Thursday, June 13, 2024
Homeحالات حاضرہحیات حضرت سید خواجہ غریب نواز کے درخشاں پہلو

حیات حضرت سید خواجہ غریب نواز کے درخشاں پہلو

از۔ حضرت مولانا محمدقمرانجم قادری فیضی حیات حضرت سید خواجہ غریب نواز کے درخشاں پہلو

مدت کے بعد ہوتے ہیں پیدا کہیں وہ لوگمٹتء نہیں ہیں دہر سے جن کے نشاں کبھی تاریخوں سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اجمیر شریف پانچ ہزار سال پرانا شہر ہے

یہ شہر محبت دہلی سے 416/کلومیٹر دور ہے۔ اس کا سب سے قدیم نام جیدرک، جے میر، جمیر، جیانگیر اور جلو پور بھی رہا ہے _اور اب اجمیر شریف کے نام سے مشہور ومعروف ہےیہ دور افتادہ پہاڑی شہر سادھوؤں، مہنتوں کا مسکن رہا تھا جو پہاڑیوں، گفاؤں اور مندروں میں صدیوں سے مقیم چلے آ رہے تھے۔

حضرت خواجہ غریب نواز کی آمد سے اجمیر شریف کو برصغیر ہند وپاک میں مرکزی حیثیت حاصل ہوئی

آپ نے کفر و الحاد کی دبیز تاریکی میں ایمان کی شمع جلائی، آپ کی نظر پُر تاثیر میں وہ جادو تھا جو عام لوگوں کو ولی اور بادشاہ بنا دیا کرتا تھا، آپ سلسلہ چشتیہ کے روحانی تاجدار اور محور ومنبع ہیں اور اس روحانی کہکشاں کا درخشندہ جھرمٹ۔ یوں تو اس عظیم سلسلے کے بزرگان دین اولیاے کرام کی تعداد بے شمار ہے۔

لیکن ااس سلسلے کے  چار سرکردہ بزرگان دین مشہور ومعروف ہوئے ہیں جن میں حضرت خواجہ بختیار کاکی، حضرت شیخ العالم بابا فرید الدین مسعود گنج شکر، محبوب الٰہی حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء اور حضرت مخدوم خواجہ علاوالدین سید علی احمد صابر کلیر شریف رضی اللہ تعالیٰ عہنم شامل ہیں، ان بزرگوں نے اس سلسلہ کو ہر عالم میں متعارف کرا دیا ہے آپ کو ہند الولی، عطائے رسولؐ، خواجہ اجمیر،ہند کے راجہ، نائب رسول فی الہند کے القابات سے بھی پکارا جاتا ہے ۔

آپ پیران پیردستگیر، غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی کے قریبی رشتہ دار بھی ہیں۔ آپ نے حرمین شریفین، بغداد، شام، اصفہان، ہمدان، بصرہ، تبریز، ثمرقند، بخارا، ہرات، بلخ، کرمان، ہارون، میمنہ، رے، بدخشاں، کوہ حصار، غزنی ضلع حصار اور دورافتادہ ملکوں کا سفر بھی کیا۔

بچپن میں عیدگاہ جاتے نابینا بچے کو اپنے کپڑے پہنائے ،آپ کے والد محترم حضرت سیدنا خواجہ غیاث الدین چشتی اور والدہ محترمہ بی بی ماہ نور المعروف بی بی ام الورع نے آپ کی تربیت اس عمدگی سے فرمائی کہ بچپن میں ہی آپ کی طبیعت میں انسانیت اور رحم دلی کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔

بہت چھوٹے تھے کہ عید کے روز نئے لباس میں تیار ہو کر عیدگاہ جارہے تھے راستے میں ایک نابینا بچے کو دیکھا جس کے جسم پر پھٹے پرانے اور میلے کچیلے کپڑے تھے، یہ دیکھ کر آپ کا دل بھر آیا اور آپ نے اپنے زیب تن کپڑوں میں سے کچھ اتار کر اس نابینا بچے کو پہنائے اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ عید گاہ لے گئے۔

گلی کے ہم عمر بچوں کو گھر لا کر کھانا کھلاتے آپ بمشکل تین سال کے تھے تو اکثر و بیشتر باہر گلی سے اپنے ہم عمر بچوں کو بلا کر گھر لے آتے اور اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلا کر ازحد خوش ہوتے۔

