منظوم سوانح تاج الشریعہ جناب اشرف کی منفرد کاوش

منظوم سوانح تاج الشریعہ جناب اشرف کی منفرد کاوش

تبصرہ نگار: وزیر احمد مصباحی (بانکا) منظوم سوانح تاج الشریعہ جناب اشرف کی منفرد کاوش

منظوم سوانح تاج الشریعہ

دور حاضر کے جن زود نویسی لکھاریوں نے مجھے یک گونہ متاثر کیا ہے، ان میں ایک نام مولانا محمد اشرف رضا قادری سبطینی کا بھی ہے۔

میرا خیال ہے کہ موصوف نے ابھی اپنی زندگی کے بمشکل ۲۷/ ۲۸ بہاریں ہی دیکھی ہیں، مگر اتنی سی عمر میں ہی موصوف کے قلم نے علمی و ادبی میدان میں کمال کے جلوے بکھیر رکھا ہے۔ تصنیف و تالیف کے باب میں درجن بھر کتابوں کا انتساب آپ کی ذات سے بغیر کسی شک و شبہ کے کیا جا سکتا ہے۔

گزشتہ دو سالوں میں آپ نے کتابی صورت میں پے در پے جو علمی و ادبی جوہر وجود میں لائے ہیں ان میں ایک کتاب کا نام ” منظوم سوانح تاج الشریعہ” بھی ہے۔

یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ نثر و نظم دو مختلف صنف سخن ہیں۔ اوّل الذکر صنف میں کسی ذات پر خامہ فرسائی کرنا، باریک و لطیف گوشوں کو سپرد قرطاس کرنا یا پھر کسی اہم مسئلے کی طرف قارئین کی توجہ مبذول کرانا، نظم کے بالمقابل قدرے آسان و سہل ہے۔ شعری اوزان و قواعد ملحوظ رکھتے ہوئے نظم کی صورت میں کسی کا تعارف پیش کرنا واقعی جگر کاوی کا کام ہے۔

علم و ادب کی معتبر شخصیات کا تعارف اور ان کے گراں قدر خدمات سے اگر آپ روشناس ہونا چاہیں تو آپ کو نثری میدان میں ڈھیروں ضخیم اور عمدہ کتابیں مل جائیں گی، ہاں! اگر آپ در صورت نظم لکھی ہوئی کسی مصنف کی تصنیف یا مؤلف کی تالیف تلاش کریں تو بڑی مشکل سے ہاتھ لگے گی۔

منظوم سوانح تاج الشریعہ جناب اشرف کی منفرد


الحمدللہ زیر تبصرہ کتاب”منظوم سوانح تاج الشریعہ”محترم محمد اشرف رضا قادری کی ایک تازہ اور منفرد کاوش ہے‌۔ اس کتاب میں ماضی قریب کی عبقری شخصیت یعنی حضور تاج الشریعہ علامہ اختر رضا خان ازہری علیہ الرحمہ کی زندگی کے تابندہ نقوش قلم بند کیے گئے ہیں۔

بیتے ایک دو برس ہی کی تو بات ہے، جب اہل سنت کے علمی حلقوں میں صد سالہ عرس امام احمد رضا قادری قدس سرہ کے موقع پر عقیدت کیش اپنی اپنی طرف سے فاضل بریلوی کے علمی مشن کو زندہ کرنے اور ان کے زریں کارناموں سے دنیا کو واقف کرانے کے لیے کتابیں تصنیف کرنے کے ساتھ ساتھ خصوصی نمبرات بھی نکال رہے تھے۔ زیر نظر کتاب بھی اسی مبارک موقع پر منصہ شہود پر آئی ہے۔ خود صاحب کتاب لکھتے ہیں

حضور تاج الشریعہ سے لے کر عرس چہلم کی تاریخ تک میں ذاتی طور پر کتنا مصروف رہا یہ بتانے کی چنداں ضرورت نہیں۔ مجھ سے جہاں تک ہو سکا ایک ضخیم نمبر کی صورت میں بارگاہ تاج الشریعہ میں خراج پیش کر کے میں نے اپنی سرخروئی کا سامان فراہم کیا۔

