چمنستان رضا کا شگفتہ پھول ملک العلماء ظفر الدین بہاری

چمنستان رضا کا شگفتہ پھول ملک العلماء ظفر الدین بہاری

مَلِکُ العلماء علیہ الرحمہ کا 19 جمادی  الاخری 1382هجری یہ  آپ کی تاريخ وصال ہے  تو لیجئے خصوصی تحرير پڑھئیے حضرت مولانا صدر عالم مصباحی کی اور دعاؤں سے نوازیں عنوان ہے چمنستان رضا کا شگفتہ پھول ملک العلماء ظفرالدین بہاری علیہ الرحمہ

ملک العلماء حیات وخدمات

نه تخت وتاج ميں نہ لشکروسپاه ميں ہے        جوبات مرد قلندرکي ايک نگاه ميں ہے

يه روشن وتابناک دَورجسي عقل وخردکا زمانہ کہا جاتا ہے،جہاں اُس نے ذہن وفکرکونئی روشنی اورجديداُجالے دیئے ہیں  ویيں روح کے بعض گوشوں کودبيزتاريکی اورگهنگوراندهيرا بهی ديا۔

اتني گہری تاريکی کہ نئی روشنی کی ذہن ومزاج کے لئے خد اکا وجود مشکوک هوگيا. رسولوں کی بے غبار رسالت پرشکوک وشبہات کی گردغبارڈال دی گئی. اولياء الله کي کرامتيں عهد ماضی کے قصّے قرار ديے گئے. انسانيت کواس تاريک ترين ماحول سے نجات دلانے کے لئے ضروری ہے کہ قدم قدم پر روحانيت کي مشعليں روشن کی جائيں، شمعيں جلائی جائيں اورچراغ راهِ منزل کا اُجالا کيا جائے .تاکہ عهدِ جديد کے مادّی تاريکيوں ميں بهٹکنے والے لوگ اس شمع ہدايت کی رشنی ميں اپنی منزل کا نشان تلاش کرسکیں

ختم نبوت کے بعد سے آج تک علماء ، صلحاء اوراولياء کی مقدس جماعت نے دين متين کی اشاعت کے فرائض انجام ديئے ہيں اوراسی محترم جماعت نے کفرو الحاد اوربدمذہبيت کی تاريک ترين دَورميں اسلام کی روشنی اوردين کا اُجالا پهيلايا ہے۔

سچ پوچهئے توہمارے ملک ہندوستان ميں اولياء الله اوران کی کرامتوں نے اسلام کی سب سے زياده خدمت کی ہے.راجستهان کی خشک پہاڑيوں کی دامن سے لے کربنگال کي مرطوب سرزمين تک جہان کہيں اسلام کوفروغ هوا وه اُنہين اصحابِ کرامت بزرگوں کے طفيل اورصدقے ميں هوا۔

اولياء الله کی کرامتيں دِلوں کے سياه زخم پرچلانے کا ايک تيزنشتراورکفرکا سينہ چاک کرنے کا ايک عظيم خنجرہے.اگرعطائے رسول ﷺ ،حضرت خواجه غريب نوازعليه الرحمة والرضوان کے مبارک نعلين فضا ميں پروازکرنے والے کا تعاقب نہ کرتے توشايد جوگی جے پال جيسا ساحر اِس قدرجلد مسلمان نہ ہوتا.اولياء الله کے کرامتوں نے نہ جانے کتنے گمراہوں کو راهِ حق دکهايا.ہدايتوں سے ہمکنارکيا اورصراط مستقيم کی راه دکهائی اوررہتی دنيا تک دکهاتے ہی رہے گی۔

عهد حاضرکے لائق صد تکريم ذات اورقدم قدم پرعقيدتوں کے پهول نچهاورکئے جانے والے صوبہ بہارکی عظيم شخصيت ہے جامع علوم عقليه ونقليه،ابوالبرکات،جليل القدرمحدث،زبردست مناظر، بلند پايہ محقق،بالغ نظرفقيه،اسلامی دانشور،نکته سنج مفتی ،دقيق رس مصنف،ماهرمدرس،رهنمائے ملت،معمارقوم،مشائخ کے امير و سلطان،شہريارعلم وحکمت،مطلع فکر ونظر،پيکرِاخلاص والفت،سادگی کے مجسمہ،حُسن عمل کے پيکر،پیشوائے طريقت،خليفہٗ  اعلیٰ حضرت،مَلِکُ العلماء حضرت علامه سيد ظفرالدين بہاری قدس سرهٗ العزيزکی۔

