حالات حاضرہ

مختصر احوال امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ

مختصر احوال امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ

امام ابوجعفر احمد بن محمد الطحاوی الحنفی علیہ الرحمہ تیسری صدی کے عظیم محدث اور بے بدل فقیہ تھے۔ محدثین اور فقہا کے طبقات میں آپ کا یکساں شمار ہوتا ہے سلف صالحین میں ایسے جامع حضرات کی مثالیں بہت کم ملتی ہیں جو حدیث اور فقہ دونوں شعبوں میں سند کی حیثیت رکھتے ہوں۔

آپ اُن میں ایک ہیں اور فقہا نے آپ کو مجتہد منتسب قرار دیتے ہیں۔ چناں چہ آپ کی علمی صلاحیت و قابلیت کو دیکھ کر علامہ جلال الدین سیوطی سیوطی نے فرمایا: کہ وہ فقہ وحدیث کے امام، علوم دینیہ کے ماوی اور احادیث نبویہ کے ملجاء تھے۔

ولادت:

آپ کی پیدائش مصر کے وادی نیل کے کنارے طحا نام کی ایک بستی میں ہوئی اور اس وجہ سے آپ کو طحادی کہا جاتا ہے۔ آپکی سن ولادت میں اختلاف ہے علامہ شاه عبد العزیز محدث دہلوی (متوفی ١٢٢٩ھ) نے اور مولانا عبدالحی لکھنوی (متوفی ١٣٠٤ھ) نے نقل کیا ہے کہ امام طحاوی اپنا سال ولادت ۲۳۹ھ بیان فرمایا ہے اور امام ابوعبد اللہ شمس الدین ذہبی (متوفی ٧٤٨ھ) نے ان سے ٢٣٧ھ نقل فرمایا ہے۔

نام ونسب:

آپ کا پورا نام مع کنیت والقاب ونسب اس طرح ہے: الامام الحافظ ابوجعفر احمد بن محمد بن سلمہ بن عبدالملک بن سلمة بن سلیم بن خباب الازدی المصری الطحاوی الحنفی ہے۔

ازدی میں قبیلہ ازد کی طرف نسبت ہے جو ازد بن عمران کی طرف منسوب ہے۔ اور حجری قبیلہ حجر کی طرف نسبت ہے جو حجر نام کے تین قبائل تھے۔ حجر بن وحید ،حجر ذی امین اور حجر ازد، امام طحاوی کی جس قبیلہ کی طرف نسبت ہے وہ یہی ہے۔۔

تعلیم و تربیت:

امام طحادی رحمۃ اللہ علیہ نے ابتدائی تعلیم کے بعد اپنے ماموں ابوابراہیم مزنی سے فقہ شافعی پڑھنا شروع کی لیکن آپ کی طبیعت سلیمہ میں جو قوت استدلال کی تلاش اور نظر میں باریک بینی تھی اور بہت جلد آپ کا رخ شافعیت سے حنفیت کی طرف موڑ دیا۔

چناں چہ ۲۶۸ھ میں آپ نے مصر جا کر اس وقت کے شہرہ آفاق استاذ ابوجعفر احمد بن ابی عمران موسی بن عیسی سے فقہ حنفی کی تحصیل شروع کر دی۔ احمد بن ابی عمران فقہ حنفی میں زبردست دسترس رکھتے تھے اور دو واسطوں سے ان کا سلسلہ حضرت امام اعظم رضی اللہ عنہ سے مل جاتا تھا اس طرح آپ کی سند امام اعظم سے متصل ہے۔

حدیث اور فقہ میں مہارت:

امام طحاوی فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ جب میں قاضی کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا، ایک شخص آیا اور کہنے لگا ابو عبیدہ بن عبداللہ نے اپنی ماں سے اور انہوں نے اپنے باپ سے کون سی حدیث روایت کی ہے جب شرکاء مجالس میں کسی شخص کو جواب نہ آیا تو میں نے اپنی سند کے ساتھ وہ حدیث بیان کی اور جب آپ اس کی مطلوب حدیث کو دو سندوں کے ساتھ مرفوعا اور موقوفا بیان کر چکے تو وہ شخص بے ساختہ کہنے لگا۔