انھیں ایام میں میرے کچھ احباب نے اس طرف توجہ دلائی اور اصرار کیا کہ جب حضور امین شریعت کی منظوم سوانح آپ نے لکھ دی ہے تو کتنا اچھا ہوتا کہ حضور تاج الشریعہ کی حیات و خدمات مبارکہ کے چند گوشوں کو نظم میں تحریر کر دیتے۔ چوں کہ اس طرح کے کاموں سے ایک نئی تاریخ بھی رقم ہوتی ہے اور ایک ریکارڈ بھی قائم ہوتا ہے۔

انھیں محبت بھرے کلمات اور حوصلہ افزا جملوں نے میرے شعور کو سرود فکر عطا کیا اور عرس چہلم میں بریلی شریف میں ہی میں نے فیصلہ کر لیا اور بارگاہِ اعلی حضرت میں دعا مانگی کہ اے خداوند عالم! اپنے ان محبوبین کے صدقے مجھے وہ قوت فکر و قلم عطا فرما کہ رضا اور خانوادہ رضا کی خدمات دینیہ سے عوام الناس کو میں بھی اپنی بساط کے مطابق روشناس کرا سکوں۔ شاید انہیں دعاؤں کا اثر ہے کہ آج پھر صد سالہ عرس امام احمد رضا قدس سرہ کے موقع پر یہ منظوم سوانح تاج الشریعہ لے کر حاضر ہوا ہوں”۔ (ص:۶)۔

مولانا اشرف رضا قادری کا‌ شمار نوجوان قلم کاروں میں ہوتا ہے۔ آپ کا قلم جس طرح زود رفتاری سے چل رہا ہے وہ علمی حلقوں کے لیے فرحت بخش ہے۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ شعر و ادب سے آپ کو عشق کی حد تک لگاؤ ہے۔ صنف نظم و حمد اور نعت و غزل میں گاہے بگاہے آپ کے قیمتی اشعار سوشل میڈیا کے توسط پڑھنے کو ملتے رہتے ہیں۔

ایک نعتیہ مجموعہ بنام” اے عشق ترے صدقے” بھی منصہ شہود پر آ کر اہل علم سے خوب خوب داد و تحسین بٹور چکا ہے اور اب شعری پیکر میں زیر نظر کتاب آپ کی تیسری کاوش ہے۔ اس سے قبل آپ کی ایک اور کتاب بنام ” منظوم سوانح امین شریعت” بھی شائع ہو چکی ہے۔ مصنف موصوف کی شان میں اپنی طرف سے کچھ جملے لکھنے کے بجائے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں مفتی محمد سلمان رضا خان قادری[ سجادہ نشین: خانقاہ امین شریعت، بریلی شریف] کے جملے من و عن رقم کر دوں۔ آپ لکھتے ہیں

مکرم مولانا محمد اشرف رضا سبطینی کہنہ مشق شاعر ہیں۔ کئی عمدہ کلام ان کے قلم سے منصہ شہود پر آ چکے ہیں۔ ان کے کلام میں درد و سوز بھی ہے اور تڑپ بھی۔ ادبی چاشنی بھی ہے اور فنی حسن بھی۔ انقلابی فکر رکھتے ہیں۔ ان کے صحت مندانہ رجحانات کا اظہار اشعار سے بجا طور پر ہوتا ہے۔ ان کی فکر احسن و صالح ہے جس سے اشعار میں حوصلہ افزا ماحول سازگار ہو گیا ہے۔
آپ نے حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کی شان اقدس میں سوانحی پہلو سے عمدہ مضامین نظم فرمائے ہیں۔ جس میں حیات اقدس کے کئی گوشے بہت خوبصورتی سے مثل موتی پروئے ہیں۔ حضور تاج الشریعہ کی تقویٰ شعار زندگی پر عمدہ انداز سے روشنی ڈالی ہے”۔

زیر نظر کتاب یوں تو ۹۵/ صفحات پر مشتمل ہے۔ شروع کے کچھ صفحات دعائیہ کلمات اور تقریظ وغیرہ کے نذر ہیں۔ ایک دو صفحے میں مصنف موصوف نے ” صدائے دل” کے تحت مفید اور ضروری باتیں کی ہیں۔ تقریظ و دعائیہ کلمات لکھنے والوں میں مفتی سلمان رضا خان قادری، مفتی عسجد رضا خان قادری اور حضور سید محمد حسینی میاں اشرفی جیسی بلند پایہ شخصیتوں کا انتخاب کیا گیا ہے۔

