شخصیات

حضرت مخدوم سید اشرف جہانگیر

داستانِ سفر دیار مرشد سے دیار مرشد تک یعنی مخدوم العالم، قطب بنگال، گنج نبات، حضرت شیخ علاء الحق پنڈوی رحمۃاللہ علیہ کی بارگاہ سے حضرت مخدوم سید اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃ اللہ علیہ کا ابتدا ، و انتہا سفر ۔ترتیب مفتی عبد الخبیر اشرفی مصباحی۔ مصنف آئینہ ہندوستان اخی سراج الدین عثمان احوال و آثار ۔

حضرت مخدوم سید اشرف جہانگیر

دیار مرشد سے روانگی۔۔۔۔۔1243 عیسوی ۔مطابق742ھ۔ کا زمانہ تھا تغلق خاندان کی حکومت تھی مخدوم سید اشرف جہانگیر علیہ الرحمہ کو اپنے پیرومرشد مخدوم شیخ علاءالحق پنڈوی علیہ الرحمہ کی تربیت میں ساڑھے چھ سال گزر چکے تھے ایک دن مخدوم العالم علیہ الرحمہ نے مخدوم سید اشرف سے کہا فرزند اشرف! اب ایسا وقت آ چکا ہے کہ تم مسند ارشاد پر جلوہ فگن ہو کر اپنا فیض جاری کرو لوگ تم سے استفادہ کریں،بندگان خدا کو تمہاری ہدایت سے نور ایمان نصیب ہو اور گم گشتگان بادیۂ ضلالت کو تمہاری شمع ہدایت سے رہنمائی حاصل ہو۔

اس کام کے لیے تم کو مجھ سے دور جانا ہوگا یہ فرمان عالیشان سن کر مخدوم سید اشرف پر غم کے پہاڑ ٹوٹ پڑے جسم پر رعشہ طاری ہوگیا کپکپاتے لبوں سےعرض گزار ہوئے میں نے عیش و آرام کی زندگی کو نہج دیا ،سمنان و ایران کی سلطنت کو تک کیا، محنت و مشقت سفر جھیلا، عزیز واقارب، دوست و احباب اور خدم و حشم سے بے تکلف ہوا۔

یہ سب اس لیے کیا کہ آپ کی چوکھٹ پر حیات مستعار کا لمحہ لمحہ قربان کروں، اس در کی مروجہ جنبانی سے راحت و سکون پاؤں، دراقدس کے فیوض و برکات سے مجھے دور نہ کیجئے۔

مخدوم العلم نے فرمایا فرزند اشرف!۔یہ فیصلہ تنہا میرا نہیں ہے بلکہ اس میں مرضی الہی شامل ہے اس غیر متوقع جواب سے سید اشرف کا سرنگوں ہوا، زبانِ حال وقال گویا ہوئی مرضی مولیٰ از ہمہ اولیٰ۔

رمضان گزرا عید آئی عبادتوں اور خوشیوں کا موسم گزرا،مخدوم العالم علیہ الرحمہ نے رخت سفر باندھنے کا حکم ارشاد فرمایا۔ عالم و نقارہ خدو حشم ساتھ کردیئے گئے۔ مخدوم العالم نے مرید خاص کو لمبا فاخرہ زیب تن کرایا۔ شہر میں کہرام مچ گیا، اشرف بنگال سے رخصت ہوا جاتا ہے، سارا شہر آستانۂ عالیہ علائیہ میں امنڈ آیا۔

امیروغریب،ادنیٰ واعلی ،مردوزن ،بچے و بوڑھے سبھی آئے۔سبھی کی زبان پر کلمۂ مفارقت جاری ہیں اشرف کی آنکھوں سے سیل اشک رواں ہیں ،فرزند اشرف کے قافلہ کو الوداع کہنے کے لیے خود مخدوم العالم ایک کوس تک نکل آئے آخری لمحات ہیں درد جدائی سے دونوں طرف کچوکے نکلنے شروع کر دیئے ہیں۔

بالآخر آنکھیں دوچار ہوئیں، اور زبان کی جگہ آنسوں نے کلام کیا ۔ بمشکل زبان سے خدا حافظ کی الفاظ ادا ہوئے۔ مخدوم العالم اپنی خانقاہ کی طرف افسردہ خاطر واپس ہوئے اور مخدوم سید اشرف غم والم گم سم ہو کر سر جھکائے پابہ رکاب ہوں۔

