کنز الایمان

کسب حلال کی اہمیت قرآنی تعلیمات کی روشنی میں

از : مفتی محمد عبدالمبین نعمانی قادری کسب حلال کی اہمیت قرآنی تعلیمات کی روشنی میں

کسب حلال کی اہمیت قرآنی تعلیمات کی روشنی میں

اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات اور کامل دستو رزندگی ہے،جو اپنے ماننے والوںکو زندگی کے کسی بھی موڑ پر مطلق العنان نہیں چھوڑتا کہ جیسے چاہیں زندگی کے لمحات گزاریں اور ان سے کوئی بازپرس نہ ہو بلکہ وہ اپنی آغوش میں پناہ لینے والوں کی ایسی مکمل اور سچی رہ نمائی کرتا ہے کہ اس کے خلاف زندگی کے کسی بھی مرحلے میں قدم اٹھانا سراسر ذلت ونقصان کا سبب ہے۔

اسلام جہاں مسلمانوں کو اصول عبادت اور طریقہ بندگی سے روشناس کراتا ہے وہیں کسب معاش،اور طلب رزق کے بھی صحیح اصول وضوابط پیش کرتاہے۔تاکہ اس کے مطابق عمل کرکے حلال روزی کا حصول کیا جاسکے کیوں کہ اسلام کے نزدیک رزق حلال کو ایسی زبردست اہمیت حاصل ہے کہ دولت ایمان سے بہرہ ور ہونے کے بعد اسلام کے جملہ ارکان پر عمل پیراہونے کے باوجود مسلمانوں کا کوئی بھی عمل بارگاہ خداوندی میں شرف قبولیت سے نوازا نہیں جاتا جب تک کہ ان کا کھانا پینا حلال نہ ہو۔

اسلام ایک پاکیزہ مذہب ہے یہ جس طرح گندے کردار سے مسلمانوں کو روکتا ہے، اسی طرح حرام و ناجائز رزق سے بھی پرہیز کا سختی کے ساتھ حکم صادر کرتاہے۔کیوں کہ جیسی غذاہوتی ہے ویسا ہی ذہن بنتاہے،اور سب سے بڑا نقصان تو یہ ہے کہ حرام کھاکر بندہ بندگی کے قابل نہیں رہ پاتا۔یہی وجہ ہے کہ حرام کھانے،پینے،پہننے والے کی دعابارگاہ خداوندی سے ردہوجاتی ہے۔جیسا کہ ذیل کی آیات سے واضح ہے۔

قرآن میں حلال روزی کی تاکید

کسب حلال پر قرآن نے بہت زوردیاہے کیوں کہ حرام وحلال ہی خیروشر کا سرچشمہ ہیں۔ حلال وطیب سے خیر پرورش پاتا ہے جبکہ حرام و خبیث سراسر شروفساد کا موجب ہے۔

لہٰذا ذیل میں آیات قرآنی کی روشنی میں رزق حلال کی اہمیت بیان کی جاتی ہے۔
(۱)یٰاَیُّھَا النّاَسُ کُلُوْا مِمّاَ فیِ الْاَرْضِ حَلٰلاً طَیِّباًوَّلاَتَتَّبِعُواْ خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ اِنَّہ‘ لَکُمْ عَدُو’‘ّ مُّبِیْن’‘۔
ترجمہ:اے لوگو! کھائو جو کچھ زمین میںحلال پاکیزہ ہے اور شیطان کے قدم پر قدم نہ رکھو بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔(بقرہ ۲/۱۶۸:کنزالایمان)

اس آیت پاک میں اللہ تعالیٰ نے بندوں کو حلال وطیّب کھانے کا حکم فرمایا ہے اور حرام وگندی چیزوں سے بچنے کی تاکید کی ہے کیوں کہ غذاکا اخلاق وکردارپر بہت زبردست اثر پڑتا ہے۔ حلال رزق سے دل میں جلا (روشنی) پیداہوتی ہے جبکہ حرام غذادل میں تاریکی لاتی ہے۔اس لیے رزق حلال کے لیے جائزپیشے کا اختیار کرنا عبادت قراردیاگیاہے۔اسی سورہ بقرہ میں ارشاد ہوتاہے۔

