یہ جو دہشتگردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے

یہ جو دہشتگردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے

آج کے مضمون کا عنوان ہے یہ جو دہشتگردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے  یہ نعرہ آج کل ہر کس و ناکس کی زبان پر نظر آرہا ہے، اس کی وجہ کیا ہے؟آخر اس نعرے کی گونج پورے ملک میں کیوں سنائی دے رہی ہے؟ طلبہ سے لےکر ٹی اسٹال اور پان فروش تک کیوں اس نعرے کو پوری طاقت سے لوگوں تک پہنچا رہے ہیں

یہ جو دہشتگردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے

ایسا لگتا ہے کہ ملک کی عوام اس نعرے کو لگا کر اپنے محافظین پر عدم اعتماد کا اظہار کر رہی ہے، جی ہاں وہ خود پر ہوئے ظلم کا ذمہ دار محافظین کو مان رہی ہے؛ وہی محافظین کہ جب وہ اپنی نوکری کا حلف لیتے ہیں تو یہ وعدہ کرتے ہیں کہ ہم سب ملک کی عوام کی حفاظت کریں گے  ، ظلم و جبر سے انہیں آزادی دوائیں گے، ظالم و ظلم کا خاتمہ کریں گے، رشوت خوری کو بند کریں گے؛ اب کسی پر ظلم نہیں ہونے دیں گے مجرمین کو سخت سے سخت سزائیں دیں گے، غرض یہ کہ وعدوں کی ایک طویل فہرست پر عمل کرنے کی یقین دہانی کراتے ہیں.

ان کی اس پوری کارروائی سے مظلوم عوام بہت خوش ہوتے ہیں، اور یہ سوچتے ہیں کہ اب ہمیں ظلم سے نجات مل جائے گی، ظالم کا خاتمہ ہو جائے گا، اب ہم بھی معاشرے میں کھل کر زندگی گزار سکیں گے، اب ہمیں بھی عدل و انصاف کے نام پر رشوت کی شکل میں لوٹا نہیں جائے گا، اب بہتر علاج و معالجے کے نام پر ہم سے رقم نہیں اینٹھی جائے گی،اب کوئی ظالم و جابر ہم سے ہمارے حقوق نہیں چھین پائے گا۔

لیکن ان کے دیکھے ہوئے خواب سوچے ہوئے خیال اس وقت ریزہ ریزہ ہوجاتے ہیں، جب ان کا محافظ خود ان کا معاند بن جاتا ہے، ان کی حفاظت کرنے والا ظالم کی حفاظت کرتا ہے، انہیں انصاف دلانے کی قسم کھانے والا جب ان کے سامنے انصاف کا بڑی بے دردی سے خون کردیتا ہے؛ مظلوم عوام کے احساسات کا شیش محل اس وقت چکنا چور ہوجا تا ہے جب اس پر پتھر پھینکنے والے کوئی اور نہیں بلکے ان کے محافظ ہوتے ہیں

انسانیت اس وقت سسک کر رہ جاتی ہے جب انسانیت کی حفاظت سے زیادہ ایک جانور کی حفاظت کو یقینی بنایا جاتا ہے، عوام کی خشک آنکھوں سے اشکوں کا سیلاب اس وقت بہ پڑتا ہے جب ان کے محافظین ظالمین کے ساتھ مل کر ان کا مذاق اڑاتے ہیں، غریب اس وقت آہ بھر کر رہ جاتا ہے جب ظالم امیر محافظین کو رشوت جیسی گندگی پیٹ بھر کر کھلا دیتا ہے ظالم اگر موجود حکومت کا نیتا ہو تو وہ مظلوم کے اہل خانہ تک کو ختم کردیتا ہے، لیکن ہمارے محافظین اس پر کچھ کہنے کے بجائے اس کی حفاظت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں؛ بڑے افسوس کے ساتھ یہ  کہنا پڑرہا ہے کہ آج ہمارے ملک کا دستہ محافظ بجائے اس کے کہ عوام کی حفاظت کرے، علاوہ اس کے کے مظلومین کی حفاظت کرے، انہیں ظلم و جبر سے بچائے، ظالمین کی حفاظت کر رہا ہے؛ مجرمین کو بچانے میں لگا ہوا ہے۔