شاہی لباس، شاہانہ سامان سفر ،امیرانہ چال ڈھال اور ملوکانہ دبدبہ کے ساتھ سید اشرف جہانگیر کا قافلہ جانب منزل رواں دواں ہے راستے میں ایک مقام آیا ارول شاید صوبہ بہار کے کسی خطے کا نام ہے یہاں ایک بزرگ شیخ سمن ارولی رہا کرتے تھے ،فقیرانہ لباس تھا اور تصوفانہ رنگ وآہنگ۔جب اشرف کی آمد کی خبر سنی شوق زیارت نے انگڑائی لی ، آنکھیں فرش وار ہوئی،سراپا منتظر قدوم ہوگئے۔

مگر جب قافلۂ مخدوم سید اشرف پر نظر پڑی، دل میں خیال پیدا ہوا درویشوں کو امیروں کی شان اچھی نہیں لگتی، شان و شوکتِ شاہانہ اور خیمہ و خرگاہ امیرانہ سے ایسی عظیم ہستیوں کو بے تعلق رہنا۔ سید اشرف قریب ہے نگاہیں دوچار ہوئی، دل کی بات دل میں اتری، مخدوم سید اشرف کی قلب نوری شعاؤں نے شیخ ارولی کے تختۂ دل پر کندہ الفاظ پڑھے لیے گویا ہوئے۔

اے برادر ! ۔۔۔۔میخ طویلہ در گل زادہ ام نہ دردِ دل۔ یعنی۔۔۔۔برادر گرامی یہ دنیاوی سازوسامان کے لیے اشرف کے دل میں کوئی جگہ نہیں یہ تو محبوب کے ساتھ سرگوشی کے اسباب ہیں جو پردے کا کام دیتے ہیں۔

 

شب قدر عنایات الٰہی کی مقدس رات

محمد آباد گہنہ

کہتے ہیں کہ اسی سفر میں مخدوم سید اشرف کی آمد محمدآباد گہنہ میں ہوئی تھی محمد آباد ایک قدیم تاریخی شہر ہے یہاں سے سیر شاہ سوری کا بھی گزر ہوا تھا مخدوم سید اشرف جہانگیر جس دور میں اس علاقہ میں آئے تھے اس وقت اس کی کیا حالت رہی ہوگی واضح نہیں ہے 19 نومبر 1988 سے یہ قصبہ ضلع مئو میں شمار کیا جاتا ہے۔

یہاں مخدوم سید اشرف کا قافلہ ایک باغ میں اپنا ڈیرہ تنبو ڈالا آپ کی آمد کی خبر آناً فاناً بجلی کی طرف پھیل گئی۔ عوام و علما کا جم غفیر جمع ہوگیا لوگ آتے گئے اور سلام نیاز مندانہ پیش کر کے واپس ہوتے گئے۔ ایک جماعت علما وفضلا کی آئیں ان کے ساتھ دیر تک معارف و حقائق کا بیان ہوتا رہا۔ درمیان مناقب صحابہ کی بات آگئی۔ مخدوم سید اشرف نے اپنی تصنیف لطیف ‌مناقب اصحاب کاملین و مراتب خلفائے راشدین کا ذکر کیا۔

علما کو اشتیاق مطالعہ ہوا، کتاب ساتھ تھی دیدی گئی،دے دی گئی، کتاب دیکھ کر علما کی آنکھیں روشن ہوئی، زبان کلمات تحسین سے تر ہوئیں۔ لیکن فاضل جلیل قاضی احمد معترض ہوئے کتاب میں دیگر صحابہ کی بنسبت حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم کا ذکر زیادہ تھا۔ اس مسئلہ کو لے کر کئی روز تک بحثیں ہوئیں ایک عالم دین نے حضرت مخدوم کی حمایت میں ایک تاریخی جملہ ادا کیا جو آج بھی صفحات تاریخ پر روشن و تاباں ہے۔

وہ جملہ یہ ہیں۔الناس ابناء الدنیا و لا یلام الرجل علی حب ابویہ و مدھما۔یعنی لوگ فرزند دنیا ہیں کسی آدمی پر اپنے والدین سے محبت رکھنے یا ان کی تعریف کرنے پر ملامت نہیں کی جاتی ہے۔۔۔ اسی جملہ پر بحث تمام ہوئی اور یہ مختصر قافلہ اپنی اگلی منزل کی طرف گامزن ہوگیا۔