 

(۲)یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ ماَرَزَقْنٰکُمْ وَاشْکُرُوْالِلّٰہِ اِنْ کُنْتُمْ اِیَّاہُ تَعْبُدُوْنترجمہ:اے ایمان والو کھائو ہماری دی ہوئی ستھری چیزیںاوراللہ کا احسان مانو اگر تم اسی کو پوجتے ہو۔(سورہ بقرہ۔۲/۱۷۲:کنزالایمان)
پہلی آیت میں خطاب عام تھا اس میں خاص ایمان والوں کو مخاطب کیا گیا ہے اور حلال وطیب کھانے کے ساتھ ساتھ شکر کا بھی حکم ہے۔

یعنی اللہ کا رزق اوراس کی نعمت استعمال کرکے اس کو بھول نہ جائو کہ شکر نعمت زیادتی نعمت کا سبب ہے اور ناشکری سے نعمتیں چھن جایاکرتی ہیں یا ان میں نقصان پیداہوتاہے یاان کے روحانی اثرات وبرکات ختم ہوجاتے ہیں۔واضح رہے کہ حلال وطیّب رزق ہی پر شکرواجب ہے حرام وخبیث پر نہیں ۔لہذا ہر نعمت کے ملنے پر خدا کا شکرواحسان ماننا دل سے واجب اور زبان سے بھی اظہار شکر مستحب ہے۔

اسی لیے کھانے پینے یا کسی نعمت کے ملنے پر اَلْحَمْدُلِلّٰہْ کہے اور وہ دعائیں پڑھے جن کا احادیث میں ذکرہے۔ایک حدیث پاک میں ہے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بیشک اللہ بندے سے اس بات پر خوش ہوتاہے کہ جب کھائے یا پیئے تو اس کی حمد بجالائے یعنی اَلْحَمْدُ لَلّٰہْ کہے (ریاض الصالحین ص۷۶)

(۳)سورہ مائدہ میں ارشاد خداوندی ہے۔وَکُلُوْا مِمّاَ رَزَقَکُمُ اللّٰہُ حَلٰلاً طَیِّباً وَّاتَّقُوْااللّٰہَ الَّذِیْ اَنْتُمْ بِہٖ مُوْ مِنُونَ۔
ترجمہ:(اے ایمان والو) اور کھائو جو کچھ تمہیں اللہ نے روزی دی حلال پاکیزہ،اور ڈرو اللہ سے جس پر تمہیں ایمان ہے۔(مائدہ ۵/۸۸ :کنزالایمان)

اس آیت پاک میں بھی اہل ایمان کو خطاب ہے کہ حلال وپاکیزہ ہی کھائو حرام سے بچو،اور اللہ سے ڈرو،گویا حلال کھا کر ہی خوف الٰہی کی دولت مل سکے گی جو حرام کھاتاہے وہ تقویٰ ا ورخوف الٰہی سے محروم ہوجاتاہے۔دوسرااشارہ یہ بھی مل رہا ہے کہ حلال کھائو اور خدا کا خوف دل میں رکھو تاکہ آئندہ بھی حرام سے بچتے رہو

ورنہ اگر بے فکری وبے خوفی میں حلال کھائوگے تو ہوسکتا ہے شیطان بہکاوے میں ڈال دے اور حرام کی خواہش پیداکرکے حلال سے دور کردے یعنی نعمت خداوندی کے حصول کے بعد زوال نعمت کے سلسلے میں خدا سے ڈرتے رہو کہ کہیں ناشکری وغفلت سے یہ نعمت چھن نہ جائے کیوں کہ رزق حلال بھی یقینانعمت خداوندی میں سے اعلی ترین نعمت ہے کہ اس کے بغیر روحانیت اور عبادت میں مقبولیت نہیں پیدا ہوسکتی جیسا کہ ذیل کی آیت میں عمل صالح سے پہلے رزق طیب کے استعمال کی تاکید سے پتہ چلتا ہے۔

