ہمیں فالو کریں

ہندوستان میں سلسلہ رفاعیہ کی آمد

از قلم سید حسام الدین ابن سید جمال الدین رفاعی ہندوستان میں  سلسلہ رفاعیہ کی آمد حضرت سیدی سلطان شاہ نجیب الدین عبدالرحیم محبوب اللہ رفاعی رضی اللہ عنہ

ہندوستان میں  سلسلہ رفاعیہ کی آمد

     یہ بات متحقق ہے کہ بانی سلسلہ رفاعیہ سیدنا شیخ احمد کبیر رفاعی  علیہ الرحمتہ والرضوان کے وصال کے ١٧۴ سال بعد آپ کی اولاد میں سے حضرت سلطان سید شاہ نجیب الدین عبدالرحیم محبوب اللہ رفاعی نے اہل ہند کو اس سلسلہ سے متعارف کرایا

اگرچہ ہندوستان میں سلسلہ رفاعیہ کا قیام اور بنیاد حضرت امیر روم سلطان محمد المعروف بابا حاجی رجب رفاعی (مرید اور خلیفہ حضرت سید احمد کبیر رفاعی) نے ٦١٦ھ/١٢١٩ء میں پٹن (گجرات) میں راجہ جے سنگھ سدھراج کے عہد میں رکھی اگرچہ ان کے عہد مبارک میں یہ سلسلہ ہندوستان میں بہت زیادہ شہرت نہ پا سکا۔ لیکن اولیت کا شرف انہیں حاصل ہے۔ 

     آپ حضرت سید عمر جیش اللہ رفاعی رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ہے۔ آپ کا شجرہ نسب پدری ۵ واسطوں سے بانی سلسلہ رفاعیہ سلطان الاولیاء سراج الاتقیاءسید احمد کبیر رفاعی رضی اللہ عنہ  تک پہنچتا ہے۔ 

     آپ کا سلسلہ شجرہ نسب 

۔(١) حضرت سلطان سید شاہ نجیب الدین عبدالرحیم محبوب اللہ رفاعی ابن (٢) حضرت سید عمر جیش اللہ رفاعی ابن (٣) حضرت سید رضی الدین ابراہیم کنز معرفت اللہ رفاعی ابن (۴) حضرت سید محمد معدن اسراراللہ رفاعی ابن (۵) حضرت سید احمد کبیر رفاعی ولد (٦) سید نورالدین البوالحسن علی الہاشمی المکی ابن

۔ (٧) سید یحییٰ ابن (٨) سید ثابت ابن (٩) سید حازم ابن (١٠) سید علی مشتاق اللہ ابن (١١) سید ابی المکارم الحسن المعروف رفاعہ الہاشمی المکی ابن (١٢) سید مہدی ابن (١٣) سید محمد ابی القاسم ابن (١۴) سید حسین ابن (١۵) سید احمد ابن (١٦) سید موسی الثانی ابن (١٧) الامام سید ابراہیم مرتضی ابن (١٩) امام موسی کاظم ابن (٢٠) الامام جعفر صادق ابن (٢١) امام سید محمد باقر ابن (٢٢) امام زین العابدین ابن (٢٣) امام امیر المومنین سید الشہداء امام حسین شہید کربلا ابن (٢۴) اسد اللہ الغالب امیر المومنین سیدنا علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہم اجمعین۔ 

آپ کا سلسلہ شجرہ طریقہ

آپ کا سلسلہ شجرہ طریقت صاحب سلسلہ حضرت سید احمد کبیر رفاعی رضی اللہ عنہ تک (۵) واسطوں سے پہنچتا ہے  جو حسب ذیل ہیں 

۔(١) حضرت سید سلطان شاہ نجیب الدین عبدالرحیم محبوب اللہ الحسنی الحسینی الموسوی الشافعی الرفاعی رحمتہ اللہ علیہ نے اس طریقے کی نعمت کو تمام سلسلوں سے اپنے والد ماجد (٢)حضرت الشیخ السید عمر جیش اللہ الحسنی الحسینی الموسوی الشافعی الرفاعی رحمتہ اللہ علیہ سے