ظفر آباد

مخدوم سید اشرف کا مختصر قافلہ سوئے منزل قدم بقدم بڑھتاجارہاہے اصحاب طریقت ہمرائیاں نے سفر مخدوم سید اشرف جہانگیر کے جلووں میں محو خرام ہے اگلا پڑاؤ کہاں ہو گا کسی کو معلوم نہیں قافلہ جھومتا جھومتا جعفرآباد تک پہنچ گیا ظفرآباد ایک قدیم شہر ہے جونپور سے اس کا فاصلہ تقریبا دس کلومیٹر ہے قدیم دور میں یہ خطہ روحانیت کا قلعہ تھا۔

شیخ صدرالدین حاجی چراغ ہند اور شیخ شمس الدین ظفر آبادی کے فیوض و برکات سے مالا مال تھا اترپردیش کے وارانسی ریلوے ڈویژن کے ماتحت ہے اور جون پور ضلع کا ایک گاؤں شمار ہوتا ہے۔

مخدوم اشرف سفر میں ہوتے ہوئے مسجد میں قیام کرتے یہاں بھی آپ نے مسجد ظفر خاں میں اسباب اتروایا سواری کے جانور صحن مسجد میں باندھے گئے یہ حالت دیکھ کر شہر میں ہنگامہ برپا ہوگیا۔کانا پھوسی اور سرگوشیاں بڑھ گئی برق رفتاری عوام وجہلا طلباء و علماء مشائخ واصحاب طریق تک بات پہنچ گئی ۔ عجیب درویش ہیں مگر صحن مسجد میں جانور باندھ رکھا ہے۔

کچھ علماء ہو طلبہ بغرض اعتراض آئے ان کے آتے ہی جانوروں نے اشارے سے دیئے آپ نے فرمایا اس جانور کو باہر لے جاؤ یہ پیشاب کرے گا اس کو لے جاؤ یہ لید کرے گا پھر خود ہی فرمانے لگے جانوروں کا مسجد میں باندھنا نجاست و غلاظت کی وجہ سے ممنوع ہے وہ علت اب باقی نہ رہی مگر مقتضائے ادب یہی ہے کہ جانوروں کو مسجد میں نہ باندھے ۔

ہم مسافر ہیں حفاظت کا ہمارے پاس کوئی انتظام نہیں ہے مجبورا صحن مسجد میں باندھ رکھا ہے یہ حکیمانہ کلام سن کر معترضین خود اٹھ کر چلے گئے۔

ظفرآباد میں مخدوم سید اشرف سے کی کرامتیں صادر ہوئیں کثیر تعداد میں عوام و علماء نے شرف بیعت حاصل کیا چوروں اور رہزنوں کا ایک گروہ تائب ہوا۔ اس درمیان ایک خاص واقعہ رونما ہوا کہ ظفرآباد سے قریب ہی سرور پور نامی ایک گاؤں تھا یہاں ایک نوجوان عالم دین کبیر نام رہتے تھے ان کو مرشد کی تلاش تھی۔

مولانا کبیر نے خواب دیکھا کہ ایک بزرگ نورانی صورت، میانہ قد، سرخ بالوں والے آئے ہیں۔ اور نان و شربت سے ان کی ضیافت کی ہے۔ اس دور میں شیخ زکریا ملتانی کے خلیفہ شیخ ابوالفتح رکن الدین کے مامو زاد شیخ صدر الدین عرف حاجی چراغ ہند کا بڑا غلغہ تھا۔ وہ فضائل صوری و معنوی کے جامع تھے حافظ و قاری قرآن کریم تھے۔ سات بار مناسک حج پا پیادہ ادا کرچکے تھے دوردراز علاقوں تک ان کی شہرت تھی۔

