من شک فی کفرہ و عذابہ فقد کفرکا صحیح مفہوم

من شک فی کفرہ و عذابہ فقد کفرکا صحیح مفہوم

تحریر : طارق مسعود رسول پوری  من شک فی کفرہ و عذابہ فقد کفر کا صحیح مفہوم

من شک فی کفرہ و عذابہ فقد کفرکا صحیح مفہوم

صدر الشریعہ حضرت علامہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں “مسلمان کو مسلمان, کافر کو کافر جاننا ضروریات دین سے ہے (بہار شریعت ج 1 ص198)۔

شفاء شریف اور روضۃ الطالبین میں ہے”من لم یکفر الکافر او شک فیہ فھو کافر” جو کافر کو کافر نہ کہے یا اس کے کفر میں شک کرے وہ کافر ہے بعض کتب میں یہ ضابطہ ان الفاظ کے ساتھ ملتا ہے “من شک فی کفرہ و عذابہ فقد کفر” جو اس کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ کافر ہے (شرح فقہ اکبر, فتح القدیر , شامی, فتاوی ہندیہ , فتاوی رضویہ وغیرہا)۔

مذکورہ حوالاجات اس بات کے ثبوت کہ لئے کافی ہیں کہ یہ قاعدہ کسی کا خود ساختہ نہی بلکہ علماء و فقہاء کا اجماعی ارشاد ہے

اس قاعدہ کے تحت کب کسی کی تکفیر کی جا سکتی ہے؟

یہ بات تو واضح ہے کہ کوئی یہودی, عسائی ,ہندو,سکھ , پارسی وغیرہ کسی کافر و مشرک کے کفر میں شک کرے یا ان کو کافر نہ جانے تو خود کافر ہو جائے گا اس لیے کہ ان کے کفر پر نص وارد ہے ” و من یبتغ غیرالاسلام دینا فلن یقبل منہ” لہذا ان کو کافر نہ ماننے کی صورت میں تکذیب نص لازم آئے گا۔

جیسا کہ قاضی عیاض لکھتے ہیں “لقیام النص و الاجماع علی کفرھم فمن وقف فی ذالک فقد کذب النص” نص قائم ہونے کی وجہ سے اور ان کے کفر پر اجماع کی وجہ سے لہذا جس نے ان کےکفر میں توقف کیا اس نے نص کو جھٹلایا. (شفاء ج 2 ص1071)

لہذا ان کفار و مشرکین کا معاملہ تو ظاہر ہے جو سرے سے ہی کافر ہیں جیسے یہودی, عیسای, ہندو,پارسی وغیرہ کہ ان کے کفر میں کوئی شک کرے تو خود کافر ہو جائے گا۔

لیکن اشکال تب پیدا ہوتا ہے جب کسی مدعی مسلمان پر کفر کا فتوی لگے اور اس کے بارے میں یہ کہا جائے کہ جو اس کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ بھی کافر ہے مثلا علماء کی ایک جماعت نے زید کی تکفیر کی اور اس پر من شک فی کفرہ فقد کفر کی مہر لگا دی

اب آیا اس قاعدہ کے تحت زید کی تکفیر نہ کرنے والے یا اس کے کفر میں شک کرنے والوں کو کافر کہا جائے گا یا نہیں؟۔

یہ بات محل نظر ہے اس لئے کہ اگر اس قاعدہ سے معنی عمومی مراد لیں تو ہزاروں علما اس کی زد میں آجائیں گے مثلا اسماعیل دہلوی پر بشمول علامہ فضل حق خیر آبادی اس وقت کے متعدد علما نے کفر کا فتوی لگایا

لیکن پھر بھی اعلی حضرت نے اس کی تکفیر نہیں کی, کیا اعلی حضرت کے علم میں یہ بات نہی تھی کہ اسماعیل دہلوی پر علما نے من شک فی کفرہ و عذابہ فقد کفر کی مہر لگا دی ہے؟۔

یہ بات بعید الیقین ہے کہ اعلی حضرت جیسے متکلم کہ علم میں یہ ضابطہ نہ ہو اس کے باوجود فاضل بریلوی نے تکفیر نہیں کی! اس سے معلوم ہوتا ہے کہ من شک فی کفرہ و عذابہ فقد کفر کے وہ معنی نہیں جو آج کل ہمارے ہاں نو آموز علما کے درمیان متعارف و رائج ہیں.

