Friday, February 16, 2024
Homeحالات حاضرہشب برات کے فضائل و اعمال

شب برات کے فضائل و اعمال

شب برات کے فضائل و اعمال

ہو مبارک مومنو آئی شب برات

رحمت خدا کی بن کر چھائی شب برات

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے :

انا انزلناه في ليلةٍ مُبَارَكَةٍ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ فِيهَا يُفرَقُ كُل أمر حكيم (الدخان ) ترجمہ :_ قسم ہے اس روشن کتاب کی بے شک ہم نے اسے برکت والی رات میں اتارا بیشک ہم ڈر سنانے والے ہیں اس میں بانٹ دیا جاتا ہے ہر حکمت والا کام ( کنز الایمان )

نزول رحمت و فیضان بخشش اس رات میں خدائے پاک دن ڈوبنے کے بعد سے ہی اپنی بے پناہ رحمتیں دنیا والوں پر نازل کرتا ہے اور بے شمار لوگوں کو اپنے فضل خاص سے بخش دیتا ہے ۔

مولائے کائنات حضرت علی مرتضی کرم اللہ تعالی وجہ الکریم سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا : کہ جب شعبان کی پندرہویں رات آجائے تو تم لوگ رات میں عبادت کرو، اور دن میں روزہ کھو بے شک اللہ تعالی اس رات میں دن ڈوبنے کے وقت سے آسمان دنیا پر تجلی رحمت کا نزول فرما کر یہ اعلان کرتا ہے کہ : “الا من مُسْتَغْفِرٍ فَاغْفِرَ لهٗ” کیا کوئی بھی مغفرت کا طلب گار ہے کہ میں اسے بخش دوں أَلَا مِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَأَغْفِرَ لَهُ؟ أَلَا مُسْتَرْزِقٍ فَأَرْزُقَهُ؟ أَلَا مُبْتَلًى فَأُعَافِيَهُ؟ أَلَا كَذَا، أَلَا كَذَا..؟ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ »

کیا کوئی بھی مغفرت کا طلب گار ہے کہ میں اسے بخش دوں، اور ہے کوئی روزی کا چاہنے والا کہ میں اسے رزق عطا کروں ، ہے کوئی گرفتار بلا کہ میں اسے عافیت بخشوں، ہے کوئی ایسا اور ایسا یہا تک کہ فجر طلوع ہو جاتا ہے یعنی آج رحمتوں کے خزانے سنائے جارہے ہیں۔ کوئی بھی شخص میری کسی رحمت کا طالب ہے کہ میں اسے فضل واحسان سے نواز دوں) رحمت عامہ کی داد و دہش کا یہ اعلان رات بھر ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ فجر نمودار ہو جاتی ہے۔ (مشكوة المصابيح من حدیث اخیر باب قیام رمضان ر ابن ماجه من باب ما جاء في ليلة النصف من شعبان)

اسی حدیث کی دوسری روایت میں یہ اضافہ بھی ہے:  ۔ الأَسَائِلِ فَاعْطِيهِ ہے کوئی مانگنے والا کہ میں اسے عطا کروں ۔

حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرکار علیہ السلام نے یہ بھی فرمایا :_ فلا يسأل أحد إلا أعطى الا زانية بفرجها أو مشرك(٢) توجو بھی کوئی شخص مانگا ہے اسے عطا کیا جاتا ہے سوائے زنا کار عورت یا مشرک کے ذکر یہ(محروم رہتے ہیں ۔ )

حدیث پاک میں فجر نمودار ہونے سے مراد سحری ختم ہونے کا وقت ہے ۔ یہ ایک مسلمان کے لئے اس کی خوش نصیبی کی معراج ہے کہ خود اس کا خالق و مالک اس سے راضی ہو کہ یہ فرمائے کہ تم جو کچھ مانگو میں سب عطا کروں گا کشادہ دست کرم گردوہ بے نیاز کرے نیازمند نہ کیوں اس ادا پہ ناز کرے

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بیان ہے کہ اپنی باری کے روز ایک رات میں نے رسول اللہ صلے اللہ تعالٰی علیہ سلم کو نہ پایا، ناگاہ دیکھا کہ وہ (مدینہ طیبہ کے قبرستان بقیع میں موجود ہیں ، سرکارعلیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ، کیا تمہیں اندیشہ ہوا کہ اللہ اور اس کے رسول تمہارے ساتھ عدل نہ کریں گے ؟

(1) الدر المنثور ص ٦٣٢٩ بحواله شعب الایمان بیهقی

(۲) الدر المنثور ص ۱۳۲۷ بحواله بیهقی شریف – (بحوالہ مبارک راتیں تصنیف از: سراج الفقہاء مفتی نظام الدین مصباحی)