شام کو میں نے آپ کو فقہا میدان میں دیکھا تھا۔۔۔اور اب آپ حدیث کے میدان میں ہیں۔۔۔بہت کم لوگ ہوں گے جو ان دونوں فنون میں آپ کی طرح جامعیت رکھتے ہوں۔۔۔ آپ نے یہ کہہ کر فرمایا یہ محض اللہ تعالی کا فضل اور اس کا انعام ہے۔

تلامذہ:

امام طحاوی کی علمی شہرت دور دراز علاقوں میں پھیل چکی تھی اس لیے آپ سے استفادہ کرنے کے لیے دور دراز سے تشنگان علم آتے تھے جن سے بے شمار لوگوں نے آپ سے علم حدیث میں سماع حاصل کی ان میں سے چند حضرات کے اسماء یہ ہیں:

ابو محمد عبدالعزیز بن محمد الہیتمی الجوہری ، حافظ احمد بن القاسم ، حافظ احمد بن القاسم بن عبدالله البغدادی المعروف بابن الخشاب ، ابوبکر علی بن سعد البروعی، ابوالقاسم مسلمه ابن القاسم بن ابراہیم القرطبی، ابوالقاسم عبدالله بن على الداؤدی، حسن بن القاسم بن عبدالرحمن المصرى، قاضی ابن ابی العوام ، ابوالحسن محمد بن احمد اخمینی، حافظ ابوبکر محمد بن ابراہیم بن علی المقری، ابوالحسن علی بن احمد الطحاوی، ابوالقاسم سلیمان بن احمد بن ایوب الطبرانی صاحب العجم، حافظ ابوسعید عبدالرحمن بن احمد بن یونس مصری، حافظ ابوبکر محمد بن جعفر بن الحسین بغدادی میمون بن حمزه العبیدی وغیرہ

تبدیلی مسلک:

امام ابوجعفر طحاوی ابتداء میں شافعی المذہب تھے۔ بعد میں شافعیت کو چھوڑ کر حنفی مسلک اختیار کر لیا۔ علامہ عبد العزیز پرہاروی لکھتے ہیں: امام طحاوی ابتداء شافعی المذہب تھے۔

ایک دن انھوں نے کتب شافعیہ میں پڑھا کہ جب حاملہ عورت مرجائے اور اس کے پیٹ میں بچہ زندہ ہو تو اس کے پیٹ کر چیرا نہیں جائےگا۔۔۔برخلاف مذہب ابوحنیفہ، اور امام طحاوی کو مذہب حنفی پر پیٹ چیر کر نکالا گیا تھا۔ امام طحاوی نے اس کو پڑھ کر کہا میں اس شخص کے مذہب سے راضی نہیں جو میری ہلاکت پر راضی ہوں، پھر انہوں نے شافعیت کو چھوڑ دیا اور حنفی مسلک کو اختیار کیا اور اس مسلک کے عظیم مجتہد بن گئے۔

سیرت اور کردار:

امام طحاوی حق گو نڈر اور بےباک شخصیت کے مالک تھے۔ بغیر کسی لاگ لپٹ کے اور نتائج کی پرواہ کئے بغیر کلمہ حق کہتے اور اس پر قائم رہتے۔۔۔وہ قاضی ابوعبید کے نائب تھے لیکن اس کو ہمیشہ صحیح روشن کی تلقین کرتے رہتے تھے۔

 

 

تصانیف:

امام طحاوی کثیر التعداد کتب کے مصنف تھے مؤرخین اور تذکرہ نگار ہر دور میں آپ کو سراہتے رہے۔۔ تفسیر حدیث، فقہ، اصول فقہ ، کلام، تاریخ ، رجال اور مناقب تقریبا تمام موضوعات پر آپ کی تصانیف موجود ہیں جن کی تفصیل یہ ہے:

 

 

 

 

  • (۱) احکام القرآن
  • (۲) شرح معانی الآثار،
  • (٣)مشکل الآثار
  • (٤) اختلاف العلما
  • (٥) کتاب المشروط
  • (٦) الشروط الصغير
  • (٧) الشروط الاوسط
  • (۸) مختصرالطحاوی فی الفقہ
  • (٩) النوادر الفقہیہ
  • (۱۰) کتاب النوادر والحکایات
  • (۱١) حکم ارض مکه
  • (١۲) حکم الفئ والغنائم
  • (۱۳) نقص کتاب المدلسین
  • (۱۴) کتاب الاشربه
  • (۱۵) الرد علی عیسی بن ابان
  • (١٦) الرد على ابي عبيد
  • (۱۷) اختلاف الروايات
  • (۱۸) الرزيه
  • (۱۹) شرح الجامع الکبیر
  • (۲۰) شرح الجامع الصغیر
  • (۲١) کتاب المحاضر والسجلات
  • (۲۲) کتاب الوصايا والفرائض
  • (۲۳) کتاب التاریخ الکبیر
  • (۲۴) اخبار ابی حنیفه
  • (۲۵) (۲٦) عقیدۃ الطحاوی
  • (۲۷) تسویہ بین اخبرنا وحدثنا
  • (۲۸) سنن الشافعی
  • (۲۹) صحیح الاثار

نوٹ: شرح معانی الآثار فن حدیث میں ایک عظیم تصنیف اور احناف کا سرمایہ افتخار ہے۔ اس کتاب میں حدیث فقہ اور رجال کے متعدد علوم کو حسن اور عمدگی کے ساتھ جمع کر دیا گیا ہے، بیان اضطراب سند ومتن،بیان ناسخ و منسوخ ذکر اقوال ائمہ جرح و تعدیل،ذکر دلائل ائمہ اور منصفانہ محاکمہ وغیرہ کی بنیاد پر کتب حدیث میں ایک ممتاز مقام کی حامل ہے۔

تبھی تو فاضل اتقانی نے فخر سے سر اٹھا کر کہا تھا کہ جو شخص امام طحاوی کی علمی مہارت کا اندازہ کرنا چاہتا ہو اسے چاہیے کہ شرح معانی الآثار کا مطالعہ کرے،۔۔۔اسی لیے عرصہ دراز سے فقہ وحدیث میں اختصاص اور بصیرت پیدا کرنے کیلئے اس کتاب کو شامل درس رکھا جاتا ہے۔

وصال پر ملال:

٨٢/ بسیاسی سال کی عظیم اور پرشکوہ زندگی گزارنے کے بعد امام طحاوی یکم ذیقعدہ ٣٢١ھ میں وصال فرما گئے‌۔۔

حافظ ذہبی لکھتے ہیں:اسی سال مصر میں ان کے شیخ ابوبکر احمد بن عبدالوارث مرات میں ابوعلی احمد بن الباسانی، اصفہان میں ابو علی الحسن بن محمد ، بغداد میں حافظ سعید بن محمد، ان کے علاوہ محمد بن الحسن ازدی، محمد بن نوح نیشاپوری مکحول، بیرونی، اور رئیس معتزلہ ابوعلی جبائی انتقال کر گیے۔

(مآخذ شرح معانی الآثار و تفہیم الطحاوی مترجم)

اللہ تبارک تعالیٰ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ کے فیضان سے ہمیں مالامال فرمائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ

از قلم : محمد توصیف رضا قادری علیمی

الغزالی اکیڈمی واعلیٰ حضرت مشن

aalahazratmission92@gmail.com

 

یہ مضامین نئے پرانے مختلف قلم کاروں کے ہوتے ہیں۔

ان مضامین میں کسی بھی قسم کی غلطی سے ادارہ بری الذمہ ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published.

*