عظمت مصطفیٰ

حضور رحمت عالم کی سیر معراج اور اس کے چند اسرار و نکات قسط دوم

تحریر: سید اکرام الحق قادری مصباحی حضور رحمت عالم کی سیر معراج اور اس کے چند اسرار و نکات قسط دوم حضور ﷺ کا سینۂ مبارک چاک کرنے کے اسرار ( قسط اول پڑھنے کے لیے کلک کریں

حضور رحمت عالم کی سیر معراج اور اس کے چند اسرار و نکات

معتبر اور صحیح روایتوں سے ثابت ہے کہ شبِ معراج حضور ﷺ کا قلبِ اطہر چاک کیا گیا ۔یعنی جبریلِ امین نے آقاے دو عالَم ﷺ کے سینۂ اقدس کو چیر کر اُن کا دل نکالا اور اُسے غسل دیا۔

اِسی کو ’’ شقِّ صدر‘‘کہا جاتا ہے۔شقِّ صدر کے واقعات تین مرتبہ پیش آئے ۔ ہمیں اگرچہ اِن کی حقیقت کا علم نہیں ؛مگر اِن پر ایمان رکھنا لازم و ضروری ہے ؛کیوں کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے کچھ بھی بعید نہیں ہے۔

شقِّ صدر پہلی بار اِس لیے ہوا ؛تاکہ حضور ﷺ کے قلبِ اطہر سے جمے ہوئے خون کو نکا لا جا سکے ۔

دوسری بار اِس لیے ہوا؛ تاکہ حضور رحمتِ عالَم ﷺ کے دل میں پیغامِ الٰہی حاصل کرنے کی صلاحیت رکھی جا سکے۔

اور شقِّ صدر تیسری بار اِس لیے ہوا؛ تاکہ آپ کے قلبِ مبارک[با برکت دل] میں معراج کے واقعات مثلاً’’عالَمِ برزخ کے عجوبوں ، قدرت کی نشانیوں اور رب تبارک و تعالیٰ کے حسنِ ازلی کے جلووں‘‘ کو دیکھنے کی استعداد و لیاقت رکھی جا سکے۔

فتح الباری ج ۱۳:میں یہ روایت ہے کہ جب جبریلِ امین نے حضور ﷺ کے قلبِ اطہر کو دھویا تو فرمایا: یہ قلبِ صحیح ہے ، اِس میں دیکھنے والی دو آنکھیں اور سننے والے دو کان ہیں ۔

شبِ معراج حضور ﷺ کے قلبِ اطہر کو آبِ زم زم سے دھویا گیا اور اُسے ایمان و حکمت سے لبریز کیا گیا [الروض الانف ،ج ۱:،ص۱۱۰:]۔

معجزۂ شقِّ صدر کا یہ پہلو بھی قابلِ غور ہے کہ آقاے کریم ﷺ کا سینۂ پاک چاک کیا گیا ، دل باہر نکالا گیا اور اُسے بیچ سے چیرکر ایمان و حکمت سے بھرا گیا ۔

یہ سب کچھ اُن کی نگاہوں کے سامنے ہوا ، نہ اُنھیں بیہوش کیا گیا ، نہ اُنھوں نے کسی قسم کا کوئی درد محسوس کیا اور نہ ہی ایک قطرہ خون بہا ۔

معلوم ہوا کہ آقاے دو جہاں ﷺ کی بشریت بے نظیر و بے مثال ہے ، حضور ﷺ کائناتِ ہست و بود میں سب سے زیادہ بہادر ہیں اور ہمارے نبی ﷺ کا حال و مقام تمام لوگوں سے زیادہ بلند و بالا ہے۔

کیوں کہ کسی بھی بشر کے بارے میں یہ تصور نہیں کیا جا سکتا کہ اُس کا سینہ چاک کیا جائے اور اُسے بالکل دردنہ ہو ۔ چیرنا تو درکنار ، اگر کسی با ہوش شخص کےجسم میں ایک کانٹا بھی چبھو دیاجائے تو اس کی چیخیں نکل جائیں ، زبان باہر آجائے اوراُس پر بے قراری کی کیفیت طاری ہو جائے ۔

بلکہ میڈیکل سائنس کے اِس عروج کے زمانے میں بھی کسی کو بے ہوش کیے بغیر اُس کا ہارٹ آپریشن ممکن نہیں ۔ اِسی لیے ہمارے امام نے کہا تھا ۔

