مخزن معلومات

اولاد قیمتی سرمایہ ہے اس کی حفاظت کریں

از: محمد عارف رضا نعمانی مصباحی اولاد قیمتی سرمایہ ہے اس کی حفاظت کریں

اولاد قیمتی سرمایہ ہے اس کی حفاظت کریں

جب کوئی شخص کسی باغیچے میں پہنچتا ہے اوردیکھتا ہے کہ اس میں رنگ برنگےپھول کھلےہیں، ان پھولوں سے گلشن مہک رہا ہے،تو پھولوں کے درمیان  آکر اُس کی طبیعت میں نشاط آجاتا ہے، دل خوشی سے جھوم جاتا ہے، آنکھیں گلشن کی سر سبزی و شادابی سے ٹھنڈی ہو جاتی ہیں اورذہن میں یہ بات گردش کرنے لگتی ہے کہ گلشن کی رعنائیاں کیا خوب ہیں ، مالی نے بڑی محنت اور لگن سے اسے سجایا ہے۔اس کی محنت، لگن، دیکھ ریکھ اور احساس ذمہ داری کے نتیجے میں گلشن کا حسن ہر کسی کو بھاتا ہےاوراپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔

انسان کی زندگی بھی ایک باغیچے کی مانند ہے ،انسان جب نکاح کرکے میاں بیوی کے مقدس رشتے سے منسلک ہو جاتا ہے تو اب اس جوڑے کی خواہش رہتی ہے کہ اس کی گود میں رب العالمین اپنے کارخانہ قدرت سے اولاد کی شکل میں ایک تحفہ عطا کرے،جو اس کے گلشن حیات میں خوشیاں بکھیر سکے، اس کے لیے نہ جانے کتنے جتن کرتا ہے، کتنی محنتیں کرتا ہے، کہاں کہاں دعائیں کراتا ہےکہ اس کے گلشن حیات میں نسل کی بقا کے پھول کھلیں، اس کی خوشبو سے اس کا گھر خاندان مہک اٹھے

پھر وہ صبح نمودار ہو جاتی ہے جب اس کے گلشن میں کلی چٹک کر پھول بن جاتی ہے، ظاہر سی بات ہے کہ یہ سب بنا دیکھ ریکھ کے کہاں ممکن ؟

 ایسے ہی جب کسی کے یہاں اولاد ہوتی ہے تو انسان بہت خوش ہوتا ہے اور اس کی بہت دیکھ بھال کرتا ہے، لیکن یہ نگہبانی وقت طلب اور توجہ طلب ہوتی ہے ۔اس وقت والدین پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

شروع میں توجہ تو دی جاتی ہے لیکن جب بچہ کھڑا ہو کر خود سے چلنے لگتا ہےتو ماں باپ کی توجہ کم ہو جاتی ہے جب کہ نگہداشت اب بھی ضروری ہوتی ہے کیوں کہ خوشبودار پھول حاصل کرنے کے لیے بیج سے کونپل نکلنے پھر اس کو پودا بن کر پھول نکلنے کے قابل ہونے تک نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے، ایسے ہی اولاد کی نگہداشت بھی ضروری ہوتی ہے کیوں کہ اولاد اسی وقت میٹھا پھل اور خوشبودار پھول بنے گی جب اس پر محنت کی جائے گی ورنہ گھاس پھوس اور کانٹے دار جھاڑیاں تو خود بخود ہی نکل آیا کرتی ہیں، لیکن یہاں مفید بنانا اور سنوارنا مقصود ہےاور یہ کام تو والدین کے ذمے ہوتا ہے کہ وہ اپنی اولاد کو کتنا کام یاب اور لائق و فائق بنا پاتے ہیں، والدین کا بچوں کے لیے سب سے اچھا تحفہ ان کی دینی تربیت کرنا ہے

جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ
‘‘عن عمرو بن سعيد بن العاص قال، قال رسول ﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم : ما نحلَ والدٌ ولدًا أفضلَ من أدَبٍ حسنٍ’’   (سنن الترمذی (1952)، مسندِاحمد (15403)

حضرت عمرو بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کسی والد نے اپنی اولاد کو اچھے ادب سے بہتر تحفہ نہیں دیا۔

اپنی اولاد کی دینی تربیت کرنا اس وقت والدین کے لیے بہت اہم مسئلہ بنتا جا رہا ہے، جب کہ سوشل میڈیا مکمل طور پر لوگوں کو اپنی گرفت میں لے چکا ہے، ایسے حالات میں ان کی بہتر نگہداشت کرنا، اسلامی نہج پر ان کی شخصی اور فکری تربیت کرنا مشکل امر ہوتا جارہا ہے۔جیسے درخت سے اچھا پھل حاصل کرنے کے لیے وقت پر پانی، ہوا اور مناسب مٹی درکار ہوتی ہے اسی طرح اولاد کی بہترین تربیت کے لیے ان کو اسلامی تعلیمات، اخلاقیات اور عقائد کی ضروری معلومات سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔

اولاد کی شخصیت کو نکھارنےاور قابل بنانے میں تین اہم تربیت گاہیں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ان میں اولاد کے لیے سب سے پہلی اور اہم تربیت گاہ والدین کی آغوش محبت ہے۔تعلیم گاہ اور استاذ دوسری اہم تربیت گاہ ہیں۔تیسری اہم تربیت گاہ معاشرہ اور گِرد و پیش کا ماحول ہے۔  بچہ بنیادی طور پر انھیں جگہوں سے سیکھتا ہے، اس کے علاوہ اور بھی اسباب ہو سکتے ہیں لیکن بنیادی طور پر یہی تین ہیں ۔تواب اولاد کی اچھی تربیت اور نگہداشت کے لیے اچھے اور دیندار جوڑے کا انتخاب ہے، کیوں کہ آدمی جیسا پھل چاہتا ہے ویسی کھیتی کرتا ہے، اچھی زمین پر عمدہ بیج ڈالے،تب وہ اچھی فصل کی امید کر سکتا ہے۔

اسلام ایک مکمل نظام زندگی ہے حیات انسانی کا کوئی ایسا گوشہ نہیں ہے جس کی رہنمائی کے لیے اسلام کی روشن ہدایات موجود نہ ہوں، اولاد کی پیدائش سے لے کر موت تک بلکہ بعدِموت کے بھی حقوق بیان کر دیے ہیں، ایسی خوبی صرف مذہب اسلام کے حصہ میں آتی ہے۔تو آئیے سب سے پہلے جو چیز ضروری ہے  وہ ہے نیک، پرہیزگار، دین دار شریکِ حیات کا انتخاب، کیوں کہ نیک سیرت اور دیندار جوڑے سے ہی نیک اولاد کی امید کی جا سکتی ہے۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال :قال رسول الله صلى الله تعالى عليه وآله وسلم ” تُنْكَحُ المَرْأَةُ لأرْبَعٍ: لِمالِھا، ولِحَسَبِھا، وجَمالِھا، ولِدِينِھا، فاظْفَرْ بذاتِ الدِّينِ، تَرِبَتْ يَداكَ.”  (صحیح بخاری (٥٠٩٠)،وصحیح  مسلم (١٤٦٦)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، فرمان مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہے کہ عورت سے چار چیزوں کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے، اس کے مال کی وجہ سے، اس کی خاندانی شرافت اور حسب نسب کی وجہ سے، اس کے جمال کی وجہ سے اور اس کی دینداری کی وجہ سے، تو تم دین والی کو ترجیح دو،اس میں کام یابی ملے گی ،تیرے دونوں ہاتھ خاک آلود ہوں (یعنی تو ایسا ضرور کرورنہ نقصان اٹھائے گا)

کیوں کہ حسن و جمال، مال و دولت ایسی چیز ہیں جو کبھی بھی ختم ہو سکتی ہیں لیکن دین داری یہ ایسی چیز ہے جس کا اثر پوری زندگی پر پڑتا ہے،اس کے ذریعے اولاد کے اندر بھی دین داری اور اسلامی فکر پروان چڑھتی ہے، اس سے اولاد نیک ہوتی ہے اور اولاد ہی سے اچھے معاشرے اور خاندان کی تشکیل ہوتی ہے، اس لیے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی نصیحت ہمیشہ پیش نظر رکھنی چاہیے، اسی سے ہماری دنیاوآخرت سنورتی جائے گی۔

اولاد کی تربیت میں دوسرا اہم کردار تعلیم گاہ اور استاذ کا ہے کیوں کہ بچہ یا تو ماں باپ کی نگہداشت میں رہتا ہے یا استاذ کی، انھیں سے وہ سیکھتا رہتا، اب جیسے ماں باپ ہوں گے اور جیسی تعلیم گاہ اور اتالیق ہوں گے، بچہ ویسا ہی اثر لے گا ،ویسا ہی سیکھے گا،  اس لیے بچے کے بہترین مستقبل کے لیے مذہبی اور دینی تعلیمی ادارے کا انتخاب کریں جہاں عصری اور دینی دونوں علوم سکھائے جائیں اور ان کی اسلامی طرز پر تربیت ہو سکے، کیوں کہ غیر اسلامی تعلیم گاہوں کے خطرناک نتائج سامنے ہیں، جہاں انھیں دین سکھایا نہیں جاتا ہے بلکہ  دین و ایمان کی دولت چھین لی جاتی ہے