اور آپ نے اپنے والد (٣) حضرت الشیخ السید رضی الدین ابراہیم کنز معرفت اللہ الحسنی الحسینی الموسوی الشافعی الرفاعی رحمتہ اللہ علیہ سے اور آپ نے اپنے والد (۴) حضرت الشیخ غوث الافاق شمس العراق السید محمد معدن اسراراللہ الحسنی الحسینی الموسوی الشافعی الرفاعی رحمتہ اللہ علیہ سے اور آپ نے اپنے والد ماجد (۵) حضرت الشیخ غوث الثقلین ابوالعلمین سلطان العارفین محی الحق و الشرع والدین سید احمد کبیر معشوق اللہ الحسنی الحسینی الموسوی الشافعی الرفاعی قدس اللہ سرہ العزیز سے حاصل کیا

اور آپ نے (٦) حضرت الشیخ عارف بااللہ علاوالدین علی القاری الواسطی رضی اللہ سے اور آپ نے (٧) حضرت الشیخ عارف بااللہ ابی الفضل محمد بن کامخ رضی اللہ سے اور آپ نے (٨) حضرت الشیخ عارف بااللہ علام بن ترکان رضی اللہ سے اور آپ نے (٩) حضرت الشیخ عارف بااللہ علی بازیاری رضی اللہ سے اور آپ نے (١٠) حضرت الشیخ عارف بااللہ علی العجمی رضی اللہ سے اور آپ نے (١١) حضرت الشیخ عارف بااللہ ابو بکر محمد الشبلی رضی اللہ سے اور آپ نے (١٢) حضرت الشیخ عارف بااللہ سید الطائفہ ابی القاسم جنید بن محمد البغدادی رضی اللہ سے

اور آپ نے اپنے ماموں (١٣) حضرت الشیخ عارف بااللہ ابی عبداللہ سری سقطی رضی اللہ سے اور آپ نے (١۴) حضرت الشیخ عارف بااللہ ابی المحفوظ معروف الکرخی رضی اللہ سے اور آپ نے (١۵) حضرت الشیخ عارف بااللہ ابی سلیمان داود طائی رضی اللہ سے اور آپ نے (١٦) حضرت الشیخ ابو محمد حبیب العجمی رضی اللہ عنہ سے

اور آپ نے (١٧) حضرت الشیخ الجلیل ابی سعید سیدنا الحسن البصری رضی اللہ عنہ سے اور آپ نے (١٨) امیرالمومنین امام المشارق والمغارب ابی الحسنین سیدنا علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہ سے آپ نے اپنے ابن عم (١٩) سلطان الانبیاء والمرسلین حبیب رب العلمین سیدنا و نبینا و شفیعنا و مولانا و مولی الثقلین حضرت ابی القاسم سیدنا محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم سے اور آپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے (٢٠) روح الامین سیدنا جبیرئیل علیہ السلام سے اور آپ نے (٢١) اللہ تعالی جل جلالہ سے حاصل کیا۔۔۔

      آپ سیدی امام موسی کاظم رضی اللہ عنہ کے شجرطاہر کی سترھویں شاخ سرسبز اور ارض ہند پر قدم رنجہ فرمانے والے خانوادہ رفاعیہ کے پہلے بزرگ ہیں۔ اگر چہ آپ سے قبل حضرت امیر روم سلطان محمد المعروف بابا حاجی رجب رفاعی رضی اللہ عنہ نہردار پٹن گجرات میں تشریف لا چکے تھے۔ لیکن اولاد سلطان سید احمد کبیر رفاعی رضی اللہ عنہ سے نہ تھے، بحیثیت اولاد  آپ سب سے پہلے ہندوستان تشریف لاے۔ اور آپ نے اس ملک کو اپنا وطن ثانی اور خطہ مالوف بنالیا اور گجرات کو سکونت اور اشاعت دین کے لیے پسند فرمایا۔

      حضرت سیدی سلطان شاہ نجیب الدین عبدالرحیم محبوب اللہ رفاعی رضی اللہ عنہ مقام حویزہ میں ١٢٩٠ء/ ٦٨٩ھ میں رونق افروز عالم ہوے۔ کم سنی ہی سے اسلاف کے اخلاق عالیہ و اوصاف طاہرہ کی جیتی جاگتی سچی تصویر تھے

