فضائل شعبان المعظم و شب برات

فضائل شعبان المعظم و شب برات

تحریر :ذاکر حسین فیضانی فضائل شعبان المعظم و شب برأت

فضائل شعبان المعظم و شب برات

شعبان المعظم مذہب حقہ کی رو سے ایک مقدس و متبرک و مقدس مہینہ ہے یہ اسلامی کلینڈر کا آٹھواں مہینہ جو کہ رجب المرجب و رمضان المبارک کے درمیان میں آتا ہے اور اس کے فضائل قرآن کریم و احادیث نبویہ و اقوال اولیاءاللہ اکثریت کے ساتھ پائے جاتے ہیں جن میں سے ان شاءاللہ تعالیٰ چند کو ذیل میں ذکر کرنے کی کوشش کرتا ہوں

اللہ تعالیٰ اپنے کلام پاک میں ارشاد فرماتا ہے آیت الخ ۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ کنزالایمان قسم اس روشن کتاب کی بے شک ہم نے اسے برکت والی رات میں اتارا بے شک ہم ڈر سنانے والے ہیں اس میں بانٹ دیا جاتا ہے ہر حکمت والا کام ہمارے پاس کے حکم سے بے شک ہم بھیجنے والے ہیں تمہارے رب کی طرف سے رحمت بے شک وہی سنتا جانتا ہے

حضور سیدنا غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی مشہور زمانہ کتاب غنية الطالبين میں اس آیت مبارکہ کے تحت لکھتے ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں ” حم ” یعنی اللہ تعالیٰ نے قیامت تک ہونے والے امور کا فیصلہ فرمادیا “والکتاب المبین”۔

یعنی قرآن “انا انزلناہ” ہم نے اس قرآن کو اتارا “فی لیلة مبارکة” یہ نصف شعبان المعظم کی ( پندرہویں ) رات ہے اور یہی شب برأت ہے حضرت عکرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے علاوہ اکثر مفسرین کا یہی قول ہے ان کے نزدیک اس سے لیلتہ القدر مراد ہے

اس آیت کریمہ کے تحت حضرت صدر الافاضل مولانا سید نعیم الدین مرادآبادی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہے کہ اس رات سے یا شب قدر مراد ہے یا شب برأت مراد ہے اس شب میں قرآن پاک بتمامہ لوحِ محفوظ سے آسمانِ دنیا کی طرف اتارا گیا۔

پھر وہاں سے حضرت جبرائیل علیہ السلام بیس سال کے عرصہ میں تھوڑا تھوڑا لے کر نازل ہوئے اس شب کو شب مبارکہ اس لیے کہا گیا ہے کہ اس میں قرآن پاک نازل ہوا اور ہمیشہ اس میں خیر و برکت نازل ہوتی ہے اور دعائیں قبول ہوتی ہیں

احادیث مبارکہ میں شعبان المعظم کی بے پناہ فضائل وارد ہوئے ہیں
حدیث ١
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ارشاد فرماتے ہیں
اللهم بارك لنا في رجب و شعبان و بلغنا رمضان  (کنزالعمال جلد ٧ صفحہ ٧٩)
ترجمہ اے اللہ ! رجب اور شعبان میں ہمیں برکت عطا فرما اور ہمیں رمضان تک پہونچا

حدیث ٢
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا رمضان اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے شعبان میرا مہینہ ہے شعبان پاک کرنے والا ہے اور رمضان گناہوں کو معاف کرنے والا ہے (کنزالعمال ٦٤٦٦)

حدیث ٣
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے آپ بیان کرتی ہے کہ میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ سوائے رمضان کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی مہینے کی پورے روزے رکھے ہو اور آپ سب سے زیادہ نفلی روزے شعبان میں رکھتے تھے (سنن ابی داؤد ٣٠٠)

حدیث ٤
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ عرض کیا ” میں نے مشاہدہ کیا ہے کہ آپ ( رمضان المبارک کے علاوہ ) کسی بھی دوسرے مہینے کے مقابلے میں شعبان میں زیادہ روزے رکھتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ رجب اور رمضان کے درمیان ایسا مہینہ ہے کہ لوگ اس غافل ہیں۔

یہ ایسا مہینہ ہے کہ اس میں اعمال رب العالمین کے حضور پیش کیے جاتے ہیں تو مجھے یہ بات پسند ہے کہ میرے اعمال اس حال میں اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوں کہ میں روزے سے ہوں ” (سنن نسائی ٢٣٥٦)

حدیث ٥
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پورے ماہ شعبان کے روزے رکھا کرتے تھے میں نے عرض کی یارسول ﷺ کیا نفل روزے کے لیے آپ کو شعبان تمام مہینوں سے زیادہ پسند ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس سال وفات پانے والے تمام افراد کے نام لکھ دیتا ہے تو میں اس بات کو پسند کرتا کہ میرے وفات روزے کی حالت میں ہو (مسند ابی یعلیٰ ٤٨٩٠)

شب برأت کے فضائل احادیث کی روشنی میں

حدیث ١

حضرت سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ شعبان کی درمیانی شب کو خاص توجہ فرماتا ہے اور مشرک اور کینہ پرور کے علاوہ اپنے بندوں کو بخش دیتا ہے (سنن ابی ماجہ ١٣٩٠)

حدیث ٢
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا جب شعبان کی درمیانی شب آئے تو رات کو نوافل پڑھو اور دن میں روزہ رکھو کیونکہ اللہ تعالیٰ غروب آفتاب ہی سے آسمانِ دنیا کی طرف نزول اجلال فرماتا ہے (جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے)۔

