مخدوم سمنانی

کرام کے مقدس جماعت نے بے اذان کے مشن کو فروغ دینے کے،ان کی تعلیمات کو لوگوں تک پہنچانے اور بھٹکے ہوئے کو صراط مستقیم پر گامزن کرنے میں بڑا اہم رول ادا کیا ہے۔۔اور کیوں نہ ہو جب کہ ان کا مقصد زیست ہی یہی ہے۔ ان کی زندگی کا مقصد الحب فی اللہ والبغض فی اللہ ہے۔ اسی سلسلہ المذہب کی ایک اہم ہم کڑی،اشرف الاولیاء ،تارک سلطنت،سلطان حضرت سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی ثم کچھوچھوی علیہ رحمۃ الرحمۃ والرضوان۔

آپ کی اولاد ت باسعادت ایران کے شہر سمنان میں سلطان خراسان حضرت سید ابراہیم کے یہاں ہوئی۔

آپ کی ذہانت و فطانت کا یہ عالم تھا کہ جو سبق ایک بار پڑھ لیتے وہ آپ کو ازبر ہو جاتا تھا۔صرف سات سال کی عمر شریف میں میں بفضل خدا عزوجل وہ بطفیل حبیبہ المصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم قرآن کریم مع سات قرات کے حفظ کیا۔ 14 سال کی عمر میں تمام علوم متداولہ میں کامل طور پر عبور حاصل کیا ۔

تصوف کی ابتدائی تعلیم آپ نے اس وقت کے جلیل القدر بزرگ شیخ علاءالدین سمنانی قدس سرہ متوفی 736ہجری سے حاصل کی۔

۔15 سال کے تھے کہ والد محترم حضرت سید ابراہیم علیہ الرحمہ انتقال فرما گئے۔ اس طرح اس کم عمری میں سلطنت سمنان کی ذمہ داری کا بارگراں آپ کے کندھوں پر آگیا ۔

آپ نے دس سال نہایت عدل و انصاف سے حکومت کی پھر اپنے چھوٹے بھائی سید محمد اعراف کی تخت نشیی کا اعلان کر دیا۔ اور خود ہمیشہ کے لئے تخت و تاج سے دستبردار ہوگئے۔ ہزاروں میل کی دشوار گزار راہیں طے کرکے سرزمین ہند کے صوبہ بنگال میں قدم رنجا فرمایا۔ اور پنڈوہ شریف حضرت سیخ علاء الحق گنج نبات رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت اقدس میں پہنچے۔

بعد ازاں حضرت سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی اپنے پیر و مرشد حضرت سید سیخ علاءالحق گنج نبات علیہ الرحمہ کے حکم پر تبلیغ دین متین کے لیے روانہ ہوگئے گئے۔ حضرت مخدوم سید اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی زندگی سیاحت و تبلیغ دین متین میں گزاری۔ اور سیاحت کے دوران کئی سو بزرگان دین سے فیض حاصل کیا ۔

ہندوستان کے ہندوؤں کے پوتر مقام اجودھیا کے قریب پہنچے اور کچھوچھہ شریف، ضلع امبیڈکر نگر یوپی میں اپنی خانقاہ قائم کی۔ آپ کا شمار اولیاء کبار میں ہوتا ہے۔ تاریخی اسلام میں چند نابغہ روزگار ہستیاں ہیں۔ جنہوں نے دنیا و مافیہا سے قطع تعلق کر کے تبلیغ اسلام کی خاطر سب کچھ نچھاور کر دیا،ان میں حضرت سید ابراہیم بن ادھم اور حضرت مخدوم سید اشرف جہانگیر سمنانی اللہ رحمۃ اللہ علیہما سر فہرست ہیں۔