قرآن مجید ایک ناقابل تحریف کتاب

قرآن مجید ایک ناقابل تحریف کتاب

تحریر: مفيض الدين مصباحی ، کشن گنج  قرآن مجید ایک ناقابل تحریف کتاب

قرآن مجید ایک ناقابل تحریف کتاب

ہر صدی اور ہر دور میں قرآن کا محافظ ونگہبان اللہ تعالیٰ کی ذات ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ چودہ سو سال سے زیادہ کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی گردش دوراں ، گردش لیل ونہار اور زمانے کے تغیر نے اس کے ایک حرف،زبر،زیر،مد،پیش

یہاں تک کہ اس کے ایک نقطہ میں بھی کوئی تبدیلی نہیں کر پایا۔ کیوں کہ اللہ تعالی نے اس کی حفاظت و صیانت اور محافظت کا وعدہ قرآن مجید میں اس انداز میں بیان فرمایا ہے:”إنا نحن نزلنا الذكر وإنا له لحفظون ” بے شک ہم نے اتارا ہے یہ قرآن اور بے شک ہم خود اس کے نگہبان ہیں (سورةالحجر،٩)۔

اس آیت کی تفسیر میں تمام مفسرین نے فرمایا :اے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم بے شک ہم نے آپ پر قرآن نازل کیا ہے اور ہم خود تحریف و تبدیلی، زیادتی اور کمی سے اس کی حفاظت فرماتے ہیں ۔

اس قدر واضح روشن اور صریح انداز میں خدائی وعدہ ہونے کے بعد بھی کسی شخص کا یہ کہنا کہ خلفائے ثلاثہ رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین نے اپنی طاقت بڑھانے کے لیے قرآن مجید میں چھبیس آیات کا اضافہ کیا۔

یہ جہالت فاحشہ ،اسلام دشمنی کی حد انتہا،اسلام دشمن عناصر اور مسلم دشمن تنظیموں کا آلہ کار بدنام زمانہ وسیم رضوی نے ہو رہی قانونی چارہ جوئی سے بچنے، کسانوں کی جاری تحریک کو متاثر کرنے،ڈیزل،پیٹرول کے بڑھے دام سے عوام کی توجہ ہٹانے، سستی شہرت اور اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے کیا۔

واضح رہے حال ہی میں بیمار ذہن ،ملحد وبے دین وسیم رضوی نے سپریم کورٹ میں 62صفحات پر مشتمل ایک عرضی داخل کیا،جس میں اس نے قرآن مجید کی چھبیس آیات کو نشانہ بنایا۔اور اپنے ارتدادی فکر وذہنیت کا برملا ثبوت پیش کیا۔

لیکن تعجب و افسوس کی بات یہ ہے کہ جس شخص کو اردو زبان ڈھنگ سے بولنا، لکھنا نہ آتا ہو، اردو کے قواعد، گرامر اور اسرار و رموز سے ناآشنا، بے خبر، ناواقف اورجاھل ہو، قرآن کی آیات پر جسارت کر رہا ہے جو کہ فصاحت و بلاغت کی غایت درجہ اعلیٰ منزل پر فائز ہیں۔

جس کا جواب مشرکین عرب کے فصیح و بلیغ شہسواروں سے بھی نہیں بن سکا، حالانکہ ان کے لیے یہ سب سے زیادہ آسان تھا کہ وہ قرآن کی آیات میں کمیاں نکالتے، اس بارے میں کچھ کہتے، لیکن اہل بیان، علم لسان کے ماہرین، ائمہ بلاغت، اورکلام کے شہسوار ہرگز اس مقدس کلام پر اثر انداز نہ ہو سکے، اور کوئی ایک بھی قرآن جیسا کلام نہ لا سکا، نہ ہی وہ کسی آیت قرآن پر صحیح اعتراض کر سکا۔

کیوں کہ قرآن مجید کی خصوصیات میں یہ بھی ہے کہ تمام جن وانس یہاں تک کہ ساری مخلوق میں یہ طاقت نہیں ہے کہ قرآن کریم میں سے ایک حرف کی کمی ، بیشی یا تغییر یا تبدیلی کر سکے۔ کیوں کہ اللہ تعالی نے قرآن مجید کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے اور اس کی محافظت، وصیانت اپنے ذمہ لے لیا ہے۔