تقسیم امور :__

تقسیم امور اس رات میں سال بھر میں ہونے والے تمام امور کائنات عروج و زوال ، ادبار و اقبال فتح و شکست، فراخی وتنگی، موت وحیات اور کار خانہ قدرت کے دوسرے شعبہ جات کی فہرست مرتب کی جاتی ہے اور انتظام کار فرشتوں کو الگ الگ ان کے کاموں کی ڈیوٹی تقسیم کر دی جاتی ہے ۔ ارشاد ربانی ہے :_ حٰمٓ(1)وَ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ(2)اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ اِنَّا كُنَّا مُنْذِرِیْنَ(3) فِیْهَا یُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِیْمٍ(4)اَمْرًا مِّنْ عِنْدِنَاؕ-اِنَّا كُنَّا مُرْسِلِیْنَ(5) ترجمۂ کنز الایمان:

قسم اس روشن کتاب کی ۔بیشک ہم نے اُسے برکت والی رات میں اُتارا بیشک ہم ڈر سنانے والے ہیں ۔ اس میں بانٹ دیا جاتا ہے ہر حکمت والا کام۔ہمارے پاس کے حکم سے بیشک ہم بھیجنے والے ہیں ۔ حضرت ابن عباس رضی الہ تعالیٰ عنہما نے کام بانٹنے کا مطلب یہ بیان کیا کہ سال بھر میں جو کچھ ہو گا وہ سب لوح محفوظ سے لکھ دیا جاتا ہے، رزق، موت حیات ، بارش یہاں تک کہ یہ بھی لکھ دیا جاتا ہے فلاں فلاں حج کرے گا۔

(۱) حضرت عکرمہ رضی اللہ تعالی عنہ اور مفسرین کرام کے ایک گروہ کا موقف یہ ہے کہ اس آیہ کریمہ میں ۔ لیلہ مبارکہ ، یا ، برکت والی رات سے مراد شعبان کی پندرہویں شب ، شب برات ہے ۔

(۲) اور اسی رات میں یہ سب کام انجام پاتے ہیں جیسا کہ احادیث نبویہ اس کی شاہد ہیں ۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ سلم نے فرمایا :_ کیا تم جانتی ہو کہ شعبان کی پندرہویں رات میں کیا ہوتا ہے ؟ (یعنی کیسے اہم، با برکت اور نادار امور انجام پاتے ہیں ؟) انھوں نے عرض کیا ، یارسول اللہ ! ارشاد فرمائیے کیا ہوتا ہے ، تو آپ نے فرمایا :_

فيها ان يكتب كُل مولود من بني أدم في هذا السَّنَةِ ، وَفِيهَا ان يكتب كُل هَالِك مِنْ بَني آدَمَ في هذه السَّنَةِ وَفِيمَا تُرفع اعمالھم و فیھا تنزل ارزاقهُمُ۔ ترجمہ : اس رات میں انسان کا ہر بچہ جو اس سال پیدا ہو گا لکھ دیا جاتا ہے جتنے آدمی اس سال وفات پائیں گے انھیں بھی درج کر دیا جاتا ہے، اور لوگوں کے سارے اعمال(نیک و بد) پیش کئے جاتے ہیں

(۲) اوران کی روزیاں بھی اتار دی (لکھ دی) جاتی ہیں۔ (مبارک راتیں، تصنیف از: سراج الفقہاء مفتی نظام الدین مصباحی ) شب برات میں چراغاں کرنا :_ شب برات چونکہ گناہوں سے معافی کی رات ہے اور مسلمان اس مبارک شب میں عبادات کا بھی اہتمام کرتے ہیں ، راتوں کو قبرستان کی زیارت کے لیے بھی جاتے ہیں، جو مسنون ہے تو ظاہر ہے کہ عام شب کے مقابلے میں اس رات کچھ زیادہ روشنی کی ضرورت ہوتی ہے

قبرستان عام دنوں میں راتوں کو تاریک ہوتے ہیں، روشنی کی کوئی حاجت بھی نہیں ہوتی لیکن شب برات میں زیارت قبور کی وجہ سے لوگوں کی آمد ورفت ہوتی ہے اس لیے وہاں روشنی ضروری ہے، یوں ہی مساجد میں بھی عام دنوں میں عشا کی نماز کے فوراً یا کچھ دیر بعد روشنی بجھادی جاتی ہے یا بہت معمولی سا کوئی بلب جلا دیا جاتا ہے، جہاں تیل کا چراغ یا موم بتیاں جلتی ہیں وہاں تو بعد عشاہی اندھیرا کر دیا جاتا ہے

لیکن شب برات میں عبادت و تلاوت قرآن کرنے والے مسلمان کثرت سے مساجد میں آتے اور شب بیداری کرتے ہیں اس لیے عام دنوں کے مقابلے میں اس مبارک موقع پر پوری روشنی کی جاتی ہے ، یہ کوئی ایسی چیز نہیں کہ اس کو بدعت یا نا جائز کہا جائے اگر بلاوجہ روشنی کی جاتی ہے یا روشنی کرنے ہی کو اس شب میں کوئی خاص اہمیت دی جاتی ہے تو یقینا غلط ہے کہ اس مبارک شب میں روشنی کرنے کا کوئی حکم وارد نہیں۔