یہی بولے سدرہ والے چمنِ جہاں کے تھالے

سبھی میں نےچھان ڈالے تیرے پاے کا نہ پایا

واقعۂ شقِّ صدر سے یہ بھی ثابت ہوا کہ حضور ﷺ اپنی حیاتِ طیبہ میں دل کے محتاج نہیں ہے ۔ کیوں کہ نبی کریم ﷺ کا قلب نکالا گیا؛ مگر آپ کی زندگی میں کوئی فرق نہیں آیا ۔ ہر انسان اپنی بقا میں دل کا محتاج ہے مگر اِس قاعدے سے اللہ رب العزت نے اپنے محبوب ﷺ کو مستثنی رکھا ہے ۔

بلکہ واقعاتِ معراج اورحضور ﷺ کی سیرتِ پاک کے دوسرے پہلوؤں پر نظر ڈالنے سےمعلوم ہوتا ہےکہ حضور سید المرسلین ﷺ  اپنی حیاتِ طیبہ میں آب وہوا اورزمان ومکان؛ بلکہ کسی چیز کے محتاج نہیں ، جب کہ ہر ذی روح اِن چیزوں کی محتاج ہے ۔

قلبِ اطہر کو سونے کے طشت میں رکھنے کے اسرار 

معتبر روایتوں سے یہ بھی ثابت ہے کہ شقِ صدرکے بعد حضورﷺ کے قلبِ منور کو سونے کے برتن میں رکھا گیا ۔ علماے کرام نے اس کی یہ حکمتیں بیان فرمائی ہیں ۔

۔[۱] سونا تمام دھاتوں میں سب سے افضل ہے اور حضور ﷺ کا دل تمام دلوں میں سب سے افضل ہے ۔سب سے افضل قلب کے لیے سب سے افضل دھات کے طشت کا اہتمام کیا گیا ۔

۔[۲] سونے کو مٹی نہیں کھاتی اور حضراتِ انبیاے کرام علیہم السلام کے جسموں کو بھی مٹی نہیں کھاتی ، اِسی مناسبت کی وجہ سے حضور ﷺ کے قلب کے لیے سونے کا طشت لایا گیا ۔

۔[۳] دنیا میں مسلمانوں کو سونے کے برتنوں کے استعمال کی اجازت نہیں دی گئی ؛ لیکن جنت میں استعمال کریں گے اور جو نعمت عام مسلمانوں کو جنت میں ملے گی اللہ رب العزت نے وہ نعمت اپنے حبیب ﷺ کو دنیا ہی عطا کر دی ہے ۔

اِس لیے حضور ﷺ کے قلبِ اطہر کے لیےسونے کا طشت لایا گیا ۔ اِن حکمتوں کے علاوہ بھی بہت سی حکمتیں بیان کی گئی ہیں ۔

معراج کی رات براق کی سواری براق پر سواری کے اسرار
حضورِ اقدس ﷺ کے لیے شبِ معراج مسافت کو لپیٹا نہیں گیا کہ آپ کا ایک قدم مکۂ مکرمہ میں ہو تاور دوسرا قدم مسجدِ اقصی میں ۔ کیوں کہ بہت سے اولیا و صلحا کے لیے مسافت لپیٹی گئی ہے ۔

پس اگر حضورﷺ کے لیے بھی زمین لپیٹ دی جاتی تو اِس سے آپ کی امتیازی شان ظاہر نہ ہوتی ۔ اِس لیے اللہ رب العزت نے اپنے محبوب ﷺ کے لیے براق نامی سواری کا انتظام فرمایا؛ تاکہ حبیب ﷺ کی امتیازی شان ظاہر ہو ؛ کیوں کہ ایسی سواری پر سوار ہونا جو پل بھر میں مسافت کو طے کر لے حضراتِ انبیاے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ مخصوص
ہے ۔

براق کے مچلنے کے اسرار 

بعض حدیثوں میں آیا ہے کہ جس وقت نبی ﷺ براق پر سوار ہوئے تو وہ مچلنے لگا اور اچھلنے کودنے لگا ۔ حضرتِ جبریل علیہ السلام نے اُس نے فرمایا: یہ کیا ہے ؟ بخدا تجھ پر آج تک کوئی ایسی ذات سوار نہیں ہوئی جو اللہ کے نزدیک حضور ﷺ سے زیادہ معزز و مکرم ہو ۔

یہ سن براق شرمندہ ہو کر پسینہ پسینہ ہو گیا اور سکون و اطمینان کے ساتھ کھڑا ہو گیا ۔

