نماز و تبلیغ کے نام پر دیوبندیوں کے ساتھ قسط اول

نماز و تبلیغ کے نام پر دیوبندیوں کے ساتھ قسط اول

تحریر: طارق انور مصباحی نماز و تبلیغ کے نام پر دیوبندیوں کے ساتھ قسط اول

نماز و تبلیغ کے نام پر دیوبندیوں کے ساتھ قسط اول

مبسملاوحامدا::ومصلیا ومسلما

عہد حاضر میں لوگ کہتے ہیں کہ اکثر دیوبندیوں کو دیابنہ کے کفریہ عقائد کا علم نہیں، جب کہ امام احمدرضا قادری کی تحریریں اس کے برخلاف شہادت دیتی ہیں۔

اسی طرح امام احمد رضا قادری نے فرمایا تھا کہ سب سے بدتر کافر دیوبندی ہیں،لیکن بعض لوگ اس کے بر عکس عمل میں مبتلا ہوئے۔غیر مقلدوں سے تو دور بھاگتے ہیں لیکن دیوبندیوں کے لیے کچھ نرم گوشہ رکھتے ہیں، پھرکہتے ہیں کہ آج کے دیوبندیوں کوکچھ معلوم نہیں : واللہ تعالیٰ اعلم

ہندوپاک میں مشہور ومتواتر ہے کہ دیوبندی گستاخ رسول اور کافر ہیں۔بریلی والے گستاخی رسول کی وجہ سے دیوبندیوں کوکافر کہتے ہیں۔ عوا م میں یہ باتیں مشہور ہیں۔

معلوم نہیں کہ ہندوپاک کا وہ کو ن سا علاقہ ہے کہ جہاں کے دیوبندیوں کوکچھ پتہ ہی نہیں۔

واضح رہے کہ شریعت کے بہت سے احکام صرف زبانی اقرارکے سبب بدل جاتے ہیں،خواہ دل میں کچھ بھی عقیدہ ہو۔

جوکہتا ہے کہ ہم مجوسی ہیں،اس کومجوسی سمجھا جائے گا۔

دیوبندیوں کا مکروفریب

جس طرح شیعہ لوگ تقیہ بازی کرتے ہیں۔اپنے غلط عقائد کولوگوں سے چھپاتے ہیں،لیکن ان برے عقائد سے توبہ نہیں کرتے۔اسی طرح دیابنہ بھی اپنے عقائد کو چھپاتے ہیں۔منافقین کے بارے میں قرآن مجیدمیں ہے کہ مسلمانوں کوکہتے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ کافروں سے کہتے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ان منافقین کو کافر قرار دیا۔

وہابی اورسنی میں فرق کا طریقہ

۔ (الف)امام احمد رضا قادری نے وہابی وسنی میں فرق کرنے کا طریقہ رقم فرمایا

۔ ”ہمارے بعض بھائیوں کا بعض متفنی وہابیہ کے فریب سے دھوکا پاکر یہ عذر باقی ہے کہ یہ احکام توا ن کے لیے ہیں جو مذہب اہل سنت سے خارج ہیں اور وہابی ایسے نہیں۔ فلاں فلاں وہابی تو سنی ہیں۔اس کا جواب اسی قدر بس ہے کہ

عزیز بھائیو! دین حق کے فدائیو! دیکھو یہ دام درسبزہ ہیں دھوکے میں نہ آئیو،بھلا وہابی صاحب جو چاہیں بکیں۔وہاں نہ خوف خدانہ خلق کی حیاء،مگر پیارے سنیو! تم نے یہ کیوں کر باورکرلیا کہ بعض وہابی اہل سنت ہیں۔عزیزو! کیا یہ اس کہنے سے کچھ زیادہ عجیب تر ہے کہ فلاں رات دن ہے،یافلاں نصرانی،مومن ہے۔

جب سنیت،وہابیت سے صاف مباین ہے تو ان کا اجتما ع کیوں کر ممکن ہے؟

ہاں یوں کہتے تو ایک بات تھی کہ فلاں فلاں لوگ جو وہابی کہلاتے ہیں،وہابی نہیں۔ اہل سنت ہیں۔بہت اچھا،چشم ماروشن دل ماشاد،خدا ایسا ہی کرے۔

اگر واقع اس کے مطابق ہے تو ہمارا کیا ضرر،اورا س فتویٰ پر اس سے کیا اثر۔فتویٰ میں زید وعمر وکسی کی تعیین نہ تھی۔

سائل نے وہابی کی نسبت سوال کیا۔ مجیب نے وہابی کے باب میں جواب دیا۔فلاں اگر وہابی نہیں، سنی ہے۔اس سوال وجواب دونوں سے بری ہے۔فتویٰ کی صحت میں کیا شک پروری ہے۔

پھر عزیز بھائیو! یہ تنزل جواب اس کے تسلیم ادعا پر مبنی ہے،ابھی امتحان کا مرحلہ باقی ودیدنی ہے۔ زبان سے کہہ دینا کہ ہم وہابی نہیں، گنتی کے لفظ ہیں،کچھ بھاری نہیں۔

الٓمّٓ اَ حَسِبَ النَّاسُ اَن یُّتْرَکُوا اَن یَّقُولُوا اٰمَنَّا وَہُمْ لَا یُفْتَنُونَ
کیا لوگ اس گھمنڈ میں ہیں کہ اس زبانی کہہ دینے پرچھوڑدئے جائیں گے کہ ہم ایمان لے آئے اوران کی آزمائش نہ ہوگی۔ (فتاویٰ رضویہ:جلد پنجم:ص 272-نوری دارالاشاعت بریلی شریف)

اس کے بعد امام احمدرضا قادری نے ایسے مشتبہ وہابی کی آزمائش کے لیے آٹھ امور رقم فرمائے اور ارشاد فرمایا کہ ایسے غیرمقلد وہابی سے ان امور پر دستخط لیے جائیں۔

اگر وہ صدق دل کے ساتھ قبول کرلیں تو ٹھیک ہے،ورنہ وہ وہابی ہے۔ آج لوگوں نے اس کے برعکس کردیاہے۔بغیر کسی تفتیش کے خودسے ہی دیوبندیوں کوسنیت ک کی سند تقسیم فرمارہے ہیں۔ امام احمد رضا قادری نے رقم فرمایا:”بہت اچھا جو صاحب مشتبہ الحال وہابیت سے انکار فرمائیں۔امور ذیل پر دستخط فرماتے جائیں۔

ع/ کھوٹے کھرے کا پردہ کھل جائے گا چلن میں

۔ (1) مذہب وہابیہ ضلالت وگمراہی ہے۔

۔ (2) پیشوایان وہابیہ مثل ابن عبدالوہاب نجدی واسمٰعیل دہلوی ونذیر حسین دہلوی وصدیق حسن بھوپالی اور دیگر چھٹ بھیے آروی،بٹالی، پنجابی،بنگالی سب گمراہ بد دین ہیں۔

۔ (3) تقویۃ الایمان وصراط مستقیم ورسالہ یکروزی وتنویرالعینین تصانیف اسمعیل اور ان کے سوا دہلوی و بھوپالی وغیرہما وہابیہ کی جتنی تصنیفیں ہیں،صریح ضلالتوں گمراہیوں اور کلمات کفریہ پر مشتمل ہیں۔

۔ (4) تقلید ائمہ فرض قطعی ہے۔بے حصول منصب اجتہاد اس سے روگردانی بددین کا کام ہے۔غیر مقلدین مذکورین اور ان کے اتباع واذناب کہ ہندوستان میں نامقلدی کا بیڑا اٹھائے ہیں،محض سفیہان نامشخص ہیں۔ ان کا تارک تقلید ہونا اوردوسرے جاہلوں اور اپنے سے اجہلوں کو ترک تقلید کا اغوا کرنا صریح گمراہی وگمراہ گری ہے۔

۔ (5) مذاہب اربعہ اہل سنت سب رشد وہدایت ہیں جو ان میں سے جس کی پیروی کرے اور عمر بھر اس کا پیرو رہے،کبھی کسی مسئلہ میں اس کے خلاف نہ چلے،وہ ضرور صراط مسقیم پرہے،اس پرشرعًا الزام نہیں۔ان میں سے ہر مذہب انسان کے لیے نجات کوکافی ہے۔تقلید شخصی کو شرک یا حرام ماننے والے گمراہ، ضالین،متبع غیر سبیل المومنین ہیں۔

۔ (6)متعلقات انبیا واولیا علیہم الصلوٰۃ والثنا مثل استعانت وندا وعلم وتصرف بعطائے خدا وغیرہ مسائل متعلقہ اموات واحیا میں نجدی ودہلوی اور ان کے اذناب نے جو احکام شرک گھڑے اورعامہ مسلمین پر بلاوجہ ایسے ناپاک حکم جڑے، یہ ان گمراہوں کی خباثت مذہب اور اس کے سبب انھیں استحقاق عذاب وغضب ہے۔

