حالات حاضرہ

علامہ حکیم ڈاکٹر شررؔ مصباحی مبارک پوری بھی اپنی زندگی کی بساط لپیٹ گئے

از: محمد عبد المبین نعمانی قادری علامہ حکیم ڈاکٹر شررؔ مصباحی مبارک پوری بھی اپنی زندگی کی بساط لپیٹ گئے

عظیم محقق،ادیب،نقاد،شاعر،عالم ،حکیم،ماہر عروضیات بھی ہم سے (۲۸رمضان المبارک ۱۴۴۳ھ ؍۳۰ ،اپریل ۲۰۲۲ء بروز ہفتہ) رخصت ہوگئے اور اپنے جانے کا غم بھی دے گئے۔

عجب بات ہے مجھ نا چیزراقم الحروف نعمانی مصباحی سے بھی ایک گونہ محبت فرماتے تھے ،وہ کیوں مجھےآج تک معلوم نہ ہوسکا، انتقال سے کچھ قبل شعبان المعظم کی کسی تاریخ میں آپ مجھ سے ملنے چریاکوٹ آئے لیکن اس وقت میں باہر تھا ۔میرا موبائل بھی بند تھا ،فون ضرور کیا ہوگا،چوں کہ موبائل کھو گیا تھا ،اس لیے مس کال بھی نہ دیکھ سکا۔میں نہ تھا تو مولانا محمد افروز قادری سلمہٗ سے ملاقات کرکے چلے گیے۔

مجھے کبھی کبھی فون سے بھی یاد کرتے اور فون کے رواج سے قبل خط لکھتے ،کاش خطوط مل جائیں تو پرانی یادیں واپس آجائیں۔آپ کی مکتوب نگاری بھی بڑی خوبصورت ہوتی،حکیموں کے پرزے والے خط میں مکتوب لکھتے۔کسی کو کچھ لکھتے تو القاب میں بہت احتیاط کرتے جہاں مبالغے کا شائبہ بھی نہ ہو۔ایک صاحب کو جب بھی یاد کیا تو ماسٹر صاحب ہی کہا کیوں کہ وہ صرف انگریزی پڑھاتے ہیں اگرچہ ہیں سند یافتہ مولانا۔

آپ بہت اچھے شاعر تھے،کوئی دیوان چھوڑا ہے یا نہیں؟یہ معلوم کرنے کی ضرورت ہے ۔نعت ،منقبت کے کئی کلام رسائل ومجلات میں مطبوعہ ہیں انھیں تلاش کرکے جمع کیا جاسکتا ہے ۔آپ کی شاعری اردو کے علاوہ فارسی میں بھی ہوتی تھی۔اردو ،فارسی اور عربی کے اچھے سخن داں وادیب تھے۔وصال کی تاریخیں بھی نظم فرماتے۔ادب وشاعری کے میدان میں آپ کی کئی حضرات سے نوک جھونک بھی ہوئی۔ آپ نے جلدی کسی سے سرنڈر ہونے کا نام نہیں لیا، مجھ سے بھی ایک دوبار کچھ گفت وشنید ہوئی مگر میں نے کنی کٹا لی کہ اسی میں عافیت ہے ۔ صاحب علم تو تھے ہی اس میں کوئی کلام نہیں،اس لیے میں نے ہمیشہ ان سے رابطہ باقی رکھا اور کبھی کبھی کچھ استفادہ بھی کیا ہوگا۔

میں نے پڑھنے ہی کے زمانے میں آپ کا چرچا سنا جو ۶۷ تا ۶۹ء پر مشتمل ہے،کبھی کبھی طلبہ کے درمیان آپ کی آمد بھی ہوجاتی۔اس وقت فراغت کے بعد آپ شاید تکمیل الطب کالج لکھنؤ سے وابستہ تھے ۔ وہاں متعلم تھے یا استاذ یہ معلوم نہیں،طلبہ آپ کا نام بڑے ادب سے لیتےیعنی سالوں فراغت کے بعد بھی طلبہ اشرفیہ پر آپ کی دھاک جمی ہوئی تھی۔یہ بات بھی بطورِ خاص قابل ذکر ہے کہ ‘‘مصباحی’’لکھنے کی ابتدا آپ ہی نے کی ہے ۔شیخ الاسلام حضرت علامہ سید محمد مدنی اشرفی جیلانی دامت برکاتہم القدسیہ نے بھی اسی زمانے میں اپنے کو مصباحی لکھا،اگرچہ یہ سلسلہ دراز نہ ہوسکا، میں نے ایک معقولات کی کتاب پر آپ کا نام لکھا دیکھا تو اسی کے حاشیے میں سید محمد مدنی اختر ؔمصباحی لکھا ہوا تھا۔اخترؔ آپ کا تخلص آج تک باقی ہے۔

ایک مرتبہ فرمایا میں نے بیکلؔ صاحب (مرحوم) کا مجموعہ کلام دیکھا جس میں بے شمار غلطیاں تھیں،نشان زد کرکے اُن کو بھیج دیا ،جب کہ وہ دور اُن کی طالب علمی کا تھا اور حضرت بیکل ایک مشہور اور اسٹیج کے مقبول شاعر تھے اور نعتیہ مشاعرے ،غزلیہ مشاعرے ،دینی جلسوں میں تو آپ بے حد مقبول تھے ہی۔

ایک مرتبہ فرمایا:فراعت کے بعد میرا اتفاق اشرفیہ کے طلبہ کے امتحان لینے کا ہوا۔ایک بڑے پیر صاحب کے صاحبزادے سامنے آئے،میرے سوالوں کا جواب نہ دے سکے تو اِدھر اُدھر کی باتیں طمطراق سے کرنے لگے اور چاہا کہ مجھے مرعوب کرلیں،میں نے کہا حضرت!یہ میدان خطابت نہیں،یہ درسگاہ اور امتحان گاہ ہے یہاں اس طرح کے جوابات سے کام نہیں چلے گا،تب وہ خاموش ہوئے اور مجھے جو نمبر دینا تھا دے دیا۔

 

حضرت ڈاکٹر فضل الرحمٰن شررؔ مصباحی صاحب (علیہ الرحمہ)نے حضرت حافظ ملت علیہ الرحمۃ والرضوان کو اپنا استاذ بھی بنایا اور پیر بھی،ان دونوں وجہوں سے آپ حافظ ملت سے بہت محبت وعقیدت رکھتے اور آپ کے وجودِ باجود کو مبارک پور کے لیے بھی ایک نعمت بے بہا سمجھتے تھے۔ ایک بار کسی وجہ سے آپ مبارک پور سے دل برداشتہ ہوکر جانے لگے اور پورا ارادہ کر لیا کہ جامعہ کی تعمیر کا کام اب کسی اور جگہ ہوگا۔زمینیں بھی تلاش کی جانے لگیں

آپ کو معلوم ہوا تو بہت ہی رنجیدہ ہوئے اور کوشش کی کہ کسی طرح مبارک پور سے حضرت کا جانا نہ ہو۔اس لیے آپ کسی اور عقیدت مند کو لے کر مبارک پور کے سربرآوردہ لوگوں کےپاس گئے اور کہا آپ لوگ سور رہے ہیں اور حافظ ملت جارہے ہیں۔آپ لوگوں کو نہیں معلوم کہ یہ مبارک پورکا کتنا بڑا  نقصان ہوگا،گویا سونے کی چڑیا اڑ جائے گی ،تب آپ لوگ ہوش میں آئیں گےاور بھی طرح طرح سے آپ نے لوگوں کے درمیان اپنی بات رکھی اور بیداری کا ماحول بنایا۔

آپ سے ذمہ داروں نے کہا ،کیا کیا جانا چاہیے ؟آپ نے کہا سارے قصبے کے لوگ جمع ہوں اور اس بات پر اتفاق کریں کہ حافظ ملت کو یہاں سے نہیں جانا ہے ،انھیں جو کرنا ہے ،جیسا بھی جامعہ بناناہے یہیں بنائیں۔بالآخر لوگ جمع ہوئے اور اشرفیہ کی بلڈنگ میں جمع ہوئے اور سب نے صورت حال کو جان کر یہی فیصلہ کیا کہ سارے اختیارات حافظ ملت کے حوالے ہیں اب وہ کسی طرح کہیں نہیں جاسکتے،رہیں گے اور یہیں رہیں گے۔

اب یہ حافظ ملت سے شررؔ صاحب کی عقیدت ومحبت کہیےیا حالات کی صحیح نباضی کہیے کہ آپ کی یہ تحریک کامیاب ہوئی اور آج الجامعۃ الاشرفیہ جیسی وسیع وعریض عمارت، ایک یونیورسٹی کی طرح اس کا وسیع گراؤنڈ ،اس کے رواں دواں مختلف شعبے ملک وبیرون ملک تک اس کا علمی فیضان جو کچھ بھی ہے ،وہ صدقہ ہے حضرت حافظ ملت علیہ الرحمہ کا۔اِس راہ میں سب سے بڑی اور مؤثر تحریک ہے حضرت علامہ شررؔ مصباحی صاحب کی جو، اب مرحوم ہوچکے ہیں،ان کی حیات کا یہ بہت ہی اہم گوشہ تھا جسے میں نے اجاگر کرنا ضروری سمجھا،اور یہ بھی حقیقت ہے کہ شررؔ صاحب جہاں رہے جس حال میں رہے، حافظ ملت کی نگاہ میں رہے ،غالباً مجلس شوریٰ کا ممبر بھی حافظ ملت ہی نے آپ کو بنایا۔

حضرت شررؔ صاحب مرحوم بڑے بڑوں کو زبانی بھی اور تحریری بھی اپنی تنقید کا نشانہ بنا دیتے ۔ یہ تنقید محض علمی اور فنی ہوتی۔شخصیت کا لحاظ بہر حال کرتےاور میں نےدیکھاکہ ان کے اندر ہزار اختلاف کے باوجود بغض وکینہ کو کہیں کوئی جگہ نہیں ملتی جب بھی ملتے حسن سلوک اور رواداری کا پورا پورا خیال فرماتے ۔گفتگو میں ہمیشہ میٹھا پن دیکھا ،مسکرا کربات کرنا ان کی عادت تھی ۔کرخت لب ولہجے میں کبھی بات نہیں کرتے۔لکھنے میں شاید ان سے کچھ سخت کلمات نکل گئے ہوں لیکن ملنے میں ان کا حال ایسا ہی تھا۔ خدا رحمت کرے ،مغفرت سے نوازے ۔آمین؎

خدا بخشے بہت سی خوبیاں تھیں مرنے والے میں

ان کی تحقیقی اور فنی خدمات میں ایک بڑا کارنامہ ہے‘‘حدائق بخشش’’ کی تحقیقی اشاعت۔انہوں نےکئی نسخوں کو جمع کرکے اس کی تصحیح کی، ایک جاندار وشاندار اس پر مقدمہ بھی لکھا جس کی آن بان شان سے اشاعت کا سہرا جناب الحاج سعید نوری بانی رضا اکیڈمی ممبئی کے سرجاتا ہے بلکہ حدائق بخشش پرجو بھی کام آپ نے کیا، وہ نوری صاحب کی ہی کوششوں اور فرمائشوں کا نتیجہ ہے ۔کوئی بھی کام مکمل نہیں کہا جاسکتا ،کوتاہیوں سے بشر کا پاک ہونا انبیاء کا خاصہ ہے۔اِس راہ میں بھی شر رؔ صاحب سے کوتاہی چوک ہوسکتی ہے جس پر بعض لوگوں نے کڑی تنقیدیں کی ہیں ، کچھ کا انھوں نے جواب بھی دیا ہوگا۔میری بھی اپنی اس سلسلے میں کچھ گزارشات تھیں لیکن میں سوچ کر رہ گیا تاآں کہ آپ اس جہان فانی سے کوچ کرگئے۔

ڈاکٹر شررؔ مصباحی کے کارناموں میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ آپ نے جب یہ سنا کہ کنزالایمان فی ترجمۃ القرآن کی اشاعت ہونے والی ہےتو آپ نے خود خواہش ظاہر کی کہ اس سلسلے میں ان سے بھی استصواب رائے کیا جائے اور خود راقم الحروف نعمانی نے بھی اس کو فال نیک سمجھا پھر بطورِ خاص بانی ادارہ نشان اختر ممبئی مسترشد تاج الشریعہ جناب الحاج محمد عمران دادانی رضوی ملقب بہ ‘‘خادم القرآن’’نے اس کے لیے کوشش کرکے ان سے رابطہ کیا اور اور خاص اسی کام کے لیے دہلی کا سفر کیا ،ساتھ میں حافظ  شکیل احمد رضوی مالے گاؤں والے بھی تھے اور میں بھی۔

ہم لوگوں کا قیام جامع مسجد دہلی کے پاس ایک ہوٹل میں تھا ،رابطے کے بعد وہ متعدد بار اپنی قیام گاہ قرول باغ سے آتے رہے اور مشکل مقامات پر اپنے مفید مشوروں سے نوازتے رہے ۔کچھ دنوں کے بعد مبارک پور الجامعۃ الاشرفیہ کی امام احمد رضا لائبریری میں بھی علمائے اشرفیہ مولانا نفیس احمدمصباحی،مولانا مفتی معراج احمد مصباحی، مولانا صدر الوریٰ قادری،مولانا اختر حسین فیضی کے ساتھ دو نشستیں ہوئیں اور آپ نے ہر ایک میں شرکت فرمائی اور اپنی مفید آرا سے نوازا جس کے لیے ادارہ نشان اختر نے ان کا شکریہ ادا کیا ۔آج جب وہ نہیں ہیں تو یہ ادارہ بھی سوگوار ہے اور ان کی وفات کو جماعت اہل سنت کا ایک عظیم خسارہ تصورکرتا ہے اور مرحوم ڈاکٹر صاحب کے لیے بارگاہ خداوندی میں دعاے رحمت وغفران پیش کرنے کی سعادت بھی حاصل کررہا ہے۔

یہ پیراگراف خاص الحاج عمران دادانی صاحب کی فرمائش پر تحریر کیا گیا ہےاور ناچیز راقم الحروف بھی ان کے احساسات کی ترجمانی کرتے ہوئے مرحوم ڈاکٹر صاحب کے پسماندگان وفرزندان سے تعزیت کرتا ہے اور دعاے صبر بھی۔ مولیٰ عزوجل ڈاکٹر فضل الرحمٰن شررؔ مصباحی مرحوم کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائےاور حضرت حافظ ملت علیہ الرحمۃ  و الرضوان کے صدقے میں ان کے درجات کو بلندی سے نوازے ۔ آمین بجاہ سید المرسلین علیہ وآلہ وصحبہ الصلوٰۃ والتسلیم

محمد عبد المبین نعمانی قادری

رکن المجمع الاسلامی ،مبارک پور،اعظم گڑھ

خادم دارالعلوم قادریہ،چریاکوٹ ،مئو(یوپی)

Donations Details
AlBarkaat Educational and Welfare Trust
A/C 45350100013943
IFSC Code
BARB0THAKIS
Bank of Broda Thakurganj Branch.

PhonePay & GooglePay Number
9905084119

पैसे भेजने के बाद आप हमें स्क्रीनशाट भेज कर ख़बर कर दें!
Call&WhatsApp
+91 9925055786
+91 9905084119

Leave a Comment

Your email address will not be published.

*