سن شعور کو پہنچے تو اپنے والد ماجد حضرت سیدی عمر جیش اللہ رفاعی رضی اللہ عنہ سے باطنی تربیت، تلقین و تفہیم پاکر ان کے سب سے چہیتے و لائق فرزند ثابت ہوے۔ پھر قاعدہے کے مطابق مکتب کی تعلیم حویزہ کے قابل و جید علماسے حاصل فرمائی، جب تمام معاملات دینی میں کامل استعداد پیدا کرلی تو اس کی تکمیل کی سند کے طور پر آپ کے والدمحترم نے مشائخین کی موجودگی میں آپ کو خرقہ خلافت و لباس فقر و نیابت  پہناکر خانوادہ عالیہ رفاعیہ کے منصب رشد و ہدایت پر فائز فرمادیا۔ 

ہندوستان جانے کا حکم اور سلسلہ رفاعیہ  کی ترویج کا آغاز

آپ کی ذات قدسی صفات کی ایک امتیازی شان یہ ہے کہ حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تصدیق و تقدیس کے لیے خود اپنے دست مبارک سے انھیں خرقہ فقر پہنایا اور ہدایت فرمائی کہ ہندوستان کی طرف ہجرت کرجائیں

آپ نے امتثال امر و تعمیل ارشاد رسول محتشم و مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ارضِ ہند کا رخ فرمایا اور ١٣۵١ء/ ٧۵٢ھ نہروالہ پٹن گجرات کو اپنے قدوم میمنت لزوم سے برکت دی۔ اس وقت سلطنت دہلی پر سلطان فیروز شاہ تغلق اپنے تایا زاد بھائی محمد تغلق کی جگہ تخت نشین تھا۔ کچھ عرصہ بعد فیروز شاہ تغلق ١٣٨٧ء/ ٧٨٩ ھ میں اپنے بیٹے محمد شاہ تغلق کو ناصرالدین کا خطاب دیکر تخت دہلی سے دست بردار ہو گیا، اور گوشہ نشینی اختیار کرلی۔ 

     آپ کے ورود ہند پر صاحب روضتہ الانساب یوں رقمطراز ہیں 

 “خرج الشیخ الشریف السید عبد الرحیم بن السید عمر جیش اللہ الرفاعی من حویزہ الی مکتہ المشرفتہ وکان سنہ اثنی و خمسین و سبعماتہ ثم سافرالی الہند و ساح کثیراً من البلاد و سکن البلادوسکن بہ بلدا پیران پٹن ثم توطن فی آخر عمرہ باحمدآباد الی ان تونی (شجرة الاحمدیہ رفاعیہ، ص: ١۵٣

سید عبدالرحیم بن سید عمر جیش اللہ رفاعی سن 752 ھ میں حویزہ سے نکل کر مکہ مکرمہ حاضر ہوئے، پھر ہندوستان کا سفر کیا اور بہت سارے علاقوں کا دورہ کیا، اور سکونت اختیار کی، شہر پاک پیران پٹن میں رہائش پذیر ہوئے، آخری عمر میں احمد آباد کو اپنا وطن بنایا اور وہیں وفات پائی. 

     علی شیر قانع کا بیان ہے ” سید عبدالرحیم از نژاد سید احمد کبیر رفاعی است، سلطان پورہ بیروب دروازہ، دروازہ راے پورہ آباد کردہ الیشان است”  (تحفتہ الکرام جلد اول ،ص: ۴١)۔

سید عبد الرحیم سید احمد کبیر رفاعی قدس سرہ کی اولاد میں سے ہیں 

     ہندوستان میں آپ کی تشریف آوری کی وجہ بجز اس کے اور کیا ہو سکتی تھی کہ اشاعت دین متین و فیض رسانی خلق کے منشاےایزدی کی تکمیل ہو اور تعلیمات سیدنا احمد کبیر رفاعی رضی اللہ عنہ عام ہوں تاکہ اس کی برکت سے قلوب منور وروح پاکیزگی حاصل کریں ۔

     سلطان سید شاہ نجیب الدین عبدالرحیم محبوب اللہ رفاعی رضی اللہ عنہ کے ورود ہند کے بارے میں شجرة الاحمدیہ رفاعیہ میں یہ عبارت ملتی ہے: ۔ ” السید نجیب الدین عبدالرحیم محبوب اللہ ایضاً اسمہ ابراہیم موافق لاسم جدہ وھواول من دخل الہند من ہولاء السادة واصلہ من عراق“(شجرة الاحمدیہ رفاعیہ، ص: ١٢)۔

سید نجیب الدین عبدالرحیم محبوب اللہ رفاعی آپ کا نام ابراہیم آپ کے جد امجد کے نام کے موافق ہے، ان سادات میں آپ سب سے پہلے ہندوستان تشریف لائے، اصلا آپ عراقی ہیں