درحقیقت وسیم رضوی ایک خبطی اور عصبی مریض ہے۔ اور جو موجودہ وقت میں اس قدر حواس باختہ ہے کہ اس نے اپنی پٹیشن میں لکھا ہے : “زمانے رسالت میں صرف چار حافظ تھے “یہ بات حقیقت، تاریخ اور کتب سیر وحدیث کے خلاف ہے؛ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قرآن مجید کے حفاظ ومعلمین اس قدر زیادہ تھے کہ بخاری کی روایت کے مطابق صرف بئرمعونہ کے موقع پر 70 حافظ قرآن شہید ہوئے۔ (صحیح البخاری،کتاب المغازی،باب غزوة الرجيع……،ح :3862)۔

اور اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانے میں بھی “جنگ یمامہ “میں 70 حافظ قرآن شہید ہوئے۔
شرح مسلم للنوی میں ہے

“وثبَتَ في الصحيحِ أنه قُتِل يومَ اليَمامةِ سبعونَ مِمَّن جمَعَ القرآنَ، وكانَت اليمامةُ قريبًا مِن وفاةِ النَّبي صلى الله تعالى عليه وسلَّم، فهؤلاء الذين قُتِلوا مِن جامِعيه يومَئذٍ”(باب ممن جمع القرآن، ج:8،ص:19،دارالكتب العلمية، بيروت، لبنان)

گویا حفظ قرآن کا مسئلہ مسلمانوں کے درمیان نزول قرآن کے زمانے سے اب تک ایک سنت اور عبادت کے عنوان سے دیکھا گیا ہے۔ کیا اس حال میں بھی یہ احتمال ہو سکتا ہے کہ قرآن میں تحریف و تبدیلی ہوئی ہے؟ ہر گز نہیں۔بلکہ یقینا وسیم رضوی کا نجس اور فتنہ انگیز بیان شیطنت وابلیسیت کا واضح ثبوت ہے۔

اس کے ذریعے ملک میں بد امنی ، فساد، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سیدھا سادہ لوگوں کے ذہنوں کو خراب کرنے کی کوشش ہے ، مگر یہ شخص ضرور قدرت کی گرفت میں آئے گا، جہاں سے بچ نکلنے کا کوئی امکان نہیں ۔

کیوں کہ جب جب دشمنان اسلام کی طرف سے اس طرح کی مذموم کوشش کی گئی ہے اس کو منہ کی کھانی پڑی ہے۔ یہاں تک کہ جرمنی میں اس طرح کا انسٹی ٹیوٹ بھی قائم کیا گیا جس کے ذریعے قرآن مجید میں تحریف و تبدیلی کی کوشش کی گئی مگر ناکامی ہی ہاتھ لگی ۔

اس شخص نے اپنے مطلب، فائدے کے حصول کے لیے نہایت عیاری، مکاری اور دھوکہ دہی کے ذریعے” حب علی” کا ڈھونگ لے کر تمام صحابہ، خصوصیت کے ساتھ خلفاء ثلاثہ رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین پر افترا ،تہمت اور جھوٹا الزام باندھا کہ انہوں نے اپنی طاقت کا استعمال کرنے کے لئے یہ آیات بعد میں شامل کیں۔ نعوذ باللہ من ذلک۔

شاید وہ اس خوش فہمی میں تھا کہ اس کے ذریعے شیعیت سے وابستہ لوگ انہیں آغوش میں لیں گے، لیکن اس مکر و فریب کے پلندا کو کیا معلوم کہ حقیقت میں یہ الزام بشمول جملہ صحابہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ پر بھی ہے۔

کیوں کہ جب ان تینوں خلفاء نے آیتیں ملائیں تو حضرت علی بھی اس وقت موجود تھے ، پھر جب حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ خلیفہ ہوئے اور ان کا دور آیا تو کیوں نہیں ان آیتوں کو اپنے دور میں نکال دیا؟ اگر انہوں نے ملائیں ہوتی تو ضرور حضرت علی اعتراض کرتے اور اپنے دور میں ان آیات کو نکال دیتے، لیکن حضرت علی نے ایسا کچھ نہیں کیا، تاریخ میں کہیں بھی اس کا ثبوت نہیں ملتا، نہ ہی کوئی تذکرہ۔