ایسے اداروں سے غیر اسلامی فکر پروان چڑھتی ہے، یہاں  سے پڑھ کر اولاد کے اندر مذہب سے بےزاری پیدا ہو جاتی ہے پھر وہ آزاد ہو کر غیرمہذب معاشرے  سے تعلقات قائم کر لیتے ہیں پھر دوستی سے فریب کھا کر ان کے جھانسے میں آجاتے ہیں اور دین و ایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، دوسرے مذاہب میں شادی کرکے اپنے آپ کو آگ کے حوالے کر دیتے ہیں، اور معاشرے کے لیے تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوتے ہیں، ایسے حالات میں ابتدائی ایام  تو بظاہرخوب اچھے گزرتے ہیں  لیکن بعد میں ان کی زندگیاں اجیرن بن جاتی ہیں ، نہ وہ دین کے ہوتے ہیں اور نہ ان کی دنیا کام یاب ہو پاتی ہے۔

اب ضرورت ہے کہ ہم ایسے تعلیمی ادارے کھولیں جہاں ملت کے نونہالوں کو عصری علوم کے ساتھ ساتھ ان کے اندر دین کی سمجھ پیدا کی جائے تاکہ وہ اسلامی تعلیمات سے اپنی زندگی سنوار سکیں۔

اولاد کی تربیت میں تیسرا اہم کردار معاشرہ اور گرد وپیش کے حالات کا ہے، کیوں کہ معاشرہ مختلف رنگ و نسل اور مختلف مذاہب کے ماننے والوں پر مشتمل ہوتا ہے اس لیے اپنے گھر خاندان کی دینی اور ایمانی تربیت کے لیے ایسے معاشرے کا انتخاب کریں جو ہم مذہب افراد پر مشتمل ہو تاکہ امور دین پر عمل پیرا ہونے میں آسانیاں پیدا ہوں،معاشرے میں لوگ اپنے ہوتے ہیں تو عبادات اور معاملات کی ادائیگی میں آسانی میسر آتی ہے ورنہ دوسروں کے درمیان مسلمانوں کو مذہبی امور کی ادائیگی کھل کر کرنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،لہٰذا پہلے سے ہی ایسے معاشرے میں رہیں جہاں آپ کا اسلامی تشخص برقرار رہے، پاس پڑوس اور گھر کے افراد پر بھی اس کا اچھا اثر پڑتا ہے۔

اگر معاشرے میں غیر بھی رہتے ہیں تو ساتھ رہتے رہتے ان کے افکار و نظریات سے ہم آہنگی پیدا ہونے لگتی ہے، پھر دوستیاں بڑھتی ہیں اور اس کا انجام غیروں سے گہرے تعلقات، دوستی اور ان کے درمیان شادی تک جا پہنچتے ہیں، اس کے بھیانک نتائج آپ سب کے سامنے ہے، غیر لوگ مسلمانوں کے بچوں اور بچیوں کو روپے پیسوں کا لالچ دے کر اپنی ناپاک ہوس کا شکار  بناتے ہیں، پھر بےیار و مدد گار چھوڑ دیتے ہیں۔ایسوں کی گھر خاندان میں بھی کوئی عزت نہیں رہتی اور معاشرے میں بھی انھیں کوئی مقام نہیں حاصل ہوتا۔اخبارات و رسائل اور سوشل میڈیا کی سائٹس ایسی بہت ساری خبروں سے بھری پڑی ہیں ۔

لہٰذا پیارے دینی بھائیو! ہوش کے ناخن لیں اور اپنے عزیز رشتے داروں، بہن بھائیوں کی زندگیاں اجڑنے سے پہلے ہی ان کو خبردار کر دیں، بچپن ہی سے اسلامی طور طریقے پر ان کی تربیت کریں، ضروری اسلامی تعلیمات ضرور دلائیں، ان کے دل میں اللہ پاک اور آخرت کا خوف پیدا کریں،انھیں گھروں پر سیرت رسول ،اسوہ  صحابہ ،صالحین اورصالحات کے سچے واقعات سنائیں یا پڑھائیں اور خود بھی دین اور احکام شریعت پر مکمل کاربند رہیں ورنہ رب کی نافرمانی میں دنیا و آخرت دونوں کا خسارہ ہے۔

از: محمد عارف رضا نعمانی مصباحی

Leave a Comment

Your email address will not be published.

*