کیا نماز جنازہ مکروہ وقت میں ہوسکتی ہے

کیا نماز جنازہ مکروہ وقت میں ہوسکتی ہے

کیا نماز جنازہ مکروہ وقت میں ہوسکتی ہے ؟

سوال کیا فرماتے ہیں کرام کہ مکروہ وقت میں اگر جنازہ آجاے تو نماز جنازہ پڑھنا کیسا ہے اگر فی الفور جواب عنایت فرمادیں تو کرم بالاے کرم ہوگا

ساٸل  مُحَمَّد ذوالفقار اننت ناگ کشمیر

الجواب بعون الملک الوھاب

اوقات مکروہ میں اگر جنازہ آجاے تو بلا کسی کراہت کے نماز جنازہ پڑھنا صحیح و درست ہے ہاں کراہت تب ہے، کہ جنازہ تیار تھا یہاں تک کہ تاخیر کی کہ مکروہ وقت آگیا اس صورت میں نماز جنازہ پڑھنا مکروہ و ممنوع ہے

حدیث شریف میں ہے

عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا عَلِيُّ ثَلَاثٌ لَا تُؤَخِّرْهَا الصَّلَاةُ إِذَا أَتَتْ وَالْجِنَازَةُ إِذَا حَضَرَتْ وَالْأَيِّمُ إِذَا وَجَدْتَ لَهَا كُفُؤًا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے دوایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا اے علی تین چیزوں میں دیر نہ لگاؤ نمازجب اسکا وقت ہو جائے اورجنازہ جب تیارہوجائے اور لڑکی جب اس کا ہم قوم مل جائے
(مشكاة المصابيح باب تعجیل الصلوة الفصل الاول الصفحة 192 مطبوعہ تھانوی دیوبند )

حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی اشرفی علیہ الرحمہ اس حدیث پاک کے تحت تحریر فرماتے ہیں کہ اس حدیث سےمعلوم ہوا کہ اگر وقت مکروہ میں جنازہ آئے تب بھی اس پرنماز پڑھ لیجائے یہی حنفیوں کا مذہب ہے۔ممنوع یہ ہے کہ جنازہ پہلے تیارہومگرنمازوقت مکروہ میں پڑھی جائے، ( مرأة المناجیح شرح مشکوة المصابیح المجلد الاول الصفحة 374 مطبوعہ الکبیر پبلیکیشنز دھلی )۔

فقیہ اسلام علامہ علاٶالدین حصکفی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں  وفي التحفة : الأفضل أن لاتؤخر الجنازة (الدر المختار کتاب الصلوة المجلد الثانی الصفحة 32 مطبوعہ دار الکتاب د )۔ 

خاتم المحققین علامہ سید شاہ ابن عابدین الشامی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں
(قوله: وفي التحفة إلخ) هو كالاستدراك على مفهوم قوله أي تحريما، فإنه إذا كان الأفضل عدم التأخير في الجنازة فلا كراهة أصلاً، وما في التحفة أقره في البحر والنهر والفتح والمعراج لحدیث ثلاث لا یٶخرن منھا الجنازة اذا حضرت
(الدر المختار کتاب الصلوة مطلب یشترط العلم بدخول الوقت المجلد الثانی الصفحة 32 مطبوعہ دار الکتاب دیوبند )

صدر الشریعہ مولانا امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ جنازہ اگر اوقات ممنوعہ میں لایا گیا، تو اسی وقت پڑھیں ، کوئی کراہت نہیں ۔ کراہت اس صورت میں ہے کہ پیشتر سے تیار موجود ہے اور تاخیر کی یہاں تک کہ وقت کراہت آ گیا۔“ (بہار شریعت، المجلد الاول الصفحة 454 ،مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، دھلی )۔ 

عمدة المحققین مفتی حبیب اللہ نعیمی اشرفی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں  اگر زوال کے وقت میں جنازہ آجاۓ تو اسی وقت نماز جنازہ پڑھ لی جاۓ اسمیں کوٸی کراہت نہیں اور وقت زوال گزرنے کا انتظار نہ کیا جاۓ البتہ قبل زوال جنازہ آنے کے باوجود نماز تاخير سے وقت زوال میں پڑھی جاۓ تو یہ مکروہ و ممنوع ہے  (حبیب الفتاوی المجلد الاول الصفحة 617 مطبوعہ السید محمود اشرف دار التحقیق کچھوچھ مقدسہ )۔ 

واللہ تعالی اعلم و صلی اللہ تعالی علی حبیبہ الف الف مرة و الہ و ازواجہ و اھلبتہ و بارک وسلم

کتبــــــــــــــبہ   :    احوج الناس الی شفاعة سید الانس والجان

مُحَمَّد قاسم القادری نعیمی اشرفی چشتی
غفرلہ اللہ القوی

خادم غوثیہ دار الافتا صدیقی مارکیٹ کاشی پور اتراکھنڈ

مٶرخہ 5 جمادی الثانی 1442 ھ

الجواب صحیح والمجیب نجیح

عبدہ محمد عطاء اللہ النعیمی غفرلہ خادم الحدیث والافتاء بجامعۃ النور،جمیعۃ اشاعۃ اھل السنۃ (باکستان) کراتشی

الجواب صحیح والمجیب نجیح فقط
مفتی خبیب القادری مدناپوری
بانی_ غریب نواز اکیڈمی مدناپور شیش گڑھ بہیڑی بریلی شریف یوپی بھارت

و خادم التدریس الجامعۃ الاسلامیہ اہل سنت فیض النبی غریب نواز میاں بازار صفی پور شریف ضلع اناؤ یوپی بھارت

اس کو بھی پڑھیں کیا وتر کی نماز با جماعت مکروہ تحریمی

ہندی مضامین کے لیے کلک کریں

 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top