ظاہر سی بات ہے جب حفاظت کا دم بھرنے والے ظالموں کے غلام بن جائیں، جب رشوت خوری کو بند کرنے والے رشوت خور ہوجائیں، تو پھر ملک میں مظلوم کا زندگی گزارنا دوبھر ہوجاتا ہے؛ اور آج اس کی زندہ تصویر اگر کوئی دیکھنے کا خواہاں ہے تو وہ ہمارے ملک کو دیکھ لے، یہ تمام گھٹیا حرکات اس وقت ہمارے ملک میں کھلے عام کی جارہی ہیں۔

اور اس کی تازہ مثال گذشتہ ایام میں سرزد ہونے والا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا واقعہ ہے یوں تو جامعہ ملیہ اسلامیہ پر گزرے ہوئے وقت میں ظلم و ستم کی جو داستانیں رقم کی گئی ہیں، وہ رہتی دنیا تک ہمارے نام نہاد محافظین کا گھناونا چہرہ دکھانے کے لیے کافی ہیں؛ لیکن گذشتہ چند روز قبل جو آتنک وادی حملہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ پر کیا گیا وہ نہایت شرمناک ہے

جامعہ کے پر امن مظاہرے میں ایک رام بھکت گوپال نامی آتنک وادی دستہ محافظ کی موجودگی میں گھس گیا اور اس کے بعد اس نے آتنک کا جو ننگا ناچ وہاں دکھایا اس سے ملک کا سر شرم سے جھک گیا؛ آتنکی گوپال ہاتھ میں طمنچہ لہراتا ہے ، دہلی پلیس زندہ باد کے نعرے لگاتا ہے، اور ایک طالب علم پر حملہ کردیتا ہے، اس کے اس حملے سے شاداب نامی طالب علم زخمی ہوجاتا ہے، اب سوال یہ ہے کہ پولیس کی موجودگی میں یہ آتنک وادی مارچ تک پہنچا کیسے جب کے اس نے آتنک پھیلانے سے قبل سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں تک یہ دھمکی پہنچا دی تھی کہ وہ اس طرح کا آتنک پھیلانے والا ہے پولیس نے اس پر کارروائی کیوں نہیں کی؟ اور اگر وہ ویڈیو پولیس تک نہیں پہنچا تھا تو پھر عین وقت پر جب وہ طمنچہ لہرا رہا تھا اس وقت اس کو ربڑ گولیاں کیوں نہیں ماریں؟ صرف یہ سولات نہیں بلکے سب سے سنگین سوال تو یہ ہے کہ پولیس ہاتھ باندھے کیسے کھڑی رہی؟ یا جیکیٹ  میں ہاتھ ڈال کر کیسے کھڑی رہی؟ جب کے صورت حال اس قدر نازک تھی اور پلیس کو فورا کارروائی کرنی ضروری تھی، اور اس آتنک وادی کو حملہ کرنے سے روکنا ضروری تھا لیکن پولیس ایسا نہیں کیا جس سے یہ بات باالکل صاف اور واضح ہوجاتی ہے، کہ دہلی میں غنڈہ گردی کرنے کے لیے پولیس نے غنڈوں کو کھلی چھوٹ دے دی ہے

