موجودہ حالات میں مسلمانوں کے تحفظ و بقا کے لیے جدید لائیحہ عمل کی تشکیل

موجودہ حالات میں مسلمانوں کے تحفظ و بقا کے لیے جدید لائحہ عمل کی تشکیل

تحریر: محمد احمد حسن سعدی امجدی موجودہ حالات میں مسلمانوں کے تحفظ و بقا کے لیے جدید لائیحہ عمل کی تشکیل

موجودہ حالات میں مسلمانوں کے تحفظ و بقا کے لیے جدید لائیحہ عمل کی تشکیل

۔1947ء کو وطن عزیز ہندوستان انگریزوں کے چنگل سے آزاد ہوا اور ایک ملک دو ملکوں میں بٹ گیا ،جس کے بعد لاکھوں کی تعداد میں مسلمانوں نے ہندوستان سے پاکستان جانے کو ترجیح دی اور بیشتر اہل ہنود نے بھی پاکستان چھوڑ کر ہندوستان میں رہنے کو پسند کیا

ان لوگوں کو نقل مکانی کی شدید تکالیف و مصائب سے دوچار ہونا پڑا، جس کے سبب ڈھیر ساری جانیں بھی گئیں، اس وقت ملک بھر میں خوف و دہشت کا ایک سماں تھا

جس میں بعض انتہا پسندوں کی جانب سے ایک نعرہ دیا جارہا تھا کہ مسلم پاکستان چلے جائیں ، یہاں ان کی کوئی ضرورت نہیں ہے

لیکن تبھی بعض خوش طبع لیڈران نے مسلمانوں سے ہمدردی جتائی اور ان کی حفاظت و صیانت اور تحفظ و بقا کی یقین دہانی کرائی

لیکن محض چند سالوں تک اس کا اثر رہا پھر اس کے بعد مسلمانوں پر تشدد کے نئے دور کا آغاز ہوا ، ہمارے خلاف بہت سے مہمیں چلائی گئیں، ہمیں پریشان کرنے کے لیے قسم قسم کے ہتھکنڈوں کو بروۓ کار لگایا گیا ،جن کا سلسلہ ہنوز جاری و ساری ہے ۔

لیکن گزشتہ چند سالوں سے مسلمانوں کے تحفظ و بقا کا مسئلہ ایک دشوار کن مسلہ بنتا جا رہا ہے ، ہر چہار جانب سے ہم پر عرصہ حیات تنگ کرنے کی ناپاک کوششیں کی جا رہی ہیں ، ملک بھر میں ہجومی تشدد کی شرح میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے

مسلمانوں کے تحفظ و بقا کے حوالے سے موجودہ حکومت کس قدر فکر مند ہے، اس کا اندازہ بھی این آر سی اور این پی آر جیسے لایعنی بلوں کو دیکھ کر بخوبی لگایا جاسکتا ہے، حکومت کی ان کرتوتوں سے ان کے باطن میں کیا چیزیں ہیں ؟۔

کس قدر شرم ناک منصوبے ہیں اس بات کا بھی اندازہ ہوتا ہے ملک بھر کی اعلیٰ عدالت کہے جانے والی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کے معاملے پر یک طرفہ فیصلہ سنا کر لاکھوں کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کر دیا، جمہوری ملک کے چوتھے پائے کا مقام رکھنے والی صحافت نے کس گھٹیا طریقے سے مذہبی بھید بھاؤ کو ہوا دیتے ہوئے ایک خاص تنظیم اور خاص مذہب پر کورونا پھیلانے کا الزام لگا کر ملک کے ہر شہری کے دل میں مذہبی منافرت و مخاصمت کی آہنی دیوار کھینچ دی ، اور آئے دن مزید ان کے تلخ بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ صحافت نہیں بلکہ کسی خاص مذہب یا کسی خاص پارٹی کی نمائندگی کر رہے ہیں

ایسے نازک ترین حالات میں ملک میں موجودہ حکومت سے کوئی امید ہے اور نہ ہی کسی اسلامی ملک سے کسی مدد کی توقع، بلکہ ہمیں اپنے اور پوری قوم کے تحفظ وبقا کے حوالے سے بنفس نفیس فکرمند ہونا ہوگا