جب کوئی خاتون شیر خوار بچے کے ساتھ گھر آتی تو بچہ روتا تو آپ اپنی والدہ کو اشارہ کرتے جو فوراً سمجھ جاتیں اور اسے اپنا دودھ پلاتیں اور ایسے میں آپ کے معصوم چہرے پر خوشی رقصاں ہوتی پیرومرشد حضرت عثمان ہارونی سے خرقہ خلافت عطا ہوا۔

حضرت سلطان الہند، خواجہ غریب نواز خواجہ جواجگان کو روحانیت میں یہ اعلی و ارفع مقام اپنے پیرومرشد حضرت خواجہ عثمان ہارونی کی نذرِکیمیا نیز انکی خدمت اور راہ سلوک پر ان کے بتائے ہوئے راستے پر عمل پیرا ہونے سے حاصل ہوا۔ آپ کو بیس سال تک اپنے مرشد کی خدمت کا شرف حاصل ہوا

دیگر ممالک کے سفر اور سیاحت کے دوران اپنے مرشد کا سامان اور پانی کی چھاگل ہمیشہ آپ کے سر پُرنور پر رہتی۔ آپ کو مرشد نے باون سال کی عمر میں خرقہ خلافت عطا فرمایا اور سجادہ نشین مقرر فرمایا اور آپ کو اپنا عصا، مصلی، خرقہ، لکڑی کی نعلین کھڑاؤں عطا کیا اور فرمایا کہ پیارے نبی کے یہ تبرکات پیران طریقت کے ذریعے ہم تک پہنچے ہیں۔

جسے مرد کامل پاؤ  اسے ہماری یہ یادگار دے دینا، سینے سے لگا کر ہدایت فرمائی اے معین الدین! خلق سے دور رہنا کسی سے طمع و خواہش نہ رکھنا۔

خانہ کعبہ میں غیب سے نداہم نے معین الدین کو قبول کیا آپ اپنے مرشد حضرت عثمان ہارونی کی سربراہی میں حرمین شریفین پہنچے، جب خانہ کعبہ کی زیارت اور طواف کیا تو آپ کے مرشد نے آپ کا دست حق پکڑ کر اللہ تعالی کے سپرد کرتے ہوئے خانہ کعبہ کے حطیم پرنالہ  کے نیچے آپ کے حق میں بارگاہ ایزدی میں دعا فرمائی جو اللہ تعالی نے منظوروقبول فرمائی اور غیب سے ندا آئی کہ ہم نے معین الدین کو قبول کیا ۔

روضہ اطہر سے جواب!وعلیکم السلام یا قطب المشائخ بروبحر جب آپ مدینہ منورہ میں مرشد کے ہمراہ روضہ اطہر پر پہنچے تو آپ کے مرشد حضرت خواجہ عثمان ہارونی نے آپ سے فرمایا کہ آپ پیارے نبی کے حضور سلام عرض کریں، آپ نے عقیدت واحترام سے السلام علیکم یا رسول اللہ عرض کیا تو روضہ اطہر سے جواب آیا!

۔ ’’وعلیکم السلام یا قطب المشائخ بروبحر‘‘ آپ کے مرشد نے یہ جواب سننے پر فرمایا کہ تیرا مقصد حل ہوا اور درجہ کمال کو پہنچ گیا ۔

بارگاہ نبوی سے ولایت ہند عطا ہوئی اجمیر جانے کا حکم ملا اور بہشت کا انار عطا ہوا ایک مرتبہ جب فریضہ حج کے لیے آپ حجاز مقدس پہنچے تو آپ کے خلیفہ اور حضرت شیخ العالم بابا فرید الدین مسعود گنج شکر کے مرشد حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی بھی آپ کے ہمراہ تھے۔

مکہ شریف سے آپ مدینہ منورہ پہنچے تو ایک طویل عرصہ تک وہاں مسجد نبوی میں عبادت و ریاضت میں مشغول رہے اور اسی دوران آپ کو آقاے دوجہاں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ سے یہ بشارت ملی کہ اے معین! تو میرے دین کا معین ہے، تجھے ولایت ہند عطا کی وہاں کفروظلمت پھیلا ہے تو اجمیر جا تیرے وجود سے ظلمت وکفر دور ہو گا اور اسلام رونق پذیر ہو گا۔ یہ سن کر آپ کی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا۔

