مخزن معلومات

کنز الایمان کی کہانی صدر الشریعہ کی زبانی

کنز الایمان کی کہانی صدر الشریعہ کی زبانی کنز الایمان کی جو خدمت میں نے انجام دی ہے وہ میری نجات اخروی کا بہت بڑا ذخیرہ ہے : حضور صدر الشریعہ :: تحریر: شاداب امجدی برکاتی گھوسی ، مئو

کنز الایمان کی کہانی صدر الشریعہ کی زبانی

حضرت بحر العلوم مفتی عبد المنان اعظمی علیہ الرحمہ نے حضور صدر الشریعہ بدر الطریقہ علامہ حکیم محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہِ سے ایک انٹرویو لیا تھا جو کو کتابی شکل میں” حیات صدر الشریعہ “ کے نام سے ہند و پاک سے شائع ہوچکی ہے (پی ڈی ایف فائل ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے اس لنک پہ کلک کریں ۔ جس میں حضور صدر الشریعہ کے قیام اجمیر تک کے حالات لکھے ہوئے ہیں ۔

اسی کتاب سے کنز الایمان شریف کیسے معرض وجود میں آیا، کیا حالات پیش آئے اور کن مشکلوں سے گزرنا پڑا اور چھپوانے میں آداب و احترام کا کتنا پاس لحاظ رکھا گیا اس کی مکمل داستان حضور صدر الشریعہ کے الفاظ میں پڑھیں ۔

فرماتے ہیں :” اس زمانہ پُر فِتَن میں زمانہ کی حالت بدلی ہوئی اور گمراہی کے اسباب اور ضلالت کی کثرت دیکھتے ہوئے یہ خیال پیدا ہوا کہ بد مذہبوں کو عوام کے گمراہ کرنے کا ایک بڑا ذریعہ قرآن مجید کے تراجم ہیں ۔ کبھی تو وہ لفظوں میں گنجائش پاتے ہوئے ترجمے میں کوئی ایسی بات لکھ دیتے ہیں جن سے عوام کو گمراہ کرنے اور بہکانے کا موقع ملے اور کبھی نفس ترجمہ میں گنجائش نہیں ہے تو حاشیہ اور فوائد کا اضافہ کرکے بعض گمراہی کی باتیں لکھ جایا کرتے ہیں ۔

ان ترجموں میں ایک ایسا تر جمہ جوتقر یا صحیح کہا جا سکتا ہے شاہ عبد القادر صاحب دہلوی کا ترجمہ ہے۔ ان کے ترجمہ کے سوا اردو میں جتنے بھی ترجمے ہیں سب میں بہت کوتا ہیاں اور بہت اغلاط ہیں مگر شاہ صاحب کا ترجمہ پرانی زبان میں ہے جو ہندوستان میں آج کل بالکل متروک ہو چکی ہے بلکہ مدتوں سے لوگ اس زبان کو چھوڑ چکے ہیں اس واسطے وہ ترجمہ عوام کے واسطے کارآمد نہ ر ہا اور پسندیدہ نظر سے نہیں دیکھا جا تا ۔

بد مذہبوں کو، تراجم لکھنے اور اس سے عوام کو گمراہ کرنے کا پورا موقع ملا۔ضرورت تھی کہ قرآن پاک کا کوئی صحیح ترجمہ جو ہرقسم کے اغلاط سے پاک ہو،عوام کے سامنے پیش کیا جائے ۔ جس کو وہ پڑھا کریں اور اپنی استعداد کے موافق قرآن پاک سے فائدہ اٹھائیں۔

لہذا اعلی حضرت (امام احمد رضا بریلوی) سے قرآن پاک کے ترجمہ کے متعلق عرض کیا گیا اور زمانے کی ضرورت پیش کی گئی۔

اشاعت ترجمہ کی مشکلات :

اس کام کی اہمیت اورذ مہ داری کودیکھتے ہوئے ارشادفرمایا یہ تو بہت ضروری ہے مگر اس کے چھپنے کی کیا صورت ہو گی؟ اس کی طباعت کا کون اہتمام کرے گا ؟

باوضو کا پیوں کا لکھنا اور باوضوکا پیوں اور پروفوں کی تصحیح کر نا اورتصحیح بھی ایسی ہو کہ زیرز بر یا نقطے یاعلامتوں کی بھی غلطی باقی نہ رہ جائے ، پھر یہ سب چیزیں ہو جانے کے بعد جو چیز بڑی مشکل ہے وہ یہ ہے کہ پریس مین اور کلکش (چھپنے کے بعد ان کاپیوں کو جمع کرنے والا) ہمہ وقت باوضو رہیں ، بغیر وضو پتھر کو نہ چھوئیں ، پتھر کاٹنے میں احتیاط کی جائے ، چھپنے میں ردیاں نکلتی ہیں ان کو بھی بہت احتیاط سے رکھا جائے