ایک جدید لائحہ عمل تیار کرنا ہو گا ،باہم اخوت و رواداری اور ہر معاملے میں آپسی معاونت کے لیے کوشاں رہنا ہوگا، جس سے ہم اور ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل اس جیسے تمام تر خطرات سے محفوظ ہوسکے اور ہم پورے مسرت و شادمانی کے ساتھ آزادانہ طور پر ہندوستان میں اپنی زندگی گزار سکیں ۔
اور اس مناسبت سے قرآن کریم کی ایک آیت کریمہ بھی ہے۔

وأعدوا لهم مااستطعتم من قوة ومن رباط الخيل ترهبون به عدو الله وعدوكم وآخرين من دونهم
ترجمه ۔اور ان کے لیے تیار رکھو جو قوت تمھیں بن پڑے اور جتنے گھوڑے باندھ سکو کہ ان سے ان کے دلوں میں دھاک بٹھاؤ جو اللہ کے دشمن اور تمھارے دشمن ہیں اور ان کے سوا اوروں کے دلوں میں۔: از کنز الإيمان

مذکورہ آیت کریمہ میں ایک طرف مسلمانوں کے تحفظ و بقا پر خطرہ منڈلانے کے وقت باہم ایک دوسرے کی اعانت کا درس مل رہا ہے تو وہیں ایسے وقت میں دشمنوں کے شر سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر کو بروۓ کار لاکر حسب ضرورت بنیادی طور پر مضبوط ہونے کا صراحتاً ارشاد بھی ہو رہا ہے۔

مسلمانوں کے تحفظ و بقا کے حوالے سے ایک لائحہ عمل ارباب علم و دانش کی عالی بارگاہوں میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں

جن پر اگر سنجیدگی سے عمل پیرا ہو لیا جائے تو یقینا ہم دشمنوں کے ہر قسم کے جال سے محفوظ و مامون ہو کر اپنے تحفظ و بقا کو یقینی بنا سکے نگے۔

تعلیمی میدان میں مزید توجہ کی ضرورت

اسلام میں تعلیم کی کتنی اہمیت ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگاسکتے ہیں کہ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی سب سے پہلی آیت اقرا ہے جس میں صراحتاً پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔
لیکن افسوس کہ دور حاضر میں ہم محمد ﷺ کا کلمہ پڑھنے والے تعلیمی میدان میں اس قدر پیچھے ہوتے جا رہے ہیں کہ دنیا میں ہمیں جاھل اور اجڈ جیسے باعث شرم و عار ناموں سے پکارا جا رہا ہے۔

بلاشبہ قوموں کا عروج و زوال اس کے علم و ہنر سے ہوتا ہے، جس قوم کے پاس اعلیٰ درجے کے معیاری علوم ہیں وہ قومیں مرور زمانہ کے ساتھ ترقی کے راستے پر گامزن ہوتی جا رہی ہیں اور اس کے برعکس جو قومیں علم و ہنر سے دور ہوتی جاتی ہیں تو زمانہ کے گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کے نام و نشان بھی باقی نہیں رہتے

آپ تاریخ اٹھا کر دیکھیں 15 صدی عیسوی تک مسلمان دنیا کے علمی،سیاسی اور تہذیبی قائد کی شکل میں افق عالم پر روشن ہوتے رہے ، مسلمانوں میں مشہور مفکر، ادیب اور بڑے بڑے ماہر سائنس داں پیدا ہوتے رہے ، مسلمانوں نے بڑی درسگاہیں قائم کی، اس وقت ان کا رتبہ وہی تھا جو آج مغربی جامعات کو حاصل ہے۔

تعلیم میں ہماری پسماندگی کے حوالے سے 2009 کا ایک سروے آپ کے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں ۔ سابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے مسلمانوں کی سماجی معاشی اور تعلیمی حالت کا جائزہ لینے کے لئے ایک اعلی سطحی کمیٹی تشکیل دی تھی، جسے عام طور پر سچر کمیٹی کے نام سے جانا جاتا ہے

اس کمیٹی نے صاف طور پر جو اعداد و شمار پیش کیے ہیں اس کے مطابق مسلمان تعلیم کے ہر سطح پر دوسری قوموں سے بہت پیچھے ہیں ۔

اور یہ مسلمانوں میں تعلیم کا فقدان ہی ہے کہ آج ہم معیشت میں بھی دن بدن کمزور ہوتے جا رہے ہیں اور بہر حال ان ساری چیزوں کا خمیازہ ہمیں اس طور پر بھگتنا پڑ رہا ہے کہ فی الوقت بھارت میں ہم محفوظ نہیں ہیں، خواہ ہم کہیں بھی ہوں لیکن اپنے اہل و عیال کی حفاظت کے متعلق ہمیشہ فکر مند رہتے ہیں ،ہماری عبادت گاہوں اور آماج گاہوں کو آۓ دن نشانہ بنایا جا رہا ہے