مولانا کبیر نے سمجھا خواب والے بزرگ وہی ہیں بیعت ہونے کے لیے آگئے۔ مگر جب شکل دیکھی تو دل نے گواہی نہیں دی۔ بیعت ملتوی کردی۔ اور شہر ہی میں قیام پذیر ہو گئے،اسی زمانے میں سید اشرف کی ولایت کی دھوم مچی بغرض ملاقات حاضرخدمت ہوئے دیکھا تو ہو بہو وہی صورت تھی دیکھتے ہی قدموں سے لپٹ گئے ارادت کا ہاتھ بڑھایا۔ غلامی میں داخل ہوگئے۔ حضرت نے نان و شربت سے ضیافت فرمائی۔ خواب کی تعبیر مکمل ہوئی ۔

شیخ چراغ ہند کو مولانا کبیر کی بیعت ناگوار گزری ۔ عتاب مخدوم سید اشرف میں گرفتار ہوگئے مولانا تکبیر کے لیے دعائے بد کر دی ۔مولانا کبیر نے بھی بحکم شیخ پلٹوار کیا دونوں کی دعائیں قبول ہوئیں مولانا کبیر کے بال ابھی عمر کی 25 بہاریں بھی نہ دیکھیں تھیں کہ خزاں رسیدہ ہوگئے اور مولانا کبیر سے پانچ سال پہلے شیخ چراغ ہند کا چراغ گئے حیات بجھ گیا۔ مخدوم سید اشرف کے ساتھ شیخ چراغ ہند کی داستان بہت پرلطف ہے جو معذرت خواہی پر ختم ہوتی ہے تفصیل کی گنجائش یہاں نہیں ہے۔

جون پور

مخدوم العالم شیخ علاء الحق پنڈوی علیہ الرحمہ مخدوم سید اشرف جہانگیر علیہ کو تبلیغ و ارشاد کے لئے جون پور کا علاقہ سپرد کیا تھا ۔ جون پور ہندوستان کا ایک تاریخی شہر ہے۔ اسے فیروز شاہ تغلق نے بسایا تھا سلطان تغلق کے بعد شاہان شرقی کا دارلخلافہ رہا ہے۔ یہ شہر علم و ادب کا مرکز اور علماءو مشائخ کا منظور نظر رہا ہے اسلامی تاریخ میں اسے شیراز ہند کہا جاتا ہے۔

مخدوم سید اشرف پہلی بار اس شہر میں غالبا ۔1342ء۔مطابق 742 ھ ہجری کے اواخر میں تشریف لائے۔ زیادہ دنوں تک قیام نہیں فرمایا حالات و کوائف کا جائزہ لیا مولانا کبیر ظفر آبادی کو نائب بنایا اور خود مقدس مقامات کی زیارت کے لئے بلاد شرقیہ وہ ممالک اسلامیہ کی طرف راہی ہوئے۔۔وہاں کے مشہور و علماء ومشائخ اولیاء کرام سے ملاقاتیں کیں اور ان کے فیوض و برکات سے مستفیذ ہوئے ماہرین اس سفر کا اندازہ 15سال لگایا ہے اختصار کے ساتھ بعض اہم مقام کا ذکر درج ذیل ہے ملاحظہ فرمائیں ۔

بصرہ

مخدوم سید اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃ اللہ علیہ بحری راستے سے بصرہ پہنچے۔جون پور سے بصرہ کے حالات نہیں ملتے۔یقین آیا سفر بھی روحانیت سے بھرپور رہا ہوگا۔حضرت خواجہ حسن بصری اور حضرت رابعہ بصریہ سے کون واقف نہیں ۔ ان دونوں ہستیوں کا تعلق بھی بصرہ ہی سے تھا ۔ بصرہ بضد اس سے 545 کیلو میٹر دور عراق کا ایک اہم شہر ہے۔۔

سرسبزوشاداب انتہائی زرخیز اور تیل کے وسیع ذخائر سے بھرپور اس شہرکی بنیاد 637ء۔ رکھا گیا۔ جب خلیفہ دوم امیرالمومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا دور حکومت تھا۔ اور مسلمانوں نے یہاں قیام کیا تھا۔حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ 639 ء تا 642 ء اس شہر کے گورنر رہے۔۔حضرت مخدوم سید اشرف تقریبا سات سو پینتالیس ہجری میں اس شہر میں قدم رکھا۔ حضرت خواجہ حسن بصری علیہ الرحمہ ودیگر اکابر صحابہ صوفیاء کرام کی زیارت گاہوں سے فیوض اندوز ہوئے۔

