موجودہ حالات میں ہندوستانی مسلمانوں کی از سر نو تعمیر و ترقی کے لیے ایک جامع منصوبہ بندی

موجودہ حالات میں ہندوستانی مسلمانوں کی از سر نو تعمیر و ترقی کے لیے ایک جامع منصوبہ بندی

تحریر: محمد سبطین رضا محشر مصباحی موجودہ حالات میں ہندوستانی مسلمانوں کی از سر نو تعمیر و ترقی کے لیے ایک جامع منصوبہ بندی

موجودہ حالات میں ہندوستانی مسلمانوں کی از سر نو تعمیر 

  آج امت مسلمہ تاریخ کے جس نازک موڑ پر ہے وہ محتاجِ بیاں نہیں عالمِ اسلام کے خلاف اس وقت پوری دنیا بر سر پیکار ہے باطل طاقتیں اور فرقہ پرست قوتیں پورے شد و مد اور منصوبہ بندی کے ساتھ اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں مزید اپنی نظریاتی اور جغرافیائی حدود کی توسیع کررہے ہیں جس کی وجہ سے مسلمانانِ عالم اس خوف و ہراس میں مبتلا ہے کہ ان باطل قوتوں کا اگلا ہدف کون سا مسلم ہوگا۔

کیوں کہ ارض فلسطین و عراق، چیچنیا،صومالیہ،بوسنیا،سوڈان،افغانستان پہلے ہی سے ان باطل قوتوں کے زد میں ہے جہاں مسلسل مسلمانوں کی نسل کشی او ر کھلے عام قتل و غارت گری ہورہی ہے پوری دنیا میں امت مسلمہ پر آشوب دور سے گزر رہی ہے 

یہی موجودہ صورتِ حال وطنِ عزیز ہندوستان کی ہے جہاں چوطرفہ مسلمانوں کی جان و مال پر حملہ ہورہا ہے مسلمانوں کے خلاف پراپیگنڈے ، تدابیر اور سازشیں رچی جارہی ہیں اور حکومتِ وقت کا دوہرا رویہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے بڑے بڑے فیصلوں میں مسلمانوں کی آئینی حقوق میں زبردستی چھیڑ چھاڑ کیا جارہا ہے۔

مسلم اکثریت صوبے کی خصوصی حیثیت کو دبایا گیا اور ملک کے طول وعرض میں مسلم کش فسادات کا سلسلہ جاری ہے اکثریت کی بالادستی ہمیشہ مسلم اقلیت کو نشانہ بنانےمیں کوشاں ہے لوجہاد و گئو کشی تو کبھی مسلمانوں کی حب الوطنی ہر سوالیہ نشان تو کبھی مسلمانوں کی مساجد و مدارس پر حملے وغیرہ ان سب کے ذریعے مسلمانوں کے اوپر خوف و ہراس کی چادر تان دی گئی ہے اور یہ کشمکش شباب پر ہے 

ایسے وقت میں ہندوستانی مسلمانوں کی جان و مال کی تحفظ و بقا کے بارے میں سوچا نہ گیا تو آگے جاکر ماحول اور بھی خراب ہوسکتے ہیں جس کے لیے مسلمانوں کی از سر نو تعمیر و تنظیم کے لیے ایک جامع منصوبہ بندی ضروری ہے ایک ایسے لائحۂ عمل کی ضرورت ہے جس میں ہندوستانی مسلمانوں کی اجتماعی نظم و نسق ہو جس میں موجودہ حالات سے لڑنے کے لیے اجتماعی قوت کا طریقہ ہو جس میں مسلمانوں کے باہمی تعاون اور اشتراکِ عمل سے منظم ایک تنظیم کا اصلاحی طریقۂ کار ہو جس کے ذریعے مسلمانوں کی از سر نو ذہن سازی اور اصلاح ہو

وہی ان ذہنوں و فکر کو عصرِ جدید کے مسائل کے حل کے لیے تیار کیے جائیں جس سے ہندوستان کے مسلمانوں کی اچھی طرح سے تعمیر ہوسکے جس طرزِ دعوت کا حکم خود قرآن میں مذکور ہے کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :۔

وَلْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ يَّّدْعُوْنَ اِلَى الْخَيْـرِ وَيَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ ۚ وَاُولٰٓئِكَ هُـمُ الْمُفْلِحُوْنَ ( سورۃ آل عمران ٤ ،آیت : 104)۔

اور چاہیے کہ تم میں سے ایک جماعت ایسی ہو جو نیک کام کی طرف بلاتی رہے اور اچھے کاموں کا حکم کرتی رہے اور برے کاموں سے روکتی رہے، اور وہی لوگ نجات پانے والے ہیں۔ تو قرآن ملت کی تعمیر و ترقی کے لیے جماعتی طور پر منصوبہ بندی کے ساتھ انقلابی اقدام کی دعوت دے رہا ہے اور امت مسلمہ کی بہتری کے لیے ایک منظم عملی و اجتماعی تنظیم کا خاکہ پیش کررہے اس سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کی از سر نو تعمیر و ترقی میں جماعتی منصوبہ بندی ضروری ہے اور امت اسی مشن کے ساتھ ترقی کرسکتی ہے 