ارشاد ہوتا ہے۔
(۴) یٰاَیُّھَاالرُّ سُلُ کُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صاَ لِحاً اِنِّیْ بِماَ تَعْمَلُونَ عَلِیْم’‘۔
ترجمہ:اے پیغمبرو!پاکیزہ چیزیں کھائو،اور اچھا کام کرو میں تمہارے کاموں کوجانتا ہوں، (مومنون۲۳/۵۱:کنزالایمان)

اس آیت پاک میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو طیبات کا حکم دیاہے اور عمل صالح اور عبادات کو اس پر موقوف فرمایاہے،کیوں کہ حلال کے استعمال سے عبادات میں ذوق پیداہوتا ہے اور بارگاہ خداوندی سے شرف قبول عطاہوتا ہے۔

انبیاے کرام تو معصوم ہوتے ہیں پھر ان کو حلال وطیب کی تاکید کا غالباً مطلب یہ ہے کہ عام مومنین درس لیں کہ جب انبیاء کو رب نے طیبات کا حکم فرمایاہے تو دیگر بندوں کے لئے اس کی کس قدر اہمیت ہوگی۔اس سے وہ جھوٹے صوفی بھی سبق لیں جو شیطان کے بہکانے سے اپنے کواحکام شرعیہ سے آزاد سمجھتے ہیں اور جو جی میں آتا ہے کرتے ہیں اور جو چاہتے ہیں کھاتے ہیں،جہاں حکم شرع سنایا گیا جھٹ یہ کہہ دیتے ہیں کہ ہم اہل طریقت ہیں۔

یہ سب احکام اہل شریعت کے لیے ہیں۔یہ شیطان کا فریب اور صریح گمراہی ہے،کفر سے قریب تر،العیاذباللہ تعالیٰ اس آیت نے بتایا کہ جب انبیاء ورسل کو حلال وطیب کے حصول اور عمل صالح کا حکم ہے تو پھر کوئی کسی بھی درجے کاولی ہو وہ کیسے ان شرعی احکام سے خود کو مستثنٰی قرار دے سکتاہے۔

(۵)کُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ ماَ رَزَقْنٰکُمْ وَلاَتَطْغَوْا فِیْہِ فَیَحِلُّ عَلَیْکُمْ غَضَبِیْ وَمَنْ یَّحْلِلْ عَلَیْہِ غَضَبِیْ فَقَدْ ھَوٰی ترجمہ:کھائو جو پاک چیزیں ہم نے تمہیں روزی دیں اور اس میں زیادتی نہ کرو کہ تم پر میرا غضب اترے اور جس پر میرا غضب اترا بیشک وہ گرا۔(یعنی ہلاک ہوا اور جہنم میںگیا) (طٰہٰ ۔۲۰/۸۱)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے طیبات کے حکم کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ اللہ کے حلال و پاکیزہ رزق کے بارے میں حدسے تجاوز نہ کرو،یعنی فضول خرچی نہ کرو، ضرورت سے زیادہ نہ کھائو،اللہ کی نعمتوں پر اترائو نہیں بلکہ رزّاق کا شکر ادا کرو، دوسروں پر مال کی وجہ سے تفوّق(برتری)نہ جتائو۔ایسا بچاکر نہ رکھو کہ ضرورت مندوں کو بھوکا چھوڑدو اور اپناہی پیٹ بھر کر سورہو،رزق کو جان بوجھ کر ضائع نہ کرو۔

یہ یا اس قسم کے گناہ جو مال سے پیدا ہوتے ہیں ان کاارتکاب نہ کرو کہ یہ سب حد سے تجاوز ہے ورنہ غضب الٰہی اترے گا اور جس پرخدا کاغضب اترا اس کاانجام براہوا اور وہ ہلاکت کے گڈھے میں جاگرا،اس سے وہ لوگ بھی سبق لیں جو رزق خدا کی ناقدری اور اس میں زیادتی کرتے ہیں اور یہ سوچتے ہیں کہ رزق ہم نے کمایا ہے

