حالات حاضرہ

کسانو! اپنی فصلوں کا عُشر نکالو

کسانو! اپنی فصلوں کا عُشر نکالو !

میرے دینی بھائیو مسلم کسانو !

دھان کٹائ کا وقت آچکا ہے ضرور عشر نکالنا، کیونکہ عشر نکالنے سے پیداوار بڑھتی ہے اور برکت نازل ہوتی ہے جیسے زکوۃ نکالنے سے مال پاک و صاف ہو جاتا ہے اور بڑھتا ہے۔۔۔

آج جو ہماری کھیتیاں بارش نہ ہونے کی وجہ سے اور سخت لُو پڑنے کی وجہ سے برباد ہو جاتی ہے ،کیوں؟ اس لیے کہ ہم کھیتیوں کا حق ادا نہیں کرتے ہیں یعنی ان کا عشر نہیں نکالتے ہیں جو کہ شریعت کا حکم ہے

میرے بھائیو ! اللہ تبارک و تعالی نے جس طرح ہر مسلمان مالک نصاب پر زکٰوۃ واجب قرار دیا ہے اسی طرح ہر مسلمان کاشت کار پر بلاامتیاز امیروغریب ،عاقل و بالغ عشر واجب قرار دیا ہے اور جس طرح زکٰوۃ کی فرضیت و واجبیت پر قرآن و حدیث اور اقوال فقہاء ثبوت ہیں اسی طرح عشر کی واجبیت پر بھی یہ مذکورہ چیزیں ثبوت ہیں ۔۔۔

چناں چہ اللہ ربّ العزت اپنی کتاب حمید قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے

وَأٰتُوْا حَقَّهٗ يَوْمَ حَصَادِهٖ

(پ ٨ سورہ انعام آیت ١٤١) ترجمہ ۔۔۔ اور اس کا حق دو جس دن کٹے (کنزالایمان) یعنی کھیتی کٹنے کے دن اس کا حق ادا کرو یعنی عشر نکالو۔۔۔۔۔

وقال تعالىٰ في مقام آخر : “ يٰٓأيّها الذين آمنوا أَنْفِقوا من طيبٰت ما كسبتم ومما اخرجنا لكم من الارض

(پ ۳سورہ بقرہ آیت ٢٦٧)

ترجمہ۔۔۔ اے ایمان والو! اپنی پاک کمائیوں میں سے کچھ دو اور اس میں سے جو ہم نے تمہارے لیے زمین سے نکالا ( کنزالایمان) خواہ وہ غلے ہوں یا پھل یامعادن وغیرہ۔۔۔۔۔

اور صحیح بخاری شریف میں ہے “عن سالم بن عبد الله عن ابيه رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : فيما سَقَتِ السماءُوالعيونُ او كان عَثَرِيًّا أَلْعُشرُ وما سُقِيَ بِالنَّضْحِ نِصْفُ الْعُشْرِ ” ۔

(صحيح البخاري كتاب الزكاة باب في العشر فيما يُسقٰى من ماء السماء،الحدیث ١٤٨٣،جلد اول صفحہ٥٠١)

ترجمہ ۔۔۔۔ حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جس زمین کو آسمان یا چشموں نے سیراب کیا یا عشری ہو یعنی نہر کے پانی سے اسے سیراب کرتے ہوں ،اس میں عشر ہے یعنی دسواں حصہ ،اور جس زمین کے سیراب کرنے کے لیے جانور پر پانی لاد کر لاتے ہوں اس میں نصف عشر ہے یعنی بیسواں حصہ ۔۔۔۔

کنز العُمّال میں ہے “في كل شيء أخرجت الارضُ ألعشرُأو نصفُ العشرِ”

(ابن النجار عن أبان عن انس)

(جلد ششم صفحہ ٣٢٧،الحديث ١٥٨٧٧)

ترجمہ ۔۔۔۔ ابن نجار نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہر اس شے میں جسے زمین نے نکالا، عشر یا نصف عشر ہے۔۔۔ اسی کے بعد ایک اور حدیث مرقوم ہے “فيما سقت السماءُ والأنهار ُ والعيونُ ألعشرُ وفيما سقت السانية نِصفُ العشرِ” ۔

(ایضاً،الحدیث ١٥٨٧٨)

ترجمہ ۔۔۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس زمین کو آسمان یا نہروں یا چشموں نے سیراب کیا اس میں عشر ہے اور جو زمین اونٹ پر پانی لاد کر کے سیراب کی گئی اس میں نصف عشر ہے ۔۔۔۔۔

اب یہ جانتے ہیں کہ عشر کا مطلب اوراس کی تعریف کیا ہے؟، تو عشر کا مطلب دسواں حصہ ہے اور شرعی اصطلاح میں زمین کی پیداوار سے بطور زکوٰۃ کے دسواں حصہ نکالنا عشر کہلاتا ہے۔۔۔۔

