حدیث شریف

علما کے فضائل پر پانچ حدیث رسول ﷺ

علما کے فضائل پر پانچ حدیث رسول ﷺ

پیارے اسلامی بھائیو ! اللہ پاک نے تمام مخلوق کو پیدا فرمایا اور اس میں انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر دیگر مخلوقات پر فضیلت عطا فرمائی ۔

انہیں انسانوں میں سے ایک طبقہ وہ ہے جنہوں نے رات دن محنت و مشقت سے علم دین حاصل کیا اوراللہ تعالیٰ نے انہیں خصوصی اعزاز و اکرام عطا فرمایا جس طبقے کو علماے دین کہا جاتا ہے ، علماے کرام کو اللہ تعال ٰی نے کس قدر بزرگی و مرتبہ عطا فرمایا ہے اس کو مکمل طور پر تو بیان کرنا بہت مشکل ہے۔ ۔

آئیے علماے کرام  کے فضائل پر پانچ فرامین مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سنتے ہیں

(1)حدیث پاک

انبیاے کرام علیہم السالم کے وارثین

حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رحمت دو عالم صلى الله عليه وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :

عالم کی فضلیت عابد پر ایسی ہے جیسے چودھویں رات کے چاند کی فضیلت تمام ستاروں پر اور بے شک علما انبیاے کرام علیہم السلام کے وارث ہیں اور بے شک انبیاے کرام علیہم السلام درہم اور دینار ) یعنی دنیاوی مال و دولت ( کا وارث نہیں بناتے بلکہ ان کی وراثت علم ہے تو جس نے اس میں سے لے لیا اس نے بہت بڑا حصہ پالیا۔ )

ابن ماجہ: باب فضل العلماء الخ،حدیث 219)

اور حضرت علی رضی اللہ عنہ مجاہد پر عالم کو فضیلت دیتے ہوئے فرماتے ہیں :

رات بھر عبادت کرنے والے دن بھر روزہ رکھنے والے مجاہد سے عالم افضل ہے اور عالم کی موت سے اسالم میں ایسا رخنہ )شگاف( پڑتا ہے جسے اس کے نائب کے سوا کوئی نہیں بھر سکتا۔ )

احیاء العلوم ،ج 1، ص 50)

(2 )حدیث پاک

عالم کے لیے مرتبہ شفاعت

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا : جب کہ عالم اور عابد پل صراط پر جمع ہوں گے تو عابد سے کہا جاۓ گا کہ جنت میں داخل ہو جاؤ اور اپنی عبادت کے سبب ناز و نعمت کے ساتھ رہو اور عالم سے کہا جاے گا کہ یہاں ٹھہر جاؤ اور جس شخص کی چاہو شفاعت کرو۔ اس لیے کہ تم جس کسی کی شفاعت کرو گے قبول کی جائے گی۔ تو وہ انبیاے کرام کے مقام پر کھڑا ہوگا۔ ) کنز العمال ج۱۰ص٧٨)

(3 ) حدیث

علما کی تعظیم اللہ اور رسول ( عزوجل ﷺ ) کی تعظیم

حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے: رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

علما کی تعظیم کرو کیوں کہ وہ انبیا علیہم السلام کے وارثین ہیں ۔ تو جس نے علما کی تعظیم کی بے شک اس نے اللہ تعالی اور اس کے رسول صلى الله عليه وسلم کی تعظیم کی )

جامع االحادیث للسیوطی، ج:۵ ص :۳۹۱)

علماے کرام قائد ہیں

علما کی شان بیان کرتے ہوئے حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں:- المتقون سادة ، والفقهاء قادة – ترجمہ: پر ہیزگار لوگ سردار ہیں اور فقہا ) علماے دین ( قیادت کرنے والے ہیں )مجم کبیر: ج2،حدیث 8476)

(4 ) حدیث

قبر کا ساتھی

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:

جب عالم دین دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو اللہ تعالی اس کی قبر میں اس کے علم کو اس کے لیے نہایت خوب صورت شکل عطا فرماتا ہے جو قبر میں قیامت تک اس کو مانوس رکھتا ہے )اس کی دل جوئی کرتا ہے اور اللہ تعالی زمین کے کیڑوں مکوڑوں اور دوسرے جانوروں کو اس سے دور رکھتا ہے ) یعنی اس کا جسم محفوظ رہتا ہے ( )

شرح الصدور بشرح حال الموتی ، ج:۱،ص:۱۵۹)

(5 ) حدیث

عالم کی عابد پر فضیلت

تاج دار رسالت ، ماہ نبوت صلى الله عليه وسلم نے علم کو عبادت سے افضل قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسے میری فضیلت میرے ادنٰی صحابی پر )

سنن الترمذي، كتاب العلم، باب ما جاء في فضل الفقه على العبادة الحديث 2694 ،ج ) 314ص4

پیارے اسلامی بھائیو ! غور کیجیے کی مکی مدنی مصطفے صلى الله عليه وسلم نے کس طرح علم کو درجۂ نبوت کےساتھ مال دیا اور کیسے علم سے خالی عمل کے مرتبے کو گھٹادیا اگر چہ عابد جس عبادت پر مواظبت ) ہمیشگی ( اختیار کیے ہوتا ہے وہ علم سےخالی نہیں ہوتی ورنہ وہ عبادت ہی نہیں جوعلم سے خالی ہو۔ )

احیاء العلوم ،ج 1 ، ص 48)

اللہ  پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں علماے کرام کا ادب کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں ان کی صحبت کی برکتیں نصیب فرمائے آمین یا رب العالمین

از:- محمد کامران رضا

 

یہ مضامین نئے پرانے مختلف قلم کاروں کے ہوتے ہیں۔

ان مضامین میں کسی بھی قسم کی غلطی سے ادارہ بری الذمہ ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published.

*