گمراہ کافرفقہی وکافر کلامی کی نمازجنازہ

گمراہ کافرفقہی وکافر کلامی کی نمازجنازہ

تحریر: طارق انور مصباحی گمراہ کافرفقہی وکافر کلامی کی نمازجنازہ

گمراہ کافرفقہی وکافر کلامی کی نمازجنازہ

مبسملا وحامدا  ومصلیا ومسلما

گزشتہ مضمون ( گمراہ کافر فقہی و کافر کلامی کی اقتدا میں نماز ) میں  مذکورہ بالا تینوں طبقات کی اقتدا میں نماز کی ادائیگی سے متعلق بحث تھی۔ کافر کلامی چوں کہ دائرۂ اسلام سے بالکل خار ج اور غیر مسلم ہے،اس لیے اس کی اقتدا میں نماز کا حکم وہی ہے جو غیر مسلمین یعنی مجوسی ویہود وہنود وغیرہ کی اقتدا میں نماز کا حکم ہے کہ نماز بالکل ادا ہی نہیں ہوگی اور باطل ہوگی۔فرضیت ذمہ سے ساقط ہی نہیں ہوگی۔

نیز اقتدا کرنا اس بات پر دلیل بن جائے گا کہ وہ کافر کلامی کو مومن اعتقادکرتاہے، ورنہ اس کی اقتدا نہیں کرتا اور کافر کلامی کے کفریہ عقائدپر مطلع ہوکراس کو مومن اعتقادکرناکفر کلامی ہے،اس لیے اس مقتدی پر حکم کفر عائد ہوگا۔اپنے دین وایمان کی حفاظت کریں۔

صحیح قول کے مطابق کافر فقہی کی اقتدا میں بھی نماز باطل ہے۔دوسرے قول کے مطابق کافر فقہی اور گمراہ مذکور کی اقتدا میں نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے۔ عوام الناس مکروہ کا لفظ سن کر اس کو ہلکا سمجھنے لگتے ہیں۔دراصل حرام کی طرح اس کا ارتکاب بھی سخت گناہ اورسبب عذاب ہے۔یہ حرام کے قریب ہے۔بسا اوقات اس کوحرام بھی کہا جاتا ہے۔

جس طرح کافر کلامی کو مومن ماننے والا کافر کلامی ہے۔اسی طرح کافر فقہی کومومن کامل الایمان ماننے والاکافرفقہی اور گمراہ کو مومن کامل الایمان ماننے والا گمراہ ہے۔

مذکورہ بالا گمراہ اور کافرفقہی سے متعلق اہل علم اس خلجان کے شکار ہوجاتے ہیں کہ وہ زمرۂ مومنین میں شامل ہیں یا زمرۂ کفار میں؟اگر ان کو مومن یا کافردونوں نہ مانا جائے تو ایمان وکفر کے مابین واسطہ ہوجائے گا؟دوسری جانب یہاں شرعی احکام میں زجروتہدید کے طورپرسختیاں ملحوظ ہیں، اس لیے محض اہل علم کے واسطے چند جملے رقم کیے جاتے ہیں۔

اسلام وکفر کے درمیان کوئی واسطہ نہیں۔مذکورہ گمراہ اور کافر فقہی حکم آخرت میں زمرۂ مومنین میں ہیں،یعنی اپنی ضلالت وکفر فقہی کی سزا پاکر داخل جنت ہوں گے۔

ابتدائی مرحلہ میں شفاعت نبوی اور ابتدائی مرحلہ میں مغفرت خداوندی سے ان کی محرومی کا ثبوت ملتاہے۔ان شاء اللہ تعالیٰ کبھی بعد میں اس پر بحث ہوگی۔

حکم دنیاوی میں ضلالت وکفر فقہی کے سبب ان سے مسلمانوں کے حقوق سلب کرلیے گئے ہیں، یہاں تک کہ مومن کا لقب بھی ان کے لیے مطلقاًاستعمال نہیں ہو گا۔ مومن کا لقب اس کے لیے خاص ہے جو ضلالت وکفر فقہی وکفرکلامی سے منزہ ہو۔