علماے کرام نے براق کے مچلنے کی یہ وجہ بیان فرمائی ہے کہ براق شرارت سے نہیں ؛بلکہ فرحت و مسرت کی وجہ سے اچھل رہا تھا ، بلکہ یوں کہیے کہ وہ خوشی کے مارے جھوم رہا تھا ۔

اور بھلا کیوں کر نہ جھو متا جب کہ اُسے حضور رحمتِ عالم ﷺ کی سواری بننے کا شرف حاصل ہوا تھا ۔اور بعض مشایخِ کرام نے براق کے مچلنے کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ وہ حضور ﷺ سے یہ وعدہ لینا چاہتا تھا کہ قیامت کے دن بھی آپ اُس پر سواری فرمائیں گے ۔ جب حضور ﷺ نے وعدہ کر لیا تو وہ مطمئن ہو گیا ۔

دوزخ کے واقعات دکھانے کے اسرار 

سیرِ معراج میں حضور ﷺ کو عالَمِ برزخ کے کچھ واقعات کا مشاہدہ کرایا گیا ۔ مثلاًاُنھیں دکھا یا گیاکہ کچھ لوگ اپنے ہونٹوں کو قینچیوں سے کاٹ رہے ہیں ۔پھر بتایا گیا کہ یہ حضور کی امت کے وہ لوگ ہیں جو خود تو برائیاں کیا کرتے تھے

لیکن دوسروں کو نیکیوں کا حکم دیا کرتے تھے ۔ اِسی طرح زناکاروں اور سودخوروں کو مبتلاے عذاب دکھایا گیا ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حضور ﷺ کی امت میں ابھی ایسے لوگ پیدا ہی نہیں ہوئے تھے ،پھر اُن کے عذاب میں مبتلا ہونے کو کیسے دکھایا گیا ؟۔

شارحینِ حدیث نے اِس سوال کا جواب یہ عنایت فرمایا کہ حضور ﷺ کو جتنی بھی سزائیں دکھائی گئیں وہ سب دوزخ میں دیے جانے والے عذاب کی پیشگی مثالیں تھیں ؛ تاکہ حضور ﷺ کی آنے والی امت کو عبرت حاصل ہو اور وہ اِن گناہوں میں مبتلا ہونے سے بچے ۔

مسجدِ اقصی میں امامتِ انبیا کے اسرار

شبِ معراج تمام انبیاے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام نے حضور ﷺ کی اقتدا میں نماز ادا کرنے کا شرف حاصل کیا ۔ علماے کرام نے اِس امامت کی مندرجہ ذیل حکمتیں بیان فرمائی ہیں

۔[۱] اِس سے حضور ﷺ کی عظمت و شان کا اظہار مقصود تھا ؛ کیوں کہ تمام انبیاے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام نے مسجدِ اقصیٰ میں نمازیں پڑھیں ہیں ؛ مگر وہاں کی ایک نماز پر ایک ہی اجر ملتا رہا ۔

لیکن جب شبِ معراج حضورﷺ نے انبیاے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی امامت فرمائی تو اللہ رب العزت نے اپنے محبوب کے صدقے میں وہاں پڑھی جانے والی ایک نماز کا ثواب بچاس ہزار گنا زیادہ کر دیا ۔

اب قیامت تک جو مسلمان بھی مسجدِ اقصٰی میں ایک وقت کی نماز ادا کرے گا اُسے بچاس ہزار نمازیں ادا کرنے کا ثواب ملے گا ۔

۔[۲] اگر ہمارے آقا و مولا محمد مصطفیٰ ﷺ مسجدِ اقصی جا کر انبیاے کرام کی امامت نہ فرماتے توحضور ﷺ کی معراج تو ہو جاتی؛ مگر کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاے کرام معراج سے محروم رہ جاتے ۔

کیوں اللہ رب العزت کی بارگاہ تک پہنچ کر اُس کے حسنِ ازلی کا دیدار کرنا حضور ﷺ کی معراج تھی اور حضور ﷺ کے حسنِ بے مثال کا دیدار کرنا اور آپ کی اقتدا میں نما ادا کرنا انبیاے کرام کی معراج تھی ۔

۔[۳] تمام انبیاے کرام نے عالَمِ میثاق میں اللہ رب العزت سے، حضور نبی کریم ﷺ پر ایمان لانے اور اُن کی نصرت و حمایت کرنے کا وعدہ کیا تھا 

جب انھوں نے شبِ معراج حضور ﷺ کی اقتدا میں نماز پڑھ لی تو اُن کا وعدہ پورا ہوگیا ۔اگر حضور ﷺ مسجدِاقصیٰ تشریف نہ لے جاتے تو اُن کی معراج تو ہو جاتی؛ مگر حضرات انبیاے کرام کا وعدہ پورا نہ ہو پاتا۔

۔[۴] جملہ انبیاے کرام و مرسلینِ عظام حضور رحمۃ للعالمین ﷺ کے جمالِ جہاں آرا کی دید کے مشتاق تھے ۔

سب کے سب، شاہِ خوباں ﷺ کی ایک جھلک پانے کے لیے بے تاب تھے۔

اگر حضور ﷺ مسجدِ اقصیٰ جا کر اُن کی امامت نہ فرماتے تو اُن سب کی تمانائیں ادھوری رہ جاتیں ۔ جب آقاے دو جہاں ﷺ مسجدِ اقصیٰ میں آکر سب نبیوں کے امام بنے تو تمام نبیوں کی مرادیں بھی پوری ہو گئیں اور وہ سب حضور ﷺ کے رخِ زیبا کے دیدار سے شاد کام بھی ہو گئے ۔

آسمانوں پر جانے کے اسرار

متعدد روایتوں میں آیا ہے کہ شبِ معراج حضور ﷺ نے آسمانوں پر کئی انبیاے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام سے ملاقات کی ۔

پہلے آسمان پر حضرت آدم 

دوسرے پر حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ 

تیسرے پر حضرت یوسف ، چوتھے پر حضرت ادریس ، پانچویں پر حضرت ہارون 

چھٹے پر حضرت موسیٰ اور ساتویں پر حضرت ابراہیم علیہم الصلوٰۃ والسلام سےملاقات کی ۔

اور ہر آسمان کا دروازہ اس وقت تک نہیں کھلا جب تک حضرت جبریل علیہ السلام نے حضور ﷺ کا نام نہیں بتلایا۔

اِس سے معلوم ہوا کہ شبِ معراج حضور ﷺ کو عزت و کرامت کی ایسی شاہ راہ سے لے جایا گیا جو صرف حضور ﷺ کے ساتھ مخصوص تھی ۔ اِس سے واضح ہوتا ہے کہ عزت و کرامت کا کوئی بھی دروازہ نامِ محمد ﷺ کے بغیر نہیں کھلتا ۔ جسے عزت و کرامت چاہیے اُسے حضور ﷺ کے نام کی مالا جپنی چاہیے ۔

سدرۃ المنتہٰی سے گزرنے کے اسرار

سدرۃ المنتہیٰ وہ مقام ہے جس سے نیچے والے اوپر نہیں جا سکتے اور اوپر والے نیچے نہیں آ سکتے ۔

مگر شبِ معراج حضور ﷺ اوپر بھی گئے اور اوپر جاکر نیچے بھی آگئے ۔ اوپر جانے سے معلوم ہوا کہ نیچے والے حضور ﷺ کے مثل نہیں اور اوپر جاکر واپس آنے سے پتہ چلا کہ اوپر کی مخلوق حضور ﷺ کی طرح نہیں ۔ حضورﷺ کائنات میں بے نظیر و بے مثیل ہیں ۔

نیز یہ معلوم ہوا کہ کائنات کی مخلوق کے لیے رب تعالیٰ نے ایک ایسی حد مقرر فرمائی ہے جس سے وہ مخلوق آگے نہیں جا سکتی ؛ مگر حضور ﷺ کے لیے اُس نے کوئی حد مقرر نہیں فرمائی ۔ یہ آقاے دوجہاں ﷺ کی وہ شان ہے جس میں آپ یکتا و تنہا ہے ۔

حضور سرکارِ تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں 

مصطفاے ذاتِ یکتا آپ ہیں
یک نے جس کو یک بنایا آپ ہیں

آپ جیسا کوئی ہو سکتا نہیں
اپنی ہر خوبی میں تنہا آپ ہیں

اللہ رب العزت ہم سب کو اپنے محبوب داناے غیوب ﷺ کا مقام ومرتبہ سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور حضورِ اقدس ﷺ کی غلامی میں جینے مرنے کی سعادت مرحمت فرمائے !۔ آمین بجاہ حبیبہ الکریم ﷺ۔

از: سید محمد اکرام الحق قادری مصباحی عفی عنہ
صدر المدرسین دارالعلوم محبوبِ سبحانی کرلا ویسٹ ممبئی

قسط اول پڑھنے کے لیے کلک کریں 

ہندی مضامین کے لیے کلک کریں 

Leave a Comment

Your email address will not be published.

*