اور بہار شریعت میں عشر کی تعریف یوں مکتوب و مذکور ہے “عشری زمین سے ایسی چیز پیدا ہوئی جس کی زراعت سے مقصود زمین سے منافع حاصل کرنا ہے تو اس پیداوار کی زکاۃ فرض ہے اور اس زکوٰۃ کا نام عشر ہے یعنی دسواں حصہ کہ اکثر صورتوں میں دسواں حصہ فرض ہے اگر چہ بعض صورتوں میں نصف عشر یعنی بیسواں حصہ لیا جائے گا۔

(جلد اول حصہ پنجم صفحہ ٩١٦ مكتبة المدينه)

عشر ، لکڑی بانس گھاس کے سوا زمین کی باقی پیداوار میں مثلاً گیہوں،جو، جوار ،باجرا،پاٹ (یعنی پٹوا)دھان ،تمباکواور ہر قسم کے غلے اور السی ،کسم ،اخروٹ،بادام،کیلا اور ہر قسم کے میوے روئ ، پھول ،گنا،خربوزہ، تربوز ،کھیرا،ککڑی، بیگن اور ہر قسم کی ترکاری مثلاً آلو، پیاز ،مولی ،ساگ ،ادرک ،ہلدی سب میں واجب ہے۔۔۔۔

ہاں اگر لکڑی ، بانس اور گھاس سے زمین کے منافع حاصل کرنا مقصود ہو اور زمین ان کے لئے خالی چھوڑ دی تو ان میں بھی عشر واجب ہے اور ہمارے علاقے میں منافع ہی مقصود ہوتے ہیں لہذا ان میں عشر واجب ہوگا ۔۔۔۔۔

عشر نکلنے کی تین صورتیں ہیں :۔۔۔۔

پہلی صورت :۔۔

جو کھیت بارش یا نہر نالے کے پانی سے سیراب کیا جائے اس میں عشر یعنی دسواں حصہ واجب ہے مثلاً یوں سمجھیں جو کھیت بارش کے پانی سے سیراب ہوا اور اس کی پیداوار جیسے دھان دس مَن ہوا تو عشر دسواں حصہ یعنی ایک من نکلے گا۔۔۔۔

دوسری صورت :۔۔

جس کھیت کی آبپاشی چرسے سے یعنی چمڑے کے بڑے ڈول سے یا کسی دوسرے ڈول سے ہو اس میں نصف عشر یعنی بیسواں حصہ نکلے گا یہی مذکورہ مثال کہ دھان دس مَن ہوا تو نصف عشر (بیسواں حصہ) یعنی آدھا من واجب ہوگا ۔۔

یوں ہی پانی خرید کر آب پاشی ہو یعنی وہ پانی کسی کی ملک ہے اس سے خرید کر آب پاشی کی جب بھی نصف عشر یعنی بیسواں حصہ نکلے گا ، اسی طرح آبپاشی مشین کے ذریعہ کھیت سیراب ہوا یعنی کھیتی کو پانی دیا تو بھی نصف عشر یعنی بیسواں حصہ واجب ہوگا ۔۔۔‌‌

تیسری صورت :۔۔

اگر کھیت کچھ دنوں بارش کے پانی سے سیراب کیا جاتا ہے اور کچھ دنوں ڈول چرسے سے یا پھر مشین کے ذریعے تو اگر اکثر بارش کے پانی سے کام لیا جاتا ہے اور کبھی کبھی ڈول چرسے سے یا مشین سے تو عشر واجب ہے یعنی دسواں حصہ نکلے گا اور اگر اکثر مشین کے پانی سے سیراب کیا جاتا ہے اور کبھی کبھی بارش کے پانی سے تو نصف عشر واجب ہے یعنی بیسواں حصہ نکلے گا ۔

ہمارے علاقے میں زیادہ تر یہ تیسری صورت پائی جاتی ہے تو اگر بارش کا پانی زیادہ ہو اور مشین کا پانی کم تو دس من میں ایک من عشر واجب ہوگا یعنی دسواں حصہ ورنہ نصف عشر یعنی بیسواں حصہ واجب ہوگا۔۔‌۔

اور یہ بھی جانتے چلیں کہ عشر واجب ہونے کے لیے عاقل بالغ ہونا شرط نہیں مجنون یعنی پاگل اور نا بالغ کی زمین میں جو کچھ پیداوار ہوا اس میں بھی عشر واجب ہے اور عشر میں سال گزرنا بھی شرط نہیں بلکہ سال میں چند بار ایک کھیت میں زراعت ہوئی تو ہر بار عشر واجب ہے

اسی طرح عشر میں نصاب بھی شرط نہیں ایک صاع یعنی تقریباً چار کلو بھی پیداوار ہو تو بھی عشر واجب ہے اور یہ شرط بھی نہیں کہ وہ پیداوار چیز باقی رہنے والی ہو اور یہ شرط بھی نہیں کہ کاشتکار یعنی کسان زمین کا مالک ہو دوسرے کی زمین میں کھیتی کرنے سے بھی عشر واجب ہے ۔