ہجومی تشدد کا معاملہ اس قدر دراز ہوتا جا رہا ہے کہ آج تن تنہا کہیں سفر کرنے کے بارے میں سوچ کر بھی ڈر لگتا ہے،در حقیقت اب ہماری تحفظ و بقا خطرے میں ہے ۔

لہذا ہمیں تعلیمی میدان میں مزید توجہ دینی ہوگی، پہلے سے زیادہ اس میدان میں سرگرم ہونا ہوگا ۔

خاص طور پر ان کورسیز میں جنھیں حکومت کی نگاہ میں اعلی مقام حاصل ہے جیسے سول سروسیز اور وکالت وغیرہ کی تعلیم۔

اگر ملک بھر میں کم سن بچوں میں مزدوری کرنے والے بچوں کا سروے کیا جائے تو اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ان میں سے 60 سے 70 فیصد مسلمان بچوں کے نام سامنے آئیں گے ، تو ہمیں سوچنا چاہیے، غور کرنا چاہیے کہ جب علم و ہنر کو بنیاد بنا کر دوسری قومیں ترقی کر سکتی ہیں تو ہم کیوں نہیں ۔

اور یقینا جب ہمارے بچے، ہماری نسلیں اعلی تعلیم حاصل کر کے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوں گے تو ان کے ذریعہ ہماری تحفظ و بقا بحال ہو سکے گی اور ہم پوری آزادی سے بلا کسی خوف و خطر کے ہندوستان میں شادمانی کے ساتھ زندگی گزار سکیں گے۔

اس مناسبت سے ہندوستان کی مشہور و معروف خانقاہ ، خانقاہ برکاتیہ کا دیا ہوا نعرہ آدھی روٹی کھائیے ، بچوں کو پڑھائیے، ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑ کر ہمارے قلوب و اذہان میں علم کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہوا نظر آرہا ہے۔

دینی تعلیم ہو یا عصری تحفظ و بقا کا اہم ذریعہ

مذکورہ باتوں سے پتہ چلا کہ علم کے ذریعے جہاں ہم اپنی معیشت کو مضبوط سے مضبوط تر کر سکتے ہیں تو وہیں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہو کر اپنے تحفظ و بقا کو بھی یقینی بنا سکتے ہیں،

تعلیم دینی ہو یا عصری دونوں ہی تحفظ و بقا کا اہم ذریعہ ہوتے ہیں، کیونکہ تعلیم کے ذریعہ انسان کے عقل و خرد کی ساری گرہیں کھل جاتی ہیں ، جس سے انسان فوری طور پر سوچنے،سمجھنے اور اقدام کرنے میں خود کفیل ہو جاتا ہے ۔

اب رہا یہ سوال کہ بچوں کو دینی تعلیم سے آراستہ کیا جائے یا عصری تعلیم سے؟ تو عالم آشکار ہے کہ دینی علوم معاشرے کی اصلاح اور دیگر ڈھیر سارے معاملات میں نمایاں مقام رکھتے ہیں لیکن دنیاوی اعلی عہدوں پر فائز ہونا یہ عصری علوم کے بغیر ممکن نہیں ہے

تو پتہ چلا کہ دونوں علوم تحفظ و بقا کا اہم ذریعہ ہیں کیونکہ جب تک ہمارے پاس اسلامی تعلیمات نہیں رہے گی تو ہم عصری علوم جتنا بھی حاصل کر لیں، ہم اپنا اور اپنے مذہب کا دفاع نہیں کر سکیں گے، جو کہ فی زماننا مسلمانوں کے لیے بہت ضروری ہے۔

اور جیسا کہ دنیا میں دیکھا جاتا ہے کہ ہماری قوم کے حضرات عصری تعلیم کے ذریعے بڑے عہدوں پر فائز تو ہو جاتے ہیں لیکن دینی علوم نہ ہونے کی وجہ سے ان کے دل خوف خدا ،محبت رسول اور اپنی پسماندہ قوم کے لیے ہمدردی سے یکدم عاری ہوتے ہیں ، انھیں یہ تو پتہ رہتا ہے کہ وہ مسلم ہیں لیکن بحیثیت مسلم ان پر کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں وہ احباب اس سے قطعا ناآشنا رہتے ہیں، ان کے اندر قوم کا درد باقی نہیں رہتا، لہذا سب سے پہلے ضروری ہے کہ بچوں کو ضرورت کے مطابق ہی سہی دینی علوم ضرور سکھایا جاۓ۔