لہذا ضرورت ہے اس بات کی کہ اس قاعدہ کے حقیقی معنی بیان کئے جائیں

من شک فی کفرہ…… کے معنی

متعدد کتب فقہ و کلام میں موجود تکفیری مباحث کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس قاعدہ کے تحت صرف اس شخص کی تکفیر کی جا سکتی ہے جو منکر ضروریات دین کے کفر میں مطلعا علی کفرہ شک کرے۔

منکر ضروریات دین کی قید ہم نے اس لئے لگائ کہ “من شک فی کفرہ و عذابہ فقد کفر” میں ہ ضمیر کا مرجع منکر ضروریات دین ہی ہے۔

لہذا معنی یہ ہوئے من شک فی کفر و عذاب منکر ضروریات الدین فقد کفر یہاں مطلعا علی کفرہ کی قید بھی قابل ذکر ہے

مطلعا علی کفرہ سے مراد یہ ہے کہ اس شخص پر اسکا منکر ضروریات دین ہونا متحقق بھی ہوا ہو اگر اس کے کفر پر مطلع ہو کر بھی وہ اس کے کفر میں شک کرتا ہے تو خود کافر ہو جائے گا

چناں چہ مناظر اہل سنت مفتی مطیع الرحمن رضوی مضطر اپنی معرکہ آرا کتاب اہل قبلہ کی تکفیر میں لکھتے ہیں” من شک فی کفرہٖ وعذابہٖ فقد کفر میں ہٖ ضمیر کا مرجع منکر ضروریات دین ہے۔

تو معنی یہ ہوئے کہ من شک فی کفر منکر ضروریات الدین فقد کفر اورجس کے نزدیک منکر ضروریات دین ہونا، بداہۃً متحقق نہ ہوا، وہ اگر شک کرتا ہے تو در اصل وہ من شک فی کفرہٖ وعذابہٖ کامصداق ہی نہیں، اس لیے مَن کا عموم اس کو شامل نہیں”( اہل قبلہ کی تکفیر ص: ۶۹ ) ۔

معلوم ہوا جس کے نزدیک منکر ضروریات دین ہونا بداہۃ متحقق نہ ہو وہ من شک فی کفرہ و عذابہ فقد کفر کا مصداق ہی نہی. اس توجیہ کی روشنی میں وہ اعتراض بھی دفع ہو گیا۔

جو بعض جہلاء اعلی
حضرت فاضل بریلوی پر کرتے ہیں کہ جب اسماعیل دہیلوی پر من شک فی کفرہ فقد کفر کی مہر تھی تو اعلی حضرت نے اس کی تکفیر میں کف لسان کیوں کیا کیوں کہ اعلی حضرت پر اسماعیل دہیلوی کا منکر ضروریات دین ہونا متحقق ہی نہی ہوا تھا اس لئے آپ نے اس کی تکفیر نہیں کی جب کہ علامہ فضل حق خیر آبادی وغیرہ علماے کرام پر اس کا منکر ضروریات دین ہونا متحقق ہو گیا تھا اس لیے ان علما نے اس کو کافر قرار دیا

من شک فی کفرہ… کا غلط استعمال

برصغیر میں آباد کروڑوں دیابنہ و وہابیہ عوام سے متعلق بعض حضرات یہ نظریہ رکھتے ہیں کہ وہ سب کافر و مرتد ہیں اور بطور دلیل من شک فی کفرہ و عذابہ فقد کفر کا حوالہ پیش کرتے ہیں۔

وہ چار افراد جن پر علما حرمین نے متفقہ طور پر کفر کا فتوی دیا ان کے کفر پر ہمیں کوئ کلام نہی مگر بعد کے لوگوں کی کلی تکفیر سمجھ سے بالا تر یے موجودہ دیابنہ و وہابیہ سے متعلق مختلف آرائیں سامنے آتی ہیں۔

بعض غیرمحتاط حضرات دیابنہ و وہابیہ کی بلا تفریق تکفیر کرتے ہیں جو سراسر مذہب اہل سنت کے خلاف ہے. بعض حضرات احتیاطی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ قید لگاتے ہیں کہ جو شخص ان کے کفر پر مطلع ہو کر ان کے کفر میں شک کرے وہ کافر ہے یہ بات قریب الفہم ضرور ہے۔

مگر مسئلہ کا حل نہی اس لئے کہ اطلاع علی الکفر سے ان کی مراد یہ ہوتی ہے کہ جس دیوبندی کو یہ معلوم ہو جائے کہ ہمارے علماء پر کفر کا فتوی ہے اس کے بعد بھی اگر وہ ان کے کفر میں شک کرے تو وہ بھی کافر ہے اس توجیہ کی رو سے بھی تمام دیوبندی کافر ٹھہرے کہوں جہاں تک ہمیں علم ہے ہر دیوبندی کو یہ معلوم ہوتا ہے۔