،غرض یہ کہ جتنی بھی احتیاطیں ضروری اوردرکار ہیں ان کا پورا ہونا بظاہر دشوار اور ناممکن سا معلوم ہوتا ہے اور جب چھپنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی پھر تر جمہ لکھنے سے کیا فائدہ؟

کہ ترجمہ عوام کے لیے لکھا جائے گا، کتب خانے کی الماری میں رہنے سے عوام کیلئے کیا فائدہ ؟ میں نے عرض کیا ان شاء اللہ جو باتیں ضروری ہیں ان کو پورا کرنے کی کوشش کی جائے گی اور اسی طرح چھاپا جائے گا جو شریعت کے مخالف نہ ہو، اورفرض کیا جائے کہ ہم سے ایسا نہ ہوسکا تو جب ایک چیز موجود ہے ہوسکتا ہے کہ آئندہ کوئی دوسرا شخص اس کے طبع کرانے کا انتظام کرے اورمخلوق خدا کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کرے، اگر اس وقت یہ کام نہ ہو سکا تو آئندہ ہم کو اس کے نہ ہونے کا بڑا افسوس ہوگا اور اس وقت کا افسوس کرنا بیکار ہوگا۔مگر کچھ ایسے ضروری وقتی کام تھے جن کی وجہ سے اس کا م کو کچھ دنوں کے لیے ملتوی کرنا پڑا ۔

ترجمہ قرآن پاک کا اہتمام :

یہ فرمایا کہ دوسرے لوگوں کے بھی تراجم حاصل کرلیے جائیں تا کہ اس ضمن میں ان کے اغلاط پر تنبیہات بھی کر دی جائیں، یہ بھی ایک ضروری کام ہے اور (دوسروں کے پر تر جمے والا)

قرآن پاک ڈاک وغیرہ سے نہ منگایا جائے کہ اس میں بے ادبی ہوتی ہے ، بلکہ اس کے لیے جہاں سے دستیاب ہوتے ہوں جا کرایسے طریقے پر لا یا جائے کہ بے ادبی نہ ہو۔ میری عدیم الفرصتی اور کام کی کثرت نے مہینوں تک تراجم کے حاصل کر نے کا موقع نہ دیا۔ خیر کسی نہ کسی طرح انہیں شرائط کے موافق اس زمانے میں جتنے ترجمے شائع ہو چکے تھے سب حاصل کرلیے گئے اور ترجمہ کا کام بفضلہ تعالیٰ شروع ہوا

 

 

ترجمہ کا طریقہ کار :

چند روز تک یہ طر یقہ رہا کہ آیت پڑھی جاتی اور اعلی حضرت اس کا ترجمہ لکھواتے، اس کے بعد حضرت شیخ سعدی علیہ الرحمہ ، شاہ ولی اللہ ، شاہ عبدالقادر صاحب ، شاہ رفیع الدین صاحب ، ڈ پٹی نذیر احمد ، مرزا حیرت دہلوی اور مولوی اشرف علی تھانوی وغیر ہم کے تر جمے سنائے جاتے ، ان تراجم میں جہاں کہیں غلطیاں ہوتیں ان پر تنبیہ فرماتے ۔ چند روز کے بعد یہ محسوس ہوا کہ اس طرح کرنے میں وقت زیادہ صرف ہوتا ہے اور کام کم ہوتا ہے۔ اور مترجمین کی اغلاط پر تنبیہات تو ایک جدا گانہ کام ہے، اس ترجمے کے بعد اگر موقع ملا تو اس طرف توجہ کی جائے گی لہذ ان تراجم کا سنانا موقوف کیا گیا ۔

حضرت سعدی کا ترجمہ قرآن پاک:

حضرت شیخ سعدی علیہ الرحمہ کا تر جمہ فارسی میں اور شاہ عبدالقادر صاحب کا اردو میں یہ دوتر جمے سنائے جاتے اور اس کا سلسلہ اخیر تک جاری رہا ۔ حضرت سعدی علیہ الرحمہ کا ترجمہ نہایت پاک وصاف سوا اس کے کہ وہ مذھبا شافعی ہیں۔ آیات کا مطلب شافعیہ کچھ اور لیتے ہیں اور حنفیہ کچھ اور ، وہاں تو ان کا ترجمہ ہمارے مذہب کے خلاف ضرور تھا ،ورنہ کہیں بھی بظاہر کوئی سقم نظرنہیں آیا ۔ شاہ عبدالقادر صاحب کا ترجمہ بھی تقریباً صحیح ہے مگر بعض جگہ ان کے تر جمہ میں بھی خرابی نظر آئی ۔

