشفۃ القلوب ، صفحہ ٦٩٣)۔ 


حضرت علی المرتضیٰ کرم ﷲ تعالیٰ وجہہ الکریم کی عید
عید کے دن حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا آپ اس وقت بھوسی کی روٹی کھارہے تھے ، اس نے عرض کیا کہ آج عید کا دن ہے اور آپ چوکر (بھوسی) کی روٹی کھارہے ہیں ؟ آپ نے جواب دیا آج عید تو اس کی ہے جس کا روزہ قبول ہو، جس کی محنت مشکور ہو، اور جس کے گناہ بخش دیے گئے ہوں ۔ آج کا دن بھی ہمارے لئے عید کا دن ہے کل بھی ہمارے لئے عید ہوگی اور ہر دن ہمارے لئے عید کا دن ہے جس دن ہم اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کریں ۔ (غنیۃ الطالبین صفحہ ٤١١) ۔

اہم نکتہ

عید کی نماز سے فارغ ہوکر لوگ عید گاہ سے لوٹتے ہیں ، کوئی گھر کو جاتا ہے ، کوئی دکان کو اور کوئی مسجد کو تو اس وقت یہ حالت دیکھ کر مسلمان کو چاہیے کہ اس منظر اور کیفیت کو یاد کرے کہ اس طرح لوگ قیامت میں جزا و سزا دینے والے بادشاہ کے حضور سے جنت اور دوزخ کی طرف لوٹ کر جائیں گے، جیسا کہ حق تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَتُنْذِرَ یَوْمَ الْجَمْعِ لَا رَیْبَ فِیْہِ فَرِیْقٌ فِی الْجَنَّۃِ وَفَرِیْقٌ فِی السَّعِیْرِ (پارہ ٢٥،سورۃ شوریٰ، آیت ٧)  اور تم ڈراؤ اکٹھے ہونے کے دن سے جس میں کچھ شک نہیں ، ایک گروہ جنت میں ہے اور ایک گروہ دوزخ میں (ترجمہ کنز الایمان ، غنیہ الطالبین صفحہ ٤١٢)۔

اسلامی تہوار مثالی معاشرے کے قیام کی ضمانت

اقوامِ عالم مختلف مواقع پر خوشیوں کے اظہار کیلئے اجتماعی طور پر تہوار مناتی ہیں ، یہ تہوار مذہبی روایات اور قومی جذبات کے آئینہ دار ہوتے ہیں ۔ لیکن یہ ایک امر مسلّمہ ہے کہ اسلامی تہوار محض تفریحِ طبع کیلئے منعقد نہیں ہوتے بلکہ اسلامی معاشرے کو خوشحالی اور فلاحی بنانے کا ذریعہ ہوتے ہیں ۔ مختلف ادیان و مذاہب کے ماننے والے جتنے تہوار مناتے ہیں اسے ہر طرح کے مادّی سازو سامان سے معمور رکھتے ہیں ۔عیش و عشرت، راگ و موسیقی، نغمہ و سرود، شراب و شباب اور میلوں تماشوں میں محو و مگن ہوتے ہیں ۔

بحمدہ تعالیٰ مسلمانوں کے تمام تہوار ، دینی شعار کی طرح صرف ذاتی خوشی کیلئے نہیں بلکہ اللہ ل کی رضا کیلئے ہوتے ہیں ، ان تہواروں کا انعقاد اللہ ل اور اس کے پیارے محبوب علیہ الصلوٰۃ والسلام کے احکام پر عمل کے نتیجے میں ہوتا ہے۔ اسی لیے تہوار کاآغاز ہی اللہ تعالیٰ کی کبریائی کے اعلان اور اس کے ذکر و اذکار سے ہوتا ہے۔ اسلامی تہوار غم گساری بھی سکھاتا ہے کہ اپنے دوسرے مسلمان بھائیوں کے معاشی استحکام کیلئے ایک متمول مسلمان اپنا کردار ادا کرے۔ بین المسلمین مواخات کے رشتے اسلامی تہوار کے ذریعے مضبوط اور مربوط ہوتے ہیں ۔

مسلمانوں کا باہم ایک دوسرے سے معانقہ کرنا ، مصافحہ کرنا ، رمضان کی مبارکباد پیش کرنا ، تراویح و تسبیحات کی قبولیت کی ایک دوسرے کے حق میں دعا کرنا ، ایک دوسرے کے حق میں مغفرت کی دعا کرنا ، تحائف کا تبادلہ کرنا اور طعام کی دعوت دیناوغیرہ، ایک اخلاقی ،مثالی اور فلاحی معاشرے کے قیام کی ضمانت دیتے ہیں ۔یہ معمولات و عادات زندہ مسلمانوں کے درمیان ہی نظر نہیں آتے ہیں بلکہ مسلمانوں کے تہوار اپنے پیش رو مرحومین کو بھی نظر انداز نہیں کرتے ، نماز ِ عید کی ادائیگی کے بعد اور برادرانِ اسلام سے ملاقات کے بعد قبرستان جانا اور مسلمان مرحومین کے حق میں دعائے مغفرت کرنا ، سنّت ِ متواترہ ہے۔ 


