مولانا افروز احمد اشرفی مصباحی مبارک پوری

تحریر محمد ہاشم اعظمی مصباحی مولانا افروز احمد اشرفی مصباحی مبارک پوری

 مولانا افروز احمد اشرفی مصباحی مبارک پوری

عہد حاضر کی تاریخ میں یقیناً سن 2020 ء کو عام الحزن کے نام سے یاد کیا جاۓ گا اس دور قحط الرجال میں یکے بعد دیگرے کثیر اکابرین و مشائخین ہمیں داغ مفارقت دے کر اپنے خالق حقیقی سے جا ملے اسی کی ایک کڑی جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے قدیم و عظیم فارغ تلمیذ حافظ ملت و مرید محدث اعظم ہند حضرت علامہ مولانا افروز احمد اشرفی مصباحی کی ذات ہے

آپ 23/ ستمبر 2020 ء مطابق 5 /صفرالمظفر 1441 ہجری کی شب تقریباً 8:30بجے اپنے معتقدین اور محبین کو غم زدہ کرکے اس دار فانی سے دار جاودانی کی طرف کوچ کر گئے انا للہ وانا الیہ راجعون

مولانا افروز احمد اشرفی علیہ الرحمہ علم فن کے شہر مبارک پور کے محلہ نوادہ میں 1934ء کو حاجی نظام الدین ابن حاجی عبداللہ کے گھر پیدا ہوئے ناظرہ و پرائمری درجات کی تعلیم مدرسہ اشرفیہ سراج العلوم نوادہ سے حاصل کر نے کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے عالمی شہرت یافتہ اسلامی دانش گاہ الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور میں داخل ہوۓ۔

۔ 10 سال تک حافظ ملت علامہ عبدالعزيز محدث مرادآبادی اور دیگر اساتذہ کرام نے اپنی آغوشِ تربیت میں لے کر مولانا کو خوب خوب نکھارا سنوارا اور پروان چڑھایا 1961ء  میں اشرفیہ سے فراغت کے بعد مہاراشٹر، بستی،گورکھ پور وغیرہ مختلف مقامات پر طالبان علوم نبویہ کی پیاس بجھاتے رہے ۔

پھر حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ کے حکم پر بارہ بنکی ضلع کے حیدر گڑھ تحصیل میں واقع محلہ ولی نگر تشریف لے گئے وہاں پر امین شریعت مفتی رفاقت حسین علیہ الرحمہ سابق مفتی اعظم کان پور کا قائم کردہ مدرسہ اشرفیہ رفاقت العلوم بشکل مکتب موجود تھا

آپ نے اپنی کاوشات پیہم سے مدرسہ کی تعلیم وتعمیر کو بام عروج عطا کیا ولی نگر میں آپ کی تشریف آوری سے ہر طرف دین وسنیت کی بہار آگئی آپ  ہی کی جانفشانی و کاوشات پیہم سے ولی نگر میں جلوس محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کا آغاز ہوا آج تک جاری ہے اور یہ تاریخی جلوس صبح قیامت تک ان شاءاللہ جاری رہے گا

آپ ہومیوپیتھ کے بہترین ڈاکٹر بھی تھے اپنی خود کی ڈسپنسری تھی جس پر بندگان خدا کا ہومیوپیتھک کے ساتھ روحانی علاج بھی کرتے تھے زبان وبیان اور شعری کلام میں اتنی شیفتگی اور برجستگی تھی کہ جو سنتا قائل ہوجاتا۔

 کیا کیا رقم کیا جائے مختصراً یہ کہ آپ کی شخصیت جہان سنیت میں ممتاز اور فارغین اشرفیہ میں قابل فخر تھی اشرفیہ کے خیر خواہ حضور حافظ ملت کے شیدا بزرگانِ دین خصوصاً سلسلہ اشرفیہ کے بزرگوں سے گہری عقیدت اور والہانہ وابستگی رکھتے تھے

حضور محدث اعظم ہند علیہ الرحمہ کے مرید ومعتمد علیہ تھے آپ علیہ الرحمہ کی پوری زندگی اسلام و سنیت کی ترویج و اشاعت اور خدمت خلق سے عبارت تھی آپ ایک منفرد المثال مدرس، پرتاثیر خطیب، ماہر حکیم، اور کہنہ مشق شاعر و ادیب تھے نیز گم گشتہ گان راہ کے لیے عظیم داعی و ہادی تھے

 آخر عمر میں مفلوج ہو کر اپنے وطن مالوف نوادہ مبارک پور میں قیام پذیر رہے اور تاحین حیات مدرسہ اشرفیہ سراج العلوم نوادہ کی مجلس شوریٰ کے رکن رکین اور مجلس عاملہ میں نائب صدر رہے اور زندگی بھر مدرسہ کی تعلیمی و تعمیری ترقی کے لیے کوشاں رہے

آپ کی رحلت سے یقیناً ایسا خلا پیدا ہواہے کہ مستقبل قریب میں جس کا پر ہونا مشکل نظر آتا ہے

مولیٰ تعالٰی اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے آپ کی خدمات کو قبول فرماکر اسے ذریعۂ نجات اور ترقئ درجات کا سبب بنائے نیز پس ماندگان اور محبین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین یا رب العالمین بجاہ سیدالمرسلین صلی اللہ علیہ وسلم

وہ جس نے گلشن ملت کی آبیاری کی

خدا رکھےاسے شاداب ہم کوچھوڑ گیا

لحد میں خلد بریں کے حسیں نظارے ہوں

رہے وہ فضل سے سیراب ہم کو چھوڑ گیا

اس کو بھی پڑھیں : زمین کھا گئی آسمان کیسے کسیے 

تحریرمحمد ہاشم اعظمی مصباحی

نوادہ مبارک پور اعظم گڈھ یو پی

9839171719 

Hashimazmi78692@gmail.com

ONLINE SHOPPING

گھر بیٹھے خریداری کرنے کا سنہرا موقع

  1. HAVELLS   
  2. AMAZON
  3. TATACliq
  4. FirstCry
  5. BangGood.com
  6. Flipkart
  7. Bigbasket
  8. AliExpress
  9. TTBazaar

Recent Posts

ماہ ربیع النور اور جان کائنات ﷺ

از قلم: محمد مجیب احمد فیضی ماہ ربیع النور اور جان کائنات ﷺ ماہ ربیع… Read More

بارہ ربیع الاول شریف کی نسبت سے بارہ ہدایتیں

از: محمد عبدالمبین نعمانی قادری بارہ ربیع الاول شریف کی نسبت سے بارہ ہدایتیں بارہ… Read More

نعت مصطفےٰ ﷺ

نعت مصطفےٰ ﷺ آئیں کچھ آخرت کے کار کریںنذر ہم نعت کے اشعار کریں وہ… Read More