جن کی زندگی کا ايک ايک لمحه اورحيات کی ايک ايک ساعت سرمايہ سعادت اوردولتِ افتخارہے.جن کی ساری عمرشريعت کاعلم پهيلاتے اورطريقت کی راه بتلاتے گزری اورجن کی زندگی کا ايک ايک عمل شريعت کے ميزان اورطريقت کی ترازو پرتولاہوا ہے.اس دورميں خود ممدوح کی شخصيت مسلمانانِ ہندوستان کی سرمدی سعادتوں کی ضمانت ہے

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں قدس سره العزيزکی ذات وشخصيت محتاج تعارف نہيں، وه ہرميدان کے شہشوارتهے.ان کی درسگاه فيض سے سرشارہونے والااپنی مثال آپ ہے.امام احمدرضا صرف علوم ومعارف کا درس نہيں ديتے بلکہ باطنی صلاحيت ،روحانی فيض اورمشفقانہ کردارسے متعلم ومخاطب کو مالامال کرديتے تهے.

خد اداد صلاحيتوں اورباريک بينيوں کے ذريعے متلاشی علم کی لياقت وصلاحيت،ذہانت وفطانت،قوت وکيفيت اوراستعداد واشتياق کوبخوبی جانتے تهے.اسی کے مطابق ہرايک کے اندراسی علم کی اکسپرٹ ڈالتے تهے،چنانچه کوئي وقت کا محدث ،کوئی مصنف،کوئی مبلغ،کوئی جيد مدرس،کوئی با کمال خطيب ،کوئی ماہرمناظر،کوئی دين کا سپاہی وپاسبان،توکوئی ماہرعلم هيت وتوقيت وجفروغيره بن کرچمکے،۔

غرضيکہ من جانب الله جوعلم ومعارف آپ کوحاصل تهے اس کی چهينٹيں جس پرپڑی وه نيرتاباں ودرخشاں ستاره بن کراٹهے.آپ ہی کے دربارکے فيض يافتہ وخوشہ چيں،آپ کا ہی روحانی فرزند ملک العلماء، رائس الفضلاء حضرت علامه مفتی سيد ظفرالدين قادری ،برکاتی،رضوی عليه الرحمة والرضوان کی ذات پاک ہے

ولادت باسعادت ،تحصيل علم اوراجازت وخلافت

حضرت ملک العلماء کي ولادت باسعادت ۱۴/محرم الحرام ١٣٠٣ھ 19 /اکتوبر1880ء کوصبح صادق کے وقت ”موضع رسول پور،ميجرا ضلع نالنده ،بہار”ميں ہوئی .والد ماجد ملِک عبدالرزاق اشرفی عليه الرحمہ نے خاندانی طرزکے مطابق چارسال،چارمہينه،چاردن کی عمر(١٣٠٧ه)ميں اپنے مرشد گرامی شاه چاند بيتهوی کے دست مبارک سے آپ کی بسم اللہ خوانی کرائی .ابتدا والد ماجد کی آغوش تربيت ميں رهے پهرقرآن کريم اوراُردو فارسی کی کتابيں حافظ مخدوم اشرف ،مولوی کبيرالدين اورمولوی عبدا لطيف سے پڑهیں.پهراپنے نانہال موضع بين ضلع پٹنہ کے مدرسه غوثيه حنفيه ميں ١٣١٢۔ھ۔ ميں داخلہ ليا جہاں تفسيرجلالين اورميرزاهد تک کا درس ليا.مدرسه غوثيه حنفيه کے اساتذه نے آپ  کی ذہانت وفطانت کوديکهتے ہوئے بہت شفقت کے ساتھ آپ کی تعليم وتربيت کا نظم فرمايا۔

پهراعلیٰ تعليم کے حصول کے لئے کانپوراورپيلی بهيت شريف کا سفرفرمايا اوراخيرميں بارگاه اعلیٰ حضرت بريلی شريف ميں تشريف لائے چونکہ اس وقت کوئی مستقل اداره وہاں نہيں تها چنانچه آپ ہی کی وجہ سے وہاں جامعه منظراسلام کا قيام عمل ميں آيا اوروہيں ره کرآپ نے اعلیٰ حضرت فاضل بريلوی قدس سرهٗ العزيز کی بارگاه سے بخاری شريف،اقليدس کء چھ مقالے،تشريح الافلاک ،تصريح،شرح چغمينی کا درس ليا اورفتویٰ نويسی کے آداب سيکهے، اوراس طرح علم ہيئت،توقيت،جفر،تکسيراوررياضی جيسے نادرفنون ميں غايت درجے کا کمال حاصل کيا۔