حضرت امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کا بچپن

کربلا نجف اور کاظمین

مخدوم سید اشرف بصرہ سے کربلا معلی پہنچے۔ شہید اعظم حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ اور دیگر شہداءکے مزارات پر تشریف لے گئے کربلا کی زیارتوں سے فارغ ہوکر نجف اشرف تشریف لے گئے نجف بغداد صرف160 ایک سو ساٹھ کلومیٹر دور ہے ۔ یہاں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا روضہ مبارک ہے مبارک ہے ۔نجف مذہبی اہمیت کی وجہ سے بہت مشہور ہے ۔یہاں کا قدیم مدرسہ ۔حوزہٗ علیمهٗ نجف ۔ پوری دنیا میں مشہور ہے۔

حضرت مخدوم سید اشرف نجف سے کاظمین شریفین تشریف لے گئے۔ کاظمین میں حضرت امام موسی کاظم، حضرت امام تقی ،حضرت امام ابو یوسف علیھم الرحمہ کے مزارات ہیں۔۔اس شہر کی مذہبی اہمیت اہل سنت و اہل تشیع دونوں کے درمیان مشترک ہے ۔

بغداد

عراق پہنچنے والے ہر سنی کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ غوث الاعظم، محبوب سبحانی ،محی الدین، سید شیخ عبدالقادر جیلانی علیہ الرحمہ کی بارگاہ میں حاضری دے۔ مخدوم سید اشرف جہانگیر نے بھی کاظمین شریفین کے بعد بغداد کا رخ کیا۔

بغداد عراق کا دارالحکومت ہے ماضی میں مسلم دنیا کا مرکزی شہر تھا۔ مگر بار سو اٹھاون عیسوی 1258 میں منگولوں کے ہاتھوں تاراج ہوا لاکھوں مسلمان ہلاک ہوئے سارا علمی ذخیرہ نذرآتش و دریا برد کردیا۔اناللہ و انا الیہ راجعون۔

مخدوم سید اشرف نے غوث اعظم علیہ الرحمہ کے مزار پر حاضری دی مشاہیر اولیاء کرام کے آستانوں سے مستفیض ہوئے قیام بغداد کے دوران ایک بار علماء و مشائخ نے آپ سے وعظ فرمانے کی خواہش ظاہر کی ۔ سورۂ یوسف کی تفسیر بیان فرمائیں 5 ہزار سے زائد مجمع نے آپ کے خطاب نایاب کو سماعت کیا۔ جس میں اکثریت علماءومشائخ کی تھی ۔

جب آیت کریمہ لو لا ان رّا برھٰن ربہ پر پہنچے۔ اسرار و رموز کے دریا بہائے جسے سن کر مجمع پر بے خودی طاری ہوگئی عشق و مستی میں بعض غش کھا کر گرے۔اور بعض اپنا ہوش گنوا بیٹھے۔ خلیفہ بغداد نے واظ سے متاثرہو کر ایک گھوڑا اور ایک ہزار اشرفیاں نذر کیں۔ بغداد کے اس سفر میں شہزادگان سبحانی، شیخ عبدالقادر جیلانی علیہ الرحمہ، اور علماء و مشائخ سے علمی و روحانی ملاقات رہیں۔ جن میں شیخ ابوسعید ابوالخیر کا ذکر خصوصیت کے ساتھ ملتا ہے۔

جیلان

بغداد سے محض 40 کلومیٹر کے فاصلہ پر جیلان آباد ہے قدیم زمانے میں یہ گاؤں تھا وہاں غوث اعظم کی نسل پاک سے ایک بزرگ سید عبدالغفور تھے ۔ سید صاحب کو مخدوم سید اشرف کی خالہ زاد بہن منسوب تھیں مخدوم اشرف بغداد سے جیلان چلے آئے کچھ دنوں تک قیام فرمایا سید عبدالغفور جیلانی کے سعادت مند اور بلند اقبال صاحبزادے تھے نام تھا عبدالرزاق۔

جب تک مخدوم سید اشرف جیلان میں قیام فرما رہے یہ شہزادے برابر خدمت میں حاضر ہے شاہزادے کی سعادت مندی دیکھ کر مخدوم سید اشرف بھی بہت خوش ہوئے شہزادے کی عمر اس وقت محض بارہ سال 12 تھی حضرت مخدوم نے جب اراداۂ سفر ظاہر فرمایا یہ شہزادہ بھی اپنے والدین سے ہمرکابی کا طلبگار ہوا۔

