حالات حاضرہ

قاسم میاں کے در پر میلا لگا ہواہے

قاسم میاں کے در پر میلا لگا ہواہے

عید برکاتیاں یعنی عرس قاسمی برکاتی روایتی شان و شوکت کے ساتھ پانچ روز سے شب و روز جاری تھا ، بدھ (9 / نومبر 2022ء —— 13/ ربیع الآخر 1444ھ) کی شام کو درگاہ برکاتیہ کے صحن سے آغاز ہونے والا یہ عظیم الشان روحانیت کا میلہ آج 2 / بجے دوپہر میں ہزاروں عقیدت مندانِ مشائخ برکاتیہ کے درود سلام کی صداؤں میں تبرکات کی زیارت کے ساتھ ختم ہوا ۔

کیا پرکیف سماں تھا، دو دن تک درگاہ برکاتیہ نعت و مناقب کی صداؤں سے گونجتی رہی، پھر گلشن برکات کے وسیع و عریض میدان میں ہزاران باغ مدینہ و مارہرہ نے زمزمہ سنجیاں کیں ۔

مارہرہ طاہرہ کی گلیاں جن میں مانگتے تاجدار پھرتے ہیں، در برکات کے منگتوں سے کھچا کھچ بھری تھیں، صبح ہو کہ شام، یا رات کا آخری پہر ہی کیوں نہ ہو، عقیدت کیشوں کا ہجوم ہر وقت آپ کا راستہ تنگ کرتا نظر آئے گا ۔ مسجد برکاتی میں نمازوں کے اوقات میں تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی۔

مسجد برکاتی ہی نہیں بلکہ چھوٹے سرکار کی مسجد، گلش برکات کا گراؤنڈ، محمدی مسجد بھی سجدہ گزاروں کے وجود سے تنگ دامن ہوجاتی ہے ۔ چِلّے والی بلنڈنگ (شاہ برکت اللہ علیہ الرحمہ کی چلہ گاہ سے منسوب) دل کھول کے اپنے مہمانوں کا استقبال کرتی ہے تو بیت العلماء (حسین منزل)، علما کی ضیافت کا شرف حاصل کرتی ہے ۔

خانقاہ شریف میں داخل ہوں تو وہاں مریدین و متوسلین کا ایک جم غفیر اپنے مرشدان طریقت سے ملاقات و بیعت کے لیے حاضر ہے، اور کمال وسعت ظرفی ہے یہاں کے مرشدان طریقت کی بھی کہ جس وقت فرصت مل جائے اپنے احباب ( مشائخ مارہرہ اپنے مریدین کو احباب سے یاد کرتے ہیں) سے فرداً فرداً ملاقات و مصافحہ کا موقع عنایت کرتے ہیں، بلکہ ہماری آنکھیں تو یہ دیکھ کر حیرت زدہ ہوجاتی ہیں کہ مریدوں کی ایک لمبی قطار لگی ہے

فرداً فرداََ لوگ آکر مصافحہ کر رہے ہیں اسی میں حضرت ان کی خیریت بھی دریافت کرتے ہیں بلکہ بعض معمر اشخاص سے تفریح طبع کے طور پر مزاح بھی کرتے ہیں، چھوٹے بچے آجائیں تو ان سے بھی خوب مزے سے باتیں کرتے ہیں، بعض ضرورت مند اپنی ضرورتیں بھی پیش کرتے ہیں اور حضرت اپنی نظر عنایت بھی فرماتے ہیں ۔

گلشن اچھے میاں (گراؤنڈ) میں کتاب میلہ پر شائقین کتب کی بھیڑ نظر آئے گی ۔

جامعہ احسن البرکات میں داخل ہوں تو یہاں کی چار منزلہ کشادہ عمارت مہمانوں کی کثرت دیکھ کر اپنے تنگ دامن پہ شرمندہ ہے، چاروں منزلوں پہ زائرین کے ٹھہرنے کے انتظامات کیے گئے تھے ، کمروں کے ساتھ برآمدے میں بھی لوگ اقامت پزیر تھے ۔

گلشن برکات ( عرس قاسمی کا گراؤنڈ) صبح و شام ذکر کی محفلوں سے مشک بار رہتا ہے، صبح سے ظہر تک،. پھر عشا بعد سے بارہ، ایک بجے تک نعت و منقبت اور وعظ و نصیحت کی صدائیں کانوں میں رس گھولتی ہیں، تو بعد نماز عصر سے عشا تک اساتذہ جامعہ احسن البرکات زائرین عرس کی تربیت فرماتے ہیں، ان کو ضروری عقائد اور طہارت و نماز وغیرہ کے مسائل سکھاتے ہیں.

جامعہ کی بلنڈنگ کی داہنی طرف لنگر برکاتی کا بہترین انتظام تھا ، کھانے کے اوقات میں لوگوں کا اس قدر ازدحام ہوتا ہے کہ جامعہ کی اوپری منزلوں سے دیکھنے پر یوں محسوس ہوتا ہے کہ انسانوں کا سمندر ہے جو موجیں مار رہا ہے ۔

منبع فیوض و برکات، سر چشمہ الطاف و عنایات یعنی دربار شاہ برکات، موسوم بہ درگاہ برکاتیہ پر تو دیوانے پروانہ وار حاضری دیتے ہیں، درگاہ شریف کے احاطے میں تقریباً پچاس یا اس سے زائد مزارات ہیں، عرس کے ایام میں ہر مزار پھولوں سے سج اور لد جاتی ہے، حضرت شاہ برکت اللہ کے مزار پر انوار پہ عقیدت مند پھولوں کی ڈھیر لگا دیتے ہیں ، اور پورا احاطہ گلاب کی خوشبوؤں سے خوشبودار رہتا ہے ۔

عرس کی تمام محفلیں روحانیت سے سرشار رہتی ہیں، مگر خرقہ پوشی کی شب اور اگلے روز دن میں قل شریف کی محفل میں روحانیت کا عجب سماں ہوتا ہے ۔ صاحب سجادہ جب اپنے بزرگوں کے مبارک ملبوسات زیب تن کرکے اپنے دولت کدے سے منبر نور کے لیے نکلتے ہیں تو راستے میں دونوں طرف گھنٹوں سے انتظار کرتے ہوئے عاشقانِ مشائخ مارہرہ کی عقیدت و محبت قابل دید ہوتی ہے، نعروں کی گونج میں صاحب سجادہ منبر نور پہ جلوہ افروز ہوتے ہیں، اور پھر ہزاروں افراد صاحب سجادہ کی دست بوسی کے لیے قطار بند کھڑے ہوجاتے ہیں، اور گھنٹوں تک بلا تکان صاحب سجادہ حضور امین ملت اپنے چاہنے والوں سے مصافحہ فرماتے ہیں ۔

آخری محفل میں قل شریف کے بعد جب تبرکات کی زیارت کا وقت آتا ہے تو ہر طرف سے صلاۃ و سلام کا آوازہ بلند ہوجاتا ہے، ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کی طرح عوام اہل سنت کا جم غفیر بیک زبان بارگاہِ رسالت میں ہدیہ سلام پیش کرتا ہے ، آدھے گھنٹے تک صلوۃ و سلام کا مبارک سلسلہ چلتا ہے، پھر خاندان برکات کے بابرکت افراد نعلین مبارک، موئے مبارک، نقش قدم رسول ﷺ، مولائے کائنات کا جبہ شریف اور موئے مبارک، حضرات حسنین کریمین کے موئے

مبارک، سرکار غوث اعظم کی تسبیح کے مبارک دانے، حضرت صاحب البرکات کی کلاہ مبارک اور دیگر تبرکات کی عمومی زیارت سے مشرف کراتے ہیں اور پھر حضرت رفیق ملت سید نجیب حیدر نوری مارہروی مد ظلہ العالی کی رقت انگیز دعاؤں پہ نم آنکھوں سے آمین کہتے ہوئے عرس کی تقریبات کا اختتام ہوتا ہے ۔

بعد اختتام مہمان سب رخصت ہوئے اور میزبانوں کے آس پاس سناٹے نے پاؤں پسار لیے، آج کا سورج ڈوبتے ڈوبتے پانچ روز سے جاری چہل پہل بھی لے گیا ۔

رپورٹ : شاداب امجدی برکاتی

شب قدر عنایات الٰہی کی مقدس رات

Leave a Comment

Your email address will not be published.

*