 

   

 آپ کثیرالکرامات و انعامات خداوندی کے مظہر تھے۔ تمکنت میں آپ کے قدم قوی وغیر متزلزل تھے۔ آپ کی زندگی کے لمحات اتنے پاکیزہ و مقدس تھے کہ جو آپ کو صدق نیت سے دیکھ لیتا اس کے قلب پر انوار و اسرار کا ظہور ہو جاتا اور جس کسی پر آپ توجہ کی نظر فرماتے اسی وقت اس کے قلب کی کیفیت بدل جاتی اور وہ خود اپنی اس کیفیت کو اپنی باطنی آنکھوں سے دیکھ لیتا۔

جب آپ کسی کو اپنے حلقہ ارادت میں شامل کر لینا چاہتے تو اس کے قلب کی ایسی اصلاح فرماتے کہ اس کی کایا پلٹ ہو جاتی اور وہ واصلین حق میں شمار ہوجاتا اور وہ اپنے مقام و مرتبے کو اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر لیتا۔ آپ کے جس قدر بھی مرید ہوے سبھی ولایت کے اعلی تر درجات پر فائز ہوے۔ 

    آپ کی ہندوستان میں آمد کی ایک وجہ یہ بھی رہی ہوگی کہ اس ملک کو رفاعی اولیاے کرام کے بابرکات وجود سے بھر دیا جاے اور ایک مقصد یہ بھی ہو گا کہ “بوے حبیب” (سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد گرامی کی طرف اشارہ ہے کہ آپ نے فرمایا تھا کہ مجھے مشرق کی سمت سے دوست کی خوشبو آتی محسوس ہوتی ہے۔) آشکار ہوجاے۔ 

     حضرت سلطان سید شاہ نجیب الدین عبدالرحیم محبوب اللہ رفاعی رضی اللہ عنہ کے اخلاق حددرجہ کریمانہ تھے۔ باوجود “قطب المدار” کے درجہ پر اور شیخ المشائخ کے منصب پر فائز ہونے کے اپنے کو سب سے حقیر سمجھتے۔ منکسرالمزاج ایسے کہ کسی پر اپنا حال کبھی منکشف نہ ہونے دیا۔ شہرت،نام و نمود یکلخت نا پسند تھی۔

آپ کے استغنا، رعب و دبدبہ کا یہ حال تھا کہ آپ کے ارشادات و ملفوظات کو بھی کوئی آپ کی رضامندی حاصل کیے بغیر قلمبند نہیں کر سکتا تھا۔ شاید یہی وجہ ہو کہ کسی نے آپ کے حالات جمع کرنے اور آپ کی حیات طیبہ کے واقعات قلمبند کرنے کی جسارت نہیں کی جبکہ آپ ہی سے خرقہ پانے والے اور آپ ہی کے تربیت یافتہ اصحاب و ارادت مندوں کی زندگی کے تفصیلی واقعات سے تذکرہ نویسوں کے اوراق بھرے پڑے نظر آتے ہیں۔

آپ کے خلفاء 

       آپ کے قابل ذکر خلفاء میں حویزہ کے وہ شیوخ جنہیں تلقین و تعلیم کے بعد خرقہ رفاعیہ ملا یہ ہیں

“الشیخ عارف باللہ حامد بن عمر العراقی رحمتہ اللہ علیہ، الشیخ عثمان ابن احمد المکی رحمتہ اللہ علیہ، الشیخ شہاب ابن عبدالصمد الحویزی رحمتہ اللہ علیہ، الشیخ عبد الرحمن بن احمد سہروردی رحمتہ اللہ علیہ، الشیخ جمال الدین ابن ادریس بداونی رحمتہ اللہ علیہ، الشیخ احمد بن محمود ادریس الحبنی و البغدادی القادری رحمت اللہ علیہ، الشیخ یعقوب بن جمال بن فیروز چشتی رحمت اللہ علیہ، الشیخ نورالدین بن کمال الدین عمر الدمشقی قدس اللہ اسرارہم۔” 

     ہندوستان میں شہر نہروالہ پٹن میں جن شیوخ نے آپ کی صحبت میں رہ کر خرقہ رفاعیہ پایا وہ یہ ہیں

