ڈاکٹر محب الحق صاحب قادری

شہزادہ شارح بخاری مولانا ڈاکٹر محب الحق صاحب قادری اس دنیا سے رخصت ہو گئے
 

ڈاکٹر محب الحق صاحب قادری

۔29 جولائی 2020ء،7 ذی الحجہ 1441ھ کو مختصر علالت کے بعد اچانک اس دنیا سے کوچ کر گئے، ڈاکٹر صاحب کے انتقال کے بعد میں ہی نہیں میرا سارا گھر غم زدہ ہوگیا خود ان کے گھر والوں بھائیوں اور مدینۃ العلماء گھوسی کے رہنے والوں پر کیا گزری ہوگی

موصوف صرف ایک نوجوان کم عمر بچے، چند بچیوں اور اہلیہ کو چھوڑ کر اس دنیا سے رخصت ہوئے ہیں، اللہ تعالٰی ان سب کی نگہبانی فرمائے، غم غلط کرے، صبر کی توفیق دے، اجر سے نوازے، 

میں جملہ اہل خانہ بالخصوص مولانا وحید الحق، مولانا ظہیر الحق، مولانا حافظ حمید الحق کی دل کی گہرائیوں سے تعزیت کرتا ہوں، صبر و اجر کے لیے دعا گو ہوں 

موصوف ایک اچھے طبیب اور ڈاکٹر تھے، طبیہ کالج علی گڑھ سے فراغت حاصل کی تھی، بہت ہی خوش اخلاق ملنسار تھے، سیاسی بصیرت بھی رکھتے تھے، پیس پارٹی کے اعلٰی عہدے دار اور بانیوں میں سے بھی تھے،برکاتی ہاسپٹل میں باضابطہ ڈیوٹی دیتے، اس کے علاوہ دارالشفا گھوسی میں بھی بیٹھ کر علاج معالجے میں مصروف رہا کرتے

مرحوم سے میرے تعلقات بہت قدیم، دور طالب علمی ہی سے تھے، حضور شارح بخاری سے بھی میرا بہت قریبی رابطہ تھا اور ڈاکٹر صاحب ان کے بڑے صاحبزادے تھے، گھوسی جانے کے بعد ان سے ملاقات بات گویا لازمی ہوا کرتی، ان کے مطب میں بھی کچھ نہ کچھ وقت ضرور گزرتا

اس گہرے اور قدیم تعلق کی بنا پر بھی ڈاکٹر صاحب کا انتقال میرے لیے بہت زیادہ قابلِ افسوس اور قلق کا باعث ہے، ان کے انتقال کی خبر سنتے ہی میرا پورا گھر ایک دم سے غم زدہ ہو گیا، ایسا لگا کہ جیسے میرے ہی گھر میں کسی کا انتقال ہو گیا ہے

موصوف کو میں نے رمضان شریف میں ایک خط لکھا تھا جو لاک ڈاؤن اور پوسٹ آفس کی بدنظمی کی وجہ سے ارسال بھی نہیں کیا جا سکا، اس خط میں میں نے شارح بخاری کے رسائل کو علاحدہ علاحدہ شائع کرنے اور تقسیم کرنے کی گزارش کی تھی، خدا کرے میری یہ آواز ان کے برادران تک پہنچے اور اس پر عمل ہو تاکہ شارح بخاری علیہ الرحمۃ کا پیغام عام سے عام تر ہو جائے، اور اس کے دور رس نتائج سامنے آئیں

کیوں کہ حضرت شارح بخاری نائب مفتی اعظم بھی تھے اور اپنے وقت کے فقیہ اعظم بھی، اور تحقیق و تصنیف کے میدان میں بھی محققانہ بصیرت کے حامل تھے، میں چاہتا ہوں کہ ایسا نہ ہو کہ شارح بخاری کو بہت جلد بھلا دیا جائے، 

اللہ تعالٰی ڈاکٹر صاحب مرحوم کو غریق رحمت فرمائے، ان کے پسماندگان کو صبر کی توفیق دے اور شارح بخاری کی دینی علمی اور فقہی خدمات کو مقبولیت کا شرف عطا فرمائے آمین،۔ 

سوگوار و غم زدہ :۔

محمد عبدالمبین نعمانی قادری 

دارالعلوم قادریہ، چریاکوٹ

 ضلع مئو یوپی

۔10 ذی الحجہ 1441

ڈاکٹر آصف جلالی اور اصحاب جلال و کمال  کو پڑھنے کے لیے کلک کریں

قسط اول 

قسط دوم 

قسط سوم

آن لائن شاپنگ کے لیے تشریف لائیں 

  1. Amazon
  2. Flipkart
  3. Havells
  4. Bigbasket
  5. TTBazaar
  6. AliExpress

Recent Posts

کیا ہم سچ میں آزاد ہیں

تحریر : وزیر احمد مصباحی (بانکا) کیا ہم سچ میں آزاد ہیں ؟  کیا ہم… Read More

تعزیت نامہ

تعزیت نامہ اتر گئے منزلوں کے چہرے امیر کارواں گیاہے کئی دماغوں کا ایک انساں… Read More

جنگ آزادی میں مسلمانوں کی قربانیاں

۔✍آصف جمیل امجدی  جنگ آزادی میں مسلمانوں کی قربانیاں {موجِ فکر }۔ جنگ آزادی میں مسلمانوں… Read More