مومن کے حقوق مثلاً ان کو سلام،ان کی عیادت،ان سے حسن سلوک، ان کی نماز جنازہ،ان کے ساتھ نشست وبرخاست،ان کی اقتدا میں نمازودیگر امور ممنوع قراردیئے گئے ہیں، حالاں کہ دیگر مومنین کے لیے ان سب امور کا حکم ہے۔مومن کی نماز جنازہ پڑھنا توفرض کفایہ ہے

لیکن ان دونوں طبقات کے لیے زجر وتہدید کے طورپر وہ فرض کفایہ بھی ممنوعات میں سے ہے۔ایصال ثواب اور دعائے مغفرت بھی ممنوع ہے۔

مذکورہ گمراہ وکافر فقہی کے لیے عام احکام میں شدت ہی ہے۔ مذکورہ گمراہ کے لیے بعض خاص مراحل میں بعض حیثیات کا لحاظ کرکے کچھ تخفیف ہے،جس کے بیان کی ضرورت نہیں۔

احادیث نبویہ میں ان احکام کا بیان ہے۔ ان احادیث طیبہ کو امام احمد رضا قادری نے ”فتاوی الحر مین برجف المین“میں نقل فرمایا ہے۔مذکورہ گمراہ اورکافر فقہی کا حکم اخروی درج ذیل ہے۔ حکم اخروی کے ساتھ ان کے لیے بیان کردہ حکم دنیوی کی شدت ملحوظ خاطر رہے۔

مذکورہ گمراہ اورکافر فقہی کا حکم اخروی

امام احمد رضا قادری نے رسالہ:ازالۃ العارمیں رقم فرمایا:”گرچہ وہ مبتدع جس کی بدعت حدکفر کونہ پہنچی، آخرت میں کفار سے ہلکا رہے گا۔ان کا عذاب ابدی ہے،اوراس کا منقطع،اوربعد موت دنیوی احکام میں بھی خفت ہوگی،مگر اس کے جیتے جی اس کے ساتھ برتاؤ کافرذمی کے برتاؤ سے اشد ہے،اور اس کی وجہ ہر ذی عقل پر روشن۔

کافر ذمی سے ہرگزوہ اندیشہ نہیں،جو اس دشمن دین،مدعی اسلام وخیرخواہی مسلمین سے ہے۔وہ کھلا دشمن ہے اور یہ مار آستین۔اس کی بات کسی جاہل سے جاہل کے دل پر نہ جمے گی کہ سب جانتے ہیں،یہ مردود کافر ہے۔

خدا ورسول کا صریح منکر ہے،اور یہ جب قرآن وحدیث ہی کے حیلے سے بہکائے گا توضرر اسرع واظہر ہے: والعیاذباللہ رب العالمین (فتاویٰ رضویہ:جلد پنجم ص 271-نوری دارالاشاعت بریلی شریف)۔

گمراہ کی نماز جناز ہ کا حکم

عہد حاضر کے روافض ضروریات دین کے انکار کے سبب کافر کلامی ہیں۔عہد ماقبل کے تبرائی روافض جو کسی ضروری دینی کا مفسر انکار نہیں کرتے تھے،وہ کافر فقہی تھے۔شیعوں کا فرقہ تفضیلیہ محض گمراہ ہے،یعنی کافر فقہی یا کا فر کلامی نہیں۔

امام احمد رضا قادری نے ایک ہی فتویٰ میں گمراہ، کافرفقہی وکافر کلامی تینوں کی نماز جنازہ پڑھنے کا حکم بیان فرمادیا ہے۔

مسئلہ: کیافرماتے ہیں علماے دین اس مسئلہ میں کہ اہل شیعہ کی نمازِ جنازہ پڑھنا اہل سنت وجماعت کے لیے جائز ہے یا نہیں؟ اور اگر کسی قومِ سنّت والجماعت نے نماز کسی شیعہ کی جنازہ کی پڑھی تو اس کے لیے شرع میں کیا حکم ہے؟

الجواب:اگر رافضی ضروریاتِ دین کا منکر ہے، مثلاً قرآن کریم میں کُچھ سورتیں یا آیتیں یا کوئی حرف صرف امیرا لمومنین عثمان ذی النورین غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ یا اور صحابہ خواہ کسی شخص کا گھٹایا ہوا مانتا ہے،یا مولیٰ علی کرم اللہ وجہہ الکریم خواہ دیگر ائمہ اطہار کوا نبیاے سابقین علیہم الصّلوٰۃ والتسلیم میں کسی سے افضل جانتاہے۔

اور آج کل یہاں کے رافضی تبرائی عمومًا ایسے ہی ہیں۔ اُن میں شاید ایک شخص بھی ایسا نہ نکلے جو ان عقائدِ کفریہ کا معتقدنہ ہو جب تو وہ کافر مرتدہے،اور اس کے جنازہ کی نماز حرام قطعی وگناہ شدیدہے۔اللہ عزوجل فرماتا ہے

(وَلَا تُصَلِّ عَلٰی اَحَدٍ مِّنْہُم مَّاتَ اَبَدًا وَّلَا تَقُمْ عَلٰی قَبْرِہٖ اِنَّہُمْ کَفَرُوا بِاللّٰہِ وَرَسُولِہٖ وَمَاتُوا وَہُمْ فٰسِقُونَ)

کبھی نماز نہ پڑھ اُن کے کسی مردے پر، نہ اس کی قبر پرکھڑا ہو، انہوں نے اللہ ورسول کے ساتھ کفر کیا اور مرتے دم تک بے حکم رہے۔

اگر ضروریاتِ دین کا منکر نہیں،مگر تبرائی ہے تو جمہور ائمہ وفقہا کے نزدیک اس کا بھی وہی حکم ہے:کما فی الخلاصۃ وفتح القدیر وتنویر الابصار والدرالمختاروالھدایۃ وغیرھا عامۃ الاسفار۔

اور اگر صرف تفضیلیہ ہے تو اُس کے جنازے کی نماز بھی نہ چاہئے۔

متعدد حدیثوں میں بد مذہبوں کی نسبت ارشاد ہوا

ان ماتوا فلا تشہدوھم۔وہ مریں تو ان کے جنازہ پر نہ جائیں۔
ولا تصلوا علیہم۔ان کے جنازے کی نمازنہ پڑھو۔

نماز پڑھنے والوں کو توبہ،استغفار کرنی چاہئے۔

اوراگر صورت پہلی تھی یعنی وہ مُردہ رافضی منکرِ بعض ضروریاتِ دین تھا اور کسی شخص نے با آں کہ اُس کے حال سے مطلع تھا،دانستہ اس کے جنازے کی نماز پڑھی، اُس کے لیے استغفار کی جب تو اُس شخص کو تجدید اسلام اوراپنی عورت سے ازسر نو نکاح کرنا چاہئے۔

(فی الحلیۃ نقلًا عن القرافی واقرہ-الدعاء بالمغفرۃ للکافرکفر لطلبہ تکذیب اللّٰہ تعالٰی فیما اخبربہ) (فتاویٰ رضویہ جلد چہارم:ص53-رضا اکیڈمی ممبئ)۔

توضیح:اس فتویٰ کی آخری عبارت کا مفہوم یہ ہے کہ کافر کلامی کے کفر یہ عقائد سے مطلع ہوکر اور اس کی نماز جنازہ حرام ہی سمجھ کر پڑھا تو بھی بعض روایتوں کے مطابق کفر فقہی کا حکم عائد ہوگا،کیوں کہ کافر کے لیے دعائے مغفرت کا مطلب یہ ہواکہ وہ کلام الٰہی کی تکذیب کا مطالبہ کررہا ہے۔

ارشاد الٰہی ہے کہ وہ شرک وکفر کی مغفرت نہیں فرمائے گا 🙁ان اللّٰہ لا یغفران یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک لمن یشاء : سورہ نساء:آیت 48)۔

