Categories: احکام شریعت

قربانی کی کھال سے متعلق کچھ شرعی باتیں

  از: مفتی خورشید عالم برکاتی مصباحی  قربانی کی کھال سے متعلق کچھ شرعی باتیں

قربانی کی کھال سے متعلق کچھ شرعی باتیں

         قربانی مذہب اسلام کا ایک شعار اور ابوالانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یادگار ہے۔ اسی لئے حدیث پاک میں ہے کہ دسویں ذی الحجہ کے دن خون بہانے سے زیادہ کوئی عمل اللہ کو محبوب نہیں اور جانور کا خون زمین پر گرنے سے پہلے بارگاہ الٰہی میں مقبول ہوجاتا ہے۔

اس عمل میں عبادت کا جو پہلو ہے وہ انھیں ایام کے ساتھ خاص ہے۔ اگر ان ایام میں قربانی نہ کر سکا تو بعد میں قربانی کی قضا یا کفارہ نہیں۔

         قربانی کی کھال ہر اس کام میں لا سکتے ہیں جو کار ثواب ہو ۔

فتاویٰ رضویہ میں ہیں ” قربانی کی کھال ہر اس کام میں صرف کر سکتے ہیں جو قربت و کار خیر و باعث ثواب ہو”۔

حدیث میں ہے “رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کی بنسبت فرماتے ہیں ,,كلوا وادخروا وائتجروا،،  کھاؤ اور اٹھا رکھو اور وہ کام کرو جس سے ثواب ہو”۔ (فتاویٰ رضویہ ص۴۵ ج٨)۔

 نیز خود اپنے مصرف میں بھی لا سکتا ہے مثلاً اس کی جانماز بنائے، چلنی، تھیلی، مشکیزہ، دستر خوان، ڈول وغیرہ بنا ئے یا کتابوں کی جلدیں لگائے یہ سب کرسکتا ہے۔

          نیز قربانی کے چمڑے کو ایسی چیزوں سے بدل بھی سکتا ہے جس کو باقی رکھتے ہو ئے اس سے نفع اٹھایا جائے۔

عالمگیری میں ہے ” ويتصدق بجلدها او يعمل منه نحو غربال وجراب ولا باس بان يشتري به ما ينتفع بعينه مع بقائه استحسانا و ذالك مثل ما ذكرنا ولا يشتري به ما لا ينتفع به الا بعد الاستهلاك نحو اللحم والطعام” (ص ٢۰١ ج۵)۔

          قربانی کے چمڑے کو بیچنا اس نیت سے کہ اس کی قیمت صدقہ کریں بلا شبہ جائز ہے نیز مسجد و مدرسہ میں دینا کہ اس کی قیمت کو متولی و منتظمین حضرات مسجد و مدرسہ کے کاموں میں صرف کریں یہ جائز ہے کوئی حرج نہیں۔

    یہی وجہ ہے کہ آج کے دور میں اکثر حضرات کھال کو مدرسہ میں دے دیتے ہیں جو باعث ثواب و باعث نجات دونوں ہیں۔

لیکن ادھر کچھ سالوں سے کھال کی قیمت بالکل کم ہو چکی ہے جس کی وجہ سے کھال کے خریدار کھال کے لینے سے کتراتے ہیں یا بہت معمولی قیمت دینے کو تیار ہوتے ہیں تو اب ایسی صورت میں ایک مسئلہ یہ در پیش ہو رہا ہے کہ کھال کو کیا کیا جائے؟…..  اگر اسے پھینک دیا جا ئے تو تضیع مال ہے جو شرعا درست نہیں۔ اور کچھ لوگ کہتے ہیں دفن کر دیا جائے تو یہ بھی تضیع مال ہے جو درست نہیں۔

          اس سلسلے میں پہلی بات یہ ہے کہ کھال کے خریداروں سے پہلے رابطہ کیا جائے اگر وہ معمولی قیمت میں بھی خریدنے کوتیار ہیں تو بیچ دیا جائے کیوں کہ نہ بیچ کر اگر دفن کر دیا جائے تو تضیع مال ہے جو شرعاً درست نہیں۔

آج میں نے واٹس ایپ پہ کچھ ایسی تحریریں پڑھی جس میں یہ لکھا ہوا تھا کہ کھال کو دفن کر دیا جائے تو میں نے خود کچھ کھال خریدنے والوں سے رابطہ کیا تو انھوں نے بتایا کہ حضرت کھال کی قیمت اس وقت بہت کم ہے میں١۰/روپیہ میں لے لوں گا اگر کو ئی اس سے زیادہ دے تو آپ اسے دے سکتے ہیں۔

      یقینا ہر مسجد، مدرسہ، کے منتظمین حضرات کی یہ ذمہ داری ہے کہ کھال کے خریداروں سے پہلے رابطہ کریں  اگر وہ معمولی قیمت میں بھی خریدنے کے لیے تیار ہے تو بیچ دیں اگر دفن کریں گے یا پھینک دیں گے تو تضیع مال ہوگا جو شرعاً درست نہیں۔

        دوسری صورت یہ ہے کہ جب خریدار نہ ملے تو خود اپنے کام میں لائیں مثلاً جانماز، مشکیزہ، دسترخوان، ڈول، کتابوں کی جلدیں وغیرہ میں استعمال کریں۔

     اور اگر کوئی جائز صورت نظر نہ آئے جس میں استعمال کرنے کی شرع میں تفصیل موجود ہے تو اب اگر کھال کے سڑنے یا بیماری پیدا ہونے یا بدبو کا خدشہ ہے تودفن کرنے کی گنجائش نکل سکتی ہے۔

        ان تمام جائز صورتوں کے ہونے کے باوجود جن لوگوں نے براہ راست دفن کرنے کا ہی مشورہ دیا انہیں اپنی تحریر پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم

از قلم : مفتی خورشید عالم برکاتی مصباحی

خادم۔جامعہ امجدیہ رضویہ گھوسی مئو

ڈاکٹر آصف جلالی اور اصحاب جلال و کمال  از قلم طارق انور مصباحی 

  1. Amazon 
  2.   Flipkart 
  3. Bigbasket
  4. Havells
  5. AliExpress

Recent Posts

کیا ہم سچ میں آزاد ہیں

تحریر : وزیر احمد مصباحی (بانکا) کیا ہم سچ میں آزاد ہیں ؟  کیا ہم… Read More

تعزیت نامہ

تعزیت نامہ اتر گئے منزلوں کے چہرے امیر کارواں گیاہے کئی دماغوں کا ایک انساں… Read More

جنگ آزادی میں مسلمانوں کی قربانیاں

۔✍آصف جمیل امجدی  جنگ آزادی میں مسلمانوں کی قربانیاں {موجِ فکر }۔ جنگ آزادی میں مسلمانوں… Read More