لہٰذا اس کو جیسے چاہیں جائز وناجائز طریقے پر اور مصرف کی تمیز کئے بغیر خرچ کریں کوئی پوچھنے والا نہیں اورخدا جو رزّاق مطلق ہے اس کو بالکل بھول جاتے ہیں یہ روشن سوچ سراسر غیر اسلامی اور موجب ہلاکت ہے۔اَلعیَاذُ باِاللّٰہِ مِنْ غَضَبِہٖ وَعِقَا بِہٖ وَشَرِّ عِباَدِہٖ۔
(۶)فَکُلُوْا مِمّاَ رَزَقَکُمُ اللّٰہُ حَلٰلاً طَیِّباً وَّاشْکُرُوْانِعْمَۃَ اللّٰہِ اِنْ کُنْتُمْ اِیّاَہُ تَعْبُدُونَ۔
تو اللہ کی دی ہوئی روزی حلال پاکیزہ کھائو اور اللہ کی نعمت کا شکر کرو اگر تم اسے پوجتے ہو۔(نحل ۱۶/۱۱۴:کنزالایمان)

سورہ بقرہ آیت ۱۷۲ کا مضمون بھی اسی سے ملتا جلتا ہے فرق یہ ہے کہ اس میں خطاب مومنین سے ہے اور اس میں خطاب بنی اسرائیل سے ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ حلال وطیب کا حکم ایسی اہمیت رکھتا ہے کہ اُممِ سا بقہ کو بھی اس کا حکم تھا لہذا اہل اسلام کے لیے اس میں مزید درس عبرت اور تاکید عمل ہے۔

(۷) اسلام نے صدقہ کی بہت تاکید کی ہے اور بخل کی مذمت ،لیکن ایسا نہیں کہ صدقہ کے معاملہ میں آزادی دے دی ہو کہ جس قسم کا بھی مال ہو،صدقہ کردو بلکہ رب تبارک وتعالیٰ طیب ہے اور طیب ہی قبول فرماتاہے اسی لئے بندوں کو حلال کمائی سے صدقہ کا حکم فرمارہا ہے،ارشادہے۔یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْفِقُوْامِنْ طَیِّبٰتِ مَا کَسَبْتُمْ وَمِمّآَ اَخْرَجْنَالَکُمْ مِنَ الْاَرْضِ اے ایمان والو!اپنی پاک کمائیوں میںسے کچھ دو اور اس میںسے جو ہم نے تمہارے لئے زمین سے نکالا(بقرہ۔۲/۲۶۷:کنزالایمان)

اس آیت میں وَمِمَّاَ اَخْرَجْنَا لَکُمْ سے کھیتی کی بھی فضیلت ثابت ہوتی ہے کہ جو کھیتی سے نکلتا ہے وہ بالعموم پاکیزہ ہی ہوتا ہے جبکہ تجارت وغیرہ میں حرام وناجائز مال کا بہت خطرہ رہتاہے،اسی لئے کسب کے ساتھ تو طیبات کی قید ہے اور کھیتی سے صدقہ کرنے کا حکم عام ہے۔
مذکورہ آیت میں اہل ایمان کو صرف طیب وپاکیزہ اشیاء کے خرچ کرنے کاحکم ہے کہ اللہ حلال وطیب ہی قبول کرتا ہے۔حدیث شریف میں ہے اِنَّ اللّٰہَ طَیِّبٌلاَ یَقْبَلُ اِلّاَ طَیِّباً (دارمی)اللہ طیب ہے اور وہ طیب ہی قبول کرتا ہے۔

لہٰذا اس کی راہ میں حرام مال خرچ کرنا ثواب سے محرومی بھی ہے اور گناہ بھی۔
(۸) فَکُلُوْا مِمّاَ غَنِمْتُمْ حَلٰلاً طَیِّباً وَّاتَّقُوْااللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ۔
تو کھائو جو غنیمت تمہیں ملی،حلال پاکیزہ اور اللہ سے ڈر تے رہو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔(انفال۸/۶۹:کنزالایمان)