کافرکے لیے دعا ے مغفرت سے اس کلام الٰہی کی تکذیب کا مطالبہ ہوجارہاہے، لیکن چوں کہ یہ مطالبہ لزومی طورپر ثابت ہورہا ہے،اس لیے بعض روایتوں کے مطابق کفر فقہی لزومی کا حکم ثابت ہوگا اوراسے تجدید ایمان وتجدیدنکاح کرنا چاہئے۔ (فی الحلیۃ نقلًا عن القرافی واقرہ-الدعاء بالمغفرۃ للکافرکفر لطلبہ تکذیب اللّٰہ تعالٰی فیما اخبربہ)۔

ترجمہ : حلیہ میں قرافی سے نقل کیا اوراسے برقرار رکھا کہ: کافر کے لیے دُعائے مغفرت کفر(کفرفقہی) ہے، کیوں کہ یہ خبر الٰہی کی تکذیب کا مطالبہ ہے۔

جو لوگ محض نمازجنازہ کی صفوں میں کھڑے ہوگئے،اورنہ نماز جنازہ کی نیت کی،نہ ہی دعائے مغفرت کی تو حکم میں تخفیف ہے۔یہ گناہ ضرور ہے،لیکن کسی بھی روایت کے مطابق حکم کفر نہیں، پس توبہ کا حکم ہوگا،لیکن تجدید ایمان وتجدید نکاح کا حکم نہیں ہوگا۔

فرقہ تفضیلیہ کی نماز جنازہ کا حکم

منقولہ بالا فتویٰ میں فرقہ تفضیلیہ کی نما ز جنازہ سے بھی ممانعت کا حکم بیان کیا گیا اور اگر کسی نے پڑھ لی تو اس کے لیے توبہ واستغفار کا حکم دیا گیا۔فرقہ تفضیلیہ محض گمراہ ہے، کافرفقہی وکافر کلامی نہیں۔فرقہ تفضیلیہ اہل سنت وجماعت کے اجماعی عقیدہ کا مخالف ہے۔ تفضیل شیخین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہما اہل سنت وجماعت کا اجماعی عقیدہ ہے۔

واضح رہے کہ مسئلہ تفضیل شیخین رضی اللہ تعالیٰ عنہما شعار اہل سنت میں سے ہے،لیکن یہ ضروریات اہل سنت میں سے نہیں۔اگریہ ضروریات اہل سنت میں سے ہوتا تو تفضیلیہ اس کے انکار کے سبب کافر فقہی قرار پاتے۔فقہائے احناف اور ان کے مؤیدین ضروریات اہل سنت کے منکر کو کافر کہتے ہیں یعنی کافر فقہی۔شعار اہل سنت وضروریات اہل سنت میں فرق ہے۔

چوں کہ فر قہ تفضیلیہ کافر نہیں ہے،اس لیے تفضیلی کی نماز جنازہ پرمنقوشہ بالاآیت قرآنیہ(ولا تصل علیٰ احدمنہم) کاحکم منطبق نہیں ہوگا۔اس کی نماز جنازہ پڑھناحرام قطعی نہیں ہو گا،بلکہ مذکورہ حدیث نبوی کا حکم نافذ ہوگا۔چوں کہ وہ حدیث خبر واحد اور ظنی ہے،اس لیے تفضیلیہ کی نماز جنازہ پڑھنامکروہ تحریمی ہوگا۔اسی مکروہ تحریمی کو کبھی حرام کہہ دیا جاتا ہے۔

متکلمین کے یہاں کافر فقہی گمراہ ہے،اس لیے اس کی نماز جنازہ اور اس کی اقتدا میں نمازکا حکم وہی ہوگا جو حدیث میں بیان ہوا، یعنی اس کی نماز جنازہ پڑھنی مکروہ تحریمی ہوگی، اور اس کی اقتدا میں نماز مکروہ تحریمی ہوگی۔ اس کو حرام بھی کہا جاتا ہے،لیکن یہ حرام قطعی نہیں۔

