مفتی سلمان ازہری زندہ باد

مفتی سلمان ازہری زندہ باد

از۔ محمد فیضان رضا علیمی مفتی سلمان ازہری زندہ باد ہمتِ مرداں مددِ خدا

مفتی سلمان ازہری زندہ باد

تاریخ اس بات کی گواہ ہے۔ جب بھی اسلام اور پیغمبر اسلام پر اہل باطل نے یلغار کیا اور گستاخی میں حد سے تجاوز کیا تو اسلام کا کوئی نہ کوئی سپوت اپنی جرأت و ہمت اور خدائے وحدہ لاشریک کی مدد خاص سے میدان میں آکر اس کا مقابلہ کیا ہے یہ مقابلہ کبھی جنگی صورت میں رونما ہوا تو کبھی مباہلہ کی صورت میں ۔

جنگوں کی تاریخ پڑھیں تو معلوم ہوگا کہ جتنی بھی جنگیں ہوئی ہیں وہ شوکتِ اسلام کے لیے یا دشمنانِ اسلام کی طرف سے کسی نہ کسی طور پر مجبور کرنے پر ان کی سرکوبی کے لیے مسلمانوں نے دفاعی پوزیشن اختیارکی پھر تو اسلام کو سربلندی اور باطل قوتوں کو ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑا ۔

جنگوں اور مباہلوں میں مسلمانوں کا سامنا سب سے زیادہ عیسائیوں اور مشرکوں سے رہا اگرچہ قرآنِ مقدس کے مطابق عیسائیوں سے بڑے مسلمانوں کے دشمن یہود ہیں مگر وہ اپنی خفیہ سازشوں اور گندی حرکتوں کے لیے مشہور رہے۔

زمانہ رسالت میں عیسائیوں سے مباہلہ کا اعلان کرنےکا حکم ہمارے آقا ﷺ کو اللہ رب العزت نے دیا جس کا ذکر قرآن مقدس میں اس انداز سے ہوا ہے 

فَمَنْ حَآجَّكَ فِیْهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآءَنَا وَ اَبْنَآءَكُمْ وَ نِسَآءَنَا وَ نِسَآءَكُمْ وَ اَنْفُسَنَا وَ اَنْفُسَكُمْ- ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللّٰهِ عَلَى الْكٰذِبِیْنَ

ترجمۂ کنز العرفان: پھر اے حبیب! تمہارے پاس علم آجانے کے بعد جو تم سے عیسیٰ کے بارے میں جھگڑا کریں تو تم ان سے فرما دو: آ ؤ ہم اپنے بیٹوں کو اور تمہارے بیٹوں کواور اپنی عورتوں کواور تمہاری عورتوں کواور اپنی جانوں کواور تمہاری جانوں کو (مقابلے میں ) بلا لیتے ہیں پھر مباہلہ کرتے ہیں اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ڈالتے ہیں۔

فَمَنْ حَآجَّكَ فِيْهِ : (جو تم سے عیسیٰ کے بارے میں جھگڑا کریں)۔ یہاں مباہلے کا ذکر ہورہا ہے اس کا معنی سمجھ لیں ، مباہلہ کا عمومی مفہوم یہ ہے کہ دو مد مقابل افراد آپس میں یوں دعا کریں کہ اگر تم حق پر اور میں باطل ہوں تو الله تعالی مجھے ہلاک کرے اور اگر میں حق پر اور تم باطل پر ہو تو الله تعالی تجھے ہلاک کرے ۔

پھر یہی بات دوسرا فریق بھی کہے۔اس مباہلہ کے بارے میں ہر ذی علم جانتا ہے کہ نصرانیوں نے جب پنجتن پاک کو دیکھا اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے شرائط کو سنا تو وہ حواس باختہ ہوگئے اور یہ کر بھاگ نکلے کہ یہ تو وہ ہستیاں ہیں

کہ اگر یہ دعا کر دیں تو پہاڑ اپنی جگہ چھوڑ کر ان کی بارگاہ میں حاضر ہو جائے ہم ان سے مباہلہ نہ کریں گے ورنہ ہمارا دین ہی ختم ہوجائے گا اور سب کے سب ہلاک و برباد ہوجائیں گے۔

