Thursday, June 13, 2024
Homeحدیث شریفماہ رجب کے فضائل و مسائل

ماہ رجب کے فضائل و مسائل

از قلم : ابوضیاغلام رسول مِہْرسعدی ،کٹیہاری : ماہ رجب کے فضائل و مسائل

ماہ رجب کے فضائل و مسائل

اللہ پاک کالاکھ لاکھ شکرواحسان ہے کہ اس نے ہمیں انسان بنایاانسان میں مسلمان بنایالہذامسلمان کا ہرایک کام اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے فرمان کے مطابق ہوناچاہیے اللہ پاک نے بندوں کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا اور عبادات کے لیے اوقات مقررفرمائی

مزید کچھ ایام، اوقات ایسےبھی ہیں جن کی خاص فضیلتیں اوربرکتیں الگ ہیں انہیں میں سے رجب المرجب کا مہینہ بھی ہے کہ اس مہینہ میں عبادت کر نے اور روزے رکھنے والوں کوبرکتوں رحمتوں سےمالامال کیاجاتاہے

احادیث مبارکہ میں یوں مذکور ہے

حدیث نمبر 1

اللہ کےپیارے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے فرمایا :جنت میں ایک نہر ہےجسے”رجَب،، کہاجاتاہے جودودھ سے زیادہ سفید اورشہدسےزیادہ میٹھی ہے توکوئی رجب کا ایک روزہ رکھےتو اللہ تعالیٰ اسے اس نہر سے سیراب کرے گا.،، (شُعبُ الایمان ج3ص367 حدیث3800)

حدیث نمبر 2

فرمان مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم ہے :رجب کے پہلے دن کاروزہ تین سال کاکفارہ ہے اور دوسرےدن کاروزہ دوسالوں کااورتیسرے دن کا ایک سال کاکفارہ ہے، پھر ہردن کاروزہ ایک ماہ کا کفارہ ہے.،، (الجامع الصغیرحدیث 5051ص311)

حدیث نمبر 3

فرمان مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم ہے :پانچ راتیں ایسی ہیں جس میں دعا رد نہیں کی جاتی

(1)رجب کی پہلی رات

(2)پندرہ شعبان

(3)جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات

(4)عیدالفطر کی رات

(5)عیدالاضحیٰ کی رات

(الجامع الصغیر ص241حدیث 3952)

حدیث نمبر 4

حضرت سیدنا ابوقِلابہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں رجب کے روزہ داروں کے لیے جنت میں ایک محل ہے.،، (شعبُ الایمان ج3ص368حدیث 3802)

سوبرس کےروزوں کے برابر ثواب

27ویں رجب المرجب کی عظمتوں کے کیا کہنے! اسی تاریخ کو ہمارے پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم پر پہلی بار وحی نازل ہوئی اور اسی تاریخ کو معراج کا عظیم الشان معجزہ رونماہوا۔

چناں چہ 27ویں رجب المرجب کے روزے کی بڑی فضیلت ہے. سرکار مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کافرمان ہے :رجب میں ایک دن اور رات ہے، جو اس دن کا روزہ رکھے اور وہ رات نوافل میں گزارے، یہ سوبرس کے روزوں کے برابر ہو. اور وہ 27ویں رجب ہے. (شعب الایمان ج3ص373 حدیث 3811)

رجب میں ایک رات ہے کہ اس میں نیک عمل کرنے والے کو سوبرس کی نیکیوں کا ثواب ہے اور وہ رجب کی ستائیسویں شب ہے

جو اس ماہ میں بارہ رکعت اس طرح پڑھے کہ ہررکعت میں سورہ فاتحہ اور کوئی سی ایک سورت اور ہردورکعت پر التحیات پڑھے اور بارہ پوری ہونے پرسلام پھیرے

اس کے بعد 100باریہ پڑھے : سبحان اللہ والحمد للہ ولاالہ الااللہ واللہ اکبر ، استغفار 100بار،دُرودشریف 100بارپڑھے اور اپنی دنیا وآخرت سے جس چیز کی چاہیے دعا مانگے اور صبح کوروزہ رکھے تو اللہ تعالیٰ اس کی سب دعائیں قبول فرمائے سوائے اس دعاکے جو گناہ کےلیے ہو. (شعب الایمان ج3ص374 حدیث 3812)

کفن واپس ہوگیا

بصرہ کی ایک خاتون نے بوقت وفات اپنے بیٹے کو وصیت کی کہ مجھے اس کپڑے کا کفن دینا جسے پہن کر میں رجب المرجب میں عبادت کیاکرتی تھی، بعد ازوفات بیٹے نے کسی اور کپڑے میں کفناکردفنادیا. جب وہ قبرستان سے گھر آیا تو یہ دیکھ کر تھرّااُٹھاکہ جو کفن اس نے پہنایاتھا وہ گھر میں موجود تھا! جب اس نے گھبرا کرماں کی وصیت والے کپڑے کو تلاش کیےتووہ اپنی جگہ سے غائب تھے. اتنے میں ایک غیبی آواز گونج اٹھی، “اپنا کفن واپس لےلوہم نے اس کو اسی کپڑے میں دفنایا ہے. (جس کی اس نے وصیت کی تھی) جورَجَب کے روزوے رکھتا ہے ہم اس کو قبر میں رنجیدہ نہیں رہنے دیتے.،، (نزھۃ المجالس ج 1 ص208)