چناں چہ اس کا تجزیہ اس اصول کے ساتھ کرتے ہوئے کہ مسلمان جس بھی ملک میں رہ رہے ہیں خواہ ہندوستان ہو یا بنگلہ دیش یا پاکستان یا انگلینڈ دنیا کے کسی بھی ملک میں رہائش پذیر ہیں اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ مسلمان دو حیثیت سے زندگی گزار رہے ہیں ایک اقلیتی حیثیت سے تو دوسرا اکثریتی حیثیت سے

نیپال و چین سائبریا ہندوستان اور برطانیہ جیسے ملکوں میں مسلمان اقلیتی حیثیت سے ہیں جب کہ سعودی،انڈونیشیا ملیشیا اور پاکستان جیسے ملکوں میں مسلمان اکثریتی حیثیت سے ہیں ہمارا موضوع چوں کہ ہندوستانی مسلمانوں کی تعمیر سے متعلق ہے تو ہم اقلیتی حیثیت کے بارے میں گفتگو کریں گے

مسلمانانِ ہند کو جن مسائل و مصاعب کا سامنا ہے اور جو پریشانی درپیش ہے اس کے حل کے لیے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی مکی زندگی کا مطالعہ مکمل ضروری ہے اس تعلق سے ہمیں اپنی اقلیتی حیثیت کو حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی مکی زندگی کے رو برو کرنے کی ضرورت ہے

کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی ذاتِ گرامی وہ فردِ اکمل و اتمم ہے جس میں اللہ رب العزت نے وہ تمام صفات و کمالات جاگزیں کیا ہے جو حیاتِ انسانی کے لیے ایک مکمل لائحۂ عمل ہے نبوت کا یہ شاہکار چراغ اور روشن ستارہ اپنی تمام تر روشنیوں کے ساتھ حیاتِ انسانی کی تعمیر و ترقی میں مینارۂ نور بن کر اپنی برکتوں کے ساتھ موجود ہے جس کی پیروی سے انسان اپنے لیے سامانِ ہدایت حاصل کرسکتا ہے

آپ صلی اللہ علیہ و سلم تبلیغ کا حکم پاتے ہی تبلیغ کا کام شروع کردیا لوگوں کو شرک سے باز رکھنے اور توحیدِ الہی کی طرف بلانے کا کام اول آپ صلی اللہ علیہ و سلم  نے اپنے گھر ہی سے شروع کیا

جس میں آپ پر خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنھا ایمان لائیں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ابتدا میں اپنی تعلیم کی تبلیغ نہایت خاموشی کے ساتھ اپنے رشتہ داروں  دوستوں تک محدود رکھی جس کے بعد مسلمانوں کی ایک چھوٹی سے جماعت تیار ہوگئی جس میں مرد، عورت، جوان، بچے،بوڑے سب شامل تھے تین سال تک اسلام کی تبلیغ اسی طرح چپکے چھپائے ہوتے رہی ( تاریخِ اسلام جلد اول ، ص: ١٠٨، ١٠٩ از اکبر شاہ خاں نجیب آبادی )۔ 

غور طلب بات یہ ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی نبوت کا اعلان کیا تو اس وقت آپ اقلیت میں تھے اپنے وجود اور دینِ اسلام کی تبلیغ و اشاعت میں اور اس کے قیام کے لیے جد و جہد کرتے رہے جیسے جیسے موقع ملتا گیا ویسے ویسے آپ نے دینِ اسلام کی دعوت کو عام کیا اقلیت میں رہتے ہوئے آپ نے جس طرح سے افراد سازی کی مہم کو آگے بڑھایا وہ قابلِ غور پہلو ہے جس کے ذریعے ہندوستانی مسلمان اپنی تعمیر و ترقی کا روشن راستہ نکال سکتا ہے۔
 
آپ صلی اللہ علیہ وسلم دارِ ارقم میں رہتے تھے اور وہی سے آپ نے دھیرے دھیرے افراد سازی کا مشن آگے بڑھایا اپنے اصحاب کی اصلاحی ذہنی اور فکری تعمیر و تنظیم کیا اور نتیجہ یہ نکل آیا کہ اس کی وجہ سے مکہ میں ایک اسلامی معاشرے کا قیام وجود میں آیا اور ایک متحرک سماج و افراد کی تشکیل و ترقی ہوئی جس میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی اصلاحی ، منصوبہ بندی ، اور ذینی
افکری ذہن سازی شامل تھیں
از قلم: محمد سبطین رضامحشر مصباحی
کشن گنج بہار
 

ONLINE SHOPPING

گھر بیٹھے خریداری کرنے کا سنہرا موقع

  1. HAVELLS   
  2. AMAZON
  3. TATACliq
  4. FirstCry
  5. BangGood.com
  6. Flipkart
  7. Bigbasket
  8. AliExpress
  9. TTBazaar

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top