Tuesday, May 21, 2024
Homeحالات حاضرہمعاشرے میں طلاق اور خلع کی کثرت اسباب و تدارک

معاشرے میں طلاق اور خلع کی کثرت اسباب و تدارک

تحریر: محمد ہاشم اعظمی مصباحی معاشرے میں طلاق اور خلع کی کثرت اسباب و تدارک

معاشرے میں طلاق اور خلع کی کثرت اسباب و تدارک

مکرمی :طلاق ثلاثہ اور خلع سے متعلق مسائل پورے ملک میں موضوع بحث بنے ہوئے ہیں اور اب تو عدالت میں خصوصی بنچ اس سے متعلق مقدمات کی ہنگامی انداز میں روزانہ سماعت کررہی ہے۔

اس سلسلے کا سب سے افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اس ہنگامہ کی آڑ میں پوری شریعت اور بالخصوص، شریعت کے عائلی احکام کو نشانہ بناکر، یہ مذموم کوشش کی جارہی ہے کہ دوسروں کی نظر میں اسلام کو بدنام کرنے کے ساتھ خود مسلمانوں کے دلوں میں بھی شکوک وشبہات کے بیج بودئے جائیں

اس لیے ان مسائل پر شریعت کے روشن رُخ کو واضح کرنا علما کی ذمہ داری ہے۔

آپ کسی بھی دارالافتا چلے جائیں ہفتے کی بنیاد پر سینکڑوں خطوط ایسے ملیں گے جو خواتین نہیں مرد حضرات کی طرف سے لکھے جاتے ہیں اور وہ پوچھتے ہیں کہ ہماری بیوی کو کسی اور کے ساتھ ” محبت ” ہوگئی ہے ۔

وہ مجھ سے طلاق مانگ رہی ہے میرے چھوٹے چھوٹے بچے یا بچہ بھی ہے مفتی صاحب بتائیں میں کیا کروں. ہمارے دارالافتا میں ایک خط آیاجس میں شوہر نے لکھا تھا کہ ” رات آنکھ کھلی تو دیکھا بیوی بستر پر نہیں تھی ، بیڈروم سے باہر آیا تودیکھا زوجہ محترمہ صوفے پر لیٹی موبائل میں مصروف ہیں اب وہ مجھ سے طلاق مانگ رہی ہیں ہمارا ایک بچہ بھی ہے شریعت کی روشنی میں کوئی حل بتائیں “۔
حالاں کہ رشتہٴ نکاح کو ختم کرنا کوئی اچھی بات نہیں ہے حدیث شریف میں ہے: ”أَبْغَضُ الْحَلَالِ الی اللّٰہِ الطَّلَاقُ“ (ابوداؤد ،مشکوٰۃ ص:۲۹۳): جائز کاموں میں اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ ناپسند طلاق ہے۔

ایک دوسری روایت میں ہے: لاَ خَلَقَ اللّٰہُ شَیْئاً عَلٰی وَجہِ الأرْضِ أبْغَضَ الیہ مِنَ الطَّلاَقِ (دارقطنی، مشکوٰۃ ص:۸۴) کہ روئے زمین پر اللہ تعالیٰ نے طلاق سے زیادہ ناپسند چیز کو پیدا نہیں فرمایا۔

طلاق ایسا غیرمعمولی اقدام ہے کہ جب کوئی آدمی، اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ کا عرش ہل جاتا ہے۔ (عمدۃالقاری۳۰/۴۵))۔

بلا وجہ شرعی عورت کا شوہر سے طلاق یا خلع لینا ناجائز ہے، احادیث میں اس پر وعیدیںآ ئی ہے، ایک حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بلا وجہ شوہر سے طلاق مانگنے والی عورت پر جنت کی خوشبو حرام ہوگی اور ایک حدیث میں طلاق یا خلع چاہنے والی عورتوں کو نفاق والی کہا گیا ہے۔