لیکن ساتھ ہی حیران بھی تھے کہ آخر یہ اجمیر کون سا مقام ہے اور کس ملک میں ہے؟ اسی دوران خواب میں آپ کو پیارے نبی کی زیارت ہوئی اور انہوں نے آپ کو اجمیر شریف کا محل وقوع دکھایا اور بہشت کا ایک انار بھی عطا فرمایا ۔

درگاہ حضرت علی ہجویری پر چلہ کشی جب آپ لاہور تشریف لائے تو شہر کے محافظ مخدوم حضرت سید علی ہجویری داتا گنج بخش رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے روضہ مبارک پر حاضری دی اور چلہ کشی کی اور انکی درگاہ عالیہ سے فیوض و برکات کی روحانی نعمتیں اور برکات حاصل کی اور حضرت خواجہ نے آپکی درگاہ مبارک سے رخصت ہوتے وہ شعر پڑھا جو آج زبان زد عام ہے __ گنج بخش فیض عالم مظہر نور خداناقصاں را پیر کامل، کاملاں را رہنما ۔

نوے لاکھ کفار کا قبول اسلام _لاہور سے اجمیر شریف کا سفر دو ماہ میں پیدل کیا، راستے میں سینکڑوں ہندوؤں کو مسلمان کیا اور جب اجمیر شریف پہنچے تو جس پر نظر پڑتی وہ مسلمان ہو جاتا، آپ کے دست حق پر نوے لاکھ کفار نے اسلام قبول کیا ۔

جس کی تاریخ مثال پیش کرنے سے قاصر ہے پرتھوی راج کی ماں کی پریشانی آپ کی اجمیر شریف آمد سے قبل پرتھوی راج رائے پتھورا کی ماں جو کہ علم نجوم اور جادونگری میں بہت طاق تھی اس نے نجومیوں کی مدد سے بیٹے کو پیش گوئی کی تھی کہ اس حلیے اور علامات کا ایک درویش ہندوستان آئے گا اور تیری حکومت کو ختم کر کے اپنے دین کو فروغ دے گا، تم اسکی تکریم و تواضع کرنا اور اس سے خوش خلقی اور منت سے پیش آنا ورنہ تم اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھو گے۔

رائے پتھورا نے ماں کی پیش گوئی پر عمل کرنے کی بجائے اپنے تمام علاقوں کے حاکمین کو اس درویش کا حلیہ لکھ بھیجا تھا اور آپ کی دہلی آمد کے بعد ہی پرتھوی راج رائے پتھورا کو اسکے مخبروں نے آپ کی آمد کی اطلاع دے دی تھی۔ دہلی کے بعد قصبہ سمانا ضلع پٹیالہ میں قیام کے دوران رائے پتھورا کے آدمیوں نے آپ کو چاپلوسی سے وہاں قیام کے بندوبست کی پیش کی۔

حضرت خواجہ غریب نواز نے مراقبہ کیا تو پیارے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی بدنیتی سے آگاہ کیا اور وہاں قیام سے منع فرمایا جس کے بعد آپ اجمیر روانہ ہوئے اور 10 محرم الحرام 561ھ کو چالیس درویشوں کے ہمراہ اجمیر پہنچے – ۔

تمہارے اونٹ بیٹھے رہیں گے _ اجمیر شریف آمد پر آپ نے ساتھیوں کے ہمراہ سایہ دار درخت کے نیچے قیام فرمایا، ساربانوں نے کہا کہ یہ جگہ ہمارے اونٹوں کے بیٹھنے کے لیے ہے آپ نے فرمایا اونٹوں کو دوسری جگہ بٹھا دو، ساربان نہ مانے، آپ نے فرمایا ہم تو اٹھتے ہیں لیکن تمہارے اونٹ بیٹھے رہیں گے، بعدازاں ساربانوں نے اونٹوں کو آرام کرنے کے بعد اٹھانا چاہا تو انہوں نے اٹھنے سے انکار کر دیا اور وہ دو روز تک لاکھ جتن کے باوجود نہ اٹھے ۔

ساربان لاچار ہو کر آپ کے پاس پہنچے اور معافی کے خواستگار ہوئے آپ نے مسکرا کر فرمایا کہ اللہ تعالی کے حکم سے تمہارے اونٹ اٹھ جائیں گے ساربان واپس پہنچے تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ اونٹ کھڑے تھے 