کہ ان کے اکابر پر کفر کا فتوی ہے. نیز اطلاع علی الکفر کے اگر یہی معنی ہیں, تو یہ اطلاع تو اعلی حضرت کو بھی حاصل تھی کہ اسماعیل دہیلوی پر کفر کا فتوی ہے اسی سے ملتی جلتی ایک رائے یہ بھی سامنے آتی ہے کہ اطلاع علی الکفر سے مراد یہ ہے کہ اس پر علماے دیوبند کی عبارتوں کو پیش کیا جائے اور بتایا جائے کہ تمہارے اکابر نے یہ یہ کفر بکا ہے۔

لہذا اب بھی اگر وہ ان کو کافر نہ مانے تو خود کافر ہو جائے گا چاہے ان عبارتوں سے اس کے اوپر ان کا کفر واضح ہوا ہو یا نہی یہ توجیہ بھی من کل الوجوہ درست نہی کیوں کہ علماء ازہر اور کیرالہ کے علماء شوافع وہابیہ کی تکفیر نہی کرتے تو کیا وہ بھی کافر ٹھہرے ؟۔

اسی طرح اعلی حضرت نے محقق طوسی کو کافر نہیں کہا جب کہ وہ اپنے ان اکابر کے کفر میں شک کرتا تھا جن پر من شک فی کفرہ و عذابہ فقد کفر کی مہر تھی کیا اعلی حضرت کو من شک فی کفرہ فقد کفر والا ضابطہ یاد نہی تھا؟ پھر آخر اطلاع علی الکفر سے مراد کیا ہے

اطلاع علی الکفر

اطلاع علی الکفر سے مراد اطلاع شرعی ہے اور اطلاع شرعی کے معنی یہ ہیں کہ یہ عبارتیں اس تک پہنچی ہوں اور اس کے بعد ان سے اس کےاوپر کفر واضح بھی ہوا ہو۔ لہاذا جس تک عماء دیوبند کی عبارتیں پہنچی اور وہ ان کے کفر پر مطلع ہوا اس کے بعد بھی اگر وہ ان کے کفر میں شک کرے تو کافر ہو جائےگا۔

لہذا ہمارے نزدیک صرف وہ دیوبندی کافر ہیں جو اپنے اکابر کے کفر پر مطلع ہوکر انشراح صدر کے بعد بھی محض ان سے انسیت کے ان کو کافر نہی مانتے رہے وہ دیابنہ جن کو ان کے کفر پراطلاع نہی ان کو اہل البدعۃ و الضلالۃ تو قرار دیا جا سکتا ہے مگر کافر نہی.

ایک الزام اور اس کا جواب

ہمارے اوپر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم تمام دیوبندیوں,وہابیوں اور شیعو کو کافر کہتے ہیں یہ الزام بے بنیاد ہے کیوں کہ ہم صرف ان لوگوں کی تکفیر کرتے ہیں جو کفر کا التزام کریں اب چاہے وہ دیوبندی ہوں یا بریلوی اور جن لوگوں کی ہم نے تکفیر کی ہے ان کی تعداد بہت قلیل ہے۔

لہذا وہ لوگ جو اہل سنت کو بدنام کرتے ہیں کہ یہ تکفیری ہوتے ہیں وہ نرےجاہل اور احمق ہیں چناں چہ اہل سنت کے معتمد و متبحر عالم دین حضرت علامہ مفتی سعید احمد کاظمی صاحب لکھتے ہیں “مسئلہ تکفیر میں ہمارا مسلک ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ جو شخص بھی کلمہ کفر بول کر اپنے قول یا فعل سے التزام کفر کرے گا ہم اس کی تکفیر میں تامل نہی کریں گے۔

خواہ دیوبندی ہوں یا بریلوی, لیگی ہو یا کانگریسی,نیچری ہو یا ندوی, اس سلسلہ میں اپنے پرائے کا امتیاز کرنا اہل حق کا شیوہ نہیں- اس کا مطلب یہ ہرگز نہی کہ ایک لیگی نے کلمہ کفر بولا تو ساری لیگ معاذ اللہ کافر ہو گئی

یا ایک ندوی نے التزام کفر کیا تو معاذ اللہ سارے ندوی مرتد ہو گئے ہم تو بعض دیوبندیوں کی کفری عبارات کی بنا پر ہر ساکن دیوبند کو بھی کافر نہی مانتے” (الحق المبین ص 36)۔

آگے لکھتے ہیں ہم اور ہمارے اکابر علماء نے بارہا اعلان کیا ہے کہ ہم کسی دیوبند یا لکھنؤ والے کو کافر نہیں کہتے ہمارے نزدیک صرف وہی کافر ہیں جنہوں نے اللہ تبارک و تعالی اور اس کے رسول اور محبوبان ایزدی کی شان میں گستاخیاں کیں اور باوجود تنبیہ شدید کہ اپنی گستاخیوں سے توبہ نہیں کی۔

نیز وہ لوگ جو ان کی گستاخیوں پر مطلع ہوکر اور ان کے صریح مفہوم کو جان کر ان گستاخیوں کو حق سمجھتے ہیں, اور گستاخوں کو مومن, اہل حق, اپنا مقتدا اور پیشوا مانتے ہیں۔

اور بس! ان کے علاوہ ہم نے کسی مدعی اسلام کی تکفیر نہی کی ایسے لوگ جن کی ہم نے تکفیر کی ہے اگر ان کو ٹٹولا جائے تو بہت قلیل ہیں اور محدود, ان کے علاوہ نہ کوئ دیوبند کا رہنے والا کافر ہے نہ بریلی کا, نہ لیگی نہ ندوی ہم سب مسلمانوں کو مسلمان سمجھتے ہیں (الحق المبین ص 37)

ایک اعتراض اور اس کا جواب

بعض حضرات کی جانب سے یہ سوال بڑے زور و شور کے ساتھ اٹھایا جاتا ہے کہ جب علماے حرمین نے علماء دیوبند کی تکفیر کی ہے اور ان پر من شک فی کفرہ و عذابہ فقد کفر کی مہر بھی نصب کر دی تو علماے ازہر اور کیرالہ کے علما شوافع ان کو کافر کیوں نہیں کہتے؟۔

یہ حضرات من شک فی کفرہ و عذابہ فقد کفر کے مصداق کیوں نہیں ہیں؟ ایک ہی شخص کی بعض حضرات تکفیر کرتے ہیں جب کہ بعض اس کو مسلمان مانتے ہیں ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ ۔

مثال کے طور پر بعض علما یزید کی تکفیر کرتے ہیں جب کہ اکثر اس کو مسلمان مانتے ہیں اسی طرح شیخ منصور حلاج پر بغداد کے 450 علما بشمول جنید بغدادی نے کفر کا فتوی لگایا جب کہ امت کی اکثریت ان کو نہ صرف مسلمان بلکہ ولی مانتی ہے ؟

جواب

اس کا جواب یہ ہے کہ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک ہی کفر کسی کے نزدیک کلامی و التزامی ہوتا ہے اور کسی کے نزدیک فقہی و لزومی,ایسی صورت میں جس کے نزدیک کفر کلامی و التزامی ہوگا۔

وہ قطعا تکفیر کرے گا اور جس کے نزدیک کفر فقہی و لزومی ہوگا وہ تکفیر نہی کرے گا نیز کسی پر اس کا منکر ضروریات دین ہونا متحقق ہو جاتا ہے کسی پر نہی لہاذا جس پر انشراح صدر ہو جائے وہ تکفیر کر دیتا ہے اور جس پر متحقق نہ ہو وہ تکفیر نہی کرتا بعض صورتیں ایسی بھی ہوتی ہیں کہ مفتی کو کوئ راہ نہی ملتی اس لئے وہ توقف کر لیتا ہے

خلاصئہ کلام

من شک فی کفرہ و عذابہ فقد کفر کا مصداق وہہی شخص ہوگا جو تکفیر کردہ کے کفر پر مطلع ہو کر اس کی عبارتوں کے صریح مفہوم کو جان کر, انشراح صدر کے بعد بھی ان کے کفر میں شک کرے رہے وہ حضرات جن پر اس کا کفر متحقق نہ ہو وہ اس ضابطے کے مصداق نہیں

۔✍️طارق مسعود رسول پوری

ان مضامین کو بھی پڑھیں

 علماے دیوبند کا اپنی عوام سے فریب

غیر مقلد وہابیہ اور کفر کلامی

نماز و تبلیغ کے نام پر دیوبندیوں کے ساتھ

 تکفیر دہلوی اور علماے اہل سنت و جماعت

بدعتی اور بد مذہب کی اقتدا میں نماز کا حکم

گمراہ کافرفقہی وکافر کلامی کی نمازجنازہ

ہندی مضامین کے لیے کلک کریں 

 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top