سیاست سے بے اعتنائی تحفظ و بقا کے لیے خطرہ

سیاست اسلام کا ایک نا گریز حصہ ہے ،اسلام سیاست سے بالکل الگ نہیں ہے ، لفظ سیاست یہ عربی کا لفظ ہے ، جس کے معنی ہیں لوگوں کے معاملات کی دیکھ بھال کرنا

اگر آقا ﷺ کی حیات مبارکہ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمام اوصاف حمیدہ کے ساتھ ساتھ ایک عظیم الشان سیاستداں بھی تھے

ایک موقع سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بنی اسرائیل کی سیاست انبیاء کرتے تھے اور میری امت کی سیاست میرے خلفاء کریں گے۔
رواہ البخاری والمسلم۔

مذکورہ بالا حدیث سے اسلام میں سیاست کا کیا مقام ہے اس کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے اور ساتھ ہی اس بات پر بھی آگاہی ہوتی ہے کہ اس وقت پوری دنیا، خاص طور پر ہندوستان میں مسلمانوں پر جو مظالم ڈھائے جارہے ہیں اس کی ایک بنیادی وجہ سیاست میں مسلمانوں کی بے اعتنائی اور بے رخی ہے۔

دور حاضر میں مسلمانوں کا سیاست کے میدان سے دور ہونا یہ بھی تحفظ و بقا کے لیے خطرے کا سبب ہے، اس وقت ملک ہندوستان میں مسلمانوں کی تعداد 25 سے 30 کروڑ ہے لیکن سوء اتفاق کہ ان میں مسلم سیاسی لیڈران اتنے ہی ہیں، جنھیں باآسانی انگلیوں پر گنا جا سکتا ہے، ہمارے علاوہ بقیہ دوسری قومیں ہر میدان کی طرح سیاست میں بھی تیزی سے قدم رنجاں ہو رہی ہیں

لیکن ہم اور ہماری قوم کے دانشوران نہ جانے کس غفلت کی نیند سو رہے ہیں ،اگر آج ہمارے پاس کثير تعداد میں ایم پی اور ایم ایل اے کی شکل میں لوک سبھا اور ودھان سبھا میں سیاسی لیڈران ہوتے تو یقیناً آۓ دن جو ہمارے خلاف بل پاس کیے جا رہے ہیں

ہمیں ہندوستان سے نکال پھیکنے کی جو بھونڈی سازشیں رچی جارہی ہیں ایسا بالکل نہ ہوتا یا کم از کم ان میں اتنی سرعت نہ ہوتی، یہ سیاست سے بے اعتنائی اور بے رخی ہی کا نتیجہ ہے کہ ہجومی تشدد کے انسانیت سوز واقعات دن بدن ہماری آنکھوں کو آبدیدہ کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں اور حکومت اس معاملے پر کوئی ٹھوس اقدام نہیں کر رہی ۔

لہذا مسلمانوں کو اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے، ہمارے نوجوانوں کو تیزی سے میدان سیاست میں قدم رکھنا ہوگا ، تاکہ جلد از جلد ہمارے تحفظ و بقا کو یقینی بنایا جا سکے ۔

اس ضمن میں اگر دیکھا جائے تو ہمارے پاس نیشنل پیمانے پر کوئی سیاسی پارٹی بھی نہیں ہے، جسے ہمارے نوجوان جوائن کر سکیں

تو ہمیں اس کے لئے پہلے ایک سیاسی پارٹی تشکیل دینی ہوگی پھر لوگوں کو اسے جوائن کرنے کے لئے آمادہ کرنا ہوگا، اگر ایسا ہو جائے تو یقینا ہم اور ہماری نسلیں ان تمام تر خطرات سے محفوظ ہوجائیں گی ، حکومت اور انتہا پسندوں کو مسلمانوں کے ناجائز استحصال سے روکا جا سکے گا اور ان کے ہر ظلم کا منھ توڈ جواب دینا ممکن ہوجاۓگا۔