 پڑوسیوں سے حسن سلوک والئ ہندوستان خواجہء خواجگان حضور غریب نواز حضرت خواجہ معین الدین حسن چشتی اجمیری سنجری الحسنی والحسینی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے پڑوسیوں کا بہت خیال رکھا کرتے، ان کی خبرگیری فرماتے۔

اگر کسی پڑوسی کا انتقال ہوجاتا تو اس کے جنازےکے ساتھ ضرور تشریف لے جاتے، اس کی تدفین کے بعدجب  لوگ واپس  ہو جاتے تو آپ تنہا اس کی قبر کے پاس تشریف فرما ہوکر اس کے حق میں مغفرت و نجات کی دعا فرماتے نیز اس کے اہلِ خانہ کو صبرکی تلقین کرتے اور انہیں تسلی دیاکرتے۔

آپ کےحلم و بُردباری جُودو سخاوت اور دیگر اخلاقِ عالیہ  سے مُتأثر ہوکر لوگ عُمدہ اخلاق کے حامل اور پاکیزہ صفات کے پیکر ہوئے اوردہلی سے اجمیر تک کے سفر کے دوران تقریباً  نَوّے لاکھ افراد مُشرف بہ اسلام ہوئے۔

عفو و بردباری آپ  بہت ہی نرم دل اورمُتحمِّل  مزاج سنجیدہ طبیعت کے مالک  تھے۔اگر کبھی غصہ آتا تو صرف دینی غیرت و حمیّت کی بنیاد پر آتا البتہ  ذاتی طور پراگر کوئی سخت بات کہہ بھی دیتا تو آپ  برہم نہ ہوتے بلکہ ا س وقت بھی حسنِ اخلاق اور خَنْدہ پیشانی  کا مُظاہرہ کرتے ہوئے صبر کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیتے  اور ایسا معلوم ہوتا کہ  آپ نے اس کی نازیبا باتیں سنی ہی نہ ہوں۔

خوفِ خدا حضرت خواجہ غریب نواز  پر خوفِ خدا اس قدر غالب تھا کہ آپ  ہمیشہ خشیتِ الٰہی سے کانپتے اور گریہ وزاری کرتے، خلقِ خدا کو خوفِ خدا کی تلقین کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کرتے:اے لوگو!  اگر تم زیرِخاک سوئے ہوئے لوگوں کا حال جان لو تو مارے خوف کے کھڑے کھڑے پگھل جاؤگے۔

پردہ پوشی حضرت خواجہ قُطبُ الدّین بختیار کاکی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے پیرو مُرشد حضرت خواجہ غریب نواز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صِفاتِ مومنانہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں کئی برس تک حضور خواجہ غریب نواز کی خدمتِ اقدس میں حاضر رہا لیکن کبھی آپ  کی زبانِ اقدس سے کسی کا راز فاش ہوتے نہیں  دیکھا،  آپ  کبھی کسی مُسلمان کا بھید نہ کھولتے ۔(معین الارواح،  ص ۱۸۸بتغیر)

مرشد سے ملاقات !انیس الارواح میں خود حضرت خواجہ غریب نواز علیہ الرحمہ اپنے مرشد سے ملاقات اور بیعت کا واقعہ اپنے قلم سے یوں تحریر فرماتے ہیں

۔’’مسلمانوں کا یہ دعا گو معین الدین حسن سنجری بمقام بغداد شریف خواجہ جنید کی مسجد میں حضرت خواجہ عثمان ہارونی قدس سرہٗ کی دولت پا بوسی سے مشرف ہوا_اس وقت مشائخ کبار حاضرِ خدمت اقدس تھے جب اس درویش نے سر نیاز زمین پر رکھا پیر و مرشد نے ارشاد فرمایا دو رکعت نماز ادا کر  میں نے ادا کی  پھر فرمایا! ۔

قبلہ رو بیٹھ،  میں بیٹھ گیا! حکم دیا سورۂ بقرہ پڑھ، میں نے پڑھی! فرمان ہوا اکیس بار درود شریف پڑھ میں نے پڑھا، پھر آپ کھڑے ہو گئے اور میرا ہاتھ پکڑ کر آسمان کی طرف منہ کیا اور فرمایا! آ تاکہ تجھے خدا تک پہنچا دوں، بعد ازاں مِقْرَاض / قینچی   لے کر دعا گو کے سر پر چلائی اور کلاہِ چہار ترکی اس درویش کے سر پر رکھی، گلیم خاص عطا فرمائی۔