اور ارشاد فرماتا ہے کیا ہے کوئی مغفرت کا طلب گار میں اسے بخشش دوں ہے کوئی رزق کا طلب گار کہ میں اسے رزق عطا کروں ہے کوئی مبتلائے مصیبت اس کی مصیبت کو درماں کروں الغرض اللہ تعالیٰ بندوں کے تمام حاجات ذکر فرماتا ہے اللہ کی طرف سے یہ فیضان رحمت طلوع فجر تک جاری رہتا ہے (سنن ابن ماجہ ١٣٨٨)

حدیث ٣
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہے کہ شعبان کی درمیانی شب رسول ﷺ میرے بستر سے نکل گئے مجھے اندیشہ ہوا کہ آپ کسی زوجہ مطہرہ کے پاس گئے میں گھر میں آپ کو تلاش کرنے لگی تو میرے پاؤں آپ کے مبارک قدموں پر پڑے آپ حالت سجدہ میں تھے۔

مجھے یاد ہے آپ فرما رہے تھے (اے اللہ!) میرے جسم و جاں تیری بارگاہ میں سجدہ ریز ہیں میرا دل تجھ پر ایمان لایا میں تیری تمام نعمتوں کا اعتراف کرتا ہوں میں نے اپنے آپ پر زیادتی کی ، سو تو مجھے بخش دے کیوں کہ تیرے سوا کوئی بخشنے والا نہیں ہے میں تیری سزا سے بچ کر میں تیرے عفو و کرم کی پناہ میں آتا ہوں میں تیرے غضب سے بچ کر تیری رحمت کی پناہ میں آتا ہوں۔

میں تیری ناراضی سے بچ کر تیری رضا کی پناہ میں آتا ہوں میں تیری گرفت سے بچ کر میں تیری ہی پناہ میں آتا ہوں (اے اللہ!) میں تیری حمد و ثنا کا حق ادا نہیں کرسکا تیری کامل ثنا وہی ہے جو تو نے خود اپنی ذات کی فرمائی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہے کہ حضور ﷺ مسلسل عبادت میں مشغول رہے یہاں تک کہ صبح ہوگئی اور کثرت عبادت سے آپ ﷺ کے پاؤں مبارک پر ورم آ گیا تھا ۔

میں آپ کے پاؤں مل رہی تھی میں نے عرض کی یارسول ﷺ میرے ماں باپ آپ قربان ہو آپ نے تو اپنے آپ کو تھکا دیا اللہ تعالیٰ نے تو آپ کو پہلے ہی مغفرت کلی کی یقینی نوید سنا رکھی ہے آپ پر تو اللہ تعالیٰ کی بے شمار رحمتیں ہیں

آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا یقیناً اے عائشہ !تو کیا میں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں تمہیں معلوم ہیں آج کی رات میں کیا کیا برکتیں ہیں انہوں نے عرض یا رسول ﷺ بتایے تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اس رات کو بنی آدم کے ہر پیدا ہونے والے بچے اور ہر وفات پانے والے شخص کا نام لکھ دیا جاتا ہے۔

اس رات کو بندوں کی اعمال اٹھائے جاتے ہے اور اسی میں ان کا رزق نازل ہوتا ہے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کی یارسول ﷺ کیا اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بغیر کوئی جنت میں داخل نہیں ہوگا آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بغیر کوئی جنت میں داخل نہیں ہوگا میں نے عرض کی یارسول ﷺ اور آپ بھی نہیں تو آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ اپنے ہاتھ پر رکھا اور تین مرتبہ فرمایا میں بھی نہیں سوا اس کے کہ اللہ تعالی مجھے اپنے آغوش رحمت میں ڈھانپ لے (الدرالمنثور للسیوطی جلد ٧ صفحہ ٣٥٠)

اس طویل حدیث مبارک میں معلوم ہوا کہ ہمارے پیارے نبی ﷺ کتنے عجز فرماتے تھے حالانکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم تو معصوم ہیں مگر یہ تعلیم امت کے لیے تھا

آپ ﷺ نے متعدد احادیث مبارکہ فرمایا کہ اس عظیم الشان رات کو مشرک ، قتل ناحق کرنے والا ، ماں باپ کا نا فرمان ، سود خور ، عادی شرابی ، عادی زناکار ، قطع رحمی کرنے والا ، چغل خور کینہ پرور کی بخشش نہیں ہوگی یعنی ان گناہ کبیرہ کے ارتکاب کرنے والے شریعت میں بیان کی ہوئی توبہ کی قبولیت کی شرائط پوری کیے بغیر اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور معافی کے حق دار نہیں بن سکتے

اللہ تبارک و تعالیٰ کی بارگاہ دعا میں ہے مولیٰ تعالیٰ ہمیں اس مبارک ماہ اور شب برأت کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے خوب نیکیاں کرنے کی توفیق عطا فرمائے

تحریر :ذاکر حسین فیضانی

ان  مضامین کو بھی پڑھیں

نبی کریم ﷺ کا شعبان میں معمول    از    جاوید اختر بھارتی 

قبرستانوں کابرا حال ذمہ دار کون    از   الحاج حافظ محمد ہاشم قادری صدیقی مصباحی

آن لائن خرید داری کے لیے کلک کریں 

Amazon  

  Flipkart

ہندی میں مضامین پڑھنے کے لیے تشریف لائیں

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top