حضور غوث الثقلین شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ، فرماتے ہیں ، ”مسلمان کی عید ، طاعت و بندگی کی علامات کے ظاہر ہونے سے ہے، گناہوں اور خطاؤں سے دوری کی بنیاد پر ہے ، سیأات کے عوض حسنات (نیکیوں ) کے حصول اور درجات کی بلندی کی بشارت ملنے پر ہے ، اللہ تعالیٰ جل شانہ، کی طرف سے خلعتیں ، بخششیں اور کرامتیں حاصل ہونے کے باعث ہے، مسلمان کو نورِ ایمان سے معمور سینہ کی روشنی ، قوتِ یقین اور دوسری نمایاں علامات کے سبب دل میں سکون پیدا ہوتا ہے پھر دل کے اتھاہ سمندر سے علوم و فنون اور حکمتوں کا بیان زبان پر رواں ہوجانے سے عید کی حقیقی مسرتیں حاصل ہوتی ہیں ۔” (غنیہ الطالبین ، صفحہ ٤١٠ ، ٤١١) ۔
شوال المکرم کے چھ روزے
شوال میں (عید کے دوسرے دن سے ) چھ دن روزے رکھنا بڑا ثواب ہے جس مسلمان نے رمضان المبارک اور ماہِ شوال میں چھ ٦ روزے رکھے تو اس نے گویا سارے سال کے روزے رکھے یعنی پورے سال کے روزوں کا ثواب ملتا ہے۔

سیدنا حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ، سے روایت ہے حضور رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ اَتْبَعَہ، سِتًّا مِّنْ شَوَّالِ کَانَ کَصِیَامِ الدَّہْرِ۔ رواہ البخاری و مسلم (بحوالہ مشکوٰۃ شریف صفحہ ١٧٩) جس آدمی نے رمضان شریف کے روزے رکھے۔ اور پھر ان کے ساتھ چھ روزے شوال کے ملائے تو اس نے گویا تمام عمر روزے رکھے۔
نوٹ
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ”تمام عمر روزے رکھنے” کا مطلب یہ ہے کہ رمضان شریف کے علاوہ ہر ماہِ شوال میں چھ ٦ روزے رکھے جائیں تو تمام عمر روزے رکھنے کا ثواب ملے گا۔ اگر اس نے صرف ایک ہی سال یہ روزے رکھے تو سال کے روزوں کا ثواب ملے گا۔ پھر یہ روزے اکٹھے رکھے جائیں یا الگ الگ ، ہر طرح جائز ہیں مگر بہتر یہ ہے کہ ان کو متفرق طور پر رکھا جائے۔ یہی حنفی مذہب ہے۔ (فضائل الایام والشہور صفحہ ٤٤٧بحوالہ لمعات حاشیہ مشکوۃ صفحہ ١٧٩)۔ 
شوال میں ایامِ بیض کے روزے
علاوہ ازیں ماہِ شوال میں متذکرہ چھ ٦ روزوں کے علاوہ ١٣، ١٤، ١٥ چاند کی تاریخوں (ایامِ بیض) میں اسی طرح روزے رکھے جاسکتے ہیں جیسا کہ دیگر مہینوں میں انہی ایام میں رکھتے ہیں ۔اس حوالے سے صحاح ستّہ (بخاری ، مسلم ، ابو داؤد، ترمذی، نسائی ، ابن ماجہ شریف ) میں کئی روایات ملتی ہیں ۔   

         گزارش
فقیر قادری کی گزارش واپیل اپنی قوم کے ناممیرے پیارے عزیزوں پیارے ہندی مسلمانوں آپ حضرات بخوبی واقف ہیں کہ عید سعید ایسے نازک وقت میں آرہی ہے کہ جس وقت بالخصوص وطن عزیز ہندوستان اور بالعموم پوری دنیا کرونا وائرس کی وجہ لاک ڈاؤن کا شکار ہے۔

ایسے حالات میں مسلمان صبرکا مظاہرہ کریں اب تک آپ لوگوں نے یقناً بہت صبر و تحمل اور استقامت سے کام لیا ہے اس کو برقرار رکھنا ہے ہرگز ہرگز عیدگاہوں ومسجدوں کی طرف رخ نہ کریں ورنہ آپ بخوبی جانتے ہیں باطل طاقتیں گودی میڈیا بکاؤ اینکرزس ہماری قوم کو بدنام کرنے کےلیے نہا دھو کر اس تاک میں بیٹھے ہیں۔ کہ کوئی موقع ملے اور وہ جھوٹ کی مشینیں رأی کا پہاڑ بنائیں

آپ حضرات سے گزارش ہے کہ اپنی جانب سے اپنے دشمنوں کو کوئی ایسا موقع فراہم نہ کریں خدارا بہت سنبھال کر ہمیں اس خوبصورت دن خوبصورت بنانا ہے۔ ہمارے اکابر علماء کرام و مفتیان ذو الاحترام نے جو فتاوے صادر فرماۓ ہیں ان پر عمل کریں۔ جتنے لوگوں کو اجازت ہے اتنے ہی لوگ نماز عید الفطر ادا کریں۔ باقی لوگ اپنے اپنے گھروں میں شکرانہ کے دو رکعت نفل یا ٤ چار رکعت چاشت کے نفل ادا کریں۔

یقناً اللہ تعالیٰ اپنے حبیب سرور کائنات صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے صدقے وطفیل میں ہمیں عید الفطر کا مکمل ثواب عطا فرمائے اور اس کی عظیم خوشیوں سے ہمارے دامنوں مالامال کردے اور بیماری اور لاک ڈاؤن کی قید جلد از جلد رہائی عطا فرمائے آمین یارب العالمین بجاہ سید الانبیاء والمرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وعلی آلہ وصحبہ وبارک اجمعین

عظمت جمعۃ الوداع قرآن وحدیث کی روشنی میں

 

پیش کش۔ خادم مشن قطبِ اعظم ماریشس حضرت علامہ ابراھیم خوشتر و خلیفہ مجاز حضورتاج الشریعہ

محمد غفران رضا قادری رضوی

ماریشس افریقہ بانی دارالعلوم رضا ۓ خوشتر و جامعہ رضاۓ فاطمہ

سوار رامپور انڈیا

مقیم حال نانکاررانی۔

FLIPKART   AMAZON    HAVELLES