پھر ارشاد فرمایا بیٹھ جا! میں بیٹھ گیا ،فرمایا ہمارے خانوادہ میں ایک شبانہ روز مجاہدہ کا معمول ہے تو آج رات دن مشغول رہ، یہ درویش بحکمِ محترم مشغول رہا، دوسرے دن جب حاضرِ خدمت ہوا ارشاد فرمایا آسمان کی طرف دیکھ میں نے دیکھا، دریافت فرمایا زمین کی طرف دیکھ میں نے دیکھا، استفسار فرمایا کہاں تک دیکھتا ہے؟۔

عرض کیا تحت الثریٰ تک، فرمایا پھر ہزار بار سورۂ اخلاص پڑھ میں نے پڑھی، فرمایا پھر آسمان کی طرف دیکھ میں نے دیکھا، پوچھا اب کہاں تک دیکھتا ہے؟ ۔

عرض کیا حجابِ عظمت تک، فرمایا آنکھیں بند کر، میں نے بند کر لی، فرمایا کھول، میں نے کھول دی، پھر مجھے اپنی انگلیاں دکھا کر سوال کیا، کیا دیکھتا ہے؟ میں نے عرض کیا اٹھارہ ہزار عالم دیکھتا ہوں__بعد ازاں سامنے پڑی ہوئی ایک اینٹ کے اٹھانے کا حکم دیا! میں نے اٹھایا تو مٹھی بھر دینار بر آمد ہوئے فرمایا اسے لے جا کر فقراء میں تقسیم کر دے __ میں نے حکم کی تعمیل کی_ بعد ازاں حاضرِ خدمت ہوا ارشاد ہوا چند روز ہماری صحبت میں گزار عرض کیا فرمانِ عالی سر آنکھوں پر‘‘

 بارِ اول ورودِ ہند، ملتان میں تشریف آوری: ہرات سے روانہ ہو کر بار اول وارد ہند ہوئے یعنی ملتان میں قدم رنجہ فرمایا، ورودِ ملتان کے متعلق دلیل العارفین میں خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ حضرت غریب نواز کا مندرجہ ذیل بیانِ ارقام فرماتے ہیں’’یہاں ملتان میں ایک بزرگ سے ملاقات ہوئی ان بزرگ نے دورانِ ملاقات فرمایا اہلِ محبت کی توبہ تین قسم کی ہوتی ہے،اول بوجہ ندامت، دوم معصیت ترک کرنے کے خیال سے، سوم اپنے آپ کو خضومت اور ظلم سے پاک رکھنے کے لیے

۔ ”سُلطان الہِند کی نظر کا کمال حضرت بابا فرید گنج شکر رحمتہ اللّٰه علیہ فیضانِ اولیاء و علماء سے مستفیض ہوتے ہوئے دربارِ مُرشد ” دہلی ” پہنچے اور پِیر و مُرشد کی ہدایات پر مجاہدوں اور ریاضتوں میں مصروف ہو گئے۔ایک مرتبہ سُلطان الہِند حضرت خواجہ غریب نواز معین الدّین چشتی اجمیری رحمتہ اللّٰه علیہ دہلی تشریف لائے تو والیِ ہِندوستان شمس الدّین التَمش سمیت پورا شہر زیارت و قدم بوسی کے لیے اُمڈ آیا،جب سب لوگ چلے گئے تو حضرت خواجہ غریب نواز رحمتہ اللّٰه علیہ نے حضرت خواجہ قطب الدّین بختیار کاکی رحمتہ اللّٰه علیہ سے فرمایا:

۔” تم نے اپنے مُرِید فریدُالدّین مسعود ( رحمتہ اللّٰه علیہ ) کے بارے میں بتایا تھا،وہ کہاں ہے؟ ”حضرت خواجہ قطب الدّین بختیار کاکی رحمتہ اللّٰه علیہ نے عرض کی” حضور! وہ عِبادت و ریاضت میں مشغول ہے۔ ”اِرشاد فرمایا:” اگر وہ یہاں نہیں آیا تو ہم اس کے پاس چلتے ہیں۔ ”حضرت خواجہ قطب الدّین کاکی رحمتہ اللّٰه علیہ عرض گزار ہوئے:” حضور! اسے یہیں بلوا لیتے ہیں