لہذا حسب ضرورت مساجد میں یا قبرستانوں میں یا عام شاہراہوں میں روشنی کی جائے تو اس کی ممانعت کی بھی کوئی وجہ نہیں اور بلا وجہ مسلمان کے کسی فعل کو جو کسی صحیح غرض کی بنا پر کیا جاتا ہو ناجائز یا بدعت کہنا سراسر ظلم ہے، شریعت اسلامیہ اس کی ہرگز اجازت نہیں دیتی۔

زیارت قبور:

فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ ہے :

كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِفَزُوُرُوْهَافَإِنَّهَاتُزَهِّدُفِي الدُّنْيَا وَتُذَكِّرُ الْآخِرَةَ ترجمہ : میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا ،اب ان کی زیارت کیا کرو کیونکہ اس سے دنیا میں بے رغبتی اور آخرت کی یاد پیدا ہوتی ہے۔ (ابن ماجہ،ج2، ص252،حدیث:1571) اس حدیثِ پاک کے تحت حضرت علامہ عبد الرؤف مَناوِی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں:

جس شخص کا دل سخت ہوگیا ہو زیارتِ قبور اس کے لئے ایک عمدہ دوا ہے۔ (فیض القدیر،ج5، ص71)

پیارے اسلامی بھائیو! قبرستان میں حاضر ہوکر فاتحہ وغیرہ پڑھنا ایک ایسی نیکی ہے جو اگرچہ نفس پر کچھ گِراں گزرتی ہے لیکن اس کے لئے کوئی خاص مشقت نہیں اٹھانی پڑتی۔ دیگر مواقع کےعلاوہ شبِ براءت میں قبرستان جانا بھی سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ سے ثابت ہے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ بیان کرتی ہیں کہ :

فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةً فَخَرَجْتُ فَإِذَا هُوَ بِالْبَقِيعِ فَقَالَ ” أَكُنْتِ تَخَافِينَ أَنْ يَحِيفَ اللَّهُ عَلَيْكِ وَرَسُولُهُ ” . قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي ظَنَنْتُ أَنَّكَ أَتَيْتَ بَعْضَ نِسَائِكَ . فَقَالَ ” إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْزِلُ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَغْفِرُ لأَكْثَرَ مِنْ عَدَدِ شَعْرِ غَنَمِ كَلْبٍ” ترجمہ :

ایک رات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (بستر سے) غائب پایا۔ (میں نے تلاش کیا) آپﷺ بقیع الغرقد میں تھے۔ آپﷺ نے فرمایا: کیا تمہیں یہ خطرہ محسوس ہوا کہ اللہ اور اس کا رسول تم پر ظلم کریں گے…؟ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرا یہ گمان تھا کہ آپ کسی دوسری اہلیہ کے ہاں چلے گئے ہیں۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “بلاشبہ اللہ تعالیٰ نصف شعبان (۱۵ شعبان) کی رات کو آسمانِ دُنیا پر نزول فرماتا ہے اور بنوکلب کی بکریوں کے بالوں کی مقدار (لوگوں) کو معاف فرما دیتا ہے ۔ (ترمذی،ج2، ص183، حدیث:739)

اورہمارے یہاں بھی عموماً شبِ براءت میں قبرستان کی حاضری کا رواج ہے۔یہ ایک اچھا عمل ہےلیکن اسے صرف شبِِ براءت تک محدود نہ کیاجائے بلکہ عام دنوں اور بالخصوص روزِ جمعہ قبرستان کی حاضری کواپنا معمول بنانا چاہیے۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی برکت سے دل گناہوں سے اچاٹ ہوگا اور فکرِ قبر و آخرت پیدا ہوگی۔

آداب زیارت قبور :

ذیل میں زیارت قبور کے آداب قلم بند کئے جاتے ہیں اللہ رب العزت عمل کی توفیق بخشے: قبرستان میں چلنا،قبروں پر پاؤں رکھنا یا ٹیک لگانا بعض جگہ قبرستان میں راستے بنے ہوئے نہیں ہوتے ہیں اور قبریں بھی بےترتیب ہوتی ہیں ایسی صورت میں لوگ اپنے اقربا کی قبروں پر جاتے ہیں تو دوسروں کی قبروں پر چلتے ہوئے جاتے ہیں۔ کچھ لوگ میت کی تدفین کے انتظا ر میں قبروں پر ٹیک لگاکر بیٹھ جاتے ہیں یہ سب گناہوں کا سبب ہے۔

فتاویٰ رضویہ میں در مختار کے حوالے سے مذکور ہے