Tuesday, May 21, 2024
Homeاحکام شریعتایک عید گاہ میں ایک ہی دن ایک سے زیادہ مرتبہ نمازِ...

ایک عید گاہ میں ایک ہی دن ایک سے زیادہ مرتبہ نمازِ عید پڑھ سکتے ہیں یا نہیں

کتبہ: مفتی محمد ایوب مصباحی صاحب  ایک عید گاہ میں ایک ہی دن ایک سے زیادہ مرتبہ نمازِ عید پڑھ سکتے ہیں یا نہیں ؟

ایک عید گاہ میں ایک ہی دن ایک سے زیادہ مرتبہ نمازِ عید پڑھ سکتے ہیں یا نہیں


کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ عید الفطر کی نماز ایک ہی مسجد میں الگ الگ امام کتنی مرتبہ جماعت کراسکتا ہے؟

سائل: مولانا شاہ عالم رضوی منظری خطیب و امام مسجد حسین سنگہ رڈی، تلنگانہ، حیدراباد۔
١١/مئی ٢٠٢١ء بروز منگل مطابق ٢٨/رمضان المبارک ١٤٤٢ھ۔

الجواب بعون المعین الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب۔ صورت مستفسرہ میں نماز عیدین و جمعہ الگ الگ امام ایک سے زیادہ مرتبہ کراسکتے ہیں بشرطیکہ کہ وہ صاحب اختیار امام ہوں۔

جیساکہ فتاوی رضویہ کے حوالے سے”فتاوی فیض الرسول میں باب العیدین ج:١،ص:٤٣٠ پر ہے:” اگر دونوں اماموں کو عید کی نماز قائم کرنے کا اختیار تھا تو دونوں نمازیں جائز ہوگئیں۔ ھکذا قال الامام أحمد رضا البریلوی فی الجزء الثالث من الفتاوی الرضویہ علی صفحۃ ٨١٣۔”۔

امام کے مختار ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اسے قاضی نے امامت جمعہ کے لیے معین ومشخص کیا ہو، نہ یہ کہ فوری طوری پر دس پچاس لوگوں نے کسی کو امام بنالیا اور نماز پڑھانے کے لیے آگے بڑھادیا جیساکہ “فتاوی مرکزتربیت افتاء” باب الجمعة والعیدین، ج:١،ص:٣١٨ پر بحوالہ تنویر الابصار ودرمختار ہے:۔

۔”ایک مسجد میں دومرتبہ جمعہ کی نماز پڑھنا ناجائز ہے۔ اس لیے کہ نماز جمعہ کے لیے ضروری ہے کہ امام خود سلطان اسلام ہو یا اس کا مقرر کردہ ماذون ہو اور یہ نہ ہو تو بضرورت وہاں کے مسلمانوں نے جسے امامت جمعہ کے لیے معین مقرر کیا ہو

اور مسجد واحد کے لیے دو امام کی ضرورت نہیں، کہ عوام ازخود مقرر کرلیں۔ ہاں اگر مسجد تنگ ہو اور وہاں کوئی سنی جامع مسجد بھی نہ ہو تو اراکین مسجد سنی قاضی کے یہاں اس کی درخواست پیش کریں اگر قاضی ضرورت سمجھے تو ایک اور لائق امام شخص کو امامت جمعہ کی حیثیت سے مقرر کردے۔

اب بوجہ ضرورت باری باری دونوں کی اقتدا میں نماز درست ہوگی۔ لیکن ایک امام کی اقتدا میں دو جماعت ہرگز جائز نہیں۔

تنویر الابصار ودرمختار میں ہے:۔ ویشترط لصحتھا السلطان او مامورۃ باقامتھا، لوصلی أحد بغیر اذن الخطیب لایجوز الا اذااقتدی بہ من لہ ولایۃ الجمعة، وقالوا یقیمھا أمیر البلد ثم الشرطی ثم القاضی ثم من ولاہ قاضی القضاۃ، ونصب العامة غیر معتبر مع وجود من ذکر، أما مع عدمھم فیجوز للضرورۃ۔ ملخصا (باب الجمعۃ، ج:٢، ص:١٣٧تا١٤٣)


کتبہ: محمد ایوب مصباحی

پرنسپل دار العلوم گلشنِ مصطفی، بہادرگنج ،سلطان پور

ٹھاکردوارہ، مراداباد، یو۔پی۔
موبائل نمبر:8279422079

ان مضامین و مسائل کو بھی پڑھیں

کیا وتر کی نماز با جماعت مکروہ تحریمی

کیا نماز جنازہ مکروہ وقت میں ہوسکتی ہے

عید الفطر انعام الہی کا دن  

عید الفطر رب کی عبادت اور غریبوں کی اعانت کا دن 

اعتکاف کی روحانی برکتیں اور لاک ڈاؤن

اعتکاف کے فضائل و مسائل : از قلم مفتی شاکر القادری فیضی

رمضان میں کیا کریں 

استقبال ماہِ رمضان المبارک

برکتوں و فضیلتوں کا مہینہ رمضان المبارک 

 اللہ تعالیٰ کی انسان پر رمضان کے بہانے انعامات کی بارش

 ہمارے لیے آئیڈیل کون 

 ناموس رسالت ﷺ کا تحفظ لازم ہے

تحفظ ناموس رسالت ﷺ مسلمانوں کا اولین فریضہ 

 تحفظ ناموس رسالت میں اعلیٰ حضرت کے نمایاں کارنامے

ہندی مضامین کے لیے کلک کریں 

हिन्दी में आर्टिकल्स पढ़ने के लिए क्लिक करें 

ONLINE SHOPPING

گھر بیٹھے خریداری کرنے کا سنہرا موقع

  1. HAVELLS   
  2. AMAZON
  3. TATACliq
  4. FirstCry
  5. com
  6. Flipkart
  7. Bigbasket
  8. AliExpress
  9. TTBazaar

 

 

afkareraza
afkarerazahttp://afkareraza.com/
جہاں میں پیغام امام احمد رضا عام کرنا ہے
RELATED ARTICLES

1 COMMENT

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular

Recent Comments

قاری نور محمد رضوی سابو ڈانگی ضلع کشن گنج بہار on تاج الشریعہ ارباب علم و دانش کی نظر میں
محمد صلاح الدین خان مصباحی on احسن الکلام فی اصلاح العوام
حافظ محمد سلیم جمالی on فضائل نماز
محمد اشتیاق القادری on قرآن مجید کے عددی معجزے
ابو ضیا غلام رسول مہر سعدی کٹیہاری on فقہی اختلاف کے حدود و آداب
Md Faizan Reza Khan on صداے دل
SYED IQBAL AHMAD HASNI BARKATI on حضرت امام حسین کا بچپن