اس کے بعد ہی ہر دلعزیز لکھاری محترم غلام مصطفے نعیمی ( مدیر اعلی: ماہنامہ سواد اعظم، دہلی) کی طرف سے تقریباً ۱۷/ صفحات پر مشتمل بنام ” تیری حیات کا ہر ایک ورق روشن ہے” عنوان کے تحت زبردست مضمون تحریر کیا گیا ہے۔ اس مضمون میں اردو ادب، نثر و نظم، کتاب اور صاحب کتاب کے حوالے سے بڑی نفیس گفتگو کی گئی ہیں اور تمام‌ تر باتیں پڑھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔

کتاب کی ظاہری آرائش و زیبائش بھی خوب ہے۔ کتھئی رنگ کا ٹائٹل پیج اوّلِ نظر میں قاری کے دل کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور تسلی ذوق کے لیے بہترین سامان نظر بھی پیش کرتا ہے۔ محترم نعیمی صاحب کے بعد ماہرِ رضویات ڈاکٹر امجد رضا امجد کی جانب سے بھی منظوم صورت میں ۳۲/ اشعار پر محیط فارسی زبان میں ایک وقیع مقدمہ شامل اشاعت ہے۔

میرا اپنا خیال ہے کہ ہم جیسے عام فہم قارئین کے لیے یہ مقدمہ افہام و تفہیم کے باب میں قدرے گنجلک ہے۔ بڑی مشکل سے مفہوم دریچہ ذہین میں داخل ہو پاتا ہے۔ خیر اسے ہم ڈاکٹر موصوف کی مشکل پسند طبیعت کے حوالے کرتے ہیں۔

مصنف موصوف نے اپنی انتھک جہد اور اخاذ طبعیت کے سہارے ۲۴۶/ اشعار نما اس گلدستے میں حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کی زندگی کا خوب صورت نقشہ اتار لیا ہے۔ ولادت سے رحلت فرما جانے تک کے موٹے اور اہم انقلابات کو آپ نے ایسا خوب صورت شعری جامہ عطا کیا ہے کہ پڑھتے ہوئے طبعیت جھوم اٹھتی ہے۔

لہجہ آسان اور شستہ ہے، مشکل الفاظ و تراکیب سے گریز کیا گیا ہے، ہر ہر شعر ایک ہی نظر میں عام قارئین کے لیے بھی مفہوم کی کسوٹی پر کھرا اترنے والے ہیں۔ ولادت سے متعلق یہ خوب صورت اشعار دیکھیں

امام اہل سنت کے گھرانے میں ہوئے پیدا
کہ جن کا عالم اسلام جان و دل سے ہے شیدا
پسر ان کے ہیں ابراہیم جیلانی میاں قبلہ
انھیں کے ہیں پسر ممدوح میرے ازہری دولہا

بریلی، شہر علم و فن، میں پیدائش ہوئی ان کی
وہیں پر علمی، فکری، ذہنی آرائش ہوئی ان کی

ولادت تیرہ سو اکسٹھ ہے ہجری چودہ ذی قعدہ
کسی نے تیرہ سو اکسٹھ صفر پچیس ہے لکھا

رضا کے خانوادے کا ہے یہ دستور عالی شان
محمد نام ہر بچے کا پہلے کرتے ہیں عنوان

پھر” اسمعیل” اصلی نام اور عرفی رکھا” اختر”
یہ عرفی نام ہی جاری ہوا سب کی زبانوں پر

اس کے علاوہ ازہری میاں علیہ الرحمہ کی تعلیم و تعلم، فراغت علمی، مسند تدریس و افتاء کی ذمہ داری، دورہ تبلیغ، سلسلہ بیعت و ارادت میں داخلے کی لیے ملک و بیرون ملک متعدد اسفار اور نثری و شعری صلاحیت و لیاقت وغیرہ تمام اہم واقعات و حالات بڑی خوبصورتی کے ساتھ پیش کر دیے گیے ہیں۔ حضور مفتی اعظم علامہ مصطفے رضا خان علیہ الرحمہ کا حضور ازہری میاں قدس سرہٗ کو مسند افتا کی ذمہ داری سونپنے کے عمل کی نقاشی مصنف موصوف نے کچھ اس طرح کی ہیں

انھیں پھر مفتی اعظم نے سونپی مسند افتا
یہ فرمایا کہ اے پیارے تمھیں دیتا ہوں یہ ذمہ

