پیغمبر اسلام ﷺ کی توہین اور انتظامیہ کی بے حسی

پیغمبر اسلام ﷺ کی توہین اور انتظامیہ کی بے حسی

تحریر: مفیض الدین مصباحی، کشن گنج پیغمبر اسلام ﷺ کی توہین اور انتظامیہ کی بے حسی

پیغمبر اسلام ﷺ کی توہین اور انتظامیہ کی بے حسی

ڈاسنا مندر کا پجاری نے دلی کے ” پریس کلب آف انڈیا “میں اعلانیہ طور پر کچھ انتہا پسند ساتھیوں کے ہمراہ امن و شانتی کے پیغمبر، معلم کائنات ، حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں نہایت توہین آمیز کلمات کہے۔

شان رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں گستاخی یہ پہلا واقعہ نہیں ہے

بلکہ دشمنان اسلام نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان میں ہمیشہ اپنی کم ظرفی، اوچھا پن اور کمینگی کے اظہار میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔

اورتوہین رسالت بعض شدت پسندوں کا ایک ایسا نفرت انگیز، مخاصمانہ رویہ ہے، جس کا اظہار وقفہ وقفہ سے کیا جاتا ہے،تاکہ اسلام کے پیروکار مشتعل ہوں؛ ملک میں دنگا فساد بھڑکے اور شر پسند عناصر اپنے مقاصد میں کام یاب ہوں ۔

کیوں نہ ہو ان کی ذہنیت ہی دنگ و فساد کی ہے ۔ وطن عزیز میں جب سے زمامِ اقتدار متشدد، جعفرانی عناصر نے سنبھالی ہے، دیش میں ایک منصوبہ بند سازش کے تحت اقلیتوں، اور خاص طور پرمسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے ، مجروح کرنے کا مہم چلایا جا رہا ہے

جس کے لیے نفرت کے پجاری، انسانیت کے دشمن نر سنہا نند اور وسیم رضوی جیسے لوگوں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ ورنہ کیا وجہ ہے کہ یہ شخص اس قدراپنی غلاظتیں ، خباثتیں نکالنے کے بعد بھی آزاد ہے۔ اور تشویش ناک بات یہ ہے کہ “توہین رسالت” جیسا ناقابلِ معافی جرم کے بعد بھی نہ تو انتظامیہ حرکت میں ہے اور نہ ہی عدلیہ۔

حالاں کہ اس طرح اعلانیہ طور پر اس حساس، نازک موضوع پر طوفان بدتمیزی برپا کرنے کے بعد حکومت ہند، عدالت، ہیومین رائٹس کمیشن، دلی سرکار اور دلی پولیس کی ذمہ داری تھی کہ وہ اس فسادی شخص کے خلاف ایکشن لیتے اور اسے اس کے تمام شر پسند ساتھیوں کے ساتھ سلاخوں کے پیچھے ڈالتے

کیوں کہ یہ شخص مسلسل کچھ دنوں سے شوشل میڈیا کے ذریعے مسلمان اور پیغمبر اسلام صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے خلاف بے سروپا الزامات،اتہمات باندھ کر سادہ لوح لوگوں کے درمیان نفرت کی بیج بو رہا ہے۔

اور یہ شخص اس قدر زہریلا ہے کہ اس کی زہر افشانی سے سابق صدر جمہوریہ اے۔ پی۔ جی۔ عبدالکلام آزاد(میزائل مین۔بھارت رتن) جیسی شخصیت بھی محفوظ نہ رہ سکی، جن کا احسان بالعموم سارے ہندوستان پر ہے۔

لیکن انتظامیہ اور عدلیہ کی بے حسی کہ اب تک چپ روزہ رکھی ہوئی ہے۔

یا اس انتظار میں ہے کہ معاملہ زور پکڑے اور اس کی آڑ میں وہ سیاسی روٹی سینکیں؛ لیکن ہم غلامان مصطفیٰ ﷺ اپنی حکمت عملی سے مجرم وملعون کو کیفرکردار تک پہونچانے کے ساتھ انہیں ان کے مقاصد میں ہرگز کامیاب ہونے نہیں دیں گے۔ ایک زمانے میں مذہبی رہنما اپنے حسن کردار پیار ومحبت اور مذہب کی تعلیمات کو دلکش انداز، خوبصورت اسلوب، اور شگفتہ پیرایہ میں پیش کر کے لوگوں کو اس مذہب کی حقانیت و صداقت کا مرید کر لیا کرتے تھے