اور مزید ایک روایت میں ہے کہ جو عورت کسی سخت تکلیف کے بغیر اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرے اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔ (احمد، ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ، دارمی بحوالہ مشکوٰۃص:۲۸۳)
میرا تجربہ ہے میں نے خود یہ واقعات سنے ہیں کہ شوہروں کے پیچھے عورتیں امانت میں خیانت کرتی ہیں “ایک عالم دین نے کیا خوب فرمایا تھا ” یہ قوم اسلام پر مرمٹنے کے لئے تیار ہے لیکن اسلام پر جینے کے لئے تیار نہیں ہے “ آپ قرآن کا مطالعہ کریں سورۃ البقرہ کی الف سے لے کر والناس کی سین تک پڑھتے چلے جائیں چلے جائیں ۔

آپ کو نماز ، روزہ ، حج ، زکوۃ میں سے کسی ایک فرض کی تفصیلات نہیں ملے گی آپ کو یہ تک نظر نہیں آےگا کہ نماز کا طریقہ کیا ہے ؟۔

آپ کو ان عبادات کی تسبیحات تک نہیں معلوم ہوں گی. لیکن نکاح ، طلاق ، خلع ، شادی ، ازدواجی معاملات ، میاں بیوی کے تعلقات ، گھریلو ناچاقی ، کم یا زیادہ اختلاف کی صورت میں کرنے کے کام 

آپ کو سب کچھ اللہ تعالی کی اس مقدس ترین کتاب میں مل جائے گا جس کو ہم اور آپ” چوم چوم ” کر رکھتے ہیں ۔

آپ مان لیں کہ ہمارے معاشرے میں طلاق اور خلع کی سب سے بڑی وجہ عدم برداشت ہے. امیرالمومنین حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا ” جب دین گھر کے مرد میں آتا ہے تو گویا گھر کی دہلیز تک آتا ہے لیکن اگر گھر کی عورت میں دین آتا ہے تو اس کی سات نسلوں تک دین جاتا ہے “۔

واضح رہے کہ قربانی ، ایثار ، احسان ، درگذر ، معافی ، محبت اور عزت یہ اسلام اور قرآن کی ڈکشنری میں نہایت ہی اہمیت کے حامل ہیں ۔ کمال تو یہ ہے کہ ان جوڑوں کی طلاق زیادہ جلدی ہوجاتی ہے جو ” جوائنٹ فیملی ” میں نہیں رہتے ہیں ۔

خواتین کی نہ ختم ہونے والی خواہشات نے بھی معاشرے کو جہنم میں تبدیل کیا ہے ۔ الیکٹرانک میڈیا ٹی-وی سیریل اور فلموں نے گھر گاؤں اور کچی بستیوں میں رہنے والی لڑکیوں تک کے دل و دماغ میں ” اداکاروں “جیسا آئیڈیل پیدا کر دیا ہے گھریلو زندگی کی تباہی میں ایک بڑا عنصر ناشکری بھی ہے ۔

کم ہو یا زیادہ ، ملے یا نہ ملے یا کبھی کم ملے پھر بھی ہر حال میں اپنے شوہر کی شکر گزاری کے سبق کو خواتین اب فرسودہ کہنے لگیں ہیں۔

سب سے بڑی تباہی اس واٹس ایپ اور فیس بک سوشل میڈیا نے مچائی ہے ۔ پہلے لڑکیاں غصے میں ہوتی تھیں یا ناراض ہوتی تھیں تو ان کے پاس اماں ابا اور دیگر لوگوں تک رسائی کا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا تھا ۔شوہر شام میں گھر آتا ، بیوی کا ہاتھ تھام کر محبت کے چار جملے بولتا اور کبھی ٹہلنے کے بہانے کچھ دیر کا ساتھ مل جاتا اور اس طرح دن بھر کا غصہ اور شکایات رفع ہوجایا کرتی تھیں.

لیکن ابھی ادھر غصہ آیا نہیں اور ادھر کال کرکے یا واٹس ایپ پر سارے گھر والوں تک پہنچا دیا ۔ یہاں میڈم صاحبہ کا ” موڈ آف ” ہوا اور ادھر فیس بک پر اسٹیٹس اپ لوڈ ہو گیا ۔ اور اس کے بعد یہ سوشل میڈیا کا جادو ایسے ایسے گل کھلاتا ہے کہ پورے کا پورا خاندان تباہ و برباد ہوجاتا ہے یا نتیجہ خود کشیوں کی صورت میں نکلتا ہے۔

