حالات حاضرہ

سیرت سیدنا غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے سبق آموز پہلو

سیرتِ سیدنا غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ کے سبق آموز پہلو

از قلم : محمد عامرحسین مصباحی

اولیاے کرام کی مبارک زندگی نمونۂ عمل اور مشعلِ راہ ہوا کرتی ہے ،ان کی جلوتوں کے ساتھ خلوتوں کا عالم بھی امت کی راہیابی کا سبب ہوا کرتی ہے۔ہمارے یہاں تو اولیائے امت کی سیرتوں میں سے کرامات کا بیان کچھ زیادہ ہی ہوتا ہے بےشک یہ بھی کار آمد اور مفید ہے

مگر ان کی زندگی کے وہ حسین پہلو جو امت کے لیے زیادہ کار آمد ہیں انھیں یکسر فراموش کرنا درست نہیں! حضور سیدنا غوثُ الثقلین، نجیب الطرفین ، قطبِ ربانی، غوثِ صمدانی شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ کی مبارک سیرت کا مطالعہ جہاں ہمیں ان کی عظمتوں، رفعتوں کا پتہ دیتی ہے

وہیں آپ کی مبارک زندگی خوفِ خدا، حبِ خدا ورسول، زہد وتقویٰ اور عبادت و ریاضت کی جامع بھی نظر آتی ہے جن پر عمل میں دنیا وآخرت کی کام یابی کا راز مضمر ہے۔ ہم حضور غوثِ پاک رضی اللہ عنہ کی سیرت مبارکہ کے کچھ ایسے ہی پہلو ذیل میں سپردِ قرطاس کرتے ہیں۔

عبادت و ریاضت کا حال:-شیخ ابو عبد اللہ محمد بن ابوالفتح ہروی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے چالیس سال تک حضور سیدنا غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ کی خدمت کی ـ اس درمیان میں نے دیکھا کہ آپ رضی اللہ عنہ مسلسل عشا کے وضو سے فجر کی نماز ادا کرتے ہیں۔ (بہجۃ الاسرار).

یہ سیرتِ مبارکہ کا وہ پہلو ہے جو عاشقانِ غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ کے لیے انتہائی سبق آموز ہے ـ کیونکہ یہاں حال یہ ہے سیرتِ غوثِ اعظم پر کئی شبانہ روز بیان کرلینے والے زبان دانوں کی پنجوقتہ نمازیں بھی گول رہا کرتی ہیں۔ الا ماشاء اللہ

 

 

خوفِ خدا کا حال :

بقول شیخ سعدی شیرازی رحمتہ اللہ علیہ “مسجد الحرام میں کچھ لوگ کعبۃ اللہ شریف کے قریب عبادت میں مصروف تھے..اچانک انھوں نے ایک شخص کو دیکھا کہ دیوارِ کعبہ سے لپٹ کر زاروقطار رورہاہے اور اس کے لبوں پر یہ دعا جاری ہے،” ائے اللہ عزوجل!اگر میرے اعمال تیری بارگاہ کے لائق نہیں ہیں تو بروزِ قیامت مجھے اندھا اٹھانا”.

اس عجیب وغریب دعا پر لوگوں کے استفسار پر آپ نے جواب دیا کہ میں اس لیے ایسی دعا کیا کہ اگر میرے اعمال رب کی بارگاہ میں قابلِ قبول نہ ہوں تو اندھا اٹھوں تاکہ حشر میں اللہ کے بندوں کے سامنے شرمندگی نہ ہو۔

ولایت کے اس قدر درجے پر فائز ہونے کے باوجود خوفِ خدا کا یہ عالم ہے مگر یہاں حال تو یہ ہے ذرا سی عبادت کیا کرلی نفس موٹا ہوگیا اور پھر دوسروں کو بنظرِ حقارت دیکھنا معمول بن گیا۔

ایفائے عہد :

آپ رضی اللہ عنہ کے زمانۂ طالبِ علمی زبان زد خاص و عام واقعہ کہ والدہ نے حصولِ علم کے لیے رختِ سفر باندھتے ہوئے چالیس اشرفیاں عبا کے نیچے سل کر نصیحت کی کہ “بیٹا خواہ کچھ ہوجائے جھوٹ مت بولنا” اور آپ نے حامی بھرلی ـ عہدِ شکنی تو دور ایفائے عہد کا منظر بھی تاریخ بن گیا، آنکھوں کے سامنے قافلہ لوٹ لیا گیا

لوگوں کے سامانِ سفر غصب کرلیے گئے اس کے باوجود ڈاکوؤں کے استفسار پر ارشاد فرمایا کہ میرے پاس چالیس اشرفیاں ہیں اور یہی بات ان کے سردار سے بھی کہا ـ ایفائے عہد کا یہ جذبہ ڈاکوؤں کے سردار کے ساتھ تمام ڈاکوؤں کی توبہ کا سبب بن گیا۔یہ ان لوگوں کے لیے سبق آموز ہے جو وعدہ کرکے ایفائے عہد کے وقت حیلہ سازی کرکے مُکر جاتے ہیں۔