لیکن بدقسمتی سے کچھ عرصہ سے مذہبی لبادہ میں دوسرے مذہب کے خلاف ہفوات بکنا ہی بعض کا عین مذہب بن گیا ہے۔ ہر گز ایسے لوگ کسی مذہب کے مبلغ نہیں، بلکہ انسانوں کی شکل و صورت میں شیاطین ہیں جو لوگوں کے درمیان نفرت کا زہر گھول کر فساد کی آگ بھڑکانا چاہتے ہیں۔ یہ لوگ سَستی شہرت اور اپنے مفادات کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔

اس نے نہ تو قرآن وحدیث پڑھا ہے ، نہ حضورﷺ کی سیرت اور نہ ہی اسلامی تاریخ! یہاں تک کہ یہ شخص اپنے مذہب کی تعلیمات سے بھی اچھی طرح باخبر نہیں ہوگا ۔ کچھ آیتیں، حدیثیں بغیر سیاق وسباق پیش کرکے لوگوں کے ذہنوں کو خراب کرنا انتہائی جہالت ونادانی اور منافقت کا بین ثبوت ہے۔

اب تک جو باتیں آتی رہی ہیں وہ سیاستدانوں کی طرف سے یا سطحی معلومات رکھنے والے افراد کی جانب سے؛ لیکن ایک مذہبی رہنما کا جاہلانہ گفتگو کرنا سب سے زیادہ افسوسناک ہے۔ اس نامراد ، جنونی پنڈت نے حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پر الزامات و اتہامات کا طومار باندھا

جب کہ کہ وہ ساری باتیں جھوٹ پر مبنی اور تاریخی حقائق کے خلاف ہیں ۔ کیونکہ کائنات میں سب سے زیادہ حسین وپاکیزہ ذات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے۔ نر سنہا نند جیسے ناپاک لوگ آپ کی شخصیت ہرگز نہیں سمجھ سکتے۔

حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: وأحسن منك لم تر قط عيني وأجمل منك لم تلد النساء خلقت مبرأ من كل عيب كأنك قد خلقت كما تشاء

گفتگو اور مباحثہ کے اصول و ضوابط میں سے ہے کہ وہ ہمیشہ دلیل سے ہونی چاہیے۔ ان کو اتنی بھی سمجھ نہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کی عظمت تمام مذاہب کے لوگ قبول کرتے ہیں۔

ہر “انسائیکلوپیڈیا” میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف میں ہزاروں پیج لکھ ہوئے ہیں۔ کائنات کی زبانوں میں ایک دو نہیں لاکھوں کتابیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر لکھی جا چکی ہیں، اور ہر مصنف ومحرر لکھنے کے بعد یہی کہتا ہوا نظر آیا۔

لايمكن الثناء كما كان حقه
بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر

اس نام نہاد پجاری نے کہا: “مسلمانوں کو اگر اسلام کی اصلیت پتہ چل جائے تو انہیں شرمندگی ہوگی” جبکہ سچائی یہ ہے کہ اگر لوگ اسلامی تعلیمات کی برتری، اہمیت اور پیغمبر اسلام کی شخصیت جان لیں، تو روئے زمین کا کوئی بھی عقلمند شخص اسلام کو قبول کیے بغیر نہیں رہے گا ۔

یہی وجہ ہے کہ یورپ میں جس طرح اہلِیان یورپ کو اسلام سے بدظن کرنے کی ناپاک کوشش کی گئی ، لوگ اسلام سے اورقریب ہوۓ اور اسلامی تعلیمات کو مخلصانہ طریقے سے پڑھا اور اس کے نتیجہ میں مشرف بہ اسلام ہوئے۔

اور آج یورپ امریکا میں اسلام جس قدر تیزی سے پھیل رہا ہے اسے دیکھتے ہوئے وہ لوگ خوف زدہ ہیں کہ اگر یہ رفتار یونہی برقرار رہی تو مسلمان یورپ امریکہ کی سب سے بڑی طاقت اور آبادی کی شکل اختیار کر لیں گے۔

اسی لیے توہین مذہب اور توہین رسالت کے سب سے زیادہ واقعات یورپ میں ہو رہے ہیں؛ لیکن بدقسمتی سے اہانت مذہب کی نجاست اب ہندوستان بھی پہونچ چکی ہے، یہاں کی درسگاہیں اور تعلیمی ادارے بھی محفوظ نہیں رہے۔

ہندوستان سمیت پوری عالمی برادری کی یہ حرماں نصیبی ہے کہ انہوں نے لفظ “آتنک واد “کو ایک خاص مذہب اور خاص کلچر کے لوگوں کے ساتھ مختص کر دیا ہے ۔ اور وہ اس کی آڑ میں نہایت چالاکی سے تمام غیر انسانی افعال انجام دیتے ہیں۔ یہ اسلام دشمنی کا واضح ثبوت ہے ۔

اور کائنات کی سب سے بڑی دہشت گردی یہ ہے کہ کوئی امن و سلامتی کے پیغمبر ﷺ کی شان میں گستاخی کرے یا خاکہ بنائے۔

جس کو امن پسند لوگ اور اور عالم اسلام کسی بھی حال میں برداشت نہیں کریں گے۔ مذہب اسلام کی خوبصورتی میں سے یہ ہے کہ اسلام نے کسی غیر مسلم کو یا ان کے معبودوں کو گالی دینے سے بھی منع فرمایا ہے”وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللہ فَیَسُبُّوا اللّٰهَ عَدْوًۢا بِغَیْرِ عِلْمٍؕ-(الأنعام، 108)۔

اور انہیں گالی نہ دو جن کو وہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں کہ وہ اللہ کی شان میں بے ادبی کریں گے جہالت ونادانی سے۔

یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ جو مذہب دوسروں کو گالی دینے سے منع کرے، وہ کہاں تک دوسروں کو قتل کرنے کی اجازت دے گا! اور عام طور پر ملحدوں کی طرف سے جن آیات کا حوالہ دیا جاتا ہے وہ آیات وہ ہیں جن میں کفار و مشرکین مسلمانوں کے ساتھ برسرِ پیکار تھے مثلا : فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ وَ خُذُوْهُمْ ۔(التوبة، 5)۔

اس کی دلیل بعد والی آیت ہے۔ گویا اسلام نے غیر مسلموں کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے، کچھ وہ لوگ جو اسلام کے دشمن نہیں اور کچھ جو مسلمانوں کے ساتھ بر سرپیکار تھے۔ قرآن مجید میں جہاں جہاں بھی جنگ کا حکم دیا گیا ہے وہ لوگ تھے جو مسلمانوں کے ساتھ برسرے پیکار تھے ۔ ہرمشرک وکافر کو نہیں۔

نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی حرمت و تقدیس مسلمانوں کو ان کی جان سے بھی زیادہ عزیز ہے۔ اس لئے حکومت ہند سے ہم یہ مطالبہ کرتے ہیں، کہ اس واقعے کا فورا نوٹس لے اور اس پجاری کے خلاف تادیبی کارروائی کا آغاز کرے

اسی طرح گستاخی کرنے کو اس بات کا پابند کیا جائے، کہ پوری دنیا کے مسلمانوں کے ساتھ معافی مانگے

علاوہ ازیں ہندوستان کے پارلیمنٹ میں احترام مذہب اور ناموس رسالت کے حوالے سے ایک واضح لائحہ عمل دیا جائے، جس میں کسی مذہب کے بانی کی توہین پر مبنی مواد کی اشاعت کو ناقابل معافی جرم قرار دیا جائے ۔

اور اس قانون کے عملی نفاذ کو یقینی بنا جایا تاکہ آئندہ کبھی کسی ناپاک شخص کو اس طرح جسارت کی ہمت نہ ہو ۔ اور ملک کی امن و سلامتی کو کسی طرح بھی ٹھیس نہ پہنچے اور عالمی سطح پر ہندوستان کی شبیہ مزید خراب نہ ہو۔
موجودہ وقت میں غلامان مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرض بنتا ہے کہ اس ملعون کے خلاف زیادہ سے زیادہ ایف آئی آر درج کریں اور حکمت عملی سے اسے سلاخوں کے پیچھے ڈالیں ، ہرگز اشتعال میں نہ آئیں اور آئندہ اس طرح واقعات کے نہ ہونے کے لیے لائحہ عمل تیار کریں

تحریر: مفیض الدین مصباحی، کشن گنج
استاد جامعہ منعمیہ میتن گھاٹ پٹنہ سیٹی
9471462375

ان مضامین کو بھی پڑھیں

 ہمارے لیے آئیڈیل کون 

 ناموس رسالت ﷺ کا تحفظ لازم ہے

 
 
  •  

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top