جس چیز میں عشر یا نصف عشر واجب ہوا اس میں کل پیداوار کا عشر یا نصف عشر لیا جائے گا ، یہ نہیں ہو سکتا کہ مصارف زراعت یعنی سارکھاد وغیرہ ،ہل بیل ،حفاظت کرنے والے اور کام کرنے والوں کو اجرت یا بیج وغیرہ نکال کر باقی کا عشر یا نصف عشر دیا جائے۔

اور جو زمین بٹائی پر یعنی آدھی پر دی تو عشر دونوں پر ہے جیسے ہمارے علاقے سیمانچل میں اکثر زمین دار اپنی اپنی زمینوں کو آدھی پر دے دیتے ہیں تو ایسی صورت میں مالکِ زمین اور کاشت کار دونوں پر اپنے اپنے حصوں کا عشر نکالنا واجب ہے۔

اور جو زمین زراعت یعنی کھیتی باڑی کے لیے کسی کو نقدی طور پر دی جاتی ہے جیسے ہمارے ہی علاقے میں یہ رواج ہے کہ زمیندار اپنی زمین کسی کو کاشتکاری کے لیے دے دیتا ہے اور سالانہ ایک متعین رقم معین کر دیتا ہے اور کاشتکار اسی کے مطابق کاشت کرتا ہےتو ایسی صورت میں امام اعظم کے نزدیک اس کا عشر زمیندار پر ہے اور صاحبین کے نزدیک کاشت کارپر ، اور علامہ شامی نے یہ تحقیق فرمائی کہ حالت زمانہ کے اعتبار سے اب قول صاحبین پر عمل ہے، ۔۔۔‌ (اور اسی پر ہمارے علما کا عمل جاری ہے) ۔۔۔۔۔ اور اگر کسی نے عاریتہً کوئی زمین کسی کو کاشت کاری کے لیے دی تو عشر کاشت کار پر واجب ہے۔۔۔‌

اور کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ کھیت بویا مگر پیداوار ماری گئی مثلًا سیلاب کی وجہ سے کھیتی ڈوب گئی یا جل گئ یا لُو سے جاتی رہی تو عشر ساقط ہے جبکہ کل جاتی رہی اور اگر کچھ باقی ہے تو اس باقی کا عشر واجب ہے اور اگر چوپاۓ یعنی جانور کھا گئے تو عشر ساقط نہیں، اور ساقط ہونے کے لیے یہ بھی شرط ہے کہ اس کے بعد اس سال کے اندر اس میں دوسری زراعت تیار نہ ہو سکے اور یہ بھی شرط ہے کہ توڑنے یا کاٹنے سے پہلے ہلاک ہو اگر بعد میں ہلاک ہوئی تو عشر ساقط نہیں۔

(منتخب و ملخص از بہار شریعت جلد اول حصہ پنجم در بیان زراعت اور پھلوں کی زکوٰۃ)

مصارف عشر :۔ عشر کے مصارف وہی ہیں جو زکوٰۃ کے مصارف ہیں یعنی عشر انہی لوگوں کو دیاجائے گا جنہیں زکوٰۃ دی جاتی ہے۔

اخیر میں وہ عبارت بطور اقتباس پیش کر دوں جسے مصنف بہار شریعت حضور صدر الشریعہ بدرالطریقہ علیہ الرحمۃ والرضوان نے بطور تنبیہ رقم فرمائ ہے “اس زمانے کے مسلمانوں نے عشر کو عموماً چھوڑ رکھا ہے بلکہ جہاں تک میرا خیال ہے بہتیرے ( بہت سے) وہ مسلمان ہیں جن کے کان بھی ان لفظوں سے آشنا نہیں ، جانتے ہی نہیں کہ کھیت کی پیداوار میں بھی شرع نے کچھ دوسروں کا حق رکھا ہے

حالاں کہ قرآن مجید میں مولیٰ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: (ترجمہ)” خرچ کرو اپنی پاک کمائیوں سے اور اُس سے کہ ہم نے تمہارے لیے زمین سے نکالا”۔۔

اگر مسلمان ان باتوں سے واقف ہو جائیں تو اب بھی بہتیرے خدا کے بندے وہ ہیں جو اتباع شریعت کی کوشش کرتے ہیں جس طرح زکوٰۃ دیتے ہیں انہیں بھی ادا کریں گے ، واللّٰہُ ھو الموفق”۔۔۔۔۔۔

اسی وجہ سے میں نے عشر کے تعلق سے کچھ قلمبند کر دیا تاکہ ہمارے مسلمان کاشت کار قرآن و حدیث کے احکامات پر عمل کریں اور اپنی پیداوار کا عشر نکالیں۔۔۔۔۔

اللہ ربّ العزت کی بارگاہ میں دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہم مسلمانوں کو عمل کی توفیق دے۔۔۔۔ آمین یارب العالمین بجاہ سید المرسلین علیہ التحیۃ والتسلیم

از قلم ۔۔۔۔۔‌ محمد رضوان عالم مرکزی غفر لہ

مقام ۔۔۔۔‌ گھیراباڑی

ٹھاکر گنج کشن گنج بہار

نزیل حال ۔۔۔۔‌ جبل پور ایم پی

Leave a Comment

Your email address will not be published.

*