مسلمانوں کے تحفظ و بقا میں معاش کا حصہ

ہر قوم کی فلاح و بہبود میں معیشت کا ایک اہم کردار ہوتا ہے کیونکہ جب تک ہماری معاشی حالات بہتر نہیں ہوگی اس وقت دنیا ہمیں عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھے گی، دنیا ہمیں وہ اہمیت نہیں دے گی جس اہمیت کے ہم حقیقی معنوں میں حقدار ہیں۔

یہ بات ظاہر ہے کہ دنیا کے نظام میں معاشی ترقی کے بغیر کوئی قوم سرخروئی حاصل نہیں کر سکتی اور نہ ہی آبرومندانہ زندگی گزار سکتی ہے

اس زاویہ نظر سے اگر دیکھا جائے تو احساس ہوتا ہے کہ مسلمانوں پر فی الوقت جو ظلم و ستم اور دشواریوں کی بدلیاں منڈلا رہی ہیں،آج ہمارے جو بھی ناگفتہ بہ حالات ہیں ، ان میں کہیں نہ کہیں ایک وجہ ہماری معیشت کا کمزور ہونا بھی ہے

سرکاری و غیر سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کا حصہ ایک ناقابل بیان حد تک کم ہوگیا ہے یا کم کر دیا گیا ہے، اس وجہ سے بیشتر مسلم حضرات تعلیم اور سرکاری ملازمت نہ ہونے کی وجہ سے مزدوری اور چھوٹے چھوٹے کاروبار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ،مزید یہ کہ گزشتہ چار پانچ سالوں سے جو مسلم ہجومی تشدد کا شکار ہوۓ اور اس کے علاوہ جو بھی جعلی کیسوں کے تحت جیلوں میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے پر مجبور ہیں

تحقیق کے مطابق وہ سب نہایت ہی غریب ومفلس لوگ تھے، تو پتہ چلا کہ اگر ہمیں اپنے تحفظ و بقا کو یقینی بنانا ہے تو پہلے اپنی معیشت کو مضبوط سے مضبوط تر کرنا ہوگا ، اس کے لئے مالداروں اور صاحب ثروت حضرات کو چاہیے کہ وہ اپنے علاقے کے گاؤں اور قصبے کے غریب و مفلس لوگوں کا جائزہ لے کر ان کے کاروبار میں ترقی کے لیے ان کے شانہ بشانہ چلیں

انما المؤمنون اخوة كے تحت ان کے ساتھ ہمدردی جتائیں ، نیز قدم قدم پر ان کا ساتھ دیں ، اس طرح مسلمانوں کے معاشرے میں معاشی طور پر کافی سدھار پیدا ہوگا جس سے ہماری تحفظ و بقا کا مسئلہ حل ہوتا ہوا نظر آئےگا۔

ذاتی دفاع سے متعلق امور پر توجہ

ذاتی دفاع یعنی اپنے آپ کو بچانے کے لیے فوری طور پر اقدامات کرنا، دفاع کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا وصال ہوا تو گھر میں دیا جلانے کے لئے تیل نہیں تھا لیکن ایک روایت کے مطابق نو اور ایک روایت کے مطابق گیارہ تلواریں ضرور لٹکی ہوئی تھیں،

دفاع کی اہمیت عقل و نقل دونوں سے ثابت ہے، اللہ تعالی نے دفاعی نظام کو مضبوط بنانے کا حکم دیا ہے، قرآن پاک نے ذاتی اور معاشرتی دفاع کی مضبوطی اور اہمیت کا اس قدر اہتمام کیا ہے کہ اس بارے میں کئی آیات نازل فرمائی، اور احادیث میں بھی دفاع کا حکم موجود ہے

تاہم خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور فوجی اور جنریل کے خدمات انجام دے کر ذاتی اور معاشرتی دفاع کی اہمیت کو اجاگر فرمایا ہے۔

ذاتی دفاع کے حوالے سے اگر وطن عزیز ہندوستان پر نظر دوڈائی جاۓ تو معلوم ہوگا کہ یہاں اقلیت خاص طور پر مسلموں کے ساتھ حکومت کی طرف سے مذہبی بھید بھاؤ اور غنڈہ گردی کے ذریعے جو ہجومی تشدد کے واقعات رونما ہو رہے ہیں

اور ان واقعات پر موجودہ حکومت اورپولیس کی خاموشی کے پیش نظر مسلمانوں کو ذاتی دفاع سے متعلق امور پر توجہ دینے کی سخت ضرورت ہے ۔

کیوں کہ ان واقعات میں چند انتہا پسند لوگ جمع ہوکر ظالمانہ طریقے سے کسی ایک نھتھے شخص پر زدوکوب کی ساری حدیں پار کر دیتے ہیں ، جس کے بعد وہ شخص یا تو مر جاتا ہے یا کم از کم موت کے دہانے پر پہنچ جاتا ہے،

تو ایسے میں مسلم اگر ذاتی دفاع کے لیے کراٹے ،کومفو جیسے مزید دیگر فنون میں مہارت حاصل کرلیں تو وہ بڑی ہی آسانی سے چار، پانچ یا دس لوگوں کے ساتھ مزاحمت کرکے انھیں مات دے سکتے ہیں۔

بتاتا چلوں کہ اس طرح کے جتنے واقعات اب تک رونما ہوۓ ہیں ان میں سے اکثر میں پولیس بھی صحیح وقت پر نہیں پہنچتی ہے اور اگر پہنچ بھی جائے تو فوری کاروائی کرنے کے بجائے گونگے بہرے کی طرح تماشائی بنے مناظر سے لطف اندوز ہوتے ہیں ،تو پتہ چلا کہ اب ہماری حفاظت ہمارے ہاتھوں میں ہے

لہٰذا ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم خود بھی مذکورہ امور یعنی ذاتی دفاع کے حوالے سے فکر مند ہوکر کراٹے ، کومفو وغیرہ کی تعلیم سیکھیں اور اپنے اعزا اور احباب کو بھی اس کی طرف تیزی سے آمادہ کریں، اگر ایسا ہوا اور اس کام کو بروئے کار لایا گیا تو یقینا جلد ہی ہجومی تشدد جیسے دیگر تمام مظالم پر بھی نکیل کس لی جائے گی ،مسلم حضرات بلا خوف و خطر کہیں بھی بآسانی سفر کر سکیں گے اور ہم اپنے تحفظ و بقا کے حوالے سے آزاد ہوجائیں گے۔

مسلمانوں کے تحفظ و بقا کے حوالے سے امت میں بیداری پیدا کریں

مذکورہ باتوں کے ساتھ ساتھ ہمیں ایک اور چیز پر غور کرنا ہوگا کہ ہم اپنی عوام میں تحفظ وبقاء کے حوالے سے بیداری پیدا کریں، کیونکہ دیہات وغیرہ میں اب بھی ایسے بہت سے افراد ہیں جو اپنے تحفظ و بقا کے حوالے سے بے فکر ہیں گویا کہ وہ دنیا کے حالات سے واقف ہی نہیں ہیں،


اسفار وغیرہ میں کسی قسم کا کوئی احتیاط نہیں برتتے پھر اچانک نادانستہ طور پر کسی بھیڑ کا شکار ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں،

لہذا ہر مسلم کو اپنے تحفظ اور بقا کے حوالے سے نہایت ہی محتاط رہنا ہوگا اور عوام کو محتاط رکھنا یہ علماء اور دانشور طبقہ کی ذمہ داری ہے ، کہ وہ اپنی تقریروں، مضامین اور محفلوں میں عوام کو جھجھوڑ دیں

تحفظ و بقا کے حوالے سے ان میں بیداری پیدا کرنے کی کوشش کریں اور انھیں ہر وقت محتاط اور چوکنا رہنے کی تلقین کریں ، تاکہ ہم میں کا ہر فرد ناگہانی مصیبت کے آنے سے پہلے ہی خود کو اچھی طرح تیار لے۔

دستاویزی کاغذات کی تصحیح اور فراہمی تحفظ و دفاع کا اہم ذریعہ

ہندوستان میں گزشتہ مہینوں جب پارلیمنٹ سے این آر سی اور این پی آر جیسے بلوں کے پاس ہونے سے کہرام مچا ہوا تھا ، جس میں یہاں کے ہر شہری سے 70 سال پرانے دستاویزات کا مطالبہ کیا گیا تھا

لیکن اس وقت جب ہم نے اپنے گھروں ، کھیتوں اور ہر قسم کے کاغذات کی جانچ پڑتال شروع کی تو ہم میں سے اکثر کے کاغذات یا تو تھے ہی نہیں یا اگر تھے تو تصحیح کے محتاج تھے، کیونکہ بے شمار جگہوں پر ان میں ڈھیر ساری غلطیاں تھیں، کسی بھی قسم کے دو دستاویزوں کو سامنے رکھا جاتا ہے تو دونوں کاغذات میں مختلف خامیاں نظر آتی تھی،