مائیں لڑکیوں کو سمجھائیں کہ خدارا ! اپنے شوہر کا مقابلہ اپنے باپوں سے نہ کریں ۔ ہوسکتا ہے آپکا شوہر آپ کو وہ سب نہ دے سکے جو آپ کو باپ کے گھر میں میسر تھا ۔ لیکن یاد رکھیں آپ کے والد کی زندگی کے پچاس ، ساٹھ سال اس دشت کی سیاحی میں گذر چکے ہیں اور آپ کے شوہر نے ابھی اس دشت میں قدم رکھا ہے ۔

آپ کو سب ملے گا اور ان شاء اللہ اپنی ماں سے زیادہ بہتر ملے گا اگر نہ بھی ملے تو بھی شکر گذاری کی عادت ڈالیں سکون اور اطمینان ضرور ملے گا ۔ بیویاں شوہروں کی اور شوہر بیویوں کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر تعریف کرنا اور درگذر کرنا سیکھیں ۔

زندگی میں عفو درگزر کو عادت بنالیں ۔ خدا کے لئے باہر والوں سے زیادہ اپنے شوہر کے لیے تیار ہونے اور رہنے کی عادت ڈالیں ۔ساری دنیا کو دکھانے کے لیے تو خوب ” میک اپ” لیکن شوہر کے لیے ” سر جھاڑ منہ پھاڑ ” ایسا نہ کریں خدا کو بھی محبت کے اظہار کے لیے پانچ دفعہ آپ کی توجہ درکار ہے ۔ ہم تو پھر انسان ہیں جتنی دفعہ ممکن ہو محبت کا اظہار کریں کبھی تحفے تحائف دے کر بھی کیا کریں ۔

قیامت کے دن میزان میں پہلی چیز جو تولی جائیگی وہ شوہر سے بیوی کا اور بیوی سے شوہر کا سلوک ہوگا ۔

یاد رکھیں مرد کی گھر میں وہی حیثیت ہے جو سربراہ حکومت کی ریاست میں ہوتی ہے ۔

اگر آپ ریاست کی بہتری کے بجائے ہر وقت سربراہ سے بغاوت پر آمادہ رہیں گے تو ریاست کا قائم رہنا مشکل ہوجاے گا ۔

جس کو اللہ نے جو عزت اور مقام دیا ہے اس کو وہی عزت اور مقام دینا سیکھیں چاہے آپ مرد ہیں یا عورت ایک مثالی گھر ایک مثالی خاندان تشکیل دیتا ہے اور ایک مثالی خاندان سے ایک صحت مند معاشرہ وجود میں آتا ہے اوریہی اسلام کی منشا ہے

تحریر: محمد ہاشم اعظمی مصباحی

نوادہ مبارک پور اعظم گڈھ یو پی

 9839171719

ان مضامین کو بھی پڑھیں

خود اپنی تعریف کرنے کی شرعی حیثیت

 فرانس کی اسلام دشمنی کا منظر نامہ

غیر مقلد وہابیہ اور کفر کلامی

نماز و تبلیغ کے نام پر دیوبندیوں کے ساتھ

 تکفیر دہلوی اور علماے اہل سنت و جماعت

بدعتی اور بد مذہب کی اقتدا میں نماز کا حکم

گمراہ کافرفقہی وکافر کلامی کی نمازجنازہ

ہندی مضامین کے لیے کلک کریں 

 

 

afkareraza
afkarerazahttp://afkareraza.com/
جہاں میں پیغام امام احمد رضا عام کرنا ہے
RELATED ARTICLES

1 COMMENT

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular

Recent Comments

قاری نور محمد رضوی سابو ڈانگی ضلع کشن گنج بہار on تاج الشریعہ ارباب علم و دانش کی نظر میں
محمد صلاح الدین خان مصباحی on احسن الکلام فی اصلاح العوام
حافظ محمد سلیم جمالی on فضائل نماز
محمد اشتیاق القادری on قرآن مجید کے عددی معجزے
ابو ضیا غلام رسول مہر سعدی کٹیہاری on فقہی اختلاف کے حدود و آداب
Md Faizan Reza Khan on صداے دل
SYED IQBAL AHMAD HASNI BARKATI on حضرت امام حسین کا بچپن