حالات حاضرہ

قرآن خوانی یا قرآن فہمی آخر وقت کی ضرورت کیا ہے

قرآن خوانی یا قرآن فہمی آخر وقت کی ضرورت کیا ہے؟

از : ثناء المصطفیٰ مصباحی، لکھنؤ، یوپی، ہند

قرآن کریم الله تعالی کا کلام ہے جو لوح محفوظ سے آسمان دنیا تک شب قدر میں یکبارگی نازل ہوا پھر ضرورت کے اعتبار سے 23 سالوں میں مکمل قرآن مجید نبی کریم ﷺ پر بذریعہ وحی نازل ہوا۔ قرآن مجید 7 منزلوں، 30 پاروں اور 114 سورتوں پر مشتمل ہے جس میں توحید، احکام الٰہی اور عبرت ونصیحت کے لیے قصے بیان کیے گئے ہیں۔

بلا شبہ قرآن کریم پوری دنیامیں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اچھی خاصی تعداد اسے بغیر سوچے سمجھے پڑھتی ہے۔

حالاں کہ یہ کتاب نازل ہی اس لیے ہوئی تھی کہ ہم اسے سمجھیں، اس سے ہدایت حاصل کریں اور اس پر عمل کرکے اپنی دنیا و آخرت کو سنواریں لیکن اب ہم صرف ثواب کی نیت سے بغیر سمجھے قرآن پڑھتے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن کا پڑھنا، سننا، دیکھنا اور چھونا بڑے ثواب کا کا م ہے۔

لیکن در حقیقت یہ کتاب سمجھ کر پڑھنے، غور و فکر کرنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کے لیے نازل ہوئی تھی۔ یہ کتاب ہماری زندگیوں کو اس وقت سنوارتی ہے جب ہم اس کی آیات پر غور کرتے ہیں، اس سے سبق حاصل کرتے ہیں اور اس کے مطابق عمل کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔

 

لیکن افسوس کہ ہم نے قرآن فہمی کو چھوڑ کر صرف قرآن خوانی پر ہی اکتفا کر لیاہے، غور و فکر اور تدبر کرنا بالکل چھوڑ دیا ہے جس کا نتیجہ یہ آرہا ہے کہ ہم قرآن تو پڑھتے ہیں لیکن قرآن ہم سے کیا مطالبہ کر رہا ہے اس کو نہیں سمجھ پا رہے ہیں۔

شہر لکھنؤ میں کئی بار محفل قرآن خوانی میں جانے کا اتفاق ہوا ہے، لوگ بہت شوق سے سال میں ایک یا دو بار مدرسے کے طلبا اور اعزہ و اقربا کو مدعو کرتے ہیں، قرآن خوانی ہوتی ہے، صلاۃ وسلام ہوتا ہے پھر پر تکلف کھانے پر محفل کا اختتام ہو جاتا ہے۔ جس سے صاحب خانہ مطمئن ہو جاتے ہیں کہ ہم نے اپنے مسلمان ہونے کا ثبوت دے دیا پھر پورے سال نہ ان کے گھر قرآن و حدیث پڑھی جاتی ہے، نہ اسلام و سنیت کی باتیں ہوتی ہیں، نہ ہی کوئی ان کو اسلام کے بارے میں کچھ بتاتا ہے وہ جو کچھ بھی سیکھتے ہیں تو کالج، یونیورسٹی، ٹی وی اور سوسائٹی سے سیکھتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نام تو ہوتا ہے عبد اللہ لیکن عقیدہ مشرکین کا ہوتا ہے، نام تو ہوتا ہے عبد الرحمان لیکن عقیدہ ملحدین کا ہوتا ہے، نام تو ہوتا ہے عبد السلام لیکن وہ سبھی مذاہب کو سچا اور حق مان رہا ہوتا ہے۔

علماے کرام کو اس پر غور کرنے کی سخت ضرورت ہے کہ ہم اس مصروفیت کے دور میں ان لمحات کو کیسے مفید سے مفید تر بنا سکتے ہیں جس سے ہم ان کو ایک سچا مسلمان اور نبی کا عاشق بنا سکیں۔

ہمارے خیال میں اگر ہم صرف 15 منٹ قرآن پڑھیں پھر انہیں اسلام کی حقانیت، اسلام کی بنیادی باتیں، اسلام کے خلاف ہونے والے اعتراضات کے جوابات بتائیں، قرآن کی منتخب سورتوں کے معانی ومطالب، ارکان اسلام، وضو کا طریقہ، غسل کا طریقہ اور نماز کا طریقہ وغیرہ بتائیں تو یقین مانیں اس کا بہت اچھا اثر مرتب ہوگا، نسلیں سنوریں گی، اچھی سوسائٹی تیار ہو گی اور وہ گمراہ ہونے سے بچ بھی جائیں گے کیوں کہ زیادہ لوگ گمراہ اس لیے ہورہے ہیں کہ انہیں اسلام کے بارے میں کچھ معلوم ہی نہیں ہوتا ہے اگر کوئی غیر مسلم ان سے اسلام کے بارے میں کچھ پوچھ لیتا ہے تو وہ جواب ہی نہیں دے پاتے ہیں جس کی وجہ سے وہ شک میں پڑ جاتے ہیں۔

اس لیے علماے کرام کی ذمہ داری ہے کہ اس کے بارے میں غور کریں اور اس وقت کو مفید سے مفید تر بنانے کی کوشش کریں۔

از قلم : ثناء المصطفیٰ مصباحی

Leave a Comment

Your email address will not be published.

*