اعلیٰ حضرت قدس سره سے سلوک ظاہری اورباطنی منزليں بهی طے کيں.تصوف کی مشهورکتاب رسالہ قشيريہ اورعوارف المعارف کا سبقاً سبقاً درس ليا،ذکربالجہر،پاس انفاس کے باطنی آداب سيکهے۔

بالآخرآپ کی صفائی باطن سے متاثرہوکراعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری قدس سره نے سال فراغ کے آخيرميں آپ کوسلسلہ عاليه قادريه برکاتيه رضويه کی اجازت وخلافت مرحمت فرمادی۔

تدريسی خدمات

 سال فراغ کے فوراً بعد حضرت ملک العلماء نے منظراسلام بريلی شريف ميں تدريس،تصنيف اورافتا نويسی کا سلسله شروع کرديا. پهر1948ء۔ ميں مدرسه اسلاميه شمس الهدیٰ ،پٹنه ميں پرنسپل هوئے اور1950ء۔ ميں ريٹائرہوئے۔

ريٹائرمنٹ کے ڈيڑھ دوسال بعد شاه شاهد حسين درگاهی مياں سجاده نشيں بارگاه عشق ،متين گهاٹ پٹنه کی استدعاء پر١٣٧١ھ۔۔ ميں کٹيہار(بہار)ميں” جامعه لطيفيه بحرالعلوم ”کاافتتاح فرمايا اوراپنی کوششوں سے اُسے کافی فروغ وعروج بخشا۔ جب يہ اداره مستحکم ہوگيا توآپ ربيع الاول شريف ١٣٨٠ھ۔۔  ميں اپنی دولت کدے ”ظفرمنزل”شاه گنج پٹنہ آگئے .

پچپن سال کی طويل تدريسی ايام ميں ہزاروں تلامذه آپ کی سرچشمہ فيض سے سيراب ہوئے اورايک عالم کوفيض ياب کيا.آپ نے اس دوران فتویٰ نويسی ،وعظ وتلقين،تصنيف وتاليف،بيعت وارشاد،مناظره اورقضاء جيسے گونا گوں مشاغل سے رابطہ رکها۔

ان کثيرمصروفيات کی ہجوم ميں صوفيانہ اذکارکے لئے بهی آپ نے اوقات خاص کررکهے تهے.قادرمطلق نے آپ کے اوقات ميں عجب برکتيں دے رکهيں تهيں۔ ليکن اس ذيل ميں آپ کے اوقات کی منضبط تقسيم کا بھی خاصا دخل تها۔

علوم وفنون ميں دسترس

 حضرت ملک العلماء علامه ظفرالدين بهاری علیہ الرحمہ علم وفن کے بيشترشاخوں پردسترس رکهتے تهے خصوصاً علوم اسلاميه ميں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بريلوی قدس سره العزيز کی علمی اورفکری جانشيں تهے۔

علوم قرآن ،تفسير،اصول تفسير،تجويد و قرأت،علوم حديث،حديث،اصول حديث،فقیہی علوم ،فقه، اصول فقه،عقائد وتصوف،بلاغت،عروض،ادب،لغت،نحووصرف،معانی وبيان،فلکياتی علوم ،نجوم،ہيئت ،توقيت،تکسير،جفر،رمل،عقلی علوم منطق،فلفسہ،رياضی،علم عدد،،علم ہندسه،علم الجبرا،علم جبرومقابلہ،علم کيميائی،علم مثلت کروی اورعلم مربع وغيره جيسے علمی شاخوں سے آپ کونہ صرف واقفيت بلکہ ان پرکامل دسترس حاصل تهی۔

اس وسعت علمی پرآپ کی تحريريں بہترين شہادت ہيں جن ميں مذکوره سبھی علوم کی چاندنی پهيلی ہوئی ہے۔ اورايسا کيوں نہ ہودبستاں رضا کی خوشہ چيں جوٹہرے.آپ کی اس علمی لياقت کا اکرامی اعتراف خود آپ کے مربی اورمشفق استاذ اورمرشد،عبقری الشرق اعلیٰ حضرت امام احمدرضاخاں قادری برکاتی بريلوی قدس سره نے فرمايا ہے۔

چنانچه اعلیٰ حضرت انجمن نعمانيه لاهورکو5/شعبان المعظم ١٣٢٨ھ۔ کے ايک مکتوب ميں تحرير فرماتے ہیں۔

۔”مکرمی مولانا مولوی محمد ظفرالدين صاحب قادری سلمه، فقيرکے يہاں کے اعزطلباء سے ہيں اورميری بجان عزيز۔ ابتدائی کتب کے بعد يہيں تحصيل علم کی اوراب کئی سال سے ميرے مدرسہ ميں مدرس اوراس کے علاوه کارافتاء ميں ميرے معين ہيں۔ ميں يہ نہيں کہتا کہ جتنی درخواستيں آئی ہوں ،سب ميں يہ زائد ہيں مگراتنا ضرورکہوں گا۔

۔”سنی ،خالص،مخلص،نہايت صحيح العقيده ،ہادی مہدی ہيں۔عام درسيات ميں بفضلہ تعالیٰ عاجز نہيں ،مفتی ہيں ،مصنف ہيں،واعظ ہيں،مناظره بعونہ تعالیٰ کرسکتے ہيں،علمائے زمانہ ميں علم توقيت سے تنہا آگاه ہيں،فقيرآپ کے مدرسے کواپنی نفس پرايثارکرکے انہيں آپ کے لئے پيش کرتاہے”۔(حيات ملک العلماء ,ص7-8 مطبوعه لاهور-فتاویٰ ملک العلماء،ازمفتی ساحل شہسرامی مصباحی)۔

علم طب ،توقيت ميں مہارت اورتصنيف وتاليف

 حضرت ملک العلماء کوعلم طب ميں غيرمعمولی مہارت حاصل تهی چناچہ جب کبهی علالت ونقاہت ميں مبتلاء ہوئے توبارگاه امام احمدرضا ميں عرض گزار ہوتے۔ پهراعلیٰ حضرت فيض نبی وعطائے نبی سے اس کاعلاج تحريرفرماتے جس ميں کئی کئی نسخے اورادويات کا تذکره ہوتا اورآپ انہيں سارے نسخوں وفرمودات پر عمل کرتے۔

آج پوری دنيا کے مسلمانوں پرآپ کا احسان عظيم ہے کہ اس وقت تک مساجد ومعابد ميں اوقات الصلوٰة (ٹائم ٹيبل) کا فقدان تها ۔ سب سے پہلے آپ نے ہی عطائے الٰہی اورفيض بارگاه امام ااحمدرضا سے نقشه اوقات صوم وصلوٰ ة مرتب فرمايا۔

جوآج ہرمسجد کی زينت ورونق بنے ہوئے ہے۔ اس علم پرکتاب لکهنے اوراس کوعام کرنے ميں آپ کواول مقام حاصل ہے. چونکہ بارگاه اعلیٰ حضرت سے آپ کوسب کچھ عطاہوا اس لئے آپ کی تحريروتصنيف کا بهی ايک گراں قدرسرمايہ وخزانہ موجود ہے . آپ کے سارے تصانيف اخلاص اورعقيدت کے جذبے سے سرشارہوکرمعرض تحريرميں آئيں جن ميں سے چند يہ ہيں۔

۔”صحيح البہاری، توضيح التوقيت، جواهرالبيان، عافيه، وافيه، تذهيب، تقريب،الجواهرواليواقيت فی علم التوقيت،الاکسيرفي علم التکسير،القول الاظهرفی الاٰذان بين يدی المنبر، تنويرالمصباح للقيام عند حی علی الفلاح،نصرت الاصحاب باقسام ايصال الثواب،عيد کا چاند،۔

حيات اعلیٰ حضرت ۴جلديں،چودہويں صدی کے مجدد، مشرقی اورسمت قبلہ،مؤذ ن الاوقات،فتاویٰ ملک العلماء، شرح الشفاء للقاضی عياض، مولود رضوی، مبين الهدیٰ فی نفی امکان مثل المصطفیٰ، تنويرالسراج فی ذکرالمعراج، اعلام الاعلام باحوال العرب قبل الاسلام، خيرالسلوک فی نسب الملوک، جواهرالبيان فی ترجمة خيرات الحسان، المجمل المعدد لتاليف المجدد, النوروالضياء فی سلاسل الاولياء”۔

۔(فتاویٰ ملک العلماء)۔

فقه حنفی کی تائيد وتصوف ميں احاديث مبارکہ کا ايک عظيم ذخيره ”جامع الرضوی معرف به صحيح البهاری” چھ جلدوں ميں جومذہب حنفی اورفقہ حنفی کاعظيم شاہکارہے۔ اوريہ آپ کی سب سے انمول يادگارہے۔

علم فقہ ،جزئيات فقہ اورفتاویٰ پرکمال وقدرت کا اندازه کرنا ہوتو فتاویٰ ملک العلماء پڑھ ليجئے بس آپ کو يقين ہوجائے گا کہ اعلیٰ حضرت امام احمدرضا قدس سرہ کا يہ تربيت يافتہ روحانی فرزند کسی ميدان ميں کسی سے کم نہيں ہے۔

