موجودہ حالات میں مسلمانوں کی ترقی ضرورت و پلان

موجودہ حالات میں مسلمانوں کی ترقی ضرورت و پلان

تحریر: محمد عزیز الر حمٰن قدسی صدیقی موجودہ حالات میں مسلمانوں کی ترقی ضرورت و پلان

موجودہ حالات میں مسلمانوں کی ترقی ضرورت و پلان

موجودہ  حالات میں ہندوستانی مسلمانوں کی از سر نو تعمیر و ترقی کے لیے ایک جامع منصوبہ بندی۔ ضرورت اور پلان :  آج امت مسلمہ جس دردو الم کا سامنا کر رہی ہے، وہ کسی پر مخفی نہیں ہے۔

ایک خاص طبقہ اپنی عقل و ادراک کی بنیاد پر مسلمانوں کو ضعیف و  ناتواں، لا غرو کمزور سمجھ کر، باغ و چمن کے نظام کی دھجیاں اڑاتے ہوئے، طلاق ثلاثہ، این۔ آر۔ سی، آئے دن فسادات، دین میں چھیڑچھاڑ، نوجوانوں پردہشت گردی کاالزام غرض کہ مختلف حربوں سے مصائب و آلام کا پہاڑ توڑ رہاہے۔

پوری قوم مسلم رنج و غم کے سمندر میں ڈوبی ہوئی ہے۔ چہار جانب پژمردگی اور مایوسی کا اندھیرا ہے، لیکن کیا حالات کی ستم ظریفی کا رونا ہمارے مسائل کا حل ہے؟۔

  ان مصیبتوں و پریشانیوں سے عاجز ہوکر مستقبل سے ناامید ہونا زندہ قوموں کی تاریخ نہیں ہے۔ زندہ قوموں کی تاریخ مشکل ترین حالات کو مد نظر رکھتے ہوۓ نئے عزم و ارادے کے ساتھ اٹھیں، مستقبل کا لائحہ عمل تیار کرتے ہوئے پوری قوت و توانائی سے عملی جامہ پہنانے میں جٹ جائیں۔

ہم کو مٹا سکے یہ زمانہ میں دم نہیں

ہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں

     ( جگر مر ادآبادی  )

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ موجودہ سنگین حالات میں مسلمانوں کی از سر نو تعمیر و ترقی کا لائحہ عمل کیا ہو سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب ہر شخص اپنے طور پر دے سکتا ہے، لیکن میری نظر میں تعلیم اور سیاست بہت اہم ہے۔ ان کو کئی  خانوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے

۔(1) مکتبوں کی صورت حال 

۔(2) مدرسوں کی تعلیم و تدریس 

۔(3) اسکولوں، کالجوں اور یونیور سیٹیوں کا قیام 

۔(4) ہندوستان کے اعلی امتحانات میں شرکت 

۔(5) سیاست کا حصہ

مکتبوں کی صورت حال

مکتبوں میں معدودے مسجدوں کے امام و مؤذن کے علاوہ، اکثرو بیشتر کا حال یہ ہے کہ طلبہ کو قرآن شریف وغیرہ مع تلفظ تعلیم و تدریس کا انتظام و اہتمام نہیں کرتے

تمام مسجدوں میں ایک یا دیڑھ گھنٹے کا وقت مقرر و متعین ہوتا ہے، جس میں پچاس، ساٹھ اور ستر وغیرہ طلبہ کا ہجوم ہوتا ہے۔ افسوس کے ساتھ سسٹم سے دوری بھی ایک قابل غور مسئلہ ہے۔

  ایک طالب علم پر مکمل تندہی سے توجہ دی جاۓ تو کم از کم پانچ منٹ لگیں گے گویا کہ ہم ایک یا دیڑھ گھنٹے میں بارہ یا اٹھارہ طلبہ ہی کو علم دین سے آراستہ و پیراستہ کر پائیں گے۔ باقی بچوں کا ذمہ دار کون ہوگا؟ ۔

لیکن منظم سسٹم کے تحت ایک یا دیڑھ گھنٹے میں تمام طلبہ کو پوری توجہ سے تعلیم و تدریس کی بہترین مثال قائم کر سکتے ہیں۔ بس سسٹم کی ضرورت ہے۔

جیسے قرآن شریف، یسرنا القرآن/ نورانی قاعدہ، قاعدہ بغدادی وغیرہ تمام طلبہ کو گروپوں میں تقسیم کر کے، ایک گروپ کے لیے مدرس اور طلبہ کی تعداد کا پاس و لحاظ رکھتے ہوۓ بیس، پچیس منٹ یا کم  و بیش وقت متعین کر کے ایک ساتھ تعلیم و تدریس کا جو ہر لٹا سکتے ہیںسب ممکن ہے۔

قرآن شریف کے طلبہ کو کم از کم معرفۃ التجوید کے خاص قواعد یاد کرایئں اور ہفتہ وار بزم کا اہتمام کریں، جس میں نماز و روزہ اور عقائد کے مسائل سے آشنا کرائیں۔

مدرسوں کی تعلیم و تدریس

  دینی مدارس نے ہر دور میں تمام تر مصائب و مشکلات، پابندیوں اور مخالفتوں کےباوجودکسی نہ کسی صورت اور شکل میں اپنا وجود اور مقام بر قرار رکھتے ہوئے اسلام کے تحفظ اور اس کی بقا میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

ان ہی وجوہات کی بنا پر ہم یہ نہیں کہتے کہ مدارس کے طلبا کو ہندوستان کے اعلی امتحانات میں شرکت کا لازمی حصہ بنائیں, ورنہ ہمارے مدرسوں، مسجدوں اور دین کی تبلیغ و تشہیر کا نا گزیر ذمہ داری کون انجام دے گا؟۔

لیکن زمانے کی رفتار کے ساتھ تعلیمی نظام میں دیگر فنون کے ساتھ انگریزی، جنرل نالج اور ٹکنا لوجی سے ضرور ہم آہنگ کریں۔

  ذمہ دران مدرسہ کی ایک اہم جدو جہد یہ بھی ہونا چاہئے کہ طالب علم کے فارغ ہونے کےساتھ ریاست کے سرکاری تعلیمی بورڈوں کے ذریعے منعقدہ امتحانات میں شامل کرا کر گریجویشن یا انٹر کے انہیں امتحانات کی تیاری کروائیں جو  ریاست کے عام طلبہ دیتے ہیں۔

تاکہ مدرسوں کی دنیا کے بعد جو طالب علم اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے متوجہ ہوں، ان کو کسی طرح کی مصیبت و پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے اور ان کی ہر لحاظ سے مدد کی جائے۔

اسکولوں، کالجوں اوریونیورسیٹیوں کا قیام

مسلم حکومتوں کے زوال کے بعد مسلمانان ہند فطری طور پر یا پھر ایک منظم سازش کے تحت احساس کمتری کا شکار ہو گئے۔ ایسے نا مسا عد حالات میں اسکولوں، کالجوں اور یونیور سیٹیوں کا قیام بہت ضروری ہے۔

جب ہمارے اسکول، کالج اور یونیورسیٹی ہونگے تو مسلمان بشکل ڈاکٹر، انجینئیر، آفیسر، کمشنر، پروفیسر، وکیل، لیکچرار اور ٹیچر وغیرہ افراد پیداہونگے، جس سے ہمارا مستقبل  روشن و تابناک ہوگا۔

  ان تمام کے قیام کے لیے پہلی جد و جہد، عقائد کا پاس ولحاظ رکھتے ہوئے تمام خانقاہوں اور مدرسوں کو یکجا ہوکر ضلعی سطح پر اسکول، کالج اور صوبائی سطح پر یونیور سیٹی قائم کریں، لیکن آپسی رنجش اس قدر ہے کہ تمام خانقاہوں کا یکجا ہونا نا ممکن تو نہیں مگر مشکل ضرور ہے۔

اگر ایسا ہو جائے تو زہے نصیب ورنہ ہر خانقاہ خود ذمہ دار ہو تے ہوئے وسعت کے مطابق اسکول، کالج، یونیورسیٹی اور ہاسپیٹل قائم کریں۔ ان اداروں میں دنیاوی فنون و ادب کے ساتھ ابتدائی دینی درس و تدریس کا بھی اہتمام و انتظام کا خاص خیال رکھیں، جیسے قرآن شریف،

