حالات حاضرہ

سرکار دوعالم ﷺ کا اسلوب تعلیم و تربیت

سرکار دوعالم ﷺ کا اسلوب تعلیم و تربیت

تعلیم و تربیت میں سرکار دوعالم ﷺ کا طریقۂ مبارک یہ تھا، کہ آپ حاضرین کے ذہنوں میں ایمان، اخلاق اور سلوک کی تعلیمات بڑے واضح اور محسوس انداز میں منتقل فرماتے، اور کسی بھی شخص کا یہی بہترین طریقہ تعلیم ہوا کرتا ہے، جس سے نہ صرف حصول علم ہوتا ہے بلکہ اس کے نقوش ذہن پر ثبت ہو جاتے تھے اس طریقۂ تعلیم کی ایک مثال مندرجہ ذیل ہے۔

نبی اکرمﷺ نے ایک قیدی خاتون کو دیکھا، کہ اسے جب بچہ دیا گیا تو اس نے بچے کو اپنی چھاتی سے لگایا اور اسے دودھ پلایا۔ اس نے یہ عمل اتنی بے تکلفی اور خوشی کے ساتھ کیا، گویا اس کے ساتھ کچھ ہوا ہی نہیں، اس پر سرکار دوعالم ﷺ نے فرمایا: ,, اے میرے صحابہ! کیا تم نے اس ماں کی اپنے بچے سے رحمت کا حال دیکھا؟ یعنی ماں کس طرح اپنے بچے سے خوش ہوتی ہے۔

صحابہ نے عرض کیا! ہاں یا رسول اللہ، تو سرکار دوعالم ﷺ نے فرمایا: ,, اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے اس سے بڑھ کر پیار کرتا ہے، اور اس کی توبہ سے ماں سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے۔

“ آپ ﷺ کی تعلیم و تربیت کا ایک طریقۂ کار یہ بھی ہوا کرتا تھا، کہ آپ ﷺ ہمیشہ صحابہ کرام کی توجہ اعلیٰ مقاصد و امور کی طرف مبذول کراتے تھے تاکہ ایک مؤمن تکبر کے بغیر سرفراز ہو سکے اور بغیر حیل و حجت اپنا کام خود کرے۔ اس طریقہ تعلیم میں آپ ﷺ فرماتے: ,, بلاشبہ اللہ تعالیٰ اعلیٰ مقاصد کو پسند اور پست ہمتی کو ناپسند فرماتا ہے۔“

آپ ﷺ مزید فرماتے ہیں: ,, جب کبھی تم اللہ سے سوال کرو، یعنی کوئی چیز مانگوں تو فردوس اعلیٰ کا سوال کرو، کیونکہ سب سے اعلیٰ جنت ہے۔اور اس کی چھت عرش الٰہی ہے۔،، حضور اکرم ﷺ فرصت کو غنیمت تصور کرتے تھے، اس عرصے میں آپ حاضرین کو بڑے سادہ انداز میں دور کی بڑی دقیق باتیں سمجھا دیتے تھے۔ لیکن یہ سب سمجھانے کے لئے آپﷺ وہ الفاظ استعمال کرتے، جو روز مرہ کی زندگی میں مستعمل ہوتے تھے۔

مثلاََ ایک مضبوط شخص کی حقیقت کو سمجھانے کی مثال: یوں تو طاقتور شخص وہی ہے، جو مقابلے میں دوسرں پر غالب آجائے اور ہر کام میں ان سے تیز ہو، سرکار دوعالم ﷺ نے طاقتور شخص کی ایک نئی تعریف کرتے ہوئے یوں فرمایا: ,, طاقتور شخص وہ ہر گز نہیں جو مقابلے میں مد مقابل کو چت کر دے بلکہ طاقتور شخص وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس کو قابو میں رکھے۔ اسی طرح آپ ﷺ نے ایک دفعہ فرمایا: ,, تم جانتے ہو کہ رقوب کون ہے؟

( صحابہ نے) عرض کیا رقوب وہ ہے جس کا کوئی بیٹا نہ ہو،اس پر حضورﷺ نے فرمایا:“ بلکہ رقوب وہ شخص ہے جس کا بیٹا تو ہو لیکن اس نے بیٹوں کی ایسی تربیت نہ کی ہو، جو اس کی آخرت میں کام آسکے۔ اسی طرح ایک اور موقع پر حضورﷺ نے صحابہ کرام سے دریافت فرمایا: ,, کیا تمہیں معلوم ہے کہ فقیر کون ہے؟ عرض کیا ! فقیر وہ شخص ہے جس کے پاس کوئی مال و دولت نہ ہو، فرمایا: بلکہ فقیر وہ شخص ہے جو مال سے آخرت کے لیے کچھ نہیں کماتا۔

اسی طرح ایک اور موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا: ,, کیا تم دیکھتے ہو کہ ایک شخص کے دروازے پر نہر ہو اور وہ ہر روز اس میں پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو، کیا اس کے بدن پر کچھ میل باقی رہے گی؟ صحابہ نے عرض کیا! ہرگز نہیں یا رسول اللہ۔ فرمایا: پانچ نمازوں کی مثال ایسی ہی ہے۔ اس کے علاوہ اور بھی مثالیں اور روایتیں ہیں جو کتب حدیث اور سیرت کی کتابوں میں بھری پڑیں ہیں۔،، فقط والسلام

از غلام ربانی شرفؔ نظامی

خطیب و امام چودھری مسجد اٹالہ الہ آباد

Leave a Comment

Your email address will not be published.

*