کافر فقہی فقہا کے یہاں کافر ہے،اس لیے ان کے یہاں کافر کلامی کی نماز جنازہ پڑھنی حرام قطعی ہے تو وہی حکم کافر فقہی کے لیے بھی مانتے ہیں۔اسی طرح جب کافر کلامی کی اقتدا میں نماز باطل ہے تو فقہا کافر فقہی کی اقتدا میں بھی نماز کوباطل کہتے ہیں۔

فقہا کی دلیل گزشتہ مضمون میں ہے۔تفصیل یہ کہ گرچہ کافرفقہی متکلمین کے اعتبارسے کافرنہیں،یعنی اسلام سے بالکلیہ خارج نہیں تو اس اعتبارسے اس کی اقتدا میں نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوگی اور فرضیت ذمہ سے ساقط ہوجائے گی،لیکن جب فقہا اسے کافر کہتے ہیں تو ان کے اصول کے اعتبارسے کافر فقہی کی اقتدا میں نماز باطل ہوگی،اور نمازجب بعض اعتبارسے باطل اوربعض اعتبارسے غیر باطل ہوتو اس کے بطلان کا حکم ہوگا۔
فان الصلاۃ اذا صحت من وجوہ وفسدت من وجہ حکم بفسادہا

باب عملیات میں فقہا کے قول پر عمل ہوگا اور باب اعتقادیات میں متکلمین کے قول پر،یعنی فقہا کے قول کے مطابق کافر فقہی کے پیچھے نماز باطل سمجھی جائے گی اورمتکلمین کے قول کے مطابق کافرفقہی کے لیے آخرت کا عذاب منقطع اور غیر دائمی مانا جائے گا۔

فقہابھی کافر فقہی کو کافر کلامی سے ایک درجہ نیچے قرار دیتے ہیں،اسی لیے کفر فقہی میں نکاح کے بطلان اوراعمال سابقہ کے بطلان کا حکم نہیں دیتے،جبکہ یہی فقہا کفر کلامی میں نکاح کے بالکل بطلان اور اعمال سابقہ کے بطلان کا حکم دیتے ہیں، حتی کہ پہلے حج کرچکا ہو تو کفر کلامی سے تائب ہونے پر دوبارہ حج کرنا ہوگا اور کافر کلامی کا یہی حکم متکلمین بیان کرتے ہیں،پس کافرکلامی کا حکم متفق علیہ ہے اورفقہا کافر فقہی کو خود بھی اس منزل کا کافرنہیں مانتے۔

واضح رہے کہ متکلمین نہ باب عملیات کے احکام بیان کرتے ہیں،نہ ہی فقہا کے بیان کردہ احکام پر عمل سے منع کرتے ہیں،بلکہ وہ خود بھی باب عملیات میں فقہائے کرام کے احکام پر عمل کرتے ہیں۔ علم کلام میں ضمنی طور پر بعض عملی احکام کا بیان ہوتا ہے،اصالۃً نہیں۔

کافرفقہی کی نماز جناز ہ کا حکم

کافر کلامی کی نماز جنازہ اس کوکافر سمجھ کر پڑھا تو حرام قطعی ہے۔اگر کافرکلامی کے کفر سے مطلع ہوکراوراس کو مومن سمجھ کر اس کی نماز جنازہ پڑھا تو کفرکلامی ہے۔اس کومومن سمجھنا ہی کفرکلامی ہے،خواہ نماز جنازہ پڑھے یا نہ پڑھے۔

فقہا کے یہاں کافر فقہی کی نماز جنازہ کافرفقہی سمجھ کرپڑھنا حرام ہے۔ اگر کافرفقہی کو مومن کامل سمجھ کر اس کی نماز جنازہ پڑھا تو کفر فقہی ہے۔اس کومومن سمجھنا ہی کفر فقہی ہے، خواہ نماز جنازہ پڑھے یا نہ پڑھے۔

جہاں کفر کلامی یا کفر فقہی کا حکم ہوگا،وہاں توبہ،تجدید ایمان وتجدید نکاح کا حکم ہوگا۔

امام احمد رضا قادری نے غیر مقلد کافر فقہی کی نما ز جنازہ پڑھنے کا حکم بیان فرمایا۔