“الشیخ شرف الدین المشہدی رحمت اللہ علیہ(سید شرف الدین مشہدی کہ داماد حضرت مخدوم جہانیان بودند در بہروچ آسودہ اند،مرآت احمدی، ص: ٣٩) ، الشیخ سید برہان الدین ابن سید محمود ابن جلال الدین حسینی البخاری رحمت اللہ علیہ، الشیخ سلطان احمد بن محمد مظفر شاہ (بانی احمدآباد،گجرات)،حضرت شیخ چھچواساولی الاحمدی،  حضرت شیخ احمد کھٹوالمغربی( مخدوم شیخ احمد کھٹو المشہور بہ گنج بخش قدس سرہ ، سرخیز ،احمدآباد،گجرات) قدس اللہ اسرارہم۔

     شیرازی بزرگوں میں 

الشیخ علم الدین علی ابن احمدالاری، الشیخ حسن ابن دانیال رحمت اللہ علیہ، الشیخ محمد القادری المخزومی رحمت اللہ علیہ، الشیخ عبداللہ بن محمودباحضرمی رحمت اللہ علیہ، الشیخ عبدالمنعم بن شیخ حازم الخراسانی المدنی، الشیخ اسماعیل ابن حسن الواسطی رحمت اللہ علیہ، الشیخ سلطان حامد البصری رحمت اللہ علیہ، الشیخ ثابت ابن محمد المکی الشیخ مہدی ابن احمد ابن داود الرفاعی الشیخ عبدالکریم ابن عبداللہ احمد القریشی العیدروسی قدس اللہ اسرارہم۔

     حویزہ کے وہ بزرگ جنھوں نے مدت العمر آپ کی صحبت میں رہ کر استفادہ فرمایا، تلقین و ہدایت، شرف نیابت و خرقہ خلافت حاصل کیا ان کی تعداد بے شمار ہے کہ ان صفحات میں اس کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا۔ ان میں سے چند ایک کے اسماء حسب ذیل ہیں 

الشیخ محمد بن سلطان العرفین شاہ عبدالرحیم، سید احمد رفاعی،  سید حسب رفاعی، سید شاہ حسین سیف اللہ الحسینی الرفاعی، الشیخ عبدالرحمن الفاروقی الاحمدی، الشیخ محمد الواسطی، الشیخ نورالدین ابن غیاث الدین رفاعی، الشیخ نورالدین ابن غیاث الدین، الشیخ اسحٰق ابراہیم الاحمدی، الشیخ حسین ادریس الاری، الشیخ موسیٰ ابن یحییٰ شیرازی، الشیخ سلیمان ابن محمد القریشی الواسطی قدس اللہ اسرارہم۔ 

      ان کے علاوہ آپ کے مریدوں کی تعداد لاکھوں میں ہے گنتی نہیں کی جا سکتی۔ ان کی تعداد کا حصر ممکن نہیں۔

     آپ نے باضابطہ مخلوق کی ہدایت کا اہم فریضہ انجام دیا۔ بڑے بڑے امراء اور علماء و فضلاء آپ کے دامن کرم سے وابستہ ہو گئے۔سلطان احمد بن محمد مظفر شاہ (بانی احمدآباد، گجرات) نے بھی آپ سے خرقہ رفاعیہ پہنا۔ اس طرح عقیدت مندوں کا ایک لمبا تانتا لگ گیا، آپ کی ذات با برکات سے ہندوستان میں سلسلہ رفاعیہ کا فیضان جاری ہوا اور ہندوستان میں اس سلسلہ کی نشر و اشاعت کے اولین بزرگ قرار دیے گئے۔

     منکسر المزاجی

خاندان عالیہ رفاعیہ کے بزرگوں کا وہ خصوصی وصف ہے کہ اس وصف و شرف میں ان کا کوئی شریک و سہیم نہیں۔ یہ وہ وصف قدسی ہے کہ جس نے اک عالم کو اپنا گرویدہ اور زمانہ بھر کو اپنا حلقہ بگوش بنا رکھا ہے، ان کی ادنیٰ غلامی کی جسے عزت مل گئی

اس نے حکمرانی عالم کا تاج اپنے سر پر رکھ لیا اور ان کے نعلین پاک کو سر پر اٹھا لینے کی سعادت جسے حاصل ہو اسے اپنے آپ پر کیوں کر نہ ناز ہوگا۔ قابل رشک و تحسین ہے وہ دامن کہ جو ان کے گوشہ کرم کا منتخب ٹھہرا اور جسکے آستین بے مایہ کو ان کے علم و عرفان کا فیض مل گیا

