شخصیات

حیات غوث اعظم کے چند تابندہ نقوش

حیات غوث اعظم کے چند تابندہ نقوش

از قلم: محمدابوہریرہ رضوی مصباحی

پیشن گوئی اور ولادت :

حضرت شیخ ابوبکر بن ہوار رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنی مجلس میں ایک دن اپنے اصحاب میں اولیا کے حالات کا ذکر کیا، پھر کہاکہ:عنقریب عراق میں ایک عجمی شخص پیدا ہوگا، وہ اللہ تبارک و تعالیٰ اور لوگوں کے نزدیک بلند مرتبہ والاہوگا.اس کا نام عبدالقادرہوگا، اس کی سکونت بغداد ہوگی، وہ کہےگاکہ:میرا یہ قدم ہرولی اللہ کی گردن پر ہے. اس کے زمانے کے اولیا اس کی بات مانیں گے. (بھجۃ الاسرار.امام ابوالحسن شونی.ص:6.ادبی دنیا دہلی. سن اشاعت 2005ء)

حضور غوث اعظم کی ولادت باسعادت یکم رمضان المبارک بروز جمعہ 470ھ کو گیلان میں ہوئی.حضور غوث اعظم کی ولادت یکم رمضان المبارک کو ہوئی. تعیلم کی ابتدا: سرکار غوث اعظم رضی اللہ عنہ کی عمر جب پانچ سال کی ہوئی تو آپ کی والدہ محترمہ نے جیلان کے ایک مقامی مکتب میں داخلہ کرایا. پانچ سال تک یہاں تعلیم حاصل کرتے رہے. اور بہت سارےعلوم وفنون پر دست رس حاصل کی. اس کے بعد والدہ محترمہ سے اجازت لے کر علمی تشنگی بجھانے کے لیے بغد کا سفر کیا۔

آپ 488ھ/میں 18/ سال کی عمر میں بغداد پہنچے اور تحصیل علم میں مشغول ہوگئے، پہلے قرأت سیکھی، اس کے بعد علم فقہ، حدیث اور تصوف کا علم حاصل کیا نیز عملی طور پر ریاضت و مجاہدہ کے دشوار گزار مراحل طیےکیے.درس وتدرس اور فتویٰ نویسی: آپ نے وعظ و تبلیغ کا سلسلہ 521ھ/1127ءسے شروع کیا اور درس وتدرس کا آغاز 528ھ/1134ءسے شروع کرکے وصال تک جاری رکھا، اس طرح آپ نے 40 سال تک تبلیغ اور 33سال تک تدریس اور افتا کے فرا انجام دیئے۔

سرکار غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ نے جب درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا تو آپ کے پاس اکستاب علم کے لیے علما، صلحا اور فقہا کی بھیڑ جمع ہوگئ، دور درازسے بھی طالبان علوم نبویہ آپ کی بارگاہ میں حاضرہوئےاور اپنی علمی تشنگی بجھانےلگے۔آپ چوں کے ظاہری و باطنی علوم کے جامع تھے اس لیے آپ کی خدمت میں حاضر ہونے والے طلبہ کو کسی دوسرے عالم کے پاس جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ آپ دن میں تفسیر، علوم حدیث، فقہ، اختلاف مذاہب، اصول اور نحو کا درس دیتے، ظہر کے بعد قرآن مجید، تجوید و قرأت (قرأت مختلہ)کے ساتھ پڑھاتے(زبدۃ الاسرار. شیخ عبدالحق محدث دہلوی. ص:40)

 

ایک مشکل مسئلہ کا حل:

حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ مشکل سے مشکل مسئلے کا حل فوراً عنایت فرمادیتے. بلادعجم سے ایک سوال آیا جس کا جواب عراق عرب اور عراق عجم کے علمانہ دے سکے. سوال یہ تھا کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کوتین طلاق اس شرط پر معلق کی کہ وہ ایسی عبادت کرے گا جس میں وہ عبادت کے وقت تنہاں ہو، اگر ایسی عبادت نہ کرے تواس نے کہا :میری بیوی مجھ پر تین طلاق سےحرام ہوگئ۔