اس سے صاف ظاہر ہے کہ آج جو قرآن ہمارے سامنے موجود ہے یہ ویساہی ہے جیسا اللہ عزوجل نے نازل کیا تھا اور جو لوح محفوظ میں ہے جس کو حضرت جبرئیل علیہ السلام لے کر حضورﷺ کی بارگاہ میں آتے تھے۔
ع

ڈرو خدا سے ہوش کرو کچھ مکرو ریا سے کام نہ لو
یااسلام پہ چلنا سیکھو یا اسلام کا نام نہ لو

جس طرح کسی اندھے کے انکار سے سورج کا وجود مشکوک نہیں ہوتا ایسے ہی کسی بے عقل، نرا جاہل، ابتر، مجنوں ومخالف کے شک اور انکار سے یہ کتاب مشکوک نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ یہ بلند شان اور عظمت وشرف والی کتاب ہے جو “لاریب “کی مہر سے مزین وآراستہ ہے۔ کیونکہ شک اس چیز میں ہوتا ہے جس کی حقانیت، صداقت پر کوئی دلیل وبیان نہ ہو۔

جب کہ قرآن مجید اپنی حقانیت و صداقت کی ایسی واضح روشن اور مضبوط و مستحکم دلیل رکھتا ہے جو ہر مُنصِف، انصاف پسند اور عقل و حکمت کی دولت سے مالا مال شخص کو اس کے حق ہونے کا یقین کرنے پر مجبور کردیتا ہے۔

بلاشبہ یقینا دور نزول سے آج تک قرآن مجید اپنی اصلی صورت ومشمولات پر باقی ہے۔ کیونکہ قرآن کے چیلنجوں میں یہ بھی ہے اس میں اختلاف نہیں ہے اور نہ ہی کوئی شخص اس کے مثل ایک سورت وآیت لا سکا ۔

کافروں نے اس کے مقابلے میں جی توڑ کوششیں کیں، سیکڑوں سال تک اپنے تمام تر مکر، دھوکے اور قوتیں صرف کرنے کے باوجود بھی قرآن مجید کے نور کو تھوڑا سا بجھانے پر نہ قادر ہوسکے، اور جس نے بھی اس میں کمی، زیادتی، تحریف و تبدیلی یا اس کے آیات میں شکوک و شبہات ڈالنے کی کوشش کی تو وہ کامیاب نہ ہو سکا۔

یہی حال ضمیر فروش، ایمان فروش، ملحد وبے دین وسیم رضوی کا بھی ہوگا۔

اب تک اس شخص کی زندگی لوگوں کے تلوے چاٹنے، اسے صاف کرنے میں ہی گزری ہے خواہ وہ مایاوتی کادور ہو یا سماج وادی کی سرکار ہو یا موجودہ بی جے پی کا شاشن کا ل ۔اور یہ شخص ہرگز مسلمان نہیں! نام سے کوئی مسلمان نہیں ہوتا اس کے لیے اقرار باللسان کے ساتھ تصدیق بالقلب چاہئے۔ در حقیقت یہ شخص درم ودرہم کا بندہ ہے ۔

اور مسلسل بیروزگاری کی وجہ سے ذہنی توازن کھو بیٹھا ہے۔ اور اس کوشش میں ہے کہ اس طرح متنازعہ بیان جاری کر کے ایک بار پھر چیئرمین بنے؛ کیونکہ کرسی کی لالچ میں یہ شخص اپنی کوکھ کا بھی سودا کر سکتا ہے۔

اس لیے قارئین سے میری گزارش ہے کہ ہمیں مشتعل نہ ہو کر حکمت و دانائی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سے پہلے بھی متعدد دفعہ وسیم رضوی نے جہاد کی غلط تشریح پیش کر کے لوگوں کے ذہنوں کو خراب کر چکا ہے ۔

یہاں یہ بات جاننا بے حد ضروری ہے کہ قرآن کے چیلنجوں میں یہ بھی ہے کہ اس میں اختلاف نہیں ہے، تو پھر یہ کیسے ہو سکتا ہےکہ جس قرآن نے کسی ایک شخص کو زندگی دینا تمام انسانیت کو زندگی عطا کرنا جیسا قرار دیا ہو، اور کسی ایک قتل کو پوری انسانیت کا قتل شمار کیا ہو اس میں جہاد کا مطلب صرف قتل و خونریزی ہو؟