دستاویزات میں اس قسم کی ڈھیر ساری خامیاں اب بھی ہیں لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم سارے کاغذات میں نام، والدین کا نام اور تاریخ پیدائش وغیرہ کو سب میں ایک رکھیں، خاص طور پر نام کے اسپیلنگ میں خوب غور کریں اور جو کاغذات اب تک نہ بن پائے ہوں تو اول فرصت میں تحصیل وغیرہ میں رابطہ کرکے جلد از جلد فارم انھیں بنوالیں ،

کیوں کہ دستاویزی کاغذات کی تصحیح اور فراہمی تحفظ و بقا کا اہم ذریعہ ہے، بنیادی طور پر اگر ہمارے کاغذات صحیح ہیں تو ہمیں کسی قسم کے خطرے سے ڈرنے کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔

قانون سے واقفیت مسلمانوں کے تحفظ و بقا کا ضامن

ملک کے قانون سے واقفیت رکھنا جہاں ایک اچھے شہری ہونے کی دلیل ہوا کرتی ہے وہیں ہمارے تحفظ و بقاء کی ضامن بھی ہوتی ہے 


لیکن افسوس کہ مسلمانوں میں تعلیمی ، معاشی اور سیاسی کے ساتھ ساتھ ملک کے قانون سے واقفیت نہ رکھنے والوں کا بھی فقدان ہے جس کا نتیجہ یہ ہو رہا ہے کہ ہندوستان میں مسلم طلبہ کو آئے دن جھوٹے کیسوں میں گرفتار کیا جاتا ہے، پھر جیل میں ڈالنے کے بعد ان پر کئی طرح کے جھوٹے مقدمات دائر کیے جاتے ہیں جن کے بارے میں ہمیں پتا بھی نہیں ہوتا پھر اس کے بعد ضمانت پر باہر آنا یہ ایک خواب بن جاتا ہے ،


لہذا ہم میں کا ہر فرد اگر قانون سے واقفیت رکھے ، تمام دھاراوں کی معلومات رکھے تو یقینا اس سے پولیس افسران کے مظالم کا سدباب کیا جاسکتا ہے تاہم اپنے تحفظ اور بقا کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

مذکورہ بالا چند تجویزات ہیں ، اگر ان پر سنجیدگی سے غور و فکر کے احتیاطی تدابیر کے طور پر عمل پیرا ہو لیا جائے تو ممکن ہے کہ مسلمانوں کی ابتر حالات کو ظالموں کے چنگل سے نکال کر بحالی کے راستے پر گامزن کیا جا سکتا ہے

ہندوستان میں مسلمانوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکتا ہے، لیکن اس سے پیشتر مسلمانوں کی سب سے بڑی کمی آپسی عدم اتفاقی اور باہم بغض و عناد کو دور کرکے حاسدین اور معاندین سے مقابلہ آرائی کے لیے ہمیں ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا ہوگا۔

جس کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں ارشاد فرماتاہے واعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقوا ۔ سورة آل عمران. آيت 103

اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو ایک ساتھ مل کر اور آپس میں بٹ نا جانا ۔
ترجمہ کنزالایمان ۔

اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دعا ہے کہ مولی پوری دنیا کے مسلمانوں کو کفار و مشرکین کے شر سے محفوظ و مامون فرماۓ، مسلمانوں کو مذکورہ لائحہ عمل کی طرف راغب فرماۓ اور پھر سے پوری دنیا میں مذہب اسلام کا بول بالا فرماۓ،
آمین یا رب العالمین۔

تحریر: محمد احمد حسن سعدی امجدی

ریسرچ اسکالر ، جامعة البركات علی گڑھ۔
مسکن، لکھن پوروا، رودھولی بازار ضلع بستی یوپی الہند۔

اس کو بھی پڑھیں: موجودہ حالات میں ہندوستانی مسلمانوں کی از سر نو تعمیر و ترقی کے لیے ایک جامع منصوبہ بندی

ONLINE SHOPPING

گھر بیٹھے خریداری کرنے کا سنہرا موقع

  1. HAVELLS   
  2. AMAZON
  3. TATACliq
  4. FirstCry
  5. BangGood.com
  6. Flipkart
  7. Bigbasket
  8. AliExpress
  9. TTBazaar

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top