حدیث شریف

تارک قربانی سیدکونین ﷺکی عدالت میں

تارک قربانی سیدکونین ﷺکی عدالت میں از: ہمشیرہ، اللہ بخش امجدی رکن:تحریک فروغِ اسلام شعبہ نشر واشاعت

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہرفرض یاواجب کو ادا نہ کرنے کی صورت میں قرآن وحدیث میں وعید آئی ہے اسی طرح قربانی بھی ہرصاحب نصاب پر ایام قربانی میں کرناواجب ہے۔

اللہ رب العزت قرآن مقدس میں ارشاد فرماتا ہےفَصَلِّ لِرَبِّکَ وَ انۡحَرۡ ؕترجمہ کنزالایمان: تو تم اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو(سورہ کوثر آیت نمبر۲)

اس آیت سے معلوم ہواکہ قربانی کرناواجب اور شعار اسلام ہے

حدیث: نبی کریم ﷺ سے رویت کیا گیا ہے کہ آپﷺنے فرمایا جو شخص خوشحال ہو یعنی صاحب نصاب ہو اور قربانی نہ کرے تو وہ خواہ یہودی ہوکر مرے یا نصرانی ہوکر مرے۔ اوردوسری روایت میں ہے کہ جو شخص صاحب استطاعت ہواور وہ قربانی نہ کرےتو ہماری نماز پڑھنے کی جگہ نہ آئے۔ وہ شخص جو ہماری نماز(عید) کی طرح نماز پڑھے اور ہماری قربانی کی طرح قربانی کرے تو وہ ہم میں سے ہے۔

اورجو شخص مالدار ہواور ہماری نماز کی طرح نماز نہ پڑھے اور ہماری قربانی کی طرح قربانی نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں۔ حضورﷺ نے فرمایا کہ میری امت کے بہترین لوگ ہی قربانی کرتے ہیں۔

اور میری امت کے شریر لوگ قربانی نہیں کرتے (درۃالناصحین)

مذکورہ بالا احادیث سے یہ بات روزروشن کی طرح واضح ہوگئ کہ قربانی نہ کرنے سے یہودی، نصرانی ہوکر مرنے کااندیشہ ہے۔ اور قربانی امت کے شریر لوگ ہی نہیں کرتے۔

لہذا جس پر بھی قربانی واجب ہے وہ ضرور جانور ذبح کرےاور جس کے پاس جانور خریدنے کی استطاعت نہیں وہ بڑے جانور میں شریک ہو جائے اور جویہ بھی نہیں کرسکتا وہ ایسی جگہ پر قربانی میں حصہ لیں جہاں جانور سستے ملتے ہیں یا کسی صحیح العقیدہ تنظم سے رابطہ کریں۔ دعا ہے کہ ہم سب کو ہرفرض اور واجب کو اپنے وقتوں پر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین بجاہ النبی الامین ﷺ

Leave a Comment

Your email address will not be published.

*