جب یہ سوال حضور غوث اعظم کی بارگاہ میں آیا تو آپ نے فوراً اس کا جواب تحریر فرمایاکہ: وہ شخص مکہ معظمہ جائے، اس کے لیے خانہ کعبہ کو خالی کرادیاجائے اور وہ تنہا سات چکر طواف کرے، اس وقت اس عبادت میں کوئی دوسرا اس کے ساتھ شر نہ ہوگا، سوال کرنےوالا جواب ملتےہی ایک رات بھی بغداد میں نہ رہا اور اسی دن مکہ معظمہ کےلیے روانہ ہوگیا. (قلائدالجواہر. ص:38)

وعظ و خطابت:

حضور غوث اعظم، ہفتے میں تین دن خطابت فرماتے، جمعہ کی صبح، منگل کی شام اور اتوار کی صبح.حضرت غوث اعظم فرماتے ہیں کہ: ابتداء مجھ پر وعظ و تقریر کا اس قدر غلبہ ہوتا کہ خاموش رہنا میری طاقت سے باہرہوجاتا، میری مجلس میں دو یا تین آدمی سننے والے ہوتے، مگر میں نے سلسلہء کلام جاری رکھا پھر لوگوں کا ہجوم اس قدر بڑھا کہ جگہ تنگ ہوگئ، پھر عیدگاہ میں خطاب شروع کیا، وہ بھی ناکافی ہوئی، تو شہر سے باہر کھلےمیدان میں اجتماع ہونے لگا، اور ایک ایک مجلس میں ستر ہزار کے قریب سامعین جمع ہونے لگے.(اخبارالاخیار. شیخ عبدالحق محدث دہلوی ص:37.38.)

جب آپ کرسی خطابت پر تشریف فرماہوتے تو مختلف علوم وفنون میں گفتگو فرماتے، اور ہیبت اتنی ہوتی کہ مجمع پر سنٹا چھاجاتا، پھر اچانک فرماتے:قال ختم ہوا اور اب ہم حال کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، یہ سنتے ہی سامعین کی حالت میں عظیم انقلاب رونما ہوتا، کوئی آہ و بکا میں مصروف ہوتا، کوئی مرغ بسمل کی طرح تڑپ رہاہوتا، کسی پر وجدکی کیفیت طاری ہوتی اور کوئی کپڑے پھاڑ کرجنگل کی راہ لیتا، کچھ ایسے بھی ہوتے جن پر شوق اور ہیبت کا اس قدرغلبہ ہوتاکہ طائر روح قفس عنصری سےہی پرواز کرجاتا. غرض یہ کہ حاضرین و سامعین میں سے کوئی بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہتا. (اخبارالاخیار. ص:39)

حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ایک دن دوران واعظ فرمایا کہ :مجھے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی، انھوں نے فرمایا: بیٹے! تم خطاب کیوں نہیں کرتے؟ عرض کیا:میں عجمی ہوں، بغداد کے فصحا کے سامنے لب کشائی کیسے کروں؟

حضور نے مجھے سات مرتبہ لعاب دہن عطا فرمایا اور ارشاد فرمایا :لوگوں سے خطاب کرو اور انھیں حکمت مواعظہ حسنہ سے اپنے رب کی طرف بلاؤ، اتنے میں نماز ظہر پڑھی اور بیٹھ گئے، لوگوں کا ایک ہجوم جمع ہے، مجھ پر کپکپی طاری ہوگئ، کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالٰی عنہ تشریف فرما ہیں انھوں نے چھ مرتبہ لعاب دہن عطا فرمایا، میں نے عرض کی سات کی تعداد پوری کیوں نہیں فرمائی؟ فرمایا :رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ادب کے پیش نظر (زبدۃ الاسرار. ص:56. اخبار الاخیار. ص:38)

حضور غوث اعظم فرماتے ہیں: کہ میرے ہاتھوں پر پانچ ہزار سے زیادہ یہود و نصاریٰ تائب ہوکر مشرف باسلام ہوئے، رہزنوں اور فسق و فجور میں مبتلا افراد جنھوں نے میرے ہاتھوں پر توبہ کی ان کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہے. (قلائدالجواہر. ص:19)

شیطان کا مکروفریب: اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن مجید میں ارشادفرماتاہے :ان الشیطن للإنسان عدومبین(سورہ یوسف.آیت5) بےشک شیطان آدمی کا کھلا دشمن ہے. (کنز الایمان) یہ بات بہت واضح ہے کہ شیطان انسان کا کھلادشمن ہے ، اس کا کام ہی بہکانا، راہ راست سے لوگوں کو بھٹکاناہے، چناں چہ شیطان نے حضور غوث اعظم کو بھی بہکانےکی کوشش کی مگر اسے کامیابی نہ ملی

ایک مرتبہ حضور غوث اعظم عبادت میں مصروف تھے کہ زمین سے آسمان تک تیز روشنی پھیل گئی، اور اس روشنی سےایک صورت ظاہر ہوئی، جس نے بڑی گرجدار آواز میں آپ سے کہا:اے عبدالقادر! میں تیرا رب ہوں، تیری عبادت وریاضت سے خوش ہوکر میں نے فرائض کو تجھ پر معاف کر دیا، اور حرام چیزوں کو حلال کردیا

لہٰذا اب جو چاہو سوکرو. آپ نے لاحول پڑھا اور وہ روشنی غائب ہو گئی اور اندھیراپھیل گیا، اور وہ شکل جو ظاہر ہوئی تھی دھواں بن گئ، پھر اس سے آواز آئی، اےعبدالقادر! تیرے علم نے تجھے بچالیا. جاتے جاتے شیطان کا آپ پر آخری وار تھا. آپ نے فرمایا:اے مردود! علم نے نہیں،بلکہ مجھے مولیٰ تعالیٰ کی رحمت نے بچالیا ہے۔

آپ کی یہ بات سن کر ابلیس لعین اپنا سر پیٹنےلگا اور کہا:اب تو میں آپ سے قطعاً مایوس ہوچکاہوں اور آئندہ آپ پر وقت ضائع نہیں کروں گا، آپ نے فرمایا :دور ہوجا مردود میں تیری کسی بات کا اعتبار نہیں کروں گا اور ہمیشہ تیرے مکرسے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں.(طبقات الکبریٰ، ج:1.ص:27.قلائدالجواہر.ص:11تا21. ملخصا)۔

ابن تیمیہ یہ واقعہ لکھنے کے بعد کہتاہے: کہ حضرت شیخ سے پوچھاگیاکہ آپ نے کیسے جانا؟ کہ یہ شیطان ہے؟ فرمایا:اس لیے کہ اس نے کہا کہ میں نے تمھارے لیےوہ سب کچھ حلال کردیا جو دوسروں پرحرام ہے، حالاں کہ مجھے یقین تھا کہ محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شریعت نہ تو منسوخ ہوسکتی ہے اور نہ ہی اس میں تبدیلی کی جاسکتی ہے، دوسری وجہ یہ تھی کہ اس نےکہا کہ میں تمھارا رب ہوں، وہ یہ نہیں کہہ سکا کہ میں اللہ ہوں جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے. (فتاویٰ ابن تیمیہ. احمد بن تیمیہ. ص:173.طبع :سعودیہ)

اخلاق و عادات:آپ کے اخلاق و عادات انك لعلی خلق عظيم کا نمونہ اور انك لعلی ھدی مستقیم کا مصداق تھے، آپ تنے عالی مرتبت، جلیل القدر وسیع العلم ہونے اور شان و شوکت کے باوجود ضیعفو میں بیٹھتے، فقیروں کے ساتھ تواضع سے پیش آتے، بڑوں کی عزت، چھوٹوں پر شفقت فرماتے، سلام کرنے میں پہل کرتے، طالب علموں اور مہمانوں کے ساتھ کافی دیر بیٹھتے،بلکہ ان کی لغزشوں اور گستاخیوں کو در گزر فرماتے. (اخبار الاخیار. ص:45.46)۔

وصال پرملال: 11یا17ربیع الآخر561ھ/1166ء میں 90سال کی عمر میں آپ کی وفات ہوئی.آپ کا مزار مقدس بغداد شریف میں ہے۔

از قلم: محمدابوہریرہ رضوی مصباحی رام گڑھ

(ڈائریکٹر :مجلس علماے جھارکھنڈ و الجامعۃ الغوثیہ للبنات جھارکھنڈ)

Leave a Comment

Your email address will not be published.

*