آج بھی کفر اپنی مختلف صورتوں میں دشمنی پر کمر بستہ ہےاور ان کی جانب سے بہت زیادہ بدزبانیوں اور گستاخیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے۔اب جب بات حد سے گزرنے لگی ہے تو کفر کو انہیں کی زبان میں جواب دینے کے لیے ایک مردِ حق آگاہ میدان میں اترپڑا ہے

جسے ہم مفتی سلمان ازہری صاحب کے نام سے جانتے ہیں اور اس نے آگ میں جاکر مباہلہ کا اعلان کردیا ہے ۔

اس بےباکانہ و جرأت مندانہ اقدام پر جہاں غیر لوگ انگشت بدنداں ہیں وہیں کچھ اپنے لوگ پش و پیش میں مبتلا ہیں کہ آگ کی خاصیت جلانا ہے اور ہوسکتا ہے کہ آج کی اس ترقی یافتہ دنیا میں کمیکل وغیرہ کی مدد سے مباہلہ کرلیا جائے۔

اور باطل طاقت اپنی شرانگیزی میں کام یاب ہوجائے اس لیے یہ مناسب نہیں تھا مگر ان کی تسلی کے لیے بس اتنا کہنا چاہوں گا کہ جو رب اس بات پر قادر ہے کہ جلانے کی خاصیت رکھنے والی آگ سے اپنے خلیل ابراہیم علیہ السلام اور دیگر اپنے نیک بندوں کو محفوظ فرماتا ہے

وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ اپنے اور اپنے محبوب کے گستاخ کو کمیکل سمیت جلاکر بھسم کردے ـ

اور مباہلہ سے پہلے سب کی اعلیٰ سطحی جانچ کی مفتی سلمان ازہری نے مانگ کی ہے اس لیے گھبرانے یا پست ہمتی دکھائے بغیر ان کے حق میں دعا کرنا زیادہ فائدہ مند ہے کیونکہ جو قدم آگے بڑھ چکا ہے اب وہ پیچھے ہٹنے والا نہیں کیوں کہ پیچھے ہٹنا شکست کے مترادف ہے ـ

ضرورت اس بات کی ہے اس صاحب جرأت و ہمت کی حوصلہ افزائی کی جائے اور اس ماہ مقدس میں اپنی خاص دعاؤں میں ان کو یاد رکھا جائے۔

لیکن بعض کم ہمت اور بے دل لوگ ان کی مخامخالفت کر رہے ہیں اور ان کو مباہلہ کے شرائط سیکھا رہے ہیں اور ان پر بے جا سوالات کر کے ان کی ہمت کو کمزور کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔

جب کہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ ہر چہار جانب سے ان کی ہمت و جرأت کو داد و تحسین ملتی اور خوب دعائیں دیتے ۔ جیسا کہ ہمارے بعض کرم فرما علما و مشائخ نے کیا بھی ہے۔

اللہ پاک مفتی سلمان ازہری کو سلامت رکھے دین حق مذہب مہذب اسلام کو سربلند کرے اور اہل کفر کو شکست فاش دے ۔آمین بجاہ سید المرسلین علیہ التحیہ والثناء

از۔ محمد فیضان رضا علیمی

جماعت رضائے مصطفے سیتامڑھی بہار

رضاباغ گنگٹی پوپری سیتامڑھی

ان مضامین کو بھی پڑھیں 

شور و غل نہ کریں محاذ پر ڈٹے رہیں

محمد ہے متاع عالم ایجاد سے پیارا

شان رسالت ﷺ  میں توہین ناقابل برداشت

پیغمبر اسلام ﷺ کی توہین اور انتظامیہ کی بے حسی

قرآن مجید کے عددی معجزے

قرآن مجید ایک ناقبل تحریف کتاب

قرآن مجید کے حقوق اور ہماری ذمہ داریاں 

تعظٰم نبی ﷺ اور امام احمد رضا 

امام احمد رضا قادری : مجدد اعظم

اسلام اور مسلمانوں کے نزدیک قرآن کی اہمیت

عروج چاہیے تو سماج میں قرآن کا عکس بن کے نکلے مسلمان

ہندی مضامین پڑھنے کے لیے کلک کریں 

हिन्दी में पढ़ने के लिए क्लिक करें 

 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top