مزدوروں کی بے بسی گورنمنٹ کی ناکامی

مزدوروں کی بے بسی گورنمنٹ کی ناکامی

تفضل عالم مصباحی پورنوی مزدوروں کی بے بسی گورنمنٹ کی ناکامی

مزدوروں کی بے بسی گورنمنٹ کی ناکامی

          ہم لوگ جس ملک کی صاف و شفاف فضا میں آزادی کے ساتھ سانس لے رہے ہیں وہ روے زمین پر ہندوستان کے نام سے موسوم ہے جو جمہوریت کے نفوذ و عمل کے نقطہ نظر سے آئینہ عالم میں نمایاں مقام رکھتا ہے جہاں پر ہر فرد کو برابری کے ساتھ رہنے کا حق حاصل ہے یہاں کا دستور العمل کسی بھی فرد کو ذات، پات، مذہب و ملت، نسل و قوم اور علاقائیت و شہریت کی بنیاد پر تفریق و امتیاز کا حق نہیں دیتا لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ کرونا وائرس  کے مسلسل بڑھتے معاملات اور لاک ڈاؤن کی بڑھتی شرح کی وجہ سے تفریق و امتیاز اور اغیارانہ سلوک کا بازار شباب پر ہے. 

         یہ بات مسلم ہے کہ کورونا وائرس   کی بڑھتی مہاماری کی وجہ سے دنیا کے اکثر ممالک لاک ڈاؤن سے دوچار ہیں اور کاروبار، تعلیمی و غیر تعلیمی ادارے، کارخانے، دیہاری روزگار وغیرہ سب کے سب کرونا کی نظر ہو چکے ہیں. انہیں ممالک میں وطن عزیز بھی ہے جس نے کرونا وائرس کو شکست دینے کے لئے دور اندیشی اور درپیش معاشی تباہ کاریوں کو کما حقہ سوچے سمجھے بغیر لاک ڈاؤن کر دیا جس کی وجہ سے مزدوروں کی مزدوری، کاریگروں کے کام، کسانوں کی کھیتی، محنت کشوں کی محنت، کارخانہ والوں کا جمع ساز و سامان پر دست حرماں پھر گیا.

              روزگار کے وسائل مفقود و مفلوج ہو جانے کی وجہ سے لوگوں کا جمع رقم و راشن اور ضروری اشیاء ختم ہونے کے دہانے پر ہیں. کاروبار اور معاشی صورتحال کے پٹری پر نہ لوٹنے کی وجہ سے لوگوں میں خوف و ہراس اور بے چینی کا ماحول پیدا ہو گیا ہے جس کے باعث باہر میں پھنسے مزدور اور دیگر پیشے ور عوام قلت رقم و راشن اور حکومتی امداد کی کمی سے جوجھنے کی وجہ سے اپنا جسم و جاں کی بقا کی تلاش و جستجو لے کر اپنے آبائی وطن کی طرف کوچ (پلائن) کرنے پر مجبور ہیں۔

 ضروری ساز و سامان لئے بغیر لوگ صرف گھروں کی آس و امید لئے بنفس نفیس اور اپنے پریوار کو ساتھ لئے کوئی پیدل، کوئی سائیکل تو کوئی موٹر گاڑی کے سہارے نکل پڑے ہیں نہ ان کے پاس اشیاء خورد و نوش ہے، نہ خیمہ زنی کے ساز و سامان، نہ حکومت کی طرف سے کوئی خاص امداد اور نہ ہی اس بے بسی کے عالم میں کوئی پرسان حال. اور اگر کوئی دست تعاؤن بھی دراز کرے تو اس پر مزید ناکارہ حکومت کی تنقید کی تلوار لٹکتی نظر آتی ہے. اے کاش کوئی پرسان حال ہوتا !! ۔

         باہر پھنسے مظلوم مزدوروں اور غریب الوطن لوگوں پر کرونا وائرس نے اپنا کرم خوب بارش کی، ستم بلاے ستم یہ کہ ذمہ دار افراد، محافظ دستے اور تخت نشین مغرور حکومت کا رویہ ان کے ساتھ برابر کا نہیں ہے. حکومت جو مال و زر کے خزانے پر مقبوض و مبسوط ہیں اور وسائل و ذرائع ابلاغ کے محکمات پر دسترس رکھتی ہیں پھر بھی مزدوروں کو سلامتی کے ساتھ گھروں تک پہنچانے میں ناکام و نامراد نظر آ رہی ہے. ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ دیہاری مزدوروں اور حالات کے ہاتھوں مجبور غریبوں اور مفلسوں کو ان کی مقفل جگہوں پہ پیٹ بھر کھانا کھلایا جاتا، معاشی بحران سے دوچار ہونے سے بچانے کے لئے کچھ معاون رقم مہیا کرایا جاتا اور جو جس جگہ پریشانی میں مبتلا ہیں انہیں ان کے گھروں تک چیک اپ کرا کے پہنچایا جاتا لیکن حالات و معاملات افسوس کن ہیں مزید ستم ظریفی یہ کہ ان کے ساتھ حکومت کا رویہ اغیارانہ نظر آ رہا ہے جو سب پر ظاہر ہے .