۔ (7)زمانہ کو کسی چیز کی تحسین وتقبیح میں کچھ دخل نہیں۔امر محمود جب واقع ہو محمود ہے، اگرچہ قرون لاحقہ میں ہو،اور مذموم جب صادر ہو مذموم ہے،اگرچہ ازمنہ سابقہ میں ہو۔

بدعت مذ مومہ صرف وہ ہے جو سنت ثابتہ کے ردوخلاف پر پید ا کی گئی ہو۔جواز کے واسطے صرف اتنا کافی ہے کہ خدا ورسول نے منع نہ فرمایا۔کسی چیز کی ممانعت قرآن وحدیث میں نہ ہو تو اسے منع کرنے والا خود حاکم وشارع بننا چاہتا ہے۔

۔ (8)علمائے حرمین طیبین نے جتنے فتاوے ورسائل مثل: الدرر السنیہ فی الردعلی الوہابیہ وغیرہا رد وہابیہ میں تالیف فرمائے، سب حق وہدایت ہیں اور ان کا خلاف باطل وضلالت۔
حضرات! یہ جنت سنت کے آٹھ باب ہادی حق وصواب ہیں۔جو صاحب بے پھیرپھار،بے حیلہ انکار، بکشادہ پیشانی ان پردستخط فرمائیں تو ہم ضرور مان لیں گے کہ وہ ہر گز وہابی نہیں،ورنہ ہر ذی عقل پر روشن ہوجائے گا کہ منکر صاحبوں کا وہابیت سے انکار نرا حیلہ ہی حیلہ تھا۔مسمے پر جمنا اور اسم سے رمنا،اس کے کیا معنی ؎

ع/ منکر می بودن ودر رنگ مستان زیستن

(فتاویٰ رضویہ:جلد پنجم:ص 273-272-نوری دارالاشاعت بریلی شریف)

عقائد سے ناواقف ہونے کا معنی

۔ (ب)امام احمد رضا قادری سے سوال ہوا:”جو اشخاص نہ عالم ہیں،نہ دیوبند کے تعلیم یافتہ۔نہ ان سے بیعت وعقیدت رکھتے ہیں۔محض اپنی لاعلمی عقائد کی وجہ سے ان کو کافر نہیں سمجھتے،اوران کے عقائد بھی ایسے بالکل نہیں ہیں،جن پر تکفیر لازم آتی ہے تو ان کے پیچھے نماز پڑھنی چاہئے،یاتنہا بہتر ہے؟(فتاوی رضویہ جلد نہم جز دوم:ص313۔رضا اکیڈمی ممبئی)

امام احمد رضا قادری نے عقائد سے لاعلمی کا مفہوم بیان کیا کہ لاعلمی سے مراد یہ ہے کہ ان کے کان بھی ان عقائدسے ناآشناہوں،یعنی انہوں نے دیوبندیوں سے متعلق ان کے کفریہ عقائد سنے ہی نہ ہوں،دوسری بات یہ کہ وہ سننے کے بعد حق کوقبول کرلیں۔

نیزفرمایا کہ ایسی صورت واقع ہونا مشکل ہے،کیوں کہ دیوبندیوں کے برے عقائد کا شہرہ چاروں طرف ہے تو جولوگ کہتے ہیں کہ ہمیں کچھ معلوم نہیں،وہ فریب دیتے ہیں۔اس مفہوم کو مثال سے بھی آپ نے واضح فرمایا۔مجددموصوف کی وضاحت مندرجہ ذیل ہے:
۔ ”سائل صورت وہ فرض کرتا ہے جو واقع نہ ہوگی۔دیوبندیوں کے عقائد کفر طشت ازبام ہو گئے۔منکر بننے والے اپنی جان چھڑانے کے لیے انکار کرتے ہیں کہ ہمیں معلوم نہیں۔جو منکر ہو،اس سے کہئے۔فتاویٰ موجود وشائع ہیں۔دیکھو کہ کافروں کا کفر معلوم ہو، اور دھوکے سے بچے اور ان کے پیچھے نمازیں غارت نہ کرو۔

رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دشمنوں سے دشمنی فرض ہے۔اس فرض پر قائم ہو تو کہتے ہیں۔ہمیں کتابیں دیکھنے کی حاجت نہیں۔یہ ان کا کید ہے۔
ان کے دل میں محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی عظمت ہوتی تو جن کی نسبت ایسی عام اشاعت سنتے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا دشنام دہندہ ہے،اس سے فوراً خود ہی کنارہ کش ہوتے اور آپ ہی اس کی تحقیق کو بے قرار ہوتے۔