واضح رہے “جہاد” قتل و غارت گری یا صرف دشمن کے ساتھ محاذ آرائی کا نام نہیں، بلکہ کبھی یہ قیامِ امن، تو کبھی نفاذِ عدل، تو کبھی حقوقِ انسانیت کی بحالی اور کبھی ظلم وعدوان کے خاتمہ کے لیے اس کا تصور عطا کیا گیا ہے۔ وسیم رضوی کا مقصد اس طرح کی غلط تشریحات پیش کرکے یہاں کی فضا کو مسموم کرنا اور “جہاد” جیسے مقدس پاکیزہ لفظ کا مفہوم بگاڑ کر لوگوں کے درمیان نفرت پیدا کرنا اور اپنے آقاؤں کو خوش کرنا ہے۔

اور اسی طرح کئی دفعہ اس نے اپنے نجس اور فتنہ انگیز بیانوں کے ذریعے من گھڑت تشریحات گڑھ کر اسلام وشعائراسلام پر سوالیہ نشان لگانے کی مذموم کوشش کی ہے۔ لیکن ہر بار ناکامی ہی ہوئی۔خاص کر مدارس اسلامیہ کو نشانہ بنا کر ، اس بارے میں غلط پیغام عام کر کے۔ لوگوں کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہونا چاہیے کہ مدارس اسلامیہ دہشت گردی کے اڈے نہیں ہوتے بلکہ امن امان کے گہوارے ہوتے ہیں ۔ ع

یہ مدرسہ ہے تیرا میکدہ نہیں ساقی
یہاں کے خاک سے انسان بنائے جاتے ہیں

اور جہاں تک قرآن مجید کی ترتیب کا مسئلہ ہےتو یہ بھی توقیفی اور اللہ عزوجل اللہ کے حکم سے ، حضرت جبرئیل علیہ السلام کے حکم کے مطابق اور لوح محفوظ کی ترتیب کے موافق خود آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں واقع ہوئی ۔

اس کو بھی کچھ جُہَلا موضوع بحث بناتے ہیں کہ قرآن کی سب سے پہلی آیت “اقرأ” نازل ہوئی، تو پھر قرآن کی شروعات “الحمدللہ” سے کیوں ہوئی؟ ایسے لوگوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ قرآن مجید 23 برس کی مدت میں تھوڑا تھوڑا حسب حاجت نازل ہوا۔

جس حکم کی حاجت ہوتی اسی کے مطابق سورت یا کوئی آیت نازل ہوتی اس طرح متفرق ہو کر اترا ۔ کسی سورت کی کچھ آیتیں اترتی پھر دوسری سورت کی آیت آتی، پھرپہلی سورت کی کچھ آیتیں نازل ہوتی ۔ اورحضرت سیدنا جبریل علیہ السلام اس کا مقام بھی بتا دیتے اورحضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ہربار یہ ارشاد فرماتے کہ یہ آیت فلاں آیت کے بعد ہے اور فلاں سورت کی ہے۔

اور اسی کے مطابق حضور ﷺ نماز وغیرہ میں تلاوت فرماتے اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین سن یاد کر لیتے ۔

معلوم ہوا قرآن کی موجودہ ترتیب وہی ہے جو لوح محفوظ کی ہے۔ حکومت ہند سے میری گزارش ہے کہ ایسے فتنہ پرور شخص کو ضرور گرفتار کرے اور اس پر قدغن لگاۓ۔ تاکہ ہندوستان کی امن وسلامتی باقی رہے اور عالمی سطح پر ہندوستان کی شبیہ خراب نہ ہو۔

تحریر: مفيض الدين مصباحی ، کشن گنج

استاد: جامعہ منعمیہ میتن گھاٹ پٹنہ سیٹی

9471462375

ان مضامین کو بھی پڑھیں 

قرآن مجید کے حقوق اور ہماری ذ٘مہ داریاں 

اسلام اور مسلمانوں کے نزدیک قرآن کی اہمیت

عروج چاہیے تو سماج میں قرآن کا عکس بن کے نکلے مسلمان

ہندی مضامین پڑھنے کے لیے کلک کریں 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top