جس کی وجہ سے اب جس کا دل چاہتا ہے برہمنی نعرے بازی کرتا ہے اور آتنکی حملے لو سر انجام دے دیتا ہے  ، ایک جمہوری ملک کی راجدھانی کی پلیس اس قدر حکومت اور اس کے غنڈوں کے تلوے چاٹ رہی ہے یہ نہایت شرمناک بات ہے، ہمارا ملک جو آپسی بھائ چارگی کے لیے دنیا میں مشہور و معروف ہے اور جو اپنی ایک الگ پہچان رکھتا ہے، موجود صورت حال کی وجہ سے اس کی شناخت اور اس کے مقام پر لوگ شک کی نگاہ ڈل رہے ہیںاس سب کی ذمہ دار موجودہ حکومت اور اس کی غلامی کرنے والی پلیس ہے، اگر پلیس موجودہ حکومت کی غلام نہیں ہوتی تو پھر اس طرح کوئی بھی شخص اس نازک وقت میں ایسی گھناونی حرکت کرنے کی جرات نہیں کرتا

آج ہمارے ملک کی پلیس کا حال یہ ہے کہ اگر کوئی طالب علم حکومت کو اس کے فیصلے سے ہٹانے کے لیے ملک کا چکا جام کرنے کی بات کہے تو اس کو دیش در وہی اور نہایت سنگین الزامات لگا کر گرفتار کر لیا جاتا ہے، لیکن جب آتنکی کھلے عام ہوا میں طمنچہ لہراتا ہے تو اسے پکڑنے کے لیے کوئی کارروائی نہیں کی جاتی ہے؛ میری حیرت کی تو اس وقت انتہا نہیں رہی کہ جب میں نے خبروں کے ذریعے یہ سنا کہ مارچ میں حملہ کرنے والا رام بھکت گوپال نابالغ ہے، اورپولس نابالغ کہ کر اس کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے؛ لیکن دوسری طرف ایک اسکول کے چھوٹے چھوٹے طلبہ پر دیش در وہ کا مقدمہ صرف اس لیے دائر کرلیا جاتا ہے کہ وہ طلبہ موجودہ حکومت کا نافذ کردہ قانون سی اے اے کی مخالفت کرتے ہیں ، یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ جمہوری ملک میں آزادی رائے کے اظہار کا حق ہر کسی کو حاصل ہے اور قانون اس بات کی اجازت بھی دیتا ہے، اس کے باوجود بھی صرف حکومت کی وجہ سے ان طلبہ پر دیش دروہ کا مقدمہ دائر کرلیا جاتا ہے، لیکن جو دیش میں کھلے عام آتنک پھیلا رہے ہیں انہیں نابالغ بتا کر بچانے کی سعی مذموم کی جارہی ہے؛ یہ نہایت ہی افسوسناک بات ہے  

ایسا لگتا ہے کہ اس ملک میں صرف موجود حکومت کے غلاموں کو ہی زندگی گزارنے کا حق ہے، اس کے علاوہ کسی کو زندگی گزارنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے؛ موجود حکومت کے تلوے چاٹنے والے جو چاہیں گے کہیں گے، جو چاہیں گے کریں گے، ان پر کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی، لیکن اگر اس حکومت کی مخالفت کرتے ہوئے کوئی شخص بات کہ دے تو اسے سیدھے دیش در وہی غدار اور نہ جانے کیسی کیسی گالیاں دی جاتی ہیں، اور یہ کام پلیس نہایت بے شرمی اور زیرکی سے کرتی ہے؛ جب سے بی جی پے اقتدار میں آئ ہے تب سے اس ملک میں نفرت کی ایسی آگ لگی ہوئی ہے جس سے وطن عزیز جھلس کر رہ گیا ہے، بی جی پی کے اقتدار میں جس کا جو دل چاہتا ہے کہ دیتا ہے، جو چاہتا ہے کردیتا ہے بس شرط یہ کہ وہ موجود حکومت کو چاٹوکار ہو، اور ہماپولیس  تماشائی بنی رہتی ہے.

