شخصیات

آہ میرا رفیق درس مجھ سے رخصت ہوا

آہ میرا رفیق درس مجھ سے رخصت ہوا

آہ میرا رفیق درس مجھ سے رخصت ہوا

آج مورخہ ١٠/ جنوری ٢٠٢٢ء بعد نماز فجر موبائل فون کھولا تو بڑی دکھ بھری خبر پڑھنے میں آئی کہ مفتی آل مصطفیٰ مصباحی آج رات انتقال فرما گئے۔ إنا لله وإنا إليه راجعون۔

بڑا دکھ ہوا بڑا افسوس ہوا۔ ابھی حال ہی میں عرس عزیزی میں ان کے دیار سے آنے والے علمائے کرام سے ان کی خیریت دریافت کیے تھے۔ اس وقت کیا معلوم تھا کہ جس کی خیریت کے بارے میں میں پوچھ رہا ہوں وہ بس دو تین روز کا اور مہمان ہے۔ پھر وہ اس دار فانی سے کوچ کر جاے گا۔

مفتی آل مصطفیٰ مصباحی میرے بڑے خاص رفقائے درس میں سے تھے، درجۂ خامسہ میں وہ جامعہ اشرفیہ میں داخل ہوے، درجہ فضیلت تک مکمل رفاقت رہی ہم لوگ شانہ بشانہ درس گاہوں میں حاضر ہوتے اور ہم میں ہر ایک کے اندر جذبۂ مسابقت بھی ہوتا

فراغت کے بعد بھی جامعہ امجدیہ رضویہ گھوسی میں چھ سال تک رفاقت رہی‌۔ پھر میرا تقرر جامعہ اشرفیہ مبارک پور میں ہو گیا۔ جس پر میرے رفیق نے مبارک باد پیش کی تھی۔

مفتی آل مصطفیٰ مصباحی سے فقہی سیمینار وغیرہ میں اگرچہ میری نوک جھونک ہوا کرتی تھی مگر یہ نوک جھونک خالص علمی و تحقیقی ہوتی، جسے نہ وہ دل پہ لیتے نہ میں لیتا۔ اسی لیے مندوبین اس نوک جھونک سے محظوظ بھی ہوتے اور یہ تأثر دیتے نظر آتے کہ سمینار میں جب آپ دونوں کی رائے الگ الگ ہوتی ہے اس وقت سمینار کا مزہ کچھ اور ہی ہوتا ہے کیون کہ آپ لوگوں کی بحثیں سننے میں بہت اچھا لگتا ہے۔

مجھے جب اپنی جماعت کا امتیاز اور کچھ خاص رفقائے درس کو بیان کرنا ہوتا ہے اس وقت میں مفتی آل مصطفیٰ کا نام ضرور لیتا ہوں کیونکہ یہ میرے مایہ ناز رفیق ہی نہیں بلکہ میرے دوست بھی تھے۔ ان کی ذہانت اور علمی قابلیت کا میں ہمیشہ معترف رہا۔

مفتی آل مصطفیٰ مصباحی ایک باکمال مدرس، پختہ قلم کار، اور ایک بالغ نظر مفتی تھے، جن کے فتاوی قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے اور ان کی علمی و دینی خدمات إن شاءالله ان کے باقیات صالحات میں شمار ہوں گی۔

دعا ہے اللہ تعالیٰ مفتی موصوف کی مغفرت فرمائے ان کی دینی خدمات قبول فرمائے، درجات بلند فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

محمد صدرالوری قادری
استاذ جامعہ اشرفیہ مبارک پور
١٠/جنوری ٢٠٢٢ء

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

*