باپ کی شفقت اور ماں کی ممتا اجازت دینے سے مانع ہوئی مگر شہزادے نے عزمِ مصمم کرلیا۔والدین کو یقین ہوگیا کہ اگر بخوشی اجازت نہ دی گئی تو بغیر اطلاع چلے جائیں گے۔ والدین نے کم سن شہزادے کو یہ کہتے ہوے حضرت مخدوم کی خدمت میں نذر کر دیا کہ ہم اپنے حقوق پدری ومادری معاف کرتے ہیں۔یہ بچہ ہم دونوں کا نذرانہ ہے حضرت مخدوم نے شاہزادے کو اسی وقت نورالعین کا خطاب دیا اور اپنی فرزندی میں قبول فرمایا۔

دمشق

جیلان سے رخصت ہوکر مخدوم سید اشرف دمشق پہنچے رمضان المبارک کا چاند نظر نہیں آیا جامع مسجد دمشق میں پورا مہینہ قیام فرمایا قرات سبعہ کے قاری و حافظ تھے۔ لوگوں نے نمازیں آپ کی اقتداء میں ادا کرنے کی خواہش ظاہر کی ۔

روایت میں آیا ہے کہ شہر کے ہر حصے سےلوگ آپ کی اقتداء میں نماز ادا کرنے کے لیے آتے تھے ۔سو سے زائد اہل فضل وکمال ساری نمازیں آپ کی خدمت میں ادا کرتے تھے ۔ایک دن بعض صوفیاء حضرات حاضر خدمت ہوئے معارف و حقائق پر گفتگو و شنید ہوئی۔شطیحات صوفیاء کے تعلق سے آپ سے استفتار ہوا ۔

آپ نے فرمایا عزیزوں! الفاظ توحید سے دھوکہ نہ کھاؤ کہ محض لفظوں کے جذبے سے توحید کا ادراک نہیں ہوسکتا توحید کو جاننے کے لیے علائق روزگار سے دوری اور ریاض شاقہ و عبادت حسنہ سے آراستہ ہونا ضروری ہے۔

مدینۃ الرسول

مخدوم سید اشرف نے غالبا 748 ھجری کی نماز عید دمشق میں ادا فرمائی ماہ شوال ہی میں وہاں سے مدینہ منورہ کیلئے روانہ ہوئے۔شہر رسول صلی اللہ علیہ وسلم پہنچ کر علیل ہو گئے۔

بے تابی اسقدر بڑھی کہ ہمرائیان سفر مایوس ہوگئی 20 روز تک تکلیف میں اضافہ ہی ہوتا رہا ایک شب قسمت کا ستارہ اوج پر تھا ۔ بوقت سحر جمال جہاں آرا مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے آنکھیں شادکام ہوئیں۔

ارشاد ہوا فرزند اشرف !۔۔۔مایوس نہ ہو تمہیں تو خلق خدا کی ہدایت کرنی ہے ۔ بشارت و دیدار رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آثار صحت ظاہر ہوئے۔اور چند روز میں مکمل صحت یاب ہوگئے یے۔

مکۃ المکرمہ

حج کے ایام قریب آئے ہیں روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے رخصت ہوئے مکہ مکرمہ پہنچ گئے ۔حج ادا فرمایا یہاں حضرت عبداللہ یا فی علیہ الرحمہ محدث حرمین شریفین سے ملاقات ہوئی۔حضرت عبداللہ یافی علیہ الرحمہ تمام حرمین شریفین کی بڑی مرتاض شخصیت تھی۔جامع علوم ظاہری و باطنی اور صاحب تصانیف بزرگ تھے۔

ان کی تصانیف میں روضۃ الریاحین فی حکایۃ الصالحین۔ اور مراۃ الجنان بہت مشہور ہیں۔مخدوم اشرف لمبی مدت تک ان کی ملازمت میں رہے۔ ان کی علمی مجالس سے استفادہ کیا حضرت سید علی ہمدانی بھی ان ہی مجلسوں میں آیا کرتے تھے۔ یہی دونوں بزرگوں کی ایک دوسرے سے شناسائی ہوئی۔ انہوں نے آپ کو مقامات مقدسہ کی سیر کرائی ۔مدینۃ الاولیا، جبل الفتح، و دیگر مقامات میں لے گئے۔