ابھی کچھ روز قبل انوراگ ٹھاکر نے ایک جلسے کو خطاب کرتے ہوئے بڑی بے شرمی سے ایک نعرہ لگایا کہ” دیش کے غداروں کو گولی مارو سالوں کو” صرف ایک بار نہیں بلکے بار بار لگایا، اور پبلک کو آتنک پھیلانے کے لیے ابھارا،اور اسی کا نتیجہ یہ سامنے آیا کہ پہلے جامعہ ملیہ پر آتنکی حملہ کیا گیا اس کے بعد شاہین باغ میں ہوائ فائرنگ کی گئی صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکے ملک کے سیکولر غیر مسلم بھی اس کی چپیٹ میں آرہے ہیں اور اس کی تازہ مثال بہار میں کنہیا کمار پر حملے سے آپ سمجھ سکتے ہیں؛اس پر ہمارے ملک کا میڈیا اور پولیس دونوں تماشائی بنے رہے، نہ کوئی غدر نہ اور کچھ، لیکن وہیں ایک طالب علم کو صرف اس بات پر دیش دروہی قرار دے دیا گیا وہ صرف ملک کا چکا جام کرنے کی بات کررہا تھا

اس کے علاوہ ہندوتوا کے نام پر آتنک پھیلانے والی ایک تنظیم جس کا نام” کرنی سینا” ہے اس کے چیف مسٹر سورج پال امو نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے دہلی میں دھرنے پر بیٹھے لوگوں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا اگر پلیس والے انہیں وہاں سے اٹھانے میں ناکام ہیں تو ہمیں صرف ایک اشارہ کردیں ہم بھگوادھاری پندرہ منٹ میں شاہین باغ میں دھرنا دے رہے لوگوں اٹھادیں گے،، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کرنی سینا کے پاس ایسی کونسی طاقت ہے کہ جس کو استعمال کرکے وہ صرف پندرہ منٹ میں شاہین باغ کے مظاہرین کو اٹھانے کی بات کر رہے ہیں؟ ہم یہ پوچھنا چاہتے ہیں مسٹر امو پر اب کون سا کیس لگے گا کیا انہیں بھی دیش دروہی یا آتنک وادی کہا جائے گا یا نہیں؟؟؟ یا پھر وہی پرانی رسم کے مطابق انہیں بھی پھول اور مالائیں پہنائ جائیں گی؟ بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی ابھی اور دیکھیے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں آتنک پھیلانے والے آتنک وادی کو سزا دلوانے کے علاوہ اکھل ہندو مہا سبھا کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا ہے کہ جامعہ میں فائرنگ کرنے والے نوجوان کی ہندو مہا سبھا عزت افزائی کرے گی اور اور اس کو سمان دے گی ساتھ ہی اس کے مقدمے کی پیروی بھی کرے گی اب کیا ایک آتنک وادی کی عزت افزائی کی وجہ سے ہندو مہا سبھا والوں پر دیش دروہ کا مقدمہ دائر کیا جائے گا؟؟؟ یا نہیں؛

میں تو یہ کہتا ہوں کہ ہندو مہا سبھا آتنک یوں کا سنگٹھن ہے ابھی کچھ روز قبل ہندو مہا سبھا کے چیف کا ایک بیان سنا جس میں وہ صاف کہ رہا تھا کہ پندرہ اگست اور چھبیس جنوری کو وہ کوئی خوشی نہیں مناتے ہیں نہ جھنڈا لہراتے ہیں اور نہ طرانہ وطن گاتے ہیں یہ بیان اس کا نیٹ پر بھی موجد ہے اب سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے ملک کی پلیس ہندو مہا سبھا کے چیف کو دیش دروہی کہنے کی جرات کرے گی کیا وہ اس آتنکی سوچ پر پابندی لگانے کوشش کرے گی؟؟ یا صرف حکومت کے خلاف آواز بلند کررہے لوگوں کو جیل میں ٹھونسے گی؟ اور ان پر بے وجہ سنگین سنگین الزامات لگائے گی، یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ آزاد ملک کی پلیس موجودہ حکومت کی غلام ہوچکی ہے، اور غلامی کا مکمل حق ادا کر رہی ہے، لیکن کوئی غلامی میں اس قدر گھٹیا اور ذلیل حرکت کر گزرے گا یہ ہم کبھی سوچ بھی نہیں سکتے، ابھی کی تازہ بات ہے کہ گھنٹہ گھر لکھنو میں پر امن احتجاج کر رہی عورتوں کے ساتھ وہاں کی پلیس نے نہایت بدتمیزی کی اور بے شرمی کی حد تو اسوقت پارکردی گئی جب وکاس چندر ترپاٹھی نامی پلیس افسر نے وہاں موجد عورت سے یہ کہا کہ “یہ بچہ جہاں سے پیدا ہوا ہے وہیں گھسیڑ دوں گا “۔