یسرنا القرآن وغیرہ کی تعلیم و تدریس کے ساتھ عقائد پر بھر پور توجہ دی جائے۔ اس کے ذریعے ایک فائدہ یہ ہوگا کہ بہت سے اہل ثروت کے وہ بچے جو مدرسوں کا رخ نہیں کر تے، ان کو دین سے آگاہی کا سنہرا مو قع فراہم ہوگا۔

اس جانب کچھ خانقاہیں اور علما متوجہ ہوئے ہیں جو قابل رشک ہے۔ اس تناظر میں اہل خانقاہ، اہل ثروت اور اہل رسوخ علما کا عزم مصمم کے ساتھ مرکزی کردار ادا کرنا ضروری ہے، ورنہ آنے والا وقت بہت بھیانک ہوگا۔

ہندوستان کے اعلیٰ امتحانات میں شرکت

 مسلمانوں کی نمائندگی زندگی کے مختلف شعبوں میں صفر ہوگئی کیوں کہ مسلمان تعلیم کی طرف خاطر خواہ توجہ نہیں دے رہے ہیں۔

آج کا دور مسابقتی دور ہے، ہندوستان کے بڑے بڑے مسابقتی امتحانات میں مسلمانوں کے اعداو شمار نہ  ہونے  کے برابر ہے، جوکہ افسوس ناک ہے۔

ہندوستان کے اعلیٰ امتحانات کی بات کریں تو

UPSC,.  AIIMS PG,. CAT IIT-JEE,  IES,.   NDA,.  CLAT,.  CA,.    NET

اور

Railway Exam 

وغیرہ بہت اہم ہے۔ بلاشبہ  ہمارۓے مستقبل کا راز ان ہی امتحانات کےکام یاب ہونے میں مضمر ہے۔ 

  ان امتحانات کے لیے ایک جامع منصوبہ بندی کے ساتھ مستحکم و مستعد ہو کر عملی جامہ پہنایئں، اس کا طریقۂ کار یہ ہو کہ مختلف جگہوں پرکوچنگ سینٹر کی شکل و صورت میں تیاری  کرا کر ان امتحانات میں کام یاب و کامرانی کے ساتھ سسٹم کا حصہ بنایاجاۓ۔

بہت سے مدارس اور غیر مدارس کے ایسے ذہین و فطین بچے ہیں جو ان امتحانات میں شرکت کے لیے  کو شاں رہتے ہیں لیکن حالات سے مجبور ہو جاتے ہیں۔

ذرانم ہوتو یہ مٹی بہت زرخیز ہے    ع

سیاست کا حصہ

     سیاست کسی بھی قوم کی نشو و نما اور تعمیر و ترقی کے لیے ایک اہم ذریعے ہے، جس سے ہم بڑے بڑے مسئلے حل کرسکتے ہیں۔ میرے ذہن و فکر کے مطابق مسلمانوں کا ہر مقام و محاذ پر کمزور دیکھائی دینا، اس کی سب سے بڑی اور اہم وجہ ملکی سیاست میں دن بہ دن اپنا اثر اور معنویت کھونا ہے۔

اگر ملک کی آزادی کے بعد سے مسلمان اس میدان میں تواتر و تسلسل کے ساتھ اپنی نمائندگی درج کراتے تو میرا اذعان و یقین ہے کہ حالات کا نقشہ کچھ اور ہوتا، اب بھی وقت ہے کہ ایک منظم تحریک کے ساتھ سیاست میں شرکت لیتے ہوئے اس پارٹی کا

دست و بازو بنیں جو ہر موڑ پر ہماری آواز میں آواز ملاتی ہے-  اور ہمارے مسائل کے سنجیدہ حل کے لیے کو شاں رہتی ہے۔

موجوں کی سیاست سے مایوس نہ ہو فانیٓ

گرداب کی ہر تہ میں ساحل نظر آتا ہے

( فانیٓ بدایونی)