کیا کوئی کسی کو سنے کہ تیرے قتل کے لیے گھات میں بیٹھا ہے،اعتبار نہ آئے تو چل تجھے دکھا دوں۔وہ یوں ہی بے پرواہی برتے گا،اور کہے گا۔مجھے نہ تحقیقات کی ضرورت،نہ اس سے احتراز کی حاجت۔تو یہ لوگ ضرور مکار اور بباطن انہیں سے انفار۔یا دین سے محض بے علاقہ و بے زار ہوتے ہیں۔ان کے پیچھے نماز سے احتراز فرض ہے۔

ہاں،اگر واقع میں کوئی نو وارد یا نرا جاہل یا ناواقف ایسا ہو جس کے کان تک یہ آوازیں نہ گئیں اور وہ بوجہ ناواقفی محض انہیں کافر نہ سمجھا،وہ اس وقت تک معذور ہے جب کہ سمجھانے سے فورا ًحق قبول کر لے“۔(فتاوی رضویہ جلد نہم: جز دوم:ص313۔رضا اکیڈمی ممبئی)

جھوٹی قسم کا اعتبار نہیں

دیوبند ی جانچنے کا طریقہ
امام احمدرضا سے سوال کیا گیا:”ایک شخص بروئے حلف یہ کہے کہ میں مسلمان ہوں وہابی نہیں،اللہ کو ایک جانتا ہوں رسول اللہ کو نبی برحق اور اولیائے عظام کو برابر جانتا ہوں، کرامت کا قائل ہوں،حنفی مذہب کا پابند ہوں،جو لوگ پھر بھی اعتبار نہ کریں تو کیا کیا جائے، قرآن اورا للہ پر یقین نہ کرنے والوں کو کیا کہا جائے؟بینواتوجروا۔

آپ نے رقم فرمایا:”اگر اس میں کوئی بات وہابیت کی نہ دیکھی،نہ کوئی قوی وجہ شبہہ کی ہے تو بلاوجہ شبہہ نہ کیا جائے، بدگمانی حرام ہے،اور اگر اس میں وہابیت پائی تو ثابت شدہ بات اس کی قسموں سے دفع نہ ہوجائے گی۔وہابی اکثر ایسی قسمیں کھایا کرتے ہیں۔
قال اللّٰہ تعالٰی: یَحْلِفُونَ بِاللّٰہِ مَا قَالُوا وَلَقَدْ قَالُواکَلِمَۃَ الْکُفْرِ وَکَفَرُوا بَعْدَ اِسْلامِہِمْ-نہ ان کی قسموں کا اعتبار۔قال اللّٰہ تعالٰی: اِنَّہُمْ لَا اَیمَانَ لَہُم۔

اور اگر کسی وجہ سے شبہہ ہے تو صرف ان قسموں پر قناعت نہ کریں،بلکہ اس سے دریافت کریں کہ تو اسمٰعیل دہلوی ونذیر حسین دہلوی ورشید احمد گنگوہی وقاسم نانوتوی واشرف علی تھانوی اور ان کی کتابوں تقویۃ الایمان و معیار الحق وبراہین قاطعہ وتحذیر الناس وحفظ الایمان وبہشتی زیور وغیرہا کو کیسا جانتا ہے؟۔

اگر صاف کہے کہ یہ لوگ بے دین گمراہ ہیں اور یہ کتابیں کفر وضلالت سے بھری ہوئی ہیں،تو ظاہر یہ ہے کہ وہابی نہیں، ورنہ ضرور وہابی ہے۔ جھوٹوں کی قسم پر اعتبار نہ کرنا قرآن اور اللہ پر اعتبار نہ کرنا نہیں۔

اِذَا جَآءَکَ الْمُنٰفِقُونَ قَالُوا نَشْہَدُ اِنَّکَ لَرَسُولُ اللّٰہِ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ انک لرسولہ واللّٰہ یشہد ان المنافقون لکذبون::اتخذوا ایمانہم جنۃ فصدوا عن سبیل اللّٰہ انہم ساء ما کانوا یعملون۔ (فتاویٰ رضویہ:جلد ششم:ص 79-رضا اکیڈمی ممبئ)

تحریر : طارق انورمصباحی
مدیر :ماہنامہ پیغام شریعت دہلی
اعزازی مدیر : افکار رضا

اس کو بھی پڑحیں : اشخاص اربعہ کی تکفیر اور مذبذبین

 

ہندی مضامین پڑھنے کے لیے کلک کریں 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top