شخصیات

علم کا شیدائی حضور تاج الشریعہ

تحریر: غلام مصطفیٰ نعیمی علم کا شیدائی حضور تاج الشریعہ

علم کا شیدائی حضور تاج الشریعہ

انیس سال کا بانکا سجیلا خوب رو جوان مروجہ علوم وفنون کی دستار سر پر سجائے اہل خانہ کی آنکھوں کا تارا بنا ہوا تھا۔

مگر آنکھوں میں علم کی تہوں تک جانے کا جذبہ رہ رہ کر انگڑائیاں لے رہا تھا۔ایک طرف زمانہ اس جوان کے علمی اٹھان اور فقہی شباب کو دیکھ کر اسلاف کی یاد تازہ کر رہا تھا

مگر اس جوان کی طبیعت “ھل من مزید” کی طرف مائل تھی۔والد گرامی سے اپنے بیٹے کی یہ کیفیت پوشیدہ نہ تھی۔کچھ مخصوص احباب سے مشورہ کرنے کے بعد والد گرامی نے ایک بڑا فیصلہ کر لیا۔

سنو شہزادے!۔

جی اباّ حضور!۔

جوان نے نہایت سعادت مندی سے والد گرامی کو جواب دیا اور بہ کمال نیاز مندی سر جھکا کر ہمہ تن گوش ہوگیا۔

میرے لخت جگر!۔

آپ صرف میری ہی نہیں بلکہ اس عظیم خانوادے اور پوری جماعت کی امید ہو۔زمانہ ٹک ٹکی لگائے اُس شہزادے کا منتظر ہے جو اپنے اجداد کی علمی وراثت کا سچا جانشین ہو اور عالم اسلام کی علمی ودینی خدمات کا حق ادا کرنے کی استعداد رکھتا ہو۔

میرے چاند سے حسین بیٹے!۔

منصب کمال بغیر مشقت کے حاصل نہیں ہوتا۔ہر عروج کے پس منظر میں صاحب عروج کی انتھک محنتیں اور قربانیوں کی انمٹ داستان پوشیدہ ہوتی ہے تب کہیں جاکر عزت وکمال کا منصب عظمی حاصل ہوتا ہے۔

جان پدر!۔

تمہاری آنکھوں میں مجھے وہ چمک نظر آتی ہے جس کے لیے تمہارے اجداد مشہور رہے۔اس لیے میں چاہتا ہوں کہ تم عالم اسلام کی سب سے قدیم درس گاہ میں جاکر اکتساب علم کرو اور علم وفن کے نئے جہانوں کی تلاش کرو۔

حالانکہ میرا دل تمہاری جدائی کے خیال سے ہی بیٹھ جاتا ہے مگر اجداد کی امانت اور ملت اسلامیہ کی آرزوؤں کا خیال آتا ہے تو راتوں کی نیند اڑ جاتی ہے۔

سوچتا ہوں کہ میرے دادا جان اور بابا کی روشن کی ہوئی علمی شمع کمزور نہ پڑ جائے اس لیے اس علمی چراغ میں تمہیں اپنی محنت ومشقت کا لہو ڈالنا ہے تاکہ اس کی لو تیز سے تیز تر ہو اور زمانہ اس کی روشنی میں صلاح وفلاح کا راستہ طے کر سکے!!۔

چند جملوں میں باپ نے پدرانہ شفقت، سوز وکرب ، ملی تڑپ ، غم امت، جدی امانت اور سینے میں اٹھ رہا سارا درد وکرب بیان کردیا۔کہتے ہوئے آنکھیں نم ہوگئیں مگر یہ آنسو صرف درد یا جدائی کا اظہاریہ نہیں تھے بلکہ آنسوؤں کی چمک اس عزم ویقین کا پتہ دے رہی تھی کہ عن قریب اُن کا شہزادہ علم وفضل کے اس مقام پر فائز ہوگا جس کی تمناؤں میں بڑے بڑے فرماں روا اور فلاسفر ناکام رہے۔

سعادت آثار بیٹے نے آگے بڑھ کر والد گرامی کو ہاتھوں کو بوسہ دیا، آنکھوں سے لگایا اور ادب کے ساتھ عرض کیا:۔
ابا جان!۔
میں اپنے رب کا جتنا شکر ادا کروں تو کم ہے، جس نے وراثت نبوی کی پر نور وادیوں میں جانے کا ایک اور حسین موقع عطا کیا۔

اپنے مقدر پر نازاں ہوں کہ اجداد کی علمی وراثت کے لیے آپ کی زمانہ شناس نگاہوں نے میرا انتخاب کیا۔

آپ مطمئن رہیں میں طلب علم کی راہ میں ہر درد کو دوا اور ہر تکلیف کو راحت جان سمجھوں گا۔اکتساب علم کے اس سفر میں کیسی ہی پریشانیاں آئیں مگر آپ کا بیٹا عزم وحوصلے کی چٹان بن کر ثابت قدم رہے گا اور اپنے اجداد کی علمی وراثت کے لیے اپنے تمام رنج و غم شربت شیریں کی طرح پی کر آپ کی تمناؤں کی تکمیل کرے گا۔

جلد ہی پورے خاندان کی دعاؤں کا تحفہ لے کر یہ جوان عالم اسلام کی سب سے قدیم درس گاہ “جامعہ ازہر مصر” کے لیے روانہ ہوگیا۔

دن ہفتوں، ہفتے مہینوں اور مہینے سالوں کا سفر طے کرتے رہے۔ابھی دو سال ہی کا سفر طے ہوا تھا کہ اچانک خبر ملی کہ عزیز از جان والد دار فانی سے دار بقا کو کوچ کر گئے۔

آہ!۔
دیار پردیس میں نازوں کا پالا لاڈلا شہزادہ اکیلا تھا۔واپس جاکر شفیق والد کی شفقتوں کو سمیٹنے اور ان کی محبتوں کی چھاؤں میں بیٹھنے کی تمنا ہلورے مارتی تھی مگر آج اس خبر وحشت نے دل کی دنیا کو تہہ وبالا کر ڈالا۔

سوچا تھا کہ جامعہ ازہر سے علمی رفعتوں کا تاج سجا کر والد گرامی کی آنکھوں کو ٹھنڈا کروں گا مگر قسمت نے اتنا موقع ہی نہیں دیا اور جس مہربان باپ نے اپنی محبت واپنائیت کی چھاؤں میں رخصت کیا تھا آج وہی شجر سایہ دار رخصت ہوگیا۔

دل کا درد آنکھوں سے آنسو بن کر نکلنے لگا۔پورا وجود درد کی شدت سے لرز رہا تھا۔رہ رہ والد کی شفقتیں یاد آتیں تو آنکھوں سے برستا ساون اور تیز ہوجاتا۔رنج وغم کی لہریں پورے وجود کو حصار میں لے چکی تھیں اچانک والد گرامی کے الفاظ کانوں میں گونجے:۔

“میرے چاند سے حسین بیٹے!۔
منصب کمال بغیر مشقت کے حاصل نہیں ہوتا۔ہر عروج کے پس منظر میں صاحب عروج کی انتھک محنتیں اور قربانیوں کی انمٹ داستان پوشیدہ ہوتی ہے۔تب کہیں جاکر عزت وکمال کا منصب عظمیٰ حاصل ہوتا ہے۔”۔

الفاظ کا گونجنا تھا کہ والد کی آنکھوں کے چمکتے آنسو اور آنسوؤں میں پنہاں عزم ویقین کی وہ چمک بھی یاد آگئی۔ جس قربانی کا والد نے ذکر کیا تھا آج اسی قربانی کا وقت تھا۔اس یاد کا آنا تھا کہ سارا درد دل میں ہی روک لیا۔بہتے ہوئے آنسوؤں کو ضبط کیا اور قلم اٹھا کر درد دل کو لفظوں کا لباس پہنا دیا:۔

کس کے غم میں ہائے تڑپاتا ہے دل
اور کچھ زیادہ امنڈ آتا ہے دل

ہائے دل کا آسرا ہی چل بسا
ٹکڑے ٹکڑے اب ہوا جاتا ہے دل

کون جانے رازِ محبوب و محبـ
کیوں لیا جاتا، دیا جاتا ہے دل

جاں بحق تسلیم ہو جانا ترا
یاد کر کے میرا بھر آتا ہے دل

ان اشعار کے ساتھ ہی درد سے بے چین دل کو سکون ملا اور اس جوان نے نہایت صبر واطمینان کے ساتھ والد گرامی کے رفع درجات کے لیے قرآن خوانی اور فاتحہ کا اہتمام کرکے ایصال ثواب کیا۔دل تو چاہتا تھا کہ اسی وقت گھر واپس لوٹ جائیں۔

مگر والد کی نصیحت، خاندان کی امیدیں، امانت اسلاف کا خیال اور ملت اسلامیہ کی خدمت کے جذبے نے دل کو اس قدر توانا کردیا تھا کہ درد دوا بن گیا۔سینے میں اٹھتی ہوئی درد کی لہریں وہیں دب کر رہ گئیں اور یہ جوان پھر سے حصول علم میں مصروف ہوگیا۔

یوں تو اب تک بھی نہایت جاں فشانی سے علمی منزلیں طے کی جارہی تھیں مگر والد کے وصال نے دل کی دنیا پر ایسا اثر ڈالا تھا کہ شب وروز والد کے الفاظ کانوں میں گونجتے تھے۔

اب تو ایک ایک لمحہ علمی رفعتوں کے حصول میں گزر رہا تھا۔اس جوان کی شبانہ روز محنتیں ضائع نہ گئیں اور ٹھیک ایک سال کے بعد وہ وقت بھی آیا کہ جب اس جوان نے پورے مصر میں سب سے زیادہ نمبرات کے ساتھ کامیابی حاصل کرکے جامعہ ازہر میں تاریخ رقم کی۔

آپ جانتے ہیں علم وفضل کی بہاروں کی خاطر والد کی وفات کا غم اٹھانے والا یہ خوب رو جوان کون تھا؟؟۔ 

یہ جوان کوئی اور نہیں وارث علوم اعلی حضرت ،جانشین مفتی اعظم ہند، تاج الشریعہ الشاہ مفتی محمد اختر رضا قادری علیہ الرحمہ تھے۔

جو اپنی علمی جاں گسلی اور قربانیوں کی بدولت عالم اسلام کے افق پر امام احمد رضا کی فقہی تجلیات کا آفتاب بن کر چمکے۔جن کے تصلب فی الدین کی وجہ سے کتنوں کے عقائد ونظریات درست ہوئے۔جن کی تقوی شعار زندگی نے گمراہوں کو راہ ہدایت عطا کی۔جو اپنے کریم کے ایسے گدا بن کر جئے جس کے آگے دنیا کی ہر چیز پارہ ناں کی طرح ہیچ تھی۔

جنہوں نے ہواؤں کے خلاف عزم واستقامت کے چراغ روشن کئے۔جس کی روشنی میں آج بھی ملت اسلامیہ فلاح وظفر کا سفر طے کر رہی ہے۔جو اپنے آپ میں ایک انجمن اور میر قافلہ تھے۔

جن کی فکری بلندی کے آگے ہمالہ کی بلندی بھی پست نظر آتی ہے۔جو امام احمد رضا کے تفقہ، حجۃ الاسلام کے اخلاص اور مفتی اعظم ہند کے تقوی وپرہیزگاری کی چلتی پھرتی تصویر تھے۔جن کا آستانہ آج بھی عشق رسالت کی درس گاہ بنا ہوا ہے۔جن کی لحد سے آج بھی یہ آواز آتی ہے:۔

داغ عشق نبی لے چلو قبر میں
ہے چراغ لحد روشنی کے لیے

تحریر: غلام مصطفیٰ نعیمی

رکن : روشن مستقبل ،دہلی

حضور تاج الشریعہ کی مقبولیت کا راز 

حضور تاج الشریعہ ارباب علم و دانش کی نظر میں 

 

Leave a Comment

Your email address will not be published.

*