مسئلہ : کیا فرماتے ہیں علماے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص عالم غیر مقلد عقائد وعملیات،جوکہ اس دارفانی سے عالم جاودانی کو رحلت کرجائے،اور اس کی نماز جنازہ ایک غیر مقلد پڑھائے،اور اس غیر مقلد کے پیچھے ایک عالم حنفی المذہب نے غیر مقلد متوفی کے عمل کو اچھا اور غیر مقلد کے اقتدا کو جائز سمجھ کر نماز جنازہ پڑھی، حالاں کہ وہ عالم حنفی المذہب قبل ازیں لوگوں کو عقائد غیرملقدین سے منع کرتارہا ہو۔

پس اس حالت میں جب کہ عالم حنفی المذہب نے غیر مقلد کی نماز جنازہ غیر مقلد امام کے پیچھے جائز تصور کرکے اداکی ہو تو اس پر ازروئے شرع محمدی کیا تعزیر ہوتی ہے اور کیا بلا توبہ واستغفار ایسے عالم حنفی کی اقتدا جائزہے؟

عالم غیر مقلدین متوفی وامام غیر مقلد ائمہ ار بعہ مجتہدین کے مسائل استنباط واجتہاد یہ کو خلاف حدیث سمجھتااور اکثران کے برعکس فتوے دیتا اور عمل کرتاہو مثلا

۔(۱)نمازتراویح بیس رکعات سے کم ہر گز کسی امام کے نزدیک نہیں،وہ آٹھ رکعت کاحکم دیتااور عمل کرتا

۔ (۲) مسئلہ طلاق ثلاثہ جوکہ فی کلمۃ واحدۃ اور جلسہ واحدۃ کے کہی گئی ہو

اس طلاق ثلاثۃ کوحکم رجعی طلاق کادے کر بدون نکاح شوہر ثانی اس کے ساتھ نکاح کرادیتاہو، اور طلاق بالخلع کی عدت ایک حیض آنے کے بعد نکاح کرادیتا ہو، اور تقلید شخصی سے بالکل انکار کرتاہو،علاوہ ازیں آمین بالجہر کہنا،امام کے پیچھے الحمدکا پڑھنا،ہاتھ سینہ پر باندھنا،سورہ فاتحہ میں ض کی جگہ ظ پڑھنا وغیرہ وغیرہ جائز سمجھتاہو۔

الجواب : سائل نے جو فہرست گنائی، وہ غیر مقلد کے بعض فرعی مسائل باطلہ واعمال فاسدہ کی ہے۔ ان کے عقائد اورہیں جن میں بکثرت کفریات ہیں۔ ان میں سے بعض کی تفصیل رسالہ:الکوکبۃ الشہابیہ میں ہے،جس میں ستروجہ سے ان پر اور ان کے پیشوا پر بحکم فقہاے کرام لزوم کفر ثابت کیا ہے۔

کسی جاہل صحبت نایافتہ کی نسبت احتمال ہوسکتاہے کہ وہ ان کے عقائد ملعونہ سے آگاہ نہیں۔ظاہر ی صورت مسلمان دیکھ کر اقتداکرلی اور نماز جنازہ پڑھ لی، مگر جسے عالم ہونے کا دعویٰ ہو، اور ان کے عقائد پر مطلع ہو،لوگوں کو ان سے منع کرتا ہو،اور خود انھیں اچھا جان کر ان کے جنازہ کی نماز پڑھے،اور ان کی اقتدا کرے تو ضرور اس کے عقیدے میں فساد اور اس کے ایمان میں خلل آیا اور وہ بھی”منہم“ شمارکیا جائے گا۔

قال اللّٰہ تعالٰی:وَمَن یَّتَوَلَّہُم مِّنکُم فَاِنَّہٗ مِنْہُمْ

اب اس شخص کے پیچھے نماز ہر گز جائز نہیں اور اس پر توبہ و تجدید اسلام لازم ہے، اور اگر عورت رکھتاہے تو بعد توبہ وتجدید اسلام،تجدید نکاح کرے۔ (فتاویٰ رضویہ:جلد ششم:ص 121-رضا اکیڈمی ممبئ)۔