کچھ دنوں تر جمہ ہونے کے بعد میں وطن چلا آیا اور یہ کام رک گیا ۔ واپسی کے بعد پھر آپ نے اس کام کو شروع کرنا چاہا مگر کچھ دیگر دینی ضروریات ایسی مانع ہوئیں کہ گرمیاں آئیں اورختم بھی ہوگئیں اور برسات کا موسم شروع ہو گیا ۔ *اب ترجمہ کا کام شروع ہوا ایک طرف برسات کی گرمی اور بالکل قریب لالٹین اوران پر کیٹروں اور پتنگوں کا ہجوم، کبھی ہاتھ پر، کبھی آستین کے اندر، کبھی پاجامے میں، بہت مرتبہ کا غذ اورقلم میں پتنگے اس طرح مجتمع ہو جاتے تھے کہ لکھنا بہت دشوار ہو جا تا تھا ، پھر بھی کئی کئی گھنٹہ اسی حالت میں گزارناپڑتا تھا اوربحمدہ تعالی اس کام کو انجام دیا جا۔

ترجمہ کلام پاک کا طریقہ :

ترجمہ کا املا کر نے اور اس کے تحریر کرنے کی نوعیت یہ ہوتی کہ پہلے میں پوری آیت پڑھتا تھا اگر چہ وہ کتنی ہی بڑی ہوتی ، اس کے بعد اعلی حضرت ترجمے کا املا فرماتے، بعض مرتبہ مسلسل دو تین سطر کی عبارت ایک ساتھ بلاتو قف بول دیا کر تے تھے مگر بفضلہ تعالی اس کے قلم بند کر نے میں کوئی دشواری پیش نہیں آتی تھی ، نہ کوئی لفظ کم و پیش ہونے پا تا تھا ۔

جو کچھ ترجمہ جس روز تحریرکیا جا تا تھا اس کی مقدار مع تاریخ نوٹ کر دی جاتی ،میرے ہاتھ کا لکھا ہوا ترجمہ اب تک مولانا نعیم الدین صاحب ( حضور صدر الافاضل) کے پاس محفوظ ہے، کہ وہ مولانا مصطفے رضا خاں صاحب (حضور مفتی اعظم ہند) سے اعلی حضرت کے کتب خانہ سے نکلوا کر بغرض طباعت لے گئے ،اگر چہ وہ کتاب میرے ہاتھ کی لکھی ہوئی تھی مگر اس کے لکھنے سے میرا مقصد یہ نہ تھا کہ اس پر مالکانہ قبضہ کروں، اس لئے میں نے کبھی اس کیلئے تقاضا نہ کیا ، اس ترجمہ کے دیکھنے سے یہ معلوم ہوسکتا ہے کہ ایک روز میں کتنا تر جمہ ہوا؟ اور جن الجھنوں میں لکھا گیا ہے اس کے باو جود کتابت اغلاط سے کس درجہ پاک ہے؟

اس ترجمہ کے لکھنے اورلکھوانے کی جو خدمت میں نے انجام دی ہے وہ میری نجات اخروی کا بہت بڑاذ خیرہ ہے۔ جن مشکلات کا اس میں مقابلہ کیا غالبا دوسرا شخص یہ نہ کرتا اور یہ کام صرف تخئیل اور وہم ہی میں رہتا، خارج میں اس کا ظہور نہ ہوتا ۔

ترجمہ کے بعد تفسیر :

ترجمہ کے بعد میں نے چاہا تھا کہ اعلی حضرت قبلہ اس پر نظر ثانی فرمالیں اور جابجا فوائد تحریر کردیں۔ چناں چہ بہت اصرار کے بعد یہ کام شروع کیا گیا ، دو تین روز تک کچھ لکھا گیا، مگر جس انداز سے لکھوانا شروع کیا اس سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ یہ قرآن پاک کی بہت بڑی تفسیر ہو گی ، کم از کم دس بارہ جلدوں میں پوری ہوگی۔ اس وقت خیال پیدا ہوا کہ اتنی مبسوط تحریر کی کیا حاجت، ہر صفحہ میں کچھ تھوڑی تھوڑی باتیں ہونی چاہئیں جو حاشیہ پر درج کر دی جائیں۔

لہذا یہ تحریر جو ہور ہی تھی بند کر دی گئی اور دوسری کی نوبت نہ آئی کاش و مبسوط تحریر جو اعلی حضرت لکھوار ہے تھے اگر پوری نہیں تو دو ایک پارے تک ہی ہوتی جب بھی شائقین علم کے لیے وہ جواہر پارے بہت مفید اور کار آمد ہو تے مگر افسوس کہ ہم خود بھی محروم رہے اور دوسرے لوگ بھی اس سے متمتع نہ ہو سکے“۔ ( حیات صدر الشریعہ از بحر العلوم مفتی عبد المنان اعظمی علیہما الرحمہ ، ص 40 تا 44)

شاداب امجدی برکاتی

Leave a Comment

Your email address will not be published.

*