فنڈ کے لیے کیا کریں؟

 ان تمام امور کی انجام دہی کے لیے ذہن کے دریچے پر ایک سوال ابھر کر آتا ہے، وہ یہ ہے کہ ان اہم کارناموں کے لیے خطیر رقم کا چیلنج بھی ہمارے سامنے ایک اہم مسئلہ ہے۔ ظاہر بغیر اس کے تمام  عزائم و ارادے  گویا خیالی پلاؤ   ہیں ۔

لہذا ایک نظم کا ہونا گزیر ہے مثلا  اہل خانقاہ، اہل مدارس اور اہل رسوخ علما ایک منظم تحریک کے ساتھ اپنے متوسلین ، محبین اور متعلقین  کے دکانوں، فکٹریوں اور ہوٹلوں پر صندوق کا اہتمام کر کے وہاں رکھوادیں ۔ دو ماہ، تین ماہ، یا چار ماہ کے بعد ذمہ دران دکان و فیکٹری وغیرہ اس رقم کو ذمہ دران خانقاہ اور مدارس کے سپرد کردیں۔

اہل خانقاہ اور اہل مدارس اس اہم کارنامے کے لیے متحرک و فعال اور بھروسے کے آدمی کو ذمہ دار متعین کردیں  ۔ تاکہ وہ شخص ہر جگہ کا جا ئزہ لیتا رہے اور رقم کی وصولی کے ساتھ  ساتھ تاریخ کا بھی حساب و کتاب رکھے۔

   ایک اور طریقہ یہ بھی ہے کہ تمام چاہنے والوں کے گھروں میں صندوق مہیا کر وائیں اور گھر کا ہر شخص روزانہ اپنی حیثیت کے مطابق ایک، دو، پانچ یا دس روپے خلوص و للہیت کے ساتھ ڈالتا رہے۔

اگر ایک گھر میں دو ، تین اور پانچ افراد ہیں توآپ خود ہی اندازہ لگائیں کہ ایک سال میں   365  یا 366 دن ہوتے ہیں۔

اس کے حساب سے ایک سال میں  اس خطیر رقم کا حصول باآسانی ممکن ہے جو بیک مشت دینے سے لوگ کتراتے ہیں۔ علاوہ ازیں مخیر حضرات   ایک ماہ، چھ ماہ یا سال بھر میں خود رقم متعین کرلیں کہ ہمیں اتنی رقم دینی ہے۔ ان شا ء اللہ اگر ایسا ہوگیا تو تمام مسائل  کا زمینی تدارک شروع ہو جائے گا۔

حاصل یہ ہے کہ کسی بھی ملک و قوم کی عروج و ارتقا، خوشحالی کا راز تعلیم و سیاست میں پنہاں ہے، جس ملک و قوم میں تعلیم و سیاست کی اہمیت و افادیت کی جانب توجہ دی جاتی ہے، وہ ہمیشہ زندگی میں لوگوں پر اور ان کے دلوں پر راج کیا کر تے ہیں۔

گو ہندوستان میں اس حوالے سےحالات بہت خوش آئند نہیں ہیں، لیکن راقم کو امید ہے کہ اگر مذکورہ بالا تجاویز پر غور کیا گیا اور انہیں اپنا یا گیا تو بہت حد تک سددھار آسکتا ہے

تحریر: محمد عزیز الر حمٰن قدسی صدیقی

ساکن:۔  سیتامڑھی بہار

متعلم : خواجہ معین الدین چشتی یونیورسٹی لکھنؤ

8574013804

ان مضامین کو بھی پڑھیں

موجودہ حالات میں مسلمانوں کے تحفظ و بقا کے لیے جدید لائیحہ عمل کی تشکیل

مسلمانوں کی ترقی کیسے ہو 

ہندوستان کی جنگ آزادی میں علما و مدارس کا کردار

ONLINE SHOPPING

گھر بیٹھے خریداری کرنے کا سنہرا موقع

  1. HAVELLS   
  2. AMAZON
  3. TATACliq
  4. FirstCry
  5. BangGood.com
  6. Flipkart
  7. Bigbasket
  8. AliExpress
  9. TTBazaar

 

 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top