آپ کی کرامت

 آپ سے کرامتوں کا بهی صدورہوا جن ميں سب سے مشہور کرامت يہ ہے کہ مالده بستی کے چندی پورگاؤں ميں ايک جلسہ سے خطاب فرمانے کے لئے تشريف لائے جلسے کی کاروائی حسب معمول چل رہی تهی۔

 جب حضرت ملک العلماء ممبررسول پرتشريف فرما ہوئے تو اچانک بادل گرجنے وبجلی چمکنے لگی لوگوں ميں خوف ودہشت کا ماحول برپا ہوگيا آپ نے کچھ پڑھ کر فرمايا کہ سبهی لوگ پنڈال کے اندر آجائيں۔  آپ کو کوئی نقصان نہ ہوگا چنانچه سارے لوگ پنڈال کے اندر آگئے اوربارش پنڈال کے گرد ونواح ميں ہوتی رہی۔ مگراہل مجلس پرايک قطره بهی نہيں ٹپکا اورسارے لوگ ہمہ تن گوش ہوکرحضرت ملک العلماء کی تقريرسے مستفيض ہوتے رہے۔

علالت اوروصال پرملال

 حضرت ملک العلماء عرصے سے فشارالدم کے مرض ميں مبتلاء تهے جس کی وجہ سے کافی نحيف ہوگئے تھے۔ اس عالم نقاہت ميں بهی آپ کے معمولات شب وروز ميں کوئی فرق نہ آيا۔ رياضتوں کے وہی سلسلے تهے اورعلمی مصروفيات بهی اپني جگہ تهيں۔

بالآخر يکشنبہ کا دن گذارکردوشنبه کی شب ميں١٩/جمادی الاخریٰ ١٣٨٢ھ۔ مطابق ١٨/نومبر1962ء۔ اسم ذت کا ذکربالجہرکرتے ہوئے اس طرح پرسکون اندازميں اپنے محبوب حقيقی کے حضور حاضر ہوگئے کہ حاضرين کوکچھ ديرتک اس بات کا احساس بهی نہ ہوسکا کہ آپ لذت وصال سے شاد کام ہوچکے ہيں ۔

دوسرے دن حضرت شاه محمد ايوب شاهدی رشيدی سجاده نشين خانقاه اسلام پورپٹنه نے ،جن سے حضرت ملک العلماء کوفردوسی ،شطاری وغيره سلاسل کی اجازت حاصل تهی ، آپ کی نماز جنازه پڑهائی اوردرگاه شاه ارزاں کے قبرستان (شاه گنج  پٹنہ)ميں تدفين عمل آئی۔ اور آج آپ کا مزار شاه گنج (پٹنہ)کے قبرستان ميں مر جع خلائق ہے۔(فتاويٰ ملک العلماء)۔

آپ کے تلامذه

 آپ کی درسگاه فيض سے مستفيض ہونے والے حضرت خواجه شاه چراغ عالم لطيفی، حضرت خواجه شاه شمس العالم لطيفی،مولانا مفتی عين الهدیٰ صاحب، مفتی قاضی نورپرويزصاحب، امام علم وفن حضرت خواجه مظفرحسين صاحب پورنوی، امام النحومفتی بلال احمدنوری صاحب، مفتی غلام مجتبی اشرفی صاحب سابق شيخ الحديث منظراسلام بريلی شريف، اورعلامه ضياء جالوی۔کے نام خاص طورپرقابل ذکرہيں۔

آپ کے سچے جانشين آپ ہی کے فرزند ارجمند پروفيسرمختارالدين آرزوؔ تھے  جوعل گڑھ مسلم يونيورسٹی کے شعبہ عربی کے لکچرار اور وائس چانسلرمظهرالحق عربی فارسی يونيورسٹی (پٹنه) تهے۔

مولیٰ تعالیٰ کی بارگاه عالی جاه ميں دعاء گوہوں کہ آپ کا فيضان ہم تمام مسلمانوں پرتا قيامت جاری وساری فرما اوران نفوس قدسيہ کی سچی الفت و محبت عطافرما.آمين بجاه النبی الامين ﷺ

محمد صدرعالم قادری مصباحیؔ

امام روشن مسجد،ميسورروڈ،بنگلور26

Mobile: 09108254080

جنگ آزادی اور حضرت علی خاں کا کردار مکمل مضمون پڑھ کر دوست و احبا ب کو شئیر کریں 

آن لائن خریداری کریں ہمارے ویب سائٹ کے ذریعے امیجون اور فلیپ کارٹ سے

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *