حالات حاضرہ

مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی علیہ الرحمہ چند درخشاں پہلو

مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی علیہ الرحمہ چند درخشاں پہلو

ازقلم :محمد ابوہریرہ رضوی مصباحی – رام گڑھ 

دنیاے تصوف کے شہ سوار، آسمان ولایت کے مہر درخشاں، غوث العالم ، تارک السلطنت حضرت مخدوم اشرف جہاں گیر سمنانی علیہ الرحمہ اس تاریخ ساز شخصیت کا نام ہے جس نے اپنے دور پر آشوب میں سفاہت و جہالت کو مٹا کر علوم وفنون کوفروغ دیا ، ضلالت و گمرہی کو مٹا کر اسلام میں چار چاند لگادیے ، زہد و ورع ،صبر ورضا حلم و برد باری اور شریعت وطریقت کے چھلکتے جام پلاکر اپنے شاگردوں کو غزالی زمانہ اور نادر روزگار بنادیا اور احقاق حق وابطال باطل میں فرید زماں اور فلک کرامت میں نیر تاباں ثابت ہوے۔

پیشین گوئی اور ولادت:

آپ شاہ سمناں سلطان محمد ابراہیم کے نور نظر تھے ۔شوکت سلطانی کے باعث سلطان ابراہیم اور ان کی اہلیہ کے پاس کسی چیز کی کمی نہ تھی مگر کوئی لڑ کا نہ ہونے کے باعث دونوں میاں بیوی بہت ملول رہا کر تے تھے اور بزرگان دین سے استمداد کے خواہاں رہا کرتے اور اس بات کے متمنی رہتے کہ خداے تعالیٰ انھیں کوئی لڑ کا عطا فرمائے جو آگے چل کر باپ کی جگہ سلطانی کے درجے پر فائز ہو۔

آپ کی والدہ اس سلسلے میں بہت زیادہ ہی متفکر رہا کرتی تھیں ۔ ایک دن نماز کے بعد اسی غم میں رونے لگیں، روتے روتے ہچکیاں بندھ گئیں پھر
وہیں پر نیند آ گئی ۔خواب میں ایک بزرگ شیخ احمد یسوی علیہ الرحمہ تشریف لائے اور بشارت دی:’’ تیرے بطن سے آفتاب ولایت طلوع ہونے والا ہے ۔‘‘ اس واقعے کے چند دنوں بعد حضرت ابراہیم مجذ وب جو سلطان کے معاصر بزرگوں میں سے تھے، انھوں نے بھی ایک فرزند ارجمند کی خوش خبری دی۔

ایک دن سلطان ابراہیم نے حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوفرزندوں کی خوش خبری سنائی ساتھ ہی دونوں کا نام تجویز کرتے ہوئے فرمایا: ایک کا نام اشرف اور دوسرے کا نام اعرف رکھ۔اشرف بڑا عارف وکامل ہوگا اور اس کے علم و فضل کا ایک زمانہ معترف ہوگا۔ بڑی مدتوں کے بعد آرزوؤں کی دنیا آباد ہوئی اور نہایت خوش اقبال وخوب صورت لڑکا ۷۰۸ھ میں تولد ہوا۔ پھر کیا تھا، خوشیوں کا ایک ماحول قائم ہو گیا، ہر دن عید اور ہر شب شب براءت معلوم ہو نے گی ۔

(لطائف اشرفی :ج اول ،ص ۳٦،مطبوعہ: مخدوم اشرف اکیڈمی ، کچھو چھہ شریف)

تعلیم وتربیت:

چارسال، چار ماہ اور چار دن کی عمر میں حضرت عمادالدین تبریزی کے ذریعے نہایت تزک واحتشام کے ساتھ’’ بسم اللہ خوانی‘‘ کی رسم انجام دی گئی ۔ ایک سال میں حفظ قر آن مع قراءت سبعہ کی تکمیل کی اور مشہور زمانہ قاری حضرت علی کوفی سے سند قراءت حاصل کی ۔ پھر اعلیٰ ل تعلیم کی جانب متوجہ ہوئے اور تفسیر، حدیث، فقہ، حکمت و تصوف اور فلسفہ منطق وغیرہ تمام مروجہ علوم وفنون پر عبور حاصل کر کے ممتاز علما کی صف میں شامل ہو گئے اور فقط چودہ سال کی عمر میں تمام علوم عقلیہ ونقلیہ سے فارغ ہو کر معاصرین علما کو محوحیرت کر دیا۔

سلطنت کی ذمے داری اور اصول جہاں بانی:

ابھی حضرت مخدوم سمنانی علیہ الرحمہ تحصیل علم سے فارغ ہی ہوئے تھے کہ دوسرے سال والد ماجد کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔اب امور سلطنت کی ساری ذمہ داری آپ کے کمسن کا ند ھے پر آ گئی ۔ بڑی خوش اسلوبی سے سلطنت کی ساری ذمے داریاں ادا کیں ۔ سلطان ابراہیم علیہ الرحمہ کے وصال کے بعد باغیوں نے سر ابھارا اور آپ کو ایک طفل مکتب سمجھ کر تخت سلطنت کو پلٹ دینا چاہا مگر آپ نے نہایت استقلال و پامردی کے ساتھ باغیوں کا قلع قمع کیا۔ اس طرح دس سال تک عدل وانصاف اور جود و سخا میں اعلیٰ مثال قائم کی۔

 

شب قدر عنایات الٰہی کی مقدس رات

ترک سلطنت اور ہندوستان آمد:

جب مدت سلطنت دس برس ہوچکی تو پچیس سال کی عمر میں رمضان المبارک کی ستائیسویں رات خواب میں حضرت خضر علیہ السلام تشریف لاۓ اور ارشادفرمایا:

’’اشرف تمھارا کام پورا ہوگیا، اگر وصال الٰہی اورمملکت لامتناہی کے طلب گار ہوتو بادشاہی چھوڑو اور ملک ہند کی جانب کوچ کرو ۔‘‘

آئینہ ہوتا ہے اہل دل کا دل

کشف ہو تجھ پر کسی کامل سے مل

خواب سے بیدار ہوئے تو ترک سلطنت کا جذ بہ بیدار ہو چکا تھا، تخت شاہی اپنے بھائی اعرف کے حوالے کیا اور والدہ محترمہ سے اجازت چاہی۔ ماں خود اپنے وقت کی رابعہ بصری تھیں انھوں نے فرمایا: تیری ولادت سے پہلے ہی اس بات کی بشارت مل چکی ہے کہ تو شہنشاہ ولایت ہوگا، تیرے علم وفضل سے دنیامستفیض ہوگی ، جا تجھے میں خدا کوسو نپتی ہوں

لیکن تجھ سے ایک گزارش ہے کہ تو سمنان سے اس طرح نکل کہ معلوم ہو تم کسی ملک کو اسلامی سلطنت میں داخل کر نے جار ہے ہو۔ ماں کی دلی خواہش کے مطابق بارہ ہزار سپاہ لشکر کے ساتھ نہایت جاہ وجلال کے ساتھ سمنان سے نکلے اور کچھ دور جا کر یکے بعد دیگرے ہر ایک کو رخصت کر دیا اور تن تنہا مز ید سفر جاری رکھتے ہوئے حضرت سلطان مخدوم جلال الدین بخاری جہانیاں جہاں گشت کی بارگاہ خطہ روچ ( ملتان پہنچے ۔

یہاں تین دن تک اکتساب فیض کے بعد دہلی میں حضرت نظام الدین اولیا علیہ الرحمہ کے سجادہ رشد و ہدایت حضرت نصیر الدین چراغ روشن دہلوی کے یہاں چلہ کش ہوئے اور پیران چشت کا خرقہ پایا۔ راستے میں جتنے بزرگوں سے بھی ملاقات ہوئی سبھوں نے بتایا کہ تمھارے شیخ تمھاری آمد کے منتظر ہیں اس لیے جلدی ان کی خدمت میں پہنچو۔ چناں چہ دارالسلطنت سے نکل کر اپنے شہر آرزو کی جانب تیزی سے گامزن ہوئے۔ بہار شریف پہنچے تو یہاں حضرت مخدوم شیخ شرف الدین یحییٰ منیری علیہ الرحمہ کا اسی دن وصال ہو چکا تھا، وصیت کے مطابق آپ نے نماز جنازہ پڑھائی اور منزل مقصود کی راہ
لی۔

(ملخص: حیات غوث العالم- از: محدث اعظم ہند علیہ الرحمہ )

مخدوم سمناں کا استقبال پنڈوہ شریف میں:

ادھر مرشد کامل حضرت شیخ علاؤ الحق پنڈ وی دو برس سے آپ کی آمد کے منتظر تھے ۔اس دوران حضرت خضر علیہ السلام نے ستر مرتبہ شیخ کو آپ کے آمد کی اطلاع دی – ایک دن قیلولہ فرماتے وقت خواب سے چونک کر بیدار ہوئے اور بے تابانہ خانقاہ سے باہر نکل آئے، حاضرین سے فرمانے لگے: مجھے خوشبوئے یارمل رہی ہے ۔

پھر حضرت شیخ اپنی پالکی کے ساتھ مع ہمراہیوں کے آپ کے استقبال کے لیے نکلے۔ راستے میں حضرت مخدوم علیہ الرحمہ نے جب شان دار استقبال کا پر کیف منظر دیکھا تو دور ہی سے سمجھ گئے کہ یہ میرے شیخ کی انجمن ہے ۔

قریب آ کر شیخ کے قدموں میں گر پڑے۔ شیخ نے سر اٹھایا، مصافحہ ومعانقہ کے بعد اپنی پالکی میں بٹھایا، پھر خانقاہ میں لے آئے ۔ چار سال کے بعد اپنے مخصوص ومروجہ طریقے پر مرید کیا اور راہ سلوک طے کرانے کے بعد جہانگیر کے معزز خطاب سے نوازا۔ پھر جو نپور کی ولایت عطا کر کے آپ کو وہاں سے روانہ کر دیا۔

پنڈوہ سے جون پور کا سفر:

منزل بہ منزل کوچ کرتے ہوئے پنڈ وہ شریف سے محمد آباد گوہنہ (اعظم گڑھ) پہنچے۔ یا بہ اختلاف روایت پنڈوہ شریف ( بہار ) سے منیر شریف ہوتے ہوئے محمد آباد پہنچے ۔ یہاں کے علما وفقہا سے ملاقاتیں ہوئیں اور بے شمارخلق خدا نے اکتساب فیض کیا۔محمد آباد سے ظفر آباد پہنچے اور مسجد ظفر خان میں رونق افروز ہوئے۔

یہاں رئیس سرور پور شیخ کبیر عباسی حلقہ ارادت میں داخل ہوکر مراتب علیا حاصل کیا اور قاضی شہاب الدین دولت آبادی ، ملک العلماء اور ابراہیم شاہ شرقی نے مع اپنے شاہزادوں کے بیعت کی۔ یہاں ( جو ن پور ) دو ماہ تک قیام پذیر رہے اور عوام وخواص آپ سے مستفیض ہوتے رہے۔ یہاں سے عراق، حجاز، بغداد، نجف، اشرف، بصرہ، جیلان اور یمن کا سفر ، کر تے ہو ئے وہ دو بار و پنڈ وہ شریف تشریف لائے اور کچھ دن مرشد کی خدمت میں گزارے۔

کچھو چھ مقدسہ میں آمد اور تبلیغی خدمات :

پنڈ وہ شریف سے جون پور ہوتے ہوئے کچھوچھ مقدسہ کی سرزمین پر جلوہ افروز ہوئے ۔ اپنے پیر ومرشد کی ہدایت کے مطابق آپ نے اس خاص مقام کو تلاش کر کے پڑاؤ ڈالا جہاں کی انھوں نے نشان دہی کی تھی کہ اس کا محل وقوع یوں ہے کہ چاروں طرف سے پانی گھیرے ہوئے اور درمیان میں خشکی ہوگی جومزارمقدس کے لیے مخصوص ہے ۔

حلقہ تالاب کے وسط میں ایک بڑا جادوگر رہا کرتا تھا۔ اس نے جب سنا کہ یہ فقیر میر محل وقوع پر ٹھہر کر چلہ شی کر نا چاہتا ہے تو وہ غصے سے آگ بگولہ ہو گیا اور اپنی قوت سحر اور استدراج سے چیونٹیوں کو حملہ کرنے کے لیے بھیج دیا۔ حضرت تارک السلطنت نے اپنے نئے مرید جمال الدین راؤت کو مقابلے میں بھیجنا چاہا تو انھیں ذرا تا مل ہوا۔ مخدوم پاک نے قریب بلا کر اپنے منہ سے پان کا اگال نکالا اور ان کے منہ میں ڈال دیا۔

اس سے حضرت جمال الدین راؤت کی دل کی دنیا ہی بدل گئی۔ اب وہ شیروں کی طرح آگے بڑھے اور چیونٹیوں پر ایک نگاہ ڈالی ہی تھی کہ سب کے سب غائب ہوگئیں ۔ جوگی نے دوسری بار شیروں کے کرتب دکھلائے مگر حضرت جمال الدین کے تصرف نے انھیں بھی غائب کر دیا ۔اب جوگی اپنا آخری حربہ اپناتے ہوئے اپناسوٹا(چھڑی) ہوا میں اڑا دیتا ہے۔

یہ دیکھ کر حضرت جمال الدین ،مخدوم سمنانی کا عصا مبارک منگوا کر ہوا میں چھوڑ دیتے ہیں اورعصاے مخدوم جوگی کے سوٹے کو مار کر زمین پر گرا دیتا ہے ۔ روحانی تصرفات کے حیرت انگیز مناظر دیکھ کر جوگی کے ہوش وحواس اڑ جاتے ہیں اور بارگاہ مخدومی میں حاضر ہوکر معافی کا خواستگار ہوتا ہے ۔ پھر اپنے ساتھیوں کے ہمراہ دست مخدوم اقدس پر تائب ہوکر مسلمان ہو جا تا ہے۔

نگاہ ولی میں وہ تاثیر دیکھی

بدلتی ہزاروں کی تقدیر دیکھی

حضرت نے تالاب کے کنارے اس کو جگہ عنایت فرمائی اور اپنے طریقے کے مطابق ریاضت ومجاہدے میں مشغول کر دیا۔ بعد ازاں دھیرے دھیرے مخلوق خدا کا قافلہ آنے لگا اور تین سال میں وہ تختہ گل گلزار ہو گیا۔ اس علاقے کا نام حضرت نے روح آبادرکھا، جب کہ خانقاہ کا نام کثرت آباد اور اپنے مخصوص حجرے کا نام وحدت آباد رکھا۔ ساتھ ہی پیشین گوئی فرمائی کہ آئندہ زمانے میں اس جگہ بڑی رونق ہوگی ۔ اکا بر روزگار ، رجال الغیب اور بہت سے اولیاءاللہ یہاں آئیں گے۔ یہ وہی مقام ہے جو آج فیض آباد( یوپی ) کا ایک مشہور خطہ کچھوچھہ کے نام سے مشہور ہے.

تبلیغی اسفار :

آپ کی ذات گرامی سے ہندوستان کا گوشہ گوشہ فیض یاب ہوا، جہاں آپ نے غیر ملکی اسفار کے ذریعے بھٹکے ہوئے آہوؤں کو سوے حرم لانے کی کوشش کی وہیں ہندوستان کے بیشتر علاقوں کا دورہ کر کے گم گشنگان راہ کے لیے مشعل راہ ثابت ہوئے اور انھیں اپنے فیضان کرم سے مالا مال فرمایا۔ اشاعت اسلام ہی کی خاطر حضرت مخدوم سمنانی تخت و تاج کو خیرآباد کہہ کر راہ خدا میں نکل پڑے تھے۔ آپ کے اس نیک جذ بے نے اسلام کو بہت زیادہ فروغ دیا۔

ایک ایک مجلس میں آپ سے متاثر ہوکر کئی کئی ہزاراوگ حلقہ بگوش السلام ہوئے بنارس میں ایک مرتبہ تفریح کرتے ہوئے جار ہے تھے ، راستے میں ایک بت خانہ تھا۔ مندر کے مقتدر پجاری اور اس کے احباب ملاقات کے لیے حاضر ہوئے ۔

گفتگو مذاہب عالم کی حقانیت پہ چل پڑی۔ اس نے اپنے مذہب کو حق ثابت کرنے کے لیے گئی دلیلیں قائم کیں ۔ مخدوم صاحب نے ارشادفر مایا: دلائل و براہین رہنے دو جنھیں تم پوجتے ہو
اگر وہی تمھاری تکذیب کرنے لگیں تو اسلام قبول کر لو گے؟ پجاری نے کہا: ہاں ! میں اور میرے ساتھی بھی مسلمان ہو جائیں گے ۔ ایک بت قریب ہی تھا آپ نے اس سے مخاطب ہو کر فرمایا: اے بت! اگر محمد عر بی صلی اللہ علیہ وسلم کا دین برحق ہے تو کہہ لا اله الا الله مـحـمـد رسول اللـه فوراً بت سے آواز آئی لا اله الا الله محمد رسول الله۔

اسی طرح بہت سے لوگ آپ کے ہاتھوں حلقہ بہ گوش اسلام ہوئے۔ علاقہ فلسطین میں آپ کے ہاتھوں پر مسلمان ہونے والوں کی اچھی خاصی تعداد ہوگئی تھی ۔ روم اور قسطنطنیہ میں بھی لوگ آپ کے ہاتھوں پر مسلمان ہوئے ۔ ہند اور بیرون ہند میں تائبوں کی تعداد لاکھوں تک پہنچی ہوئی ہے ۔ جو مصیبت و بدکاری میں اپنی زندگی گزار رہے تھے اور اسلامی احکام کی خلاف ورزی کر تے ہوئے ذرا بھی نہ شرماتے تھے، وہ آپ کی توجہ اور نظر عنایت سے اسلام کے سچے متبع اور نیکو کار بن کر طبقہ خواص میں شمار ہونے لگے ۔

وعظ ونصائح :

حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے منقول ہے کہ واعظ ومقرر ناامیدی کی باتیں حد سے زیادہ نہ کرے اورا تنا امید وار بھی نہ بنادے کہ خدا سے بے خوف ہو جائے ۔ وعظ نرمی سے کرناچاہیے، سخت زبانی مناسب نہیں، خلق کو عبادت حق کی دعوت دینا نبوت کی نیابت (لطائف اشرف )——

حضرت علی کے اس قول پرعمل پیرا ہوکر اپنے وعظ ونصیحت کو اثر انگیز بنایا جا سکتا ہے، ساتھ ہی ان کی اثر آفرینیاں درج ذیل سطور میں حضرت مخدوم سمناں کے طرز بیان سے بھی اخذ کی جاسکتی ہیں ۔ حضرت سید اشرف جہانگیر سمنانی علیہ الرحمہ نے بغداد کی جامع مسجد میں خلیفہ اور بزرگوں کے اصرار سے وعظ کہنا شروع کیا، تقریباً پانچ ہزار کا مجمع تھا، ایک قاری نے سورہ یوسف کی تلاوت کی ، حضرت پر کیفیت طاری ہوئی اور ایسے ایسے معارف بیان کرنا شروع کیے کہ پورے مجمع پر وجد اور رقت طاری ہوگئی ۔ جب اس آیت پر پہنچے “لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّاٰ بُرۡهَانَ رَبِّهِ”
توایسے عاشقانہ اور دردمندانہ نکتے بیان فرمائے کہ بہت سے اہل مجلس بے ہوش ہوگئے اور بعض جنگل کی طرف بھاگے۔ایک فاضل شیخ قطب نامی اس مجلس میں موجود تھے، وہ کہتے تھے میری عمر سو برس کے قریب ہے، بڑے بڑے مشہور واعظوں کو سنا ہے مگر ایسی لطافت وظرافت کی مجلس نہ دیکھی ۔

تبلیغ بہ ذریعہ تصنیف:

جہاں آپ نے اپنی محفل وعظ ونصیحت اورتبلیغی اسفار کے ذریعے گم گشتگان راہ کوصراط مستقیم کی جانب لا کھڑا کیا وہیں قلمی معرکے بھی سر کیے ۔ ان کی تصنیفات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آپ کس قدر کثیر التصانیف تھے ۔

(۱) دیوان اشرف: غزلوں کا مجموعہ جو فصاحت و بلاغت سے لبریز ہے.

(۲) فتاواے اشرفیہ، مختلف سوالات کے شرعی جوابات کا ایک قابل قدر ذخیرہ۔
(۳) مناقب السادات یہ رسالہ سیدوں کے فضائل پرشتمل ہے ۔

(٤) مناقب اصحاب کاملین ومراتب خلفاے راشد ین: اس میں خلفاے راشدین وصحابہ کرام کے مراتب و در جات کا تذکرہ ہے ۔

(۵) مکتوبات اشرفی: حضرت غوث العالم کے مکتوبات کا ایک گراں قدر مجموعہ –

(٦) تحقیقات عشق، متصوفانہ انداز میں عشق کی تو جیہ وتشریح ۔

(۷) رسالہ وحدۃ الوجود، تصوف کی مصطلحات کا اہتمام والتزام کے سلسلے میں ۔

(۸) بشارة الاخوان-

(۹) ارشاد الاخوان –

(۱۰) فوائد الاشرف-

(۱۱) اشرف الفوائد۔

ان تمام تصانیف میں تصوف ومعرفت کے اسرار ورموز بیان کیے گئے ہیں –

(۱۲)اشرف الانساب: سلاطین ومشائخ عظام کے سلسلہ ہائے نسب-

(۱۳) رساله غوثیہ: منصب غوثیہ کے تعلق سے تمام باتیں مندرج ہیں.

( ١٤ ) رسالہ تصوف واخلاق : (اردو) اس کا عنوان نام ہی سے ظاہر ہے –

(۱۵) بشارة المریدین: اس کتاب کو قبر میں بیٹھ کر لکھا اور مریدین کو بشارت دی کہ میرے تمام مرید ین حق پر ہیں۔

(۱٦) رسالہ جۃ الذاکرین- یہ لطائف اشرفی کے ساتھ منسلک ہے ۔

تفویض سجادگی:

ایک مرتبہ آپ کو یہ عم لاحق ہوا کہ نہ میری کوئی اولاد ہے اور نہ ہی شادی کی ہے کہ امید ہو۔آخر میرا جانشین کون ہوگا ؟ حضرت شیخ نے کشف سے دلی کیفیت معلوم کر لی ۔ فرمایا: اشرف غم نہ کرو، تمھارے لیے ایک فرزند دینی خداوند قدوس سے میں نے طلب کر لیا ہے ، اس کا غلغلہ بہت دور دور تک پہنچے گا۔اس کی برکتوں سے دنیا مالا مال ہوتی رہے گی اور یوں ہی یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ حضرت مخدوم پاک نے جب اپنے شیخ کی زبان فیض تر جمان سے یہ حوصلہ افزا جملے سنے تو سن کر ساری کلفتیں کافور ہوگئیں۔

چناں چہ جب دو بار ہ بلاد شر قیہ کی سیاحت کے لیے نکلے تواپنی خالہ زاد بہن کی ملاقات کے لیے گیلان پہنچے، تو اپنے خالاتی بھانجے سید عبد الرزاق(نورالعین) کو اپنی فرزندی میں قبول کرلیا۔ بعد میں وہ حضرت مخدوم صاحب کے ساتھ مستقل قیام پذیر رہنے لگے ۔

تاریخ کے مطابق حضرت سید عبد الرزاق نور العین اڑسٹھ سال تک مخدوم صاحب کے ساتھ رہے، بیس سال تک آپ کے وضو کا بچا ہوا پانی پوشید ہ طور پر نوش فرمایا۔ حضرت مخدوم پاک کا ارشاد ہے: اس فقیر نے اکابرین وقت سے جو کچھ بھی حاصل کیا سب فرزندارشدنورالعین کے سینے میں منتقل کر دیا۔ چناں چہ حضرت مخدوم پاک کے وصال کے بعد آپ ان کے سجادہ نشیں ہوئے اور آپ ہی سے نسل مخدوم پاک کا ارتقا ہوا۔

وصال:
ایک سو بیسں برس کی عمر پاکر ۸۰۸ھ میں ماہ محرم میں انتقال فرمایا۔

اے اشرف زمانہ زمانے مدد نما

در ہاے بستہ راز کلیدے کرم کشا

(نوٹ : یہ تمام باتیں’ لطائف اشرفی‘’حیات غوث العالم‘‘اور’تذکرہ مخدوم‘‘ سے ماخوذ ہیں البتہ لطائف اشرفی‘‘ سے زیادہ مدد لی گئی ہے۔)

ازقلم :محمد ابوہریرہ رضوی مصباحی – رام گڑھ 

[ڈائریکٹر مجلس علماے جھارکھنڈ و ڈائریکٹر الجامعۃ الغوثیہ للبنات جھارکھنڈ]

زکوٰة احادیث کے آئینے میں
زکوٰة احادیث کے آئینے میں

Leave a Comment

Your email address will not be published.

*