جبل الفتح میں چلہ کی تکمیل پر درویشان زمانہ ملاقات کے لیے آئے۔ ان میں شیخ ابو الغیث یمنی بھی تھے۔ شیخ یمنی نفس پاکیزہ ومنور اور اخلاق حسنہ کے مالک تھے ۔ صاحب خوارق و کرامات بزرگ تھے ۔انہوں نے ایک عجیب وغریب نہایت صاف و شفاف پتھر حضرت مخدوم کو عطا فرمایا تھا۔

حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی کا مطالعہ کریں

یمن

مخدوم سید اشرف مکہ مکرمہ سے یمن تشریف لائے. شبِ براءت کی صبح بیٹھے ہوئے تھے. شیخ ابو الغیث یمنی تشریف لائے سلسلہ کلام کے دوران یمن کے حالات بھی زیر سخن آئے. شیخ یمنی نے کہا اس سال یمن پر مصائب و آلام زیادہ ہیں. کیوں نہ ہم دونوں ان مصیبتوں کو اپنے سر لے لیتے ہیں ۔تاکہ مخلوق خدا چین و سکون پائے۔

دونوں بزرگ رات بھر عبادت میں مصروف رہے ۔آفات و بلیات کو اپنے نفوس پاکیزہ پر قبول کر لیں ۔صبح کے وقت دونوں بزرگوں کے چہرے زرد پر چکے تھے۔نقاہت و کمزوری اس قدر چھا چکی تھی کہ تاب قیام نہ تھا۔ مسلسل تین روز اس کا اثر باقی رہا. ۔

قیام یمن کے دوران مخدوم سید اشرف کے زمرہ مریدین میں شیخ نظام الدین غریب یمنی شامل ہوئے. آپ کے اخلاق کریانہ اور تبحر علمی سے متاثر ہوکر ہمیشہ کے لئے آپ کی ملازمت اختیار کرلیں. پوری زندگی ساتھ رہے یہ وہی شیخ نظام یمنی ہیں، جنھوں نے مخدوم سید اشرف کے ملفوظات کو “لطائف اشرفی” کے نام سے جمع کیا ہے. انھوں نے اپنے مرید ہونے کا سال 750ہجری لکھا ہے ۔

حضرت مخدوم سید اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی پڑھیں وکیپیڈیا میں

حضرت علامہ مفتی عبد الخبیر اشرفی مصباحی کے بلاگ کو وزٹ کریں اور مزید معلومات حاصل کریں

ہندوستان

حضرت مخدوم سید اشرف جہانگیر یمن سے روانہ ہوئے ترکستان و دیگر مقامات سے ہوتے ہوئے ہندوستان پہونچے. ۔اس واپسی سفر کے حالات پر پردۂ خفا ہیں ۔ پیر و مرشد مخدوم العالم شیخ علاء الحق پنڈوی رحمۃاللہ علیہ کی پا بوسی کے لئے بنگال گئے۔

سیر دنیا سے جو تجربات حاصل ہوئے تھے ۔اس کی روشنی میں مزید سنورنے نکھارنے کے لئے تربیت گاہِ مرشد مخدوم العالم میں پھر داخل ہوئے. اور تقریباً چار سال تک مزید خود فراموشی کے گُر سیکھتے رہے ۔

سفر نامہ کی تفصیلات پڑھنے سے “سفر وسیلہ ظفر” والے مقولے پر یقین ہوتا ہے ۔اس سفر میں حضرت مخدوم سید اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃ اللہ علیہ کو اللہ کریم نے دو عظیم شخصیتیں دیں ۔جو بعد میں آپ کی علمی و روحانی وارث بنیں۔. ایک سید عبد الرزاق جیلانی، دوسرے شیخ نظام غریب یمنی رحمہما اللہ تعالیٰ رحمۃ واسعتۃ

تحریر:  حضرت علامہ مفتی عبد الخبیر اشرفی مصباحی

صدر المدرسین مدرسہ عربیہ اہل سنت منظر اسلام، التفات گنج، امیڈگرنگر، یوپی۔

 

 

Leave a Comment

Your email address will not be published.

*