وہ کیوں نہ اتراے جس کا چاک گریباں انہیں کے قدموں کی اٹھی ہوئی گرد کا حامل ہو کر بیش قیمت جواہر آبدار کے مقابل گراں قیمت ٹھہرا۔ یہ سب اسی ذات مجمع کمالات کا فیض ہے جس کی وسعت نظر کا احاطہ کرنا نا ممکن ہے، جسے دنیا محی الملت سلطان الواصلین سیدنا احمد کبیر الرفاعی رضی اللہ عنہ کے نام سے جانتی ہے۔ 

     حضرت سلطان سید شاہ نجیب الدین عبدالرحیم محبوب اللہ رفاعی کی ذات سے ہندوستان میں جس طرح سلسلہ رفاعیہ کا فروغ ہوا اس کی ایک طویل داستان ہے مختصر یہ کہ اسلام کی اخلاقی تعلیمات سے عوام کو روشناس کرکے اپنے سے قریب کیا اور یہ سلسلہ آپ کی حیات مقدسہ تک جاری رہا۔  

      حضرت سلطان سید شاہ نجیب الدین عبد الرحیم محبوب اللہ رفاعی  رضی اللہ عنہ طویل العمر حیات رہے، اس تمام عرصہ میں تقویٰ و طہارت، ذکر و اذکار، صوم و صلوٰت، اشغال قدسیہ و اعمال طیبہ کے معمولات میں سر موفرق نہ آنے دیا۔ جب منشاءایزدی پورا ہوچکا اور آپ کا رشد و ہدایت تعلیم و تلقین کا کام مکمل ہوا تو وصل کا پروانہ اذن آگیا۔ آپ نے سجدہ شکر بجا لاکر بعمر ١٢۴ سال بتاریخ ١٧ شوال المکرم  ٨١٣ھ میں اس جہان فانی کو خیر باد کہا۔ 

     آپ کا مزار اقدس گجرات کے احمدآباد کے سلطان پورہ نامی جگہ میں زیارت گاہ عام ہے۔ یہ جگہ آپ ہی کے نام سے مشہور ہے۔

     مرآت احمدی کے مصنف لکھتے ہیں (سید عبدالرحیم کہ قبر ایشان بیرون قلعہ احمدآباد در سلطان پور واقع است، ص: ٣٩ سید عبدالرحیم کی قبر احمد آباد کے قلعے کے باہر واقع ہے 

اور مزید لکھتے ہیں سلطان پور از قدیم آباد کردہ سید عبدالرحیم الرفاعی کہ مرقد الیشان در آنجااست ،مرآت احمدی، ص:  ٩ )۔

سلطان پور پرانے زمانے سے سید عبدالرحیم کے ذریعہ آباد ہے، یہیں پر ان کی قبر بھی ہے 

۔✍️از قلم  سید حسام الدین ابن سید جمال الدین رفاعی 

 خانقاہ رفاعیہ بروڈہ گجرات

9978344822

حضرت سید عبد الرزاق نورا لعین اشرفی رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی کا مطالعہ کریں

خلافت راشدہ کتاب خریدنے کے لیے کلک کریں

افکار رضا کے تمام مضامین اب گوگل پلے اسٹور کے ذریعے بھی پڑھ سکتے ہیں ایپ کا لنک نیچے ہے ڈاؤن لوڈ ضرور کریں 

ONLINE SHOPPING

گھر بیٹھے خریداری کرنے کا سنہرا موقع

  1. HAVELLS   
  2. AMAZON
  3. TATACliq
  4. FirstCry
  5. BangGood.com
  6. Flipkart
  7. Bigbasket
  8. AliExpress
  9. TTBazaar

 

Recent Posts

کیا نماز جنازہ کی وصیت معتبر ہوتی ہے

کیا نماز جنازہ کی وصیت معتبر ہوتی ہے؟ سوال کیا فرماتے ہیں علماۓ کرام کہزید… Read More

حضرت شیخ احمد کبیر رفاعی علیہ الرحمہ نقوش حیات

ازقلم : محمد قمرانجم فیضی حضرت شیخ احمد کبیر رفاعی علیہ الرحمہ نقوش حیات حضرت… Read More

اصلاح امت کے تئیں ایک کارگر اقدام

  تحریر :محمد امثل حسین گلاب مصباحی اصلاح امت کے تئیں ایک کارگر اقدام  اصلاح امت… Read More