مگر اُن نفل نمازوں اور نفل روزوں کی فضیلتیں اور برکتیں حقیقت میں انہیں ملیں گی جن کی فرض نمازیں اور فرض روز ے قضا نہ ہو، اور نفل نماز اور نفل روزوں کی جگہ جو شخص قضائےعُمری ادا کرے تواس کی نفل نماز اور نفل روزے تواداہی ہوں گےمزیدقضائے عُمری اداکرنے کی وجہ اُسے نفل نماز اور نفل روزوں کا ثواب بغیر پڑھے ملے گا ان شاءاللہ تعالیٰ جیسا کہ خلیل ملت حضرت علامہ مفتی محمد خلیل خاں قادری برکاتی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :

جو شخص نفل نماز اور نفل روزے کی جگہ قضا عُمری فرض وواجب اداکرنے وہ لو لگائے رکھے کہ مولیٰ عزوجل اپنے کرم خاص سے قضا نمازوں کے ضمن میں ان نوافل کا ثواب بھی اپنے خزائن غیب سے عطا فرمادے جن کے اوقات میں یہ قضا نمازیں پڑھی گئیں. واللہ ذوالفضل العظیم.(قضانمازکےضروری احکام ص60/ بحوالہ سنی بہشتی زیور ص240)

لہذا شب قدر، شب برات اور شب معراج وغیرہ مبارک راتوں میں نفل نمازپڑھنےکےبجائے چھُوٹی ہوئی فرض وواجب نمازوں(قضائے عمری) کو اداکرےکیوں کہ قضا ئے عُمری نوافل سے اہم وضروری ہے جیسا صدر الشریعہ بدرالطریقہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رضوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:

قضا نمازیں نوافل سے اہم ہیں یعنی جس وقت نفل پڑھتا ہے انہیں چھوڑ کر ان کے بدلے ان کی قضائیں پڑھے کہ بری الذمہ ہوجائے البتہ تراویح اور بارہ رکعتیں سنت موکدہ کی نہ چھوڑے. (قضانمازکےضروری احکام ص58/بحوالہ بہارشریعت ج1حصہ 4 ص706)

اللہ پاک کی کیسی رحمتیں ہیں کہ اگرکسی شخص نے اپنی زندگی کی قضا نمازیں مکمل پڑھنے کی نیت سے گھرسےنکلااورموت آپہونچی توکامل نمازوں کاثواب پائےگا. جیسا سرکار اعلیٰ حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا خان بریلوی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

اگرکسی شخص کے ذمہ تیس یا چالیس کی نمازیں واجب الاداہیں اس نے اپنے ان ضروری کاموں کے علاوہ جن کے بغیر گزرنہیں کاروبار ترک کرکے پڑھنا شروع کیا اور پکا ارادہ کرلیاکہ کُل(یعنی پوری) نماز اداکرکےآرام لونگااور فرض کیجیے اسی حالت میں ایک مہینہ یا ایک دن ہی کے بعد اس کا انتقال ہوجائے تو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کاملہ سے اس کی سب نمازیں اداکردےگا۔

قال اللہ تعالیٰ :ومن یخرج من بیتہ مھاجراالی اللہ ورسولہ ثم یدرکہ الموت فقد وقع اجرہ علی اللہ. جواپنے گھر سے اللہ ورسول کی طرف ہجرت کر تا ہوا نکلے پھر اسے راستے میں موت آجائے تو اس کا ثواب اللہ کے ذمہ کرم پرثابت ہوچکا،یہاں مطلق فرمایا گھر سےاگر ایک ہی قدم نکالا اور موت نے آلیا تو پورا کام اس کے نامہ اعمال میں لکھا جائے گا اور کامل ثواب پائے گا وہاں نیت دیکھتے ہیں سارا دار و مدار حُسن نیت پر ہے. (قضا نماز کےضروری احکام ص59/ بحوالہ الملفوظ اول ص62)

اللہ ہمیں خوب عبادتیں کرنےاورفکر آخرت کرنے کی توفیق عطا فرمائے

فقط؛ ابوضیاغلام رسول مِہْرسعدی کٹیہاری

خطیب وامام: فیضان مدینہ مسجد علی امن نگربلگام کرناٹک انڈیا

8618303831

خلیفہ حضور شیخ الاسلام، حضور قائد ملت ومفتی انوار الحق خلیفہ حضور مفتی اعظم ھندرضی اللہ عنہ بریلی شریف

afkareraza
afkarerazahttp://afkareraza.com/
جہاں میں پیغام امام احمد رضا عام کرنا ہے
RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular

Recent Comments

قاری نور محمد رضوی سابو ڈانگی ضلع کشن گنج بہار on تاج الشریعہ ارباب علم و دانش کی نظر میں
محمد صلاح الدین خان مصباحی on احسن الکلام فی اصلاح العوام
حافظ محمد سلیم جمالی on فضائل نماز
محمد اشتیاق القادری on قرآن مجید کے عددی معجزے
ابو ضیا غلام رسول مہر سعدی کٹیہاری on فقہی اختلاف کے حدود و آداب
Md Faizan Reza Khan on صداے دل
SYED IQBAL AHMAD HASNI BARKATI on حضرت امام حسین کا بچپن