            پوری دنیا میں آج کرونا وائرس کے معاملات 4,989,197 ہیں اور 324,970 لوگ اس کی وجہ سے جان بحق ہو چکے ہیں جبکہ 1,960,472 افراد اس وبا سے صحت یاب بھی ہو گئے ہیں اور اگر ہندوستان میں اس کے معاملات کی بات کریں 106,886 معاملات سامنے آ چکے ہیں اور 3,303 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور یہ اب بھی روز افزوں ہیں.

ڈاکٹروں نے اس کو شکست کے دہانے پر پہنچانے کا واحد ذریعہ سوشل ڈسٹینسنگ اور دہ سے دوری بتایا ہے اور اسی پر عمل درآمد کرانے کے لئے پورے ملک میں کئی مراحل پر مشتمل تالہ بندی چل رہی ہے. کرونا وائرس کی بڑھتی شرح کو روکنا اور ڈاکٹروں اور حکومتوں کے حکم کا پالن کرنا ہمارا بنیادی ملکی فریضہ ہے لیکن سوشل ڈسٹینسنگ کو برقرار رکھنے میں اور کرونا وائرس کو شکست کے ساحل پر پہنچانے میں حکومت اور پرشاشن ناکام نظر آ رہی ہے۔

اس حقیقت کا اندازہ آپ ٹکٹوں کے لئے لائن میں کھڑے لوگوں کے ہجوم، شراب کے ٹھیکوں کے پاس شراب کے نشے میں دھت شرابی لوگوں اور کورینٹین سینٹر میں لاے گئے افراد کی بھیڑ سے لگا سکتے ہیں جہاں پر ذمہ داران حکومت کے سامنے سوشل ڈیسٹینس کی ایسی دھجیاں اڑائ جا رہی ہیں جو ناقابل بیان ہے جس کی وجہ سے کرونا وائرس کی شرح بام عروج پر پہنچنے کی قیاس آرائی کی جا رہی ہے .

          حکومت کی نگرانی میں بنائی گئی کورینٹین سینٹر پر بے راہ روی اور ستم ظریفی کا عالم یہ ہے کہ ان میں لوگوں کو جانوروں کی طرح بھر دیا گیا ہے اور کھانے پینے اور صحیح سے اوڑھنے پہننے کا انتظام و انصرام بھی کالعدم نظر آتا ہے. مگر آج کے اس مہاماری کے دور میں انسانیت سے الفت و محبت کرنے والے کچھ ایسے بھی لوگ ہیں جو راہگیروں، مزدوروں، غریبوں اورمفلسوں کے کھانے پینے اور ساز و سامان کا اہتمام کر رہے ہیں. ان جیسے لوگوں کی کرم نوازی اور فیاضی کی وجہ سے سینکڑوں جانیں بھوک و پیاس کی وجہ سے مرنے سے بچ جاتی ہیں اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے 

کورونا کے قہر میں رمضان المبارک کا پہلا جمعہ ازحافظ محمد ہاشم قادری صدیقی مصباحی

کورونا اور بھوک مری سے جنگ ضروری از  نعیم الدین فیضی برکاتی

محترم قارئین! ۔
   ناکارہ حکومت اپنے دائرے میں رہ کر لوگوں کے لئے امدادی اسکیم، ضروری اشیاء کی فراہمی اور نام و نمود کے لئے لایعنی سعی کر رہی ہے لیکن ان کی یہ سعی لا حاصل بھی ایسی ہے جیسے ہاتھی کے منہ میں زیرا، جو کھلے عام ان کی نا کامی طرف واضح اشارہ ہے. لہٰذا اس معاشی بحران کے سنگین دور میں اہل ثروت حضرات جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے کرم خاص سے نوازا ہے کو چاہیے کہ۔  حتی المقدور بھوکوں کو کھانا کھلائیں ، غریبوں کی مالی امداد کریں، ضرورتمندوں کی حاجتوں کو پوری کریں۔

جو لوگ اپنے آبائی علاقے کی راہ میں بے سرو سامان ہیں ان کے گھروں تک رسائی کا ذریعہ فراہم کریں، جو افراد کرونا وائرس میں مبتلا ہو گئے ہیں ان کی صحیح طریقے سے دیکھ بھال کریں، اور دوسروں کو ان کے قریب آنے سے بچانے کی کوشش کریں، سوشل ڈسٹینسنگ پر عمل کریں اور سب کے ساتھ یکساں سلوک کریں تاکہ کسی کی دل آزاری نہ

مولانا تفضل عالم مصباحی پورنوی

مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی

9889916329 

AMAZON    FLIPKART