توضیح:شخص مذکور نے غیر مقلد کے برے عقائد سے آشنا ہونے کے باوجود اس کی تحسین کی،جس سے اس کے عقائد واعمال کی تحسین لازم آئی۔چوں کہ غیر مقلدین کے عقائدمیں بہت سے کفریات فقہیہ ہیں۔جس طرح کفرکلامی کی تحسین کفرکلامی ہے،اسی طرح کفر فقہی کی تحسین بھی کفر فقہی ہے،اسی لیے توبہ،تجدید ایمان وتجدید نکاح کاحکم دیا گیا۔

قال ابن نجیم المصری الحنفی:(وَمَن حَسَّنَ کَلَامَ اَھلِ الاَھوَاءِ اَو قَالَ مَعنَوِیٌّ اَو کَلَامٌ لَہٗ مَعنًی صَحِیحٌ-اِن کَانَ ذٰلِکَ کُفرًا مِنَ القَاءِلِ کَفَرَ المُحَسِّنُ)(البحرالرائق جلدپنجم:ص 209-مکتبہ شاملہ)۔

کافرکلامی کی نماز جناز ہ کا حکم

کافر کلامی کی نما جنازہ کافر کلامی سمجھ کرپڑھناحرام قطعی ہے،بعض روایتوں کے مطابق کفر فقہی ہے۔گمراہ کے حکم کے بیان میں اس کی تشریح مرقوم ہوئی۔ اگراس کے کفری عقائد پر مطلع ہوکر اوراس کومومن سمجھ کراس کی نمازجنازہ پڑھا تو کافر کلامی ہے۔دراصل اس کے کفری عقائد پر مطلع ہوکراس کو مومن سمجھنا ہی کفر کلامی ہے۔نما ز جنازہ پڑھے،یا نہ پڑھے۔

فتاویٰ رضویہ میں کافرکلامی کی نماز جنازہ پڑھنے کو کہیں کفر اور کہیں حرام لکھا گیا ہے۔
مذکورہ بالاتفصیل کے مطابق اس کو سمجھ لیں،یعنی حرام سمجھ کرپڑھاتوحرمت کے ساتھ کفر فقہی ہے۔کفریہ عقائد سے مطلع ہوکراسے مومن سمجھ کرنمازجنازہ پڑھا توکفرکلامی ہے۔

امام احمد رضا قادری نے مرتددیوبندیوں سے متعلق رقم فرمایا:”اس پر نماز جنازہ حرام، بلکہ کفر۔ا س کا جنازہ اپنے کندھوں پر اٹھانا حرام،اس کے جنازہ کی مشایعت حرام، اسے مسلمانوں کے مقابر میں دفن کرنا حرام،اس کی قبر پر کھڑاہونا حرام،اس کے لیے دعائے مغفرت یا ایصال ثواب حرام،بلکہ کفر“۔(فتاویٰ رضویہ جلد ششم:ص 108-رضا اکیڈمی)۔

مسئلہ:کیا فرماتے ہیں علمائے دین مندرجہ ذیل صُورت میں ایک شخص جو شیعہ اثنا عشری مذہب رکھتا ہے اور کلمہ لا الٰہ الااللہ محمدرسول اللہ، علی خلیفۃ بلا فصل وغیرہ اعتقاداتِ مذہبِ شیعہ کا معتقد ہے،فوت ہوا ہے

اُس کا جنازہ ہمارے امام حنفی المذہب جامع مسجد نے پڑھایا اوراس کو غسل دیا، نیز اس کے ختم میں شامل ہوا، شیعہ جماعت نے امام مذکور کے نمازِ جنازہ پڑھانے کے بعد دوبارہ شیعہ امام سے متوفی مذکور کی نماز جنازہ پڑھائی۔

کیا امام مذکور حنفی المذہب کا یہ فعل ائمہ احناف کے نزدیک جائز ہے۔ اگر ناجائز ہے تو کیا امام صاحب مذکور کا یہ فعل شرعًا قابلِ تعزیر ہے،اور کیا تعزیر ہونی چاہئے؟