مخاطب کرکے لوگوں کو یہ بولے مفتی اعظم
کہ ہیں فقہ تدبر کے میرے اختر میاں سنگم

انھیں میں آج سے افتا کی مسند پر بٹھاتا ہوں
مکمل جانشیں اختر میاں کو میں بناتا ہوں

تدریسی عمل کو بھی مصنف موصوف نے خوبصورت شعری حسن عطا کیا ہے۔ آپ لکھتے ہیں

وہ اپنے گھر پہ طلبہ کو بخاری بھی پڑھاتے تھے
بڑی تدبیر سے وہ مسئلے کا حل بتاتے تھے

بڑی اعلی بصیرت سے وہ بیضاوی پڑھاتے تھے
بخاری، ترمذی، مسلم وہ طحاوی پڑھاتے تھے

وہ انٹر نیٹ پر بھی درس دیتے تھے بخاری کا
نیچے منظر پہ ہو خورشید گویا جانکاری کا

اس حقیقت سے سب واقف ہیں کہ حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کے رحلت فرما جانے کے بعد ہی مختلف تنظیموں، جامعات اور ماہناموں کی طرف سے آپ کے علمی افکار و نظریات اور گراں قدر خدمات کو عام کرنے کے لیے بڑی بڑی کانفرنسیں منعقد ہونے کے ساتھ ساتھ ملک بھر سے خصوصی نمبرات بھی نکالے گیے۔ مگر مصنف موصوف کا انداز خراج سب سے منفرد اس لیے بھی ہے کہ آپ نے منظوم صورت میں سوانح عمری پیش کرکے اولیت کا سہرہ اپنے سر سجا لیا ہے۔

امید کرتا ہوں کہ آئندہ جب کوئی مورخ یا اسکالر حضور تاج الشریعہ کی شش جہات شخصیت پر کام کرے گا تو منظومات کے باب میں آپ کی کتاب ماخذ کی حیثیت سے متعارف ہوگی(انشاءاللہ)۔ کیوں کہ آپ نے مختلف روایات کے مابین درست روایت کے انتخاب کا تذکرہ دلیل و تاریخ کے ساتھ بیان کیا ہے۔ یقیناً پوری کتاب پڑھ جائیے مگر کہیں بھی طبعیت بوجھل نہیں ہوتی ہے۔

عوامی ذوق کے مد نظر عام فہم لفظوں کا استعمال اور آسان و سادہ ترکیبوں کا انتخاب ہی وہ اہم خصوصیات ہیں، جو اس گلدستہ کو امتیازی شان عطا کرتے ہیں اور راقم الحروف ان ساری خصوصیات کو مصنف موصوف کے لیے بزرگانِ دین کی چوکھٹ سے اکتسابِ فیض اور خدمت گزاری کا اہم ثمرہ تصور کرتا ہے۔ محترم مصنف خود ہی اس حقیقت کا برملا اظہار کرتے ہیں کہ

ثنا گوئی، ثنا خوانی میرا پیشہ ہے آبائی
مری تخیل نے اس کی بدولت ہی جلا پائی
خدا کا فضل ہے اس قوم سے میرا تعلق ہے
سدا عظمت شناسی میں جسے حاصل تفوق ہے

میں سمجھتا ہوں کہ زیر نظر کتاب اور صاحب کتاب سے متعلق اتنی شناسائی کے بعد اب مزید کسی تعارف و تبصرہ کی حاجت نہیں رہ جاتی ہے۔

اہل ذوق قارئین میں سے اگر کوئی اس علمی گلدستہ کو حاصل کرنا چاہتے ہیں تو وہ ۱۵۰/ روپیے کی قیمت ادا کرکے تحریک امین شریعت، ڈالفین بک ڈپو رائے پور اور امین شریعت دار المطالعہ بلودا بازار، چھتیس گڑھ سے حاصل کر سکتے ہیں۔

تبصرہ نگار: وزیر احمد مصباحی (بانکا)۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی

wazirmisbahi87@gmail.com

ان تبصروں کو بھی پڑھیں

مجلس شرعی کے فیصلے جلد دوم زیور طبع سے آراستہ

مژدۂ رحمت سلسلہ نعت و منقبت کی ایک سنہری کڑی

ONLINE SHOPPING

گھر بیٹھے خریداری کرنے کا سنہرا موقع

  1. HAVELLS   
  2. AMAZON
  3. TATACliq
  4. FirstCry
  5. BangGood.com
  6. Flipkart
  7. Bigbasket
  8. AliExpress
  9. TTBazaar

 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top