عظمت مصطفیٰ

شب معراج کے بعض نصیحت آموز واقعات

تحریر : سید اکرام الحق قادری مصباحی شب معراج کے بعض نصیحت آموز واقعات

شب معراج کے بعض نصیحت آموز واقعات

نبیِّ اکرم ﷺ کو معراج کی شب مسجدِ اقصیٰ لے جاتے ہوئے، عالمِ برزخ کے بعض واقعات کا مشاہدہ کرایا گیا تھا ، اُن میں ہمارے لیے درسِ عبرت ہے ، اس لیے کچھ واقعات پیش کیے جاتے ہیں ، پڑھیں اور نصیحت حاصل کریں ۔
امام بیہقی رضی اللہ عنہ’’ دلائل النبوۃ ج؍۲ ص۳۹۳:‘‘میں روایت کرتے ہیں کہ حضور ِ اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا 

میں نے شبِ معراج دیکھا کہ دستر خوان بچھے ہوئے ہیں اور اُن پر نہایت حسین ،لذیذ، بھنا ہوا اورپاکیزہ گوشت رکھا ہوا ہے اور دوسری جانب ایسے دستر خوان بچھے ہیں جن پر نہایت خراب، بد مزہ، سڑا ہوا اور انتہائی بدبودار گوشت رکھا ہوا ہے۔

کچھ لوگ عمدہ گوشت کو چھوڑ کر سڑا ہوا بدبودار گوشت کھا رہیں ۔میرے استفسار پر جبریلِ امین نے بتایا: یا رسول اللہ! یہ مثال آپ کی امت کے اُن لوگوں کی ہے جو دنیا میں حلال کو چھوڑ کر حرام کے پاس جائیں گے ۔

پھر میں کچھ آگے بڑھا تو کچھ ایسے لوگ نظر آئے جن کے پیٹ کوٹھریوں کی طرح [بڑے]ہیں ، وہ جب بھی اٹھنے کی کوشش کرتے گر جاتے اور کہتے : اے اللہ !قیامت کو قائم نہ کرنا ، ان کو سرکش جانور روند رہے تھے اور وہ اللہ تعالیٰ سے فریاد کر رہے تھے ، جبریلِ امین نےبتایا : یہ مثال آپ کی امت کے ان لوگوں کی ہے جو سود کھائیں گے ۔یہ لوگ قیامت کے دن اِس طرح اٹھیں گے جس طرح آسیب زدہ انسان اٹھتا ہے ۔

پھر میں آگے بڑھا تو کچھ ایسے لوگ نظر آئے جن کے ہونٹ اونٹ کے ہونٹوںکی طرح [موٹے اور بے ڈھنگے]ہیں ، اُن کے منہ میں پتھر ٹھونسے جا رہے ہیں اور وہ پتھر ان کے نچلے حصے سے باہر آ رہے ہیں ۔

وہ شدتِ درد سے چیخ رہے ہیں ، چلا رہے ہیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ سے فریاد کر رہے ہیں ۔ جبریلِ امین نے بتایا :یہ آپ کی امت کے اُن لوگوں کی مثال ہے جو ظلماً یتیموں کا مال کھائیں گے ،یہ لوگ در حقیقت اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہوں گے ۔

میں کچھ آگے بڑھا تو دیکھا کہ کچھ عورتیں سینوں کے بل لٹکی ہوئی ہیں اور اللہ رب العزت سے فریاد کر رہی ہیں ، میںنے کہا : اے جبریل ! یہ کون عورتیں ہیں ؟ اِن کا کیا جرم ہے ؟انھوں نے کہا: یا رسول اللہ !یہ آپ کی امت کی زنا کار و بد کار عورتوں کی مثال ہے

میں کچھ آگے بڑھا تو دیکھا کہ کچھ لوگ ہیں جن کے اغل بغل سے گوشت کاٹ کر انھی کوکھلایا جا رہا ہے اور ان سے کہا جا رہا ہے کہ اِسے کھاؤ جس طرح دنیا میں اپنے بھائی کا گوشت کھاتے تھے ۔میں نے پوچھا !۔

اے جبریل ! یہ کون لوگ ہیں ؟ اور اِنھیں کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے؟جبریلِ امین نے کہا: یا رسول اللہ !یہ آپ کے وہ[کم نصیب] امتی ہیں جو[دنیا میں] غیبت اور چغلی کریں گے 

اس کے بعد حضور ِ اقدس ﷺ ایسی قوم کے پاس سے گزرے جن کے سروں کو بڑے بڑے پتھروں سے کچلا جا رہا تھا اور جب سر کچل دیا جاتا تو وہ فوراً درست ہو جاتا اور اسے پھر کچل دیا جاتا ۔ جبریلِ امین نے بتایا : یہ آپ کی امت کے وہ لوگ ہیں، نمازِ فرض کے وقت جن کے سر بھاری ہو جاتے تھے [یعنی نماز کو بوجھ سمجھتے ہوئے جان بوجھ کر چھوڑتے تھے، یہ سخت سزا ایسے گنہ گاروں کے لیے ہے ]

حضور رحمتِ عالَم جانِ کائنات ﷺ مزید فرماتے ہیں میں نے کچھ ایسے لوگوں کو بھی دیکھا جو جہنم کے کانٹے دار درخت’’ زَقُّوْمْ ‘‘کو جانوروں کی طرح چر رہے تھے اور اپنے منہ میں انگارے ڈال رہے تھے ۔

جبریلِ امین نے میرے استفسار پر بتایا: یہ آپ کی امت کے اُن لوگوں کی مثال ہے، جو[صاحبِ نصاب ہونے کے باوجود] زکات ادا کرنے سے جی چرائیں گے [اور فقیروں کا حق خود ہڑپ کر جائیں گے]

پھر میں نے کچھ ایسے لوگوں کو دیکھا جن کی زبانیں آگ کی قینچیوں سے کاٹی جا رہی تھیں [اور یہ عمل اُن کے ساتھ مسلسل کیا جا رہا تھا ]جبریلِ امین نے کہا: یا رسول اللہ! یہ آپ کی امت کے فتنہ پرور خطیبوں کی مثال ہے ۔

اس حدیثِ پاک سے ’’حرام کھانے والے ، سود و بیاج کا کاروبار کرنے والے ، یتیموں کا مال ہڑپ کر جانے والے، زنا و بدکاری کرنے والے ،نمازوں کو ترک کرنے والے ، زکات کی ادائےگی سے کترانے والے اور لوگوں میں فتنہ و فساد پیدا کرنے والے خطبا و مقررین،، عبرت و نصیحت حاصل کریں !۔

اور غور کریں کہ اللہ نے اُن کے لیےکیسا سخت عذاب تیار کر رکھا ہے ۔ اور بغیر تاخیر کیے رب تبارک و تعالیٰ کی بارگاہ میں سچی توبہ کریں۔اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کو توفیقِ خیر سے سرفراز فرمائے ۔آمین یا رب العالمین بجاہ حبیبک سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم

تحریر: سید محمد اکرام الحق قادری مصباحی۔
صدر المدرسین دارالعلوم محبوب سبحانی کرلا ممبئی ۔
و صدر تحریک فروغ اسلام شاخ کرلا ۔
پیش کش : نور ایمان اسلامک آرگنائزیشن کرلا ممبئی ۔

اس کو بھی پڑھیں: حضور رحمت عالم کی سیر معراج اور اس کے چند اسرار و نکات

ہندی میں مضامین پڑھنے کے لیے کلک کریں 

Leave a Comment

Your email address will not be published.

*