اس آیت میں کفار سے جنگ میںحاصل شدہ مال کو حلال وطیب فرمایا گیا اور ساتھ ہی حکم ہوا کہ اللہ سے ڈرتے رہو ایسا نہ ہوکہ آئندہ کسی غلطی میں پڑ جائو، کھانے پینے یا مال کی لالچ میں پڑ کر کوئی امر خلافِ شرع کر گزرو

(۹)فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِیْنَ ھاَ دُوْا،حَرَّمْنَا عَلَیْھِمْ طَیِّبٰتٍ اُحِلَّتْ لَھُمْ وَبِصَدِّ ھِمْ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ کَثِیْراً وَاَ خْذِھِمُ الرِّبٰوا وَقَدْ نُھُوْا عَنْہُ وَاَکْلِھِمْ اَمْوَالَ النَّاسِ بِا لْبَا طِلِ ۔(نساء۴/۱۶۱)اس آیت پاک میں اللہ تعالیٰ نے یہودیوںکی ان بداعمالیوں کا ذکر فرمایا ہے جن کے سبب سزائً ان پر بہت سی پاکیزہ چیزیں حرام قرار دی گئیں اور ان کو بہت سی ان نعمتوں سے محروم کردیاگیا جن سے وہ آزادی کے ساتھ استفادہ کیاکرتے تھے۔وہ اسباب یہ ہیں۔

(۱)ظلم کرنا

( ۲)اللہ کی راہ اور دین کے کاموں سے لوگوں کو روکنا

(۳)سود لینا

( ۴)اور لوگوں کا مال ناحق کھانا۔اس میں چوتھا سب سے بڑا گناہ لوگوں کا مال ناحق کھاناہے۔

اس سے معلوم ہوا کہ ناحق لوگوں کامال کھانا غضب الٰہی کا سبب ہے اور اس کے سبب آدمی بہت سی نعمتوں سے محروم ہوجاتاہے۔
قرآن میں حرام کھانے سے بچنے کی تاکید

قرآن حکیم میں جہاں جگہ جگہ مختلف اندازسے رزق حلال کمانے کی تاکید ہے وہیں بہت سی آیات میں حرام اور باطل طریقے سے حاصل کردہ مال کھانے کی سختی سے ممانعت آئی ہے۔چنانچہ ذیل میں چند آیات کا ذکرکیاجاتاہے۔

ارشاد خداوندی ہے۔
(۱)وَلاَ تَاکُلُوْا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بَالْبَا طِلِ وَتُدْلُوْا بِھَا اِلیَ الْحُکَّامِ اور آپس میں ایک دوسرے کا مال نا حق نہ کھاوٗ،اور نہ حاکموں کے پاس ان کامقدمہ اس لئے پہنچائو کہ لوگوں کا کچھ مال ناجائز طور پر کھالو، (بقرہ ۲/۱۸۸:کنزالایمان)

اس آیت میں باطل طور پر کسی کا مال کھانا حرام قراردیاگیاہے خواہ لوٹ کر،یاچھین کر،یاچوری کرکے،یاجوئے سے یاحرام تماشوں یاحرام کاموں یاحرام چیزوں کے بدلے رشوت یاجھوٹی گواہی یا چغل خوری سے یہ سب ممنوع وحرام ہے۔

اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ناجائز مقدمے سے مال کمانا بلکہ ناجائز مقدمہ اسی لیے قائم کرنا کہ اس کے ذریعہ کچھ مال مل جائے،یہ بھی حرام وگناہ ہے اسی طرح اپنے فائدے کی غرض سے دوسرے کو ضرر پہنچانے کے لیے حکام پر اثرڈالنا اور رشوتیں دینا بھی حرام ہے جو حکام رس لوگ ہیں وہ اس آیت کے حکم کو پیش نظر رکھیں۔(ماخوذاز خزائن العرفان)

از : مفتی محمد عبدالمبین نعمانی قادری

بانی رکن المجمع الاسلامی ،مبارک پور ،اعظم گڑھ

رابطہ: 9838189592

Leave a Comment

Your email address will not be published.

*