الجواب:صورتِ مذکورہ میں وُہ امام سخت اشد کبیرہ گناہ کا مرتکب ہوا۔ اُس نے حکم قرآ نِ عظیم کا خلاف کیا:قال اللہ تعالیٰ: وَلَا تُصَلِّ عَلٰی اَحَدٍ مِّنْہُم مَّاتَ اَبَدًا

تعزیر یہاں کون دے سکتا ہے، اس کی سزا حاکمِ اسلام کی رائے پر ہے۔وہ چاہتا تو پچھتر کوڑے لگاتا اور چاہتاتو قتل کرسکتا تھا کہ اُس نے مذہب کی توہین کی۔ اُس کے پیچھے نماز جائز نہیں اور اسے امامت سے معزول کرنا واجب۔

تبیین الحقائق وغیرہ میں ہے
(لان فی تقدیمہ للامامۃ تعظیمہ وقد وجب علیھم اھانۃ شرعا)
فتاوٰی حجہ و غنیہ میں ہے:(لوقد موا فاسقا یاثمون)۔
یہ سب اس صورت میں ہے کہ اس نے کسی دنیوی طمع سے ایسا کیا ہو۔

اگر دینی طور پر اسے کارِ ثواب اور رافضی تبرائی کو مستحق غسل ونماز جان کر یہ حرکاتِ مردودہ کیں تو وہ مسلمان ہی نہ رہا۔ اگر عورت رکھتا ہو، اس کے نکاح سے نکل گئی کہ آج کل رافضی تبرائی عمومًا مرتدین ہیں : کما حققناہ فی ردالرفضہ۔
اوربحکم فقہاے کرام تو نفسِ تبرا کفر ہے:کما فی الخلاصۃ وفتح القدیر وغیرہا کتب کثیرۃ۔

اور کافر کے لیے دعائے مغفرت ہی کفر ہے،نہ کہ نمازِ جنازہ: کما فی الاعلام وغیرہ وبیناہ فی فتاوٰنا:واللہ تعالیٰ اعلم۔(فتاویٰ رضویہ جلد چہارم:ص57-رضا اکیڈمی ممبئ)۔

توضیح : منقولہ بالا فتویٰ میں پہلی صورت یہ ہے کہ دنیوی لالچ کے سبب نماز جنازہ پڑھا، یعنی اس رافضی کو مومن نہیں سمجھا،بلکہ کافر ہی سمجھ کر پڑھا تو یہ حرام ہے۔

دوسری صورت یہ ہے کہ اس رافضی کومستحق نماز یعنی مومن سمجھ کر اس کی نماز جنازہ پڑھا تو چوں کہ عصر حاضر کے روافض کافرکلامی ہیں اور کافر کلامی کے کفر سے آگاہ ہوکر اس کومومن سمجھنا کفر کلامی ہے تو اس دوسری صورت میں اس کی بیوی بائنہ ہوگئی اور اس کے نکاح سے بالکل نکل گئی۔

یہ حکم کفر کلامی کاہے۔کفر فقہی میں بیوی نکاح سے نکلتی نہیں ہے،بلکہ نکاح میں نقص آجاتا ہے۔یہاں نکاح سے نکلنے کی بات کہی گئی ہے،پس یہ کفر کلامی ہے،یعنی کافر کلامی کو مومن اور نماز جنازہ کا مستحق سمجھ کر اس کی نما ز جنازہ پڑھنا کفر کلامی ہے۔

تحریر: طارق انور مصباحی

مدیر: ماہنامہ پیغام شریعت ،دہلی
اعزازی مدیرافکار رضا

ان مضامین کو بھی پڑھیں 

اشخاص اربعہ کی تکفیر اور مذبذبین

 فرقہ بجنوریہ کی سازشیں

مسئلہ تکفیر کس کے لیے تحقیقی ہے

ہندی مضامین کے لیے کلک کریں

گمراہ کافر فقہی و کافر کلامی کی اقتدا میں نماز

 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top