۔ ”لیکن حضرت خواجہ غریب نواز رحمتہ اللّٰه علیہ نے فرمایا:” نہیں! ہم خود اس کے پاس جائیں گے۔حضرت بابا فرید گنج شکر رحمتہ اللّٰه علیہ جس کمرے میں محوِ ذِکر و عِبادت تھے اچانک وہاں محسور کُن خوشبُو پھیل گئی۔آپ رحمتہ اللّٰه علیہ نے گھبرا کر اپنی آنکھیں کھولیں تو سامنے پِیر و مُرشد حضرت خواجہ قطب الدّین بختیار کاکی رحمتہ اللّٰه علیہ زیارت کا شرف بخشتے ہوئے فرما رہے تھے

۔” فرید! اپنی خوش بختی پر ناز کرو کہ تم سے مِلبے سُلطانُ الہِند تشریف لائے ہیں۔ ”حضرت بابا فرید گنج شکر رحمتہ اللّٰه علیہ نے احتراماً کھڑے ہونے کی کوشش کی مگر سخت مُجاہدے اور ریاضت سے ہونے والی کمزوری کی وجہ سے لَڑکَھڑا کر گِر پڑے،جب اُٹھنے کی سَکت نہ پائی تو بے اِختیار آنسو رواں ہو گئے۔

حضرت خواجہ غریب نواز رحمتہ اللّٰه علیہ نے آپ  کا دایاں بازو جبکہ حضرت بختیار کاکی نے بایاں بازو پکڑ کر اوپر اُٹھایا۔پِھر حضرت خواجہ غریب نواز رحمتہ اللّٰه علیہ نے دُعا کی” اِلٰہی! فرید کو قبول کر اور کامِل ترین درویشوں کے مرتبہ پر پہنچا

۔ ”آواز آئی:” فرید کو قبول کِیا،فرید فریدِ عصر اور فریدِ دہر ہے۔ ”اس کے بعد حضرت خواجہ غریب نواز رحمتہ اللّٰه علیہ نے حضرت بابا فرید گنج شکر  کو اِسمِ اعظم سِکھایا،اپنے سینے سے لگایا تو آپ کو یوں محسوس ہُوا کہ جِسم آگ کے شعلوں میں گِھر گیا ہے۔پِھر یہی تپش آہستہ آہستہ شبنم کی طرح ٹھنڈی ہوتی چلی گئی۔

آپ  کی آنکھوں کے سامنے سے کئی حجابات اُٹھ گئے،طویل سیاحت اور سخت ریاضت کے بعد بھی جو دولتِ عرفان حاصل نہ ہو سکی تھی وہ حضرت خواجہ غریب نواز  کی ایک نظرِکرم سے آپ  کے دامن میں سما چُکی تھی۔اس وقت آپ  کی عمر تیس برس تھی۔ ( اقتباس الانوار،صفحہ ٤٤٤/ سیرالاقطاب مترجم،صفحہ ۱۸۹ )

ازقلم ۔  محمدقمرانجم قادری فیضی

مدیراعلی۔ ماہنامہ صدائےبازگشت ضلع سدھارتھ نگر یوپی

ان مضامین کا بھی مطالعہ فرمائیں

سلطان الہند کا تبلیغی مشن

 اسلام کی صدا بہار صداقت کا روشن چہرہ حضرت غریب نواز

حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کے احوال و ارشادات

سلطان الہند حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کے تعلیمات  کی ایک جھلک

ہندی میں مضامین پڑھنے کے لیے کلک کریں 

 

afkareraza
afkarerazahttp://afkareraza.com/
جہاں میں پیغام امام احمد رضا عام کرنا ہے
RELATED ARTICLES

1 COMMENT

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular

Recent Comments

قاری نور محمد رضوی سابو ڈانگی ضلع کشن گنج بہار on تاج الشریعہ ارباب علم و دانش کی نظر میں
محمد صلاح الدین خان مصباحی on احسن الکلام فی اصلاح العوام
حافظ محمد سلیم جمالی on فضائل نماز
محمد اشتیاق القادری on قرآن مجید کے عددی معجزے
ابو ضیا غلام رسول مہر سعدی کٹیہاری on فقہی اختلاف کے حدود و آداب
Md Faizan Reza Khan on صداے دل
SYED IQBAL AHMAD HASNI BARKATI on حضرت امام حسین کا بچپن