ماہ ربیع النور اور جان کائنات ﷺ

از قلم: محمد مجیب احمد فیضی ماہ ربیع النور اور جان کائنات ﷺ

ماہ ربیع النور اور جان کائنات ﷺ

آمد مصطفی مرحبا مرحبا

آمد مصطفی مرحبا مرحبا

جلوس محمدی ﷺ قرآن و حدیث کی روشنی میں 

ماہ ربیع النور شریف یہ تیسرا اسلامی مہینہ ہے۔یہی وہ مقدس وبابرکت مہینہ ہے جس میں اصل کائنات ,جان کائنات روح کائنات, یعنی حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم اس خاکدان گیتی پر تشریف لائے۔جن کی آمد کی برکت سے ہر چہار جانب ترو تازہ نور و نکہت پھیل گئیں۔

ایک بار پھر پوری دنیا میں آثار حیات نمودار ہونے لگے جس سےبزم ہستی پرچھائے ہوئے نا امیدی غم و مایوسی کے کالے بادل چھٹ نے لگے۔اس دل افروز ساعت میں حضرت عبدالمطلب کے راج دلارے حضرت عبداللہ کے نور نظر حضرت آمنہ خاتون کے جگر پارے صحن آمنہ میں جلوہ فرما ہوئےجن کے وجود مسعود کی ضیاء پاشیوں سے پورا کا پورا گھر بقعۂ بن گیا۔

انوار وتجلیات کی بہاؤں نے نہ صرف اس گھر کو بلکہ کائنات ارض وسماں کو بھی اپنے گھیرے میں لے لیا۔گویا ہر چیز چاندنی میں نہا گئ۔بالا آخر کئ صدیوں کے انتظار کے بعد اللہ جل مجدہ الکریم کا وہ عظیم اور سب سے بہترین شاہکار اس خاکدان گیتی پر اپنی تمام تر حسن وجمال وخوبیوں اور کمال کے ساتھ جلوہ گر ہوا۔

ہر طرف نور ہی نور ہوگیا۔ہر طرف دھوم مچی تھی مصطفی جان رحمت صلی اللہ علیہ وسلم آگئے مجتبی کریم آگئے۔غریبوں, یتیموں مفلسوں, مجبوروں, کی امداد کرنے والے بیواؤں  کو سہارا دینے والے بے کسوں کے کس بے بسوں کے بس راہ حق سے منحرف انسانوں کو صراط مستقیم کی ہدایت دینے والے بھٹکی اور بھولی ہوئ انسانیت کو راہ راست پر لانے والے حق کے سب سے بڑے داعی پیغمبر اسلام نبئ آخرالزماں رسول ہاشمی مدنی سرکار آگئے ہیں جن کی أمد کے موقع پر خود خالق کائنات نے اس قدر مشرق تا مغرب چراغاں کیا کہ جس سے سارے آفاق روشن و منور ہو گئے۔

چناں چہ!!جان کائنات جب دنیا میں تشریف لائے تو حضرت عمروبن ابی العاص روایت بیان کرتے ہیں: ” ان کی والدۂ ماجدہ نے ان سے بیان کیا: کہ جب ولادت مصطفوی کی وہ پاک اور بابرکت گھڑی قریب آئی: چوں کہ آپ اس وقت حضرت آمنہ خاتون کے پاس ہی تھیں آپ فرماتی ہیں:۔

کہ میں مشاہدہ کر رہی تھی کہ ستارے آسمان سے نیچے ڈھلک کر قریب آرہے ہیں یہاں تک کہ میں نے یہ احساس کیا کہ کہیں یہ سب مجھ پر گر نہ پڑیں : جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت ہوئی تو سیدہ آمنہ سے ایک ایسا نور نکلا جس سے پورا دولت کدہ جگمگ جگمگ کرنے لگا اور مجھے ہر ایک شئ میں نور ہی نور نظر آنے لگا”   ( الحدیث)۔

اور ایسے ہی ایک دوسرے مقام پر پیغمبر اعظم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ولادت باسعادت کا تذکرہ فرماتے ہوئے کچھ اس طرح ارشاد فرمایا:  “کہ میری والدۂ ماجدہ کے جسم مبارک سے ایک ایسا نور نکلا جس سے شام کے محلات روشن ہو گئے”۔ (مسند احمد بن حنبل)۔

ان پر نور لمحات میں جہاں کائنات رنگ وبو کا ذرہ ذرہ درخشندہ تھا طویل ترین ظلمت شب اپنے انجام کو پہونچ چکی تھی۔ بھلا ان پرکیف و پرمسرت لمحات میں قبیلۂ بنو سعد کی ایک غریب وناتواں خاتون حضرت حلیمہ سعدیہ کا مقدر کیوں نہ بیدار ہوتا اور کیوں کر نہ ابدی سعادتیں اپنے دامن مراد میں سمیٹنے کے لیے کاشانۂ مصطفوی کا رخ کرتا۔

حضرت حلیمہ سعدیہ اپنے دولت کدہ سے غربت وافلاس فاقہ وتنگدستی لے کر نکلیں اور دستور عرب کے مطابق سوئے حرم روانہ ہوئیں مگر اپنی نحیف ولاغر اونٹنی کے باعث اور دائیوں سے بہت پیچھے رہ گیئں۔منزل مقصود تک پہونچتے پہونچتے

تقریبا ساری دائیوں  نے امیر کبیر بچوں کو اپنی اپنی گود میں لے کر چلنا شروع کیا بلکہ بعض عورتوں نے تو کہنا بھی شروع کیا حلیمہ تم نے بہت تاخیر کردی اب سوائے ایک یتیم بچے کے اور تم کو نہ مل سکے ۔

حضرت حلیمہ سعدیہ نے سوچا خالی ہاتھ لوٹنے سے بہتر ہے کہ یتیم ہی سہی لیکن بچے کو ساتھ لے کر لوٹوں ان عورتوں کو کیا معلوم تھا کہ جس بچے کو وہ یتیم سمجھ کر چھوڑ گئیں تھیں وہ فقط یتیم نہیں بلکہ در یتیم تھا۔اسی بچے سے تو حضرت حلیمہ کی تقدیر بدلنے والی تھی ۔

اس کو بھی پڑھیں: آو دھوم مچائیں جشن عید میلاد النبی ﷺ آئی

ان کے مقدر کی معراج ہونے والی تھی۔کیوں کہ یہ کوئ عام انسان نہیں بلکہ کائنات کے سب سے عظیم انسان اور نبی تھے۔اب حضرت حلیمہ رب قدیر کی ذات پر بھروسہ رکھتے ہوئے قبیلۂ بنو ہاشم کی اور بڑھیں ۔

ادھر حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے جد امجد حضرت عبد المطلب دروازے پر کھڑے تھے ایسا لگتا تھا کہ آپ کسی کے آمد کا انتظار کر رہے ہوں۔ نام اور قبیلہ پوچھا: آپ سمجھ گئے یہ وہی حضرت حلیمہ ہیں جن کی عظمت ورفعت اعزاز واکرام کے متعلق ہاتف غیبی سے خبر مل چکی ہے۔

یہی وہ حلیمہ ہیں جن کی تقدیر میں حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی دایہ ہونے شرف لکھا جا چکا ہے۔آپ کے جد امجد حضرت عبدالمطلب نے نہایت ہی خوشدلی کے ساتھ آپ کا استقبال کیا اور کہا:اندر آجاو حلیمہ یہی وہ محبتوں عنایتوں برکتوں سعادتوں والا بچہ ہے۔

حضرت حلیمہ کہتی میں چپ کےسے دل مضطر کے ساتھ اندر ہوگئ اور محبتوں رحمتوں عنایتوں کے پر مسرت اور پرکیف جھونکوں نے سب سے پہلے میرا استقبال کیا اور میں اس دیر پا خوشبو سے مسحور وبے خود ہوگئی۔

آپ فرماتی ہیں کہ میں نے کسی حساب سے دل کو سنبھالہ اور آگے بڑھی میں نے دیکھا حضوررحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سبز رنگ صاف شفاف ریشمی بستر پر سفید روئی کے کپڑے میں ملبوس آرام فرما رہے ہیں۔

تھوڑا اور آگے بڑھی تب تک جوش عقیدت نے میرے قدم پکڑ لئے کہ کہیں جان کائنات اصل کائنات روح کائنات میرے قدموں کی أہٹ سے بیدار نہ ہوجائیں۔ نہایت ہی نرمی کے ساتھ سینۂ اقدس پر ہاتھ رکھا وہ جو سورہے تھے مسکرا پڑے خوب صورت سرمگیں آنکھیں آپ فرماتی ہیں اب مجھ میں صبر کی مزید طاقت باقی نہ رہی عقیدت ومحبت کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا ۔

میں نے فورا فرط محبت سےحسن کائنات کو گلے لگا لیا ایسا لگتا تھا کہ محبتوں کا ایک سمندر مجھ میں سماں گیا ہے۔آپ فرماتی ہیں کہ بخدا رسول گرامی وقار کی طرح حسن وجمال ورعب وجلال والا بچہ میں نے کبھی نہیں دیکھا۔

فرط محبت میں آپ نے پیشانئی اقدس کو چوم لیا اور پھر حضرت آمنہ خاتون نے کہا حلیمہ تمہیں اس بچے کی دایہ ہونے پر مبارک باد کیوں کہ میرا یہ بچہ بے شمار خوبیوں برکتوں والا بچہ ہے۔

جب سے مجھے یہ میرا بچہ بصورت امانت ملا ہے بڑے ہی خوارق وانوار دیکھے ہیں جو بڑے ہی حیرت انگیز اور ایمان افروز ہیں۔

شروع میں خواب میں اور بعد میں بوقت ولادت عالم بیداری میں میں نے دیکھا کہ مجھ سے بوقت ولادت ایک ایسا نور خارج ہواجس سے شام اور بصرہ کے محلات روشن ہو گئے

از قلم: محمد مجیب احمد فیضی

ONLINE SHOPPING

گھر بیٹھے خریداری کرنے کا سنہرا موقع

  1. HAVELLS   
  2. AMAZON
  3. TATACliq
  4. FirstCry
  5. BangGood.com
  6. Flipkart
  7. Bigbasket
  8. AliExpress
  9. TTBazaar

Recent Posts

مسلم لڑکیوں کا غیروں کے ساتھ رشتہ محبت کی روک تھام کیسے ہو

تحریر: ابصار عالم شیرانی مسلم لڑکیوں کا غیروں کے ساتھ رشتہ محبت کی روک تھام… Read More

اختلاف وانتشار کا سبب کیا ہےقسط دہم

تحریر: علامہ طارق انور مصباحی کیرلا  اختلاف وانتشار کا سبب کیا ہےقسط دہم  گزشتہ  تمام… Read More

اختلاف وانتشار کا سبب کیا ہے قسط نہم

تحریر: طارق انور مصباحی ٓ(کیرلا)۔ اختلاف وانتشار کا سبب کیا ہے قسط نہم اختلاف وانتشار… Read More