میں اپنے قارئین سے بڑی معذرت چاہتا ہوں ایک سطحی جملہ لکھنے کے لیے لیکن حقیقت کو بیان کرنا یہ ایک قلم کار کا اہم فریضہ ہے جس سے وہ کبھی سبکدوش نہیں ہوسکتا، مذکورہ جملہ پڑھ کر ہمارے ملک کی پلیسیہ سوچو وفکر آپ بہت اچھی طرح سمجھ گئے ہوں گے، اسی لیے آج ملک کے گوشے گوشے میں یہ نعرہ گونج رہا” یہ جو دہشتگردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے “۔

ہم تو بچپن سے یہ سنتے ہوئے بڑے ہوئے ہیں کہ پلیس ظالم کو ختم کرتی ہے، اس کے ظلم سے عام لوگوں کو نجات دلاتی ہے، رشوت خوروں کو پکڑتی ہے، وہ کسی کی غلام نہیں ہوتی، اور نہ وہ چہرہ دیکھ کر فیصلہ کرتی ہے، لیکن اس حکومت کے بننے کے بعد یہ تمام باتیں جھوٹ ثابت ہوئی ہیں، یہاں عدل و انصاف حقیقت کی بنیاد پر نہیں بلکے مذہب کی بنیاد پر ہونے لگا ہے یہاں صرف ایک خاص طبقے کے لوگوں کو دیش کا وفادار سمجھا جاتا ہے، اس کے علاوہ نہ کوئی دیش کا وفادار ہے اور نہ کوئی ہمدرد، جبکے حقیقت یہ ہے کہ اس خاص کٹر وادی طبقے نے کئی دہائیاں اپنے ہیڈ کوارٹر پر بھارتی جھنڈا تک نہیں لگایا تھا، لیکن اس کے باوجود بھی وہ پکے دیش بھکت ہیں اور کوئی دوسرا اور دوسروں میں خصوصا مسلمان صرف حکومت کی مخالفت کردیتا ہے تو اس کو دیش دروہی ثابت کرکے جیل میں ٹھونس دیا جاتا ہے اور جب ملک ایسی حالات میں پہنچ جاتا ہے تو پھر ملک کے کونے کونے سے یہی نعرہ بلند ہوتا ہے کہ “یہ جو دہشتگردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے”۔

سمت قبلہ اور امام احمد رضا     پورا ضرور پڑھیں                         

لہذا میں اپنے ملک کی پلیس سے اور خصوصا دہلی پلیس سے یہ گزارش کروں گا کہ وہ غیر جانب دار ہوکر اپنی ڈیوٹی انجام دے، اور مذہب کے نام پر آتنک پھیلانے والوں کو سخت سے سخت سزائیں دے، نیز موجود حکومت کی غلامی کو چھوڑ کر قانون کی غلامی کو اپنا فریضہ سمجھے، اور ملک کے امن و امان کو قائم رکھنے میں مدد کرے تاکے” یہ جو دہشتگردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے” والا نعرہ غلط ثابت ہو جائے۔

Realme 5i 64 gb storag 4g RAM Mobile only 8999

اللہ تعالی سے دعا کرتا ہوں مولی وطن عزیز کو آتنک وادیوں سے محفوظ رکھے آمین۔

ایم ایم رہبر۔

قصبہ چمروہ ۔ ضلع رامپور ۔ یوپی ۔

رابطہ نمبر 8126914747

9149233885.

Email: mmrehbar615@gmail.co

منقبت در شان حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *