شخصیات

اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ احوال و آثار

اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ احوال و آثار

ازقلم : محمدابوہریرہ رضوی مصباحی 

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی علیہ الرحمہ ایک کثیر الجہات شخصیت کا نام ہے

آپ ١٠/ شوال ١٢٧٢ھ بروز شنبہ وقت ظہر مطابق١٥/ جون١٨٥٦ء کو بریلی میں ایک دینی وعلمی گھرانے میں پیدا ہوئے.عہد طفلی اعلیٰ حضرت کا بچپن بہت ہی ناز ونعم میں گزرا، آپ بچپن میں بچوں کے ساتھ نہ کھیلتے، محلہ کے بچے کبھی کھیلتے ہوئے گھر آجا تے تو آپ ان بچوں کے ساتھ کھیل میں شریک نہ ہوتے.طہارتِ نفس، اتباعِ سنت، پاکیزہ اخلاق اور حسنِ سیرت جیسے اوصاف آپ کی ذات میں بچپن ہی سے ودیعت تھے۔

بچپن کے حیرت انگیز واقعات ابھی اعلیٰ حضرت کا بچپن ہے، تعلیم کی شروعات ہورہی ہے، رسم بسم اللہ خوانی کا پہلا دن ہے، ابھی بالکل پڑھائی کی ابتدا ہے اور بسم اللہ خوانی ہی کے دن الف، با، تا، پڑھتے ہوئے لفظ “لام الف” پر حیرت انگیز عالمانہ اعتراضات کیے۔

(اس کی کچھ تفصیل یوں ہے کہ اس دن استاذ محترم نے بسم اللہ الرحمن الرحیم کے بعد الف، با، تا، ثا جس طرح بچوں کو پڑھایا جاتا ہے پڑھانا شروع کیا. اعلیٰ حضرت استاذ کے پڑھانے کے مطابق پڑھتے رہے، لیکن جب لام الف(لا) پڑھنے کی باری آئی

استاذ نے فرمایا :کہو: لام الف. اعلیٰ حضرت خاموش رہے اور لام الف نہ پڑھا. استاذ نے دوبارہ کہا: کہو میاں! لام الف. آپ نے عرض کیا لام اور الف تو میں ابھی اوپر پڑھ چکا ہوں یہاں دوبارہ پڑھانےکی کیا ضرورت؟

اس وقت آپ کے جدامجد عالم ربانی حضرت مولانارضا علی خاں بریلوی قدس سرہ نے جو جامع کمال ظاہری وباطنی تھے(اپنی فراستِ ایمانی سے پھانپ لیا) فرمایا :بیٹا استاذ کا کہا مانو، جو کہتے ہیں پڑھو

اعلیٰ حضرت نے جدامجد کے حکم کی تعمیل کی اور اپنے جدِامجد کے چہرے کی طرف دیکھنےلگے، دادا جان نے اپنی فراست ایمانی سے سمجھ لیا کہ اس بچےکو شبہ یہ ہورہا ہے کہ یہ حروفِ مفردہ کا بیان ہے. اب اس میں ایک مرکب لفظ کیسے آیا؟ ورنہ یہ دونوں حروف(الف.. اور لام) الگ الگ تو پڑھ ہی چکے ہیں. پھر جدامجدنےانھیں سمجھایا۔

بیٹا! تمھارا خیال درست ہے اور سمجھنا بجا ہے. مگر بات یہ ہے کہ شروع میں تم نے جس الف کو پڑھا ہے حقیقت میں وہ ہمزہ ہے اور یہ درحقیقت الف ہے، لیکن الف ہمیشہ ساکن ہوتا ہے اور ساکن کے ساتھ شروع کرنا ناممکن ہے، اس لیے ایک حرف یعنی لام، پہلے لاکر اس کا تلفظ بتانا مقصود ہے

اعلیٰ حضرت نے پھر ایک اعتراض کیا، ابھی پڑھائی کا پہلا ہی دن ہے، کتنے ذکی و ذہین تھے اعلیٰ حضرت بولے: آپ کہتے ہیں تو کوئی ایک حرف ملا دینا کافی تھا، اتنے دور کے بعد لام کی کیا خاصیت ہے؟ با، تا، دال،سین بھی شروع میں لا سکتے تھے

حضرت جدامجد نے غایت محبت و شفقت میں اپنے عظیم پوتے کو سینے سے لگا لیا اور دل سے بہت دعائیں دیں.پھر جد امجد نے جواب دیا کہ الف اور لام میں صورت اور سیرت کے اعتبار سے ایک خاص مناسبت ہے، ظاہراً لکھنے میں بھی دونوں کی صورت ایک جیسی ہوتی ہے

“لا” میں لام اور الف تقریباً یکساں نظر آتے ہیں اور دونوں میں سیرۃً اس طرح یکسانیت ہے کہ لام کا قلب الف ہے اور الف کا قلب لام ہے. یعنی دونوں میں قلبی تعلق ہے) (ملخصا، حیات اعلیٰ حضرت جلداول،ص: ١١٠تا١١١)ایک مولوی صاحب جو چند بچوں کو پڑھایا کرتے تھے

اعلیٰ حضرت بھی ان سے قرآن مجید پڑھا کرتے تھے. ایک دن کا واقعہ ہے کہ”جب آپ قرآن پاک پڑھتے تھے تو ایک روز آپ کے سبق میں عجیب ماجراہوا. استاذ نے ایک جگہ کچھ اعراب بتایا آپ نے استاذ کے بتانے کے خلاف پڑھا. انھوں نے دوبارہ کرخت آواز سے بتایا آپ نے پھر وہی پڑھا جو پہلے پڑھا تھا. آپ کے والد ماجد جو قریب ہی کمرے میں بیٹھے تھے انھوں نے سیپارہ (جو پارہ پڑھ رہے تھے) منگا کر دیکھا تو سیپارے میں استاد کے بتانے کے موافق تھا

آپ بھی وہاں چوں کہ کتابت کی غلطی محسوس کر رہے تھے آپ نے قرآن پاک منگایا. اس میں وہی اعراب پایا جو اعلیٰ حضرت نے بار بار پڑھا تھا. باپ نے بیٹے سے دریافت کیا کہ تمھیں جو استاد بتاتے تھے وہی تمھارے سیپارے میں بھی تھا، تم نے استاد کے بتانے کے بعد بھی نہیں پڑھا

اعلیٰ حضرت نے عرض کیا: میں نے ارادہ کیا کہ استاد کے بتانے کے موافق پڑھوں مگر زبان نے یارا نہ دیا(مگرزبان نے ساتھ نہیں دیا) اس پر ان کے والد ماجد وفورِ مسرت سے آبدیدہ ہوگئے اور خدا کا شکر ادا کیا کہ اس بچے کو “ماانزل اللہ” کے خلاف پر قدرت ہی نہیں دی گئی ہے. یہ تھے آثارِ مجددیت. (سیرت اعلیٰ حضرت. از:علامہ حسنین رضا خاں علیہ الرحمہ، ص:٤٤/٤٣- ناشر:امام احمد رضا اکیڈمی میں، بریلی شریف، سن اشاعت٢٠١٢ء)

اعلیٰ حضرت ابھی چھوٹے ہیں، ان پر روزہ فرض نہیں ہوا ہے، مگر گھر کے سارے افرد کو روزہ رکھتے دیکھ کر ایک دن آپ نے بھی روزہ رکھ لیا.علامہ حسنین رضا بریلوی لکھتے ہیں :رمضان المبارک گرمی کے موسم میں تھا اور اعلیٰ حضرت قبلہ خورد سال(چھوٹے) تھے، مگر آپ نے بڑی خوشی سے پہلا روزہ رکھاتھا، ٹھیک دوپہر میں چہرۂ مبارک پر ہوائیاں اڑنے لگیں، آپ کے والد ماجد نے دیکھا تو آپ کو اس کمرے میں لے گئے جہاں فیرنی جمانے کے لیے رکھے گئے تھے

اور اندر سے کواڑ بند کرکے اعلیٰ حضرت کو فیرنی کا ایک ٹھنڈا پیالہ اٹھاکردیا اور فرمایا کہ لو کھالو، تو آپ نے عرض کیا میرا تو روزہ ہے، والد محترم نے فرمایا کہ بچے کے روزے ایسا ہی ہوا کرتے ہیں، کمرہ بالکل بند ہے، نہ کوئی آ سکتا ہے، نہ دیکھ سکتا ہے. تو اعلیٰ حضرت نے عرض کیا کہ جس کا روزہ رکھا ہے وہ پروردگار تو دیکھ رہا ہے، اس پر والد محترم آبدیدہ ہو گئے اور خدا کا شکر ادا کیا کہ خدا کے عہد کو یہ بچہ کبھی فراموش نہیں کرےگا. (سیرت اعلیٰ حضرت، ملخص، ص:٤٤/٤٣..بتصرف)

صرف تیرہ سال دس ماہ کی عمر میں اعلیٰ حضرت نے تمام مروجہ درسی علوم و فنون سے فراغت حاصل کرنے کے بعد باقاعدہ درس و تدریس کا آغاز کیا، ساتھ ہی منصبِ اِفتا کی عظیم ذمہ داری بھی بحسن و خوبی انجام دینے لگے. عشق رسول نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے، بخاری شریف کی حدیث ہے آقا فرماتے ہیں : لایوءمن احدکم حتی اکون احب الیہ من والدہ وولدہ والناس أجمعين.(بخاری شریف، جلد اول، ص:٧، حدیث نمبر ١٥. مطبع، مجلس البرکات, الجامعۃ الاشرفیہ، مبارک پور ،سن اشاعت ٢٠٠٧ء)

ترجمہ: تم میں کا کوئی شخص مومن ہی نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اسے زیادہ پیارا نہ ہوجاؤں باپ سے بیٹے سے اور سب لوگوں سے.اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان محبت رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) میں اس قدر سرشار تھے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں ذرا سی بھی گستاخی برداشت نہیں کرتے تھے. آپ کی زندگی کا ایک ایک لمحہ عشقِ رسول میں گزرا ہے، امام احمد رضا کا ایک ایک کام عشق مصطفیٰ میں ہوا ہے، انھوں نے جو بھی لکھا ہے عشقِ رسول کے آئینے میں لکھا ہے، فتاوی لکھا ہے تو عشقِ رسول میں، ہر تصنیف وتالیف کو عشق رسول کے سانچے میں ڈھال کر پیش کیا ہے

کنز الایمان لکھا تو عشقِ رسول میں، آپ کے شب و روز کے بیشتر اوقات ذکر حبیب ہی میں کٹے.انھیں جانا انھیں مانا نہ رکھا غیر سےکام للہ الحمد میں دنیا سے مسلمان گیا جان ہے عشقِ مصطفیٰ روز فزوں کرے خداجس کو ہو در کا مزہ ناز دوا اٹھائے کیوںسر ضیاءالدین اور مسئلہ ریاضی ہندوستان کی مشہور ومعروف مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے وائس چانسلر ڈاکٹر ضیاء الدین یورپ کی کسی یونیورسٹی سے ریاضی کا کورس مکمل کر کے آئے

اور ہندوستان کے بلند پایہ ماہرینِ ریاضیات میں انھوں نے اپنا ایک الگ مقام بنایا.مگر ریاضی کا ایک مسئلہ ان سے حل نہیں ہو رہا تھا بالآخر ڈاکٹر صاحب نے اس مسئلہ کے حل کے لیے جرمنی جانے کا ارادہ کیا. “توانھیں سید سلیمان اشرف بہاری علیہ الرحمہ خلیفۂ اعلیٰ حضرت نے (جو اس وقت مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ اردو کے پروفیسر تھے)

اس مسئلہ کی تحقیق کے لیے بریلی شریف جاکر امام احمد رضا سے رجوع کر نے کو کہا. چناں چہ سید سلیمان اشرف اور سید مہدی حسن مارہروی کے ہم راہ ڈاکٹر ضیاء الدین بریلی پہنچے، اور اعلیٰ حضرت سے مسئلے کا حل دریافت کیا. اعلیٰ حضرت نے سنتے ہی برجستہ جواب عنایت فرما دیا. تشفی بخش جواب سنتے ہی ڈاکٹر صاحب کو سخت حیرت ہوئی، گویا آنکھوں سے پردہ اٹھ گیا اور بے اختیار بول اٹھے:

“میں سنا کرتا تھا کہ علم لدنی بھی کوئی چیز ہے آج اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا. میں تو اس مسئلے کے حل کے لیے جرمنی جارہا تھا لیکن ہمارے پروفیسر (سلیمان اشرف)صاحب نے میری رہ نمائی کی”. کہتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب پر اعلیٰ حضرت کی علمی جلالت اور اعلیٰ اخلاق کا ایسا اثر ہوا کہ علی گڑھ آتے ہی انھوں نے داڑھی رکھ لی اور صوم و صلوٰۃ کے پابند ہوگئے”.(ماہنامہ اشرفیہ اگست ١٩٨٠ ص: ١٨)

فتویٰ نویسی اور فتاویٰ رضویہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں محدث بریلوی علیہ الرحمہ نے آٹھ سال کی عمر میں فتویٰ نویسی کا کام شروع کر دیا تھا، اور علمِ فرائض کا ایک مسئلہ تحریر فرمایا تھا.تیرہ سال دس ماہ پانچ دن کے جب ہوئے تو باضابطہ طور پر منصبِ افتا کی ذمہ داری آپ کے سپرد کر دی گئی

پہلا استفتا جو آپ کی بارگاہ میں آیا وہ رضاعت کا تھا، وہ سوال یہ تھا: کہ اگر بچے کی ناک میں کسی طرح دودھ چڑھ کر حلق میں پہنچ گیا تو کیا حکم ہے؟

اعلیٰ حضرت نے بڑے محققانہ انداز میں اس کا جواب تحریر فرمایا: کہ منھ یا ناک سے عورت کا دودھ جو بچے کے پیٹ میں پہنچے گا حرمتِ رضاعت لائے گا(امام احمد رضا نمبر ،ص:٣٤٠) یہ امام احمد رضا کا فتوی نویسی کا آغاز تھا، اتنی کم عمر میں افتا کی ذمہ داری سنبھالنے کی تاریخ کہیں اور نہیں ملتی، یہ انفرادی شان ہے امام احمد رضا کی

آپ تقریباً ٥٤ سال تک مسلسل فتاویٰ صادر فرماتے رہے، اور اس کے لیے آپ کو نہ تو کوئی تنخواہ ملتی نا کوئی معاوضہ بلکہ فی سبیل اللہ یہ ساری خدمات انجام دیتے. فقہ و فتویٰ میں آپ کی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے، آپ کے فتووں کا مجموعہ “فتاویٰ رضویہ” کے نام سے موجود ہے، جو درحقیقت فقہِ حنفی کے مطابق جاری کردہ ہزاروں فتاویٰ جات کا مجموعہ ہے، اس علمی ذخیرہ کو فقہ حنفی کا انسائیکلوپیڈیا کہا جاتا ہے، اس کا پورا نا “العطايا النبویه فی الفتاوی الرضویه” ہے

اب یہ 32 جلدوں میں چھپ کر منظر عام پر آچکی ہے، اہل علم کے نزدیک اس کی حیثیت ماخذ ومرجع کی ہے، فتاویٰ رضویہ کےحوالےسے جوبات کہی جاتی ہے وہ قولِ فیصل کی حیثیت رکھتی ہے

کنز الایمان امامِ اہلِ سنت نے تفہیمِ قرآن کے لیے بھی زبردست کام کیا ہے، آپ کے تفہیمِ قرآن کی امتیازی شان اور اہم خصوصیت یہ ہے کہ آپ نے اللہ تبارک و تعالیٰ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و رفعت، تقدس و جلالت کا مکمل طور پر خیال رکھا ہے

ترجمے تو بہت سارے افراد نے کیے مگر ترجمۂ قرآن کنز الایمان میں جو انفرادیت اور امتیازی خصوصیت پائی جاتی ہے وہ دوسرے ترجموں میں نہیں پائی جاتی. یہی وجہ ہے کہ اپنے تو اپنے غیر بھی کنز الایمان کی تعریف کررہے ہیں

امیر جماعت اہل حدیث پاکستان سعید یوسف زئی نے برملا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ: یہ ایک ایسا ترجمۂ قرآن مجید ہے کہ جس میں پہلی بار اس بات کا خاص خیال رکھا گیا ہے کہ جب ذات باری تعالیٰ کےلیے بیان کی جانے والی آیتوں کا ترجمہ کیا گیا ہے تو بوقت ترجمہ اس کی جلالت و تقدس و عظمت و کبریائی کو بھی ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے. جبکہ دیگر تراجم خواہ وہ اہل حدیث سمیت کسی بھی مکت فکر کے علما ہو، ان میں یہ بات نظر نہیں آتی ہے

اسی طرح وہ آیتیں جن کا تعلق محبوب خدا شفیع روز جزاسیدالاولین والآخرین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے ہے، یا جن میں آپ سے خطاب کیا گیا ہے تو بوقت ترجمہ مولانا احمد رضا خاں نے اوروں کی طرح صرف لفظی اور لغوی ترجمہ سے کام نہیں چلا یا ہے بلکہ صاحب”ماینطق عن الھوی”اور “ورفعنالک ذکرک” کے مقام عالی شان کو ہرجگہ ملحوظ خاطر رکھا ہے. یہ ایک ایسی خوبی ہے جو دیگر تراجم میں بالکل ہی ناپید ہے. ہم اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ انھوں نے اپنے ترجمہ میں وہ چیزیں پیش کی ہیں جن کی نظیر علماے اہل حدیث کےیہاں بھی نہیں ملتی. (سالنامہ معارف رضا، کراچی-١٤١٨ھ، ص: ٢٠)

کنز الایمان کی شہرت و مقبولیت اور کثرتِ اشاعت کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ قبولیت کی سند پا چکا ہے

 

 

شب قدر عنایات الٰہی کی مقدس رات

امام احمد رضا اور ردِبدعات و منکرات

(١) ہندوؤں کے میلوں میں جانا ہندوؤں کے تہواروں میں جو لوگ جاتے ہیں وہ کان کھول کر امام عشق ومحبت کا فرمان سن لیں:ان (ہندوؤں)کا میلہ دیکھنے کے لیے جانا مطلقاً ناجائز ہے. (عرفان شریعت،ج، اول، ص:٢٧)

(٢) عورتوں کا مزارات پر جانا عورتوں کے لیے زیارت قبور و مزارات اولیا کے متعلق سوالات کے جواب میں ارشاد فرمایا :”عورتوں کے مزارات اولیا، مقابرِ عوام دونوں پر جانے کی ممانعت ہے”. (احکام شریعت. ج، دوم، ص:١٨)

فتاویٰ رضویہ میں لکھتے ہیں :اصح یہ ہے کہ عورتوں کو قبروں پر جانے کی اجازت نہیں. (فتاویٰ رضویہ. ج، ٤،ص:١٦٥.مطبع رضااکیڈمی )

(٣) فرضی قبریں فرضی مزار کے تعلق سے لکھتے ہیں: فرضی مزار بنانا اور اس کے ساتھ اصل کا معاملہ کرنا ناجائز و بدعت ہے. (ایضاً. ج، ٤،ص:١٥)

(٤) قبرکا بوسہ وطواف اس کے متعلق فرماتے ہیں :بلا شبہ غیر کعبہ معظمہ کا طواف تعظیمی ناجائز ہے اور غیر خدا کو سجدہ ہماری شریعت میں حرام ہے، اور بوسہء قبر میں علما کا اختلاف ہے، بچنا بہتر ہے (احکام شریعت…فتاویٰ رضویہ. ج، ٤ص: ٨)

(٥)سجدۂ تعظیمی حرام ہےاس سلسلے میں مستقل ایک رسالہ اعلیٰ حضرت نے لکھا ہے “الزبدۃ الزکیةلتحریم سجود التحیة” اس رسالے میں آپ نے واضح طور پر یہ لکھا ہے کہ کسی بندے کو سجدۂ تعظیمی کرنا حرام ہے

(٦) محرم اور صفر میں شادی آپ سے سوال کیا گیا کہ محرم اور صفرمیں نکاح(شادی ) کرنا منع ہےکیا؟ جواب دیا نکاح کسی مہینہ منع نہیں، یہ غلط مشہور ہے (الملفوظ، ج، اول، ص: ٣٦)