عجزوانکساری:

صحرا کے سفر کے دوران پیاس کی سختی کے بعد ایک بادل ظاہرہوا جس سے بارش کے مشابہ ایک چیز گری جس سے آپ نے سیرابی حاصل کی بعدہ اس سے ایک نور نکلا اور پھر ایک شکل ظاہر ہوئی جس سے آواز آئی عبدالقادر! میں تیرا رب ہوں اور میں نے تم پر حرام چیزیں حلال کردی ہیں

تو آپ نے اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم پڑھ کر کہا اے شیطانِ لعین! دور ہوجا تو روشن کنارہ اندھیرے سے بدل گیا اور آواز آئی ” اے عبدالقادر! تم مجھ سے اپنے علم، اپنے رب عزوجل کے حکم اور اپنے مراتب کے سلسلے میں سوجھ بوجھ کے ذریعے نجات پاگیا مگر اس طرح میں نے ستر مشائخ کو گمراہ کردیا ـ تو آپ نے جواب دیا کہ یہ صرف میرے رب کا فضل و احسان ہے۔

یہ واقعہ تو آپ نے بہت سنا ہوگا مگر اس میں خاص بات یہ ہے کہ آج کل تعریف پسندی اتنی غالب آئی ہوئی ہے کہ جب تک چار پانچ سطروں میں بڑے بڑے القاب کے ساتھ نام نہ آئے تب تک نام لکھنے کا حق ادا نہیں ہوتا ورنہ اپنی گستاخی پر محمول کرلیا جاتا ہے ـ

عاجزوانکساری، خاکساری اور خلوص جیسی چیزیں غائب ہوتی جارہی ہے اور ہر کام میں شہرت طلبی مقصود ہونے لگی ہے اس کے بجائے اگر اپنی جانب سے اچھے کام کو خدا کا فضل واحسان اور بُرے کام کا سرزد ہونا نفس و شیطان کی طرف منسوب کرنا انسب ہے مگر بُرے کام کی نسبت نفس کی طرف تو کی جاتی ہے مگر اچھے کام پر خود کی تعریف مقصود ہوتی ہے۔

غریبوں اور محتاجوں کی داد رسی:

حضور سیدنا غوثِ اعظم کا فرمان ہے ” میرے نزدیک بھوکوں کو کھانا کھلانا اور حسنِ اخلاق کامل زیادہ فضیلت والے اعمال ہیں ـ پھر فرمایا ” میرے ہاتھ میں پیسہ نہیں ٹھہرتا، اگر صبح کو میرے پاس ہزار دینا آئیں تو شام تک ان میں سے ایک پیسہ بھی نہ بچے ـ (غریبوں میں تقسیم کرنے اور انہیں کھانا کھلانے کی وجہ سے) سیرت کا یہ حصہ ان رؤسا اور امرا کے لیے لائق عمل ہے جو شہرت و ناموری کے لیے لاکھوں لاکھ پیسہ لٹا دیتے ہیں جب کہ پڑوس میں کوئی بھوکا سوتا ہے اور انہیں ان کی خبر تک نہیں ہوتی بلکہ اپنے بھرے پیٹ پر قیاس کرکے خوابِ خرگوش میں مست ہوجاتے ہیں۔

مہمان نوازی :

روزانہ رات کو اپنے مہمانوں کے ساتھ تناول فرمانا آپ کا معمول تھا۔(بہجۃ الاسرار) بعض لوگ مہمانوں کی آمد پر منہ بناتے اور بُرا جانتے ہیں ان کے لیے یہ سبق ہے۔اس کے علاوہ بیماروں کی عیادت وغیرہ بھی آپ کے معمولات میں شامل تھا ـ

خلاصۂ کلام یہ کہ حضور سیدنا غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ کے فضائل و کمالات، شان و مرتبہ، عظمت و رفعت اور کرامات وغیرہ کا ضرور تذکرہ ہونا چاہیے کہ اس سے ایمان میں تازگی، فکر میں بلندی ، اور قلوب میں اولیاء اللہ سے محبت پیدا ہوتی ہے  مگر ساتھ میں اگر آپ کی غربا پروری، حاجت روائی، دستگیری، عاجزی و انکساری، صبر وشکر، تقویٰ وپرہیزگاری، خدمتِ خلق اور خوفِ خدا ورسول کا بھی تذکرہ ہوتارہے تاکہ ان کی سیرت مبارکہ کے ان پہلوؤں سے بھی سماج و معاشرے کی اصلاح اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں کام آنے کا جذبہ پیدا ہو ـ

اللہ رب العزت ہمیں توفیق بخشے ـ آمین۔

از قلم : محمد عامرحسین مصباحی

خادم التدریس :  جامعہ ضیائیہ فیض الرضا ددری سیتامڑھی بہار

 

یہ مضامین نئے پرانے مختلف قلم کاروں کے ہوتے ہیں۔

ان مضامین میں کسی بھی قسم کی غلطی سے ادارہ بری الذمہ ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published.

*