اس کے باوجود بھی لوگ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا کو بدعتی کہتے ہیں. مذکورہ باتوں میں دیکھیں کہ اعلیٰ حضرت نے کیسے کیسے خرافات سے لوگوں کو منع کیا ہے. ایسے اور بھی بہت ساری باتیں ہیں جن سے اعلیٰ حضرت نےمنع فرمایا ہے. لیکن صفحات کی تنگی کی وجہ سے میں نے صرف کچھ باتوں کا ذکر کیا ہے

جنھیں اس سلسلے کی مزید تفصیلات دیکھنا ہوں وہ سید فاروق القادری کی کتاب “فاضلِ بریلوی اور امورِ بدعت” کے ساتھ علامہ یسین اختر مصباحی کی کتاب “امام احمد رضا اور رد بدعات و منکرات” ملاحظہ فرمائیں. وصال کی پیشن گوئی جب محدث سورتی علیہ الرحمہ کا وصال ہوا تو اعلیٰ حضرت نے اس آیت قرآنی سے ماده تاریخ وفات نکالا ’’يطاف عليهم بانية من فضة واكواب ‘‘ خدا کی شان دیکھیے کہ محدث سورتی کے وصال کے ٦/ سال بعد جب اعلیٰ حضرت کا انتقال ہوا تو آیت مذکورہ میں صرف واؤ کے اضافے سے اعلیٰ حضرت کا سن وفات ١٣٤٠/ھ نکل آیا

اس واقعے کو بیان کرتے ہوئے ملک العلماعلامہ ظفر الدين بہاری علیہ الرحمہ یوں رقم طراز ہیں: فقیر قادری جب استاذی محدث سورتی کے وصال شریف کے بعد بنظرِ تعزیت پیلی بھیت حاضر ہوا اس کے بعد اعلیٰ حضرت بریلی شریف کی قدم بوسی کے لیے حاضری دی، ایک دن حضور نے اثنائے تذکرہ فرمایا :

“کہ میں نے حضرت محدث صاحب کی تاریخ وفات آیت کریمہ سے پائی جس سے ان کا مرتبہ بھی معلوم ہوتا ہے اور یہ آیت کریمہ حضور نے تلاوت فرمائی” يطاف عليهم بانية من فضة من واکواب”اسی وقت میں نے آیت کریمہ کے اعداد جوڑے تو١٣٣٤ھ نکلے، لیکن میرے دل میں ایک کھٹک تھی جس کو کہنے کی ہمت نہ ہوئی، لیکن اعلیٰ حضرت نے اس پر مطلع ہوکر فرمایا: کیا کچھ کہناچاہتے ہیں؟

اتنا اشارہ پا کر میں نے عرض کیا آیت کریمہ ” ويطاف“ ہے اس پر تبسم فرمایا اور ارشاد ہوا کہ پوری آیت اس بندہء خدا کی تاریخ ہوگی جس کا انتقال چھ (٦) سال بعد میں ہوگا

اس وقت میراذہن حضور کی طرف نہ گیا لیکن جب حضور کا انتقال١٣٤٠ھ میں ہوا تو معا خیال آیا کہ اعلٰی حضرت نے اس دن کو اپنی ہی طرف اشارہ فرمایا تھامگر میں سمجھ نہ سکا۔( حیات اعلیٰ حضرت جلد سوم،ص:٢٨٣)چناں چہ سرکار اعلیٰ حضرت کا وصال ٢٥صفر١٣٤٠ھ. ٢٨ اکتوبر ١٩٢١ء کو بروز جمعہ دوبج کر ٣٨منٹ پر ہوا

انا للہ وانا الیہ رٰجعون

وادی رضا کی کوہ ہمالہ رضا کا

جس سمت دیکھیئے وہ علاقہ رضا کا ہے

ازقلم :محمدابوہریرہ رضوی مصباحی – رام گڑھ

(ڈائریکٹر مجلس علماے جھارکھنڈ

و ڈائریکٹر الجامعۃ الغوثیہ للبنات جھارکھنڈ)

7007591756

زکوٰة احادیث کے آئینے میں
زکوٰة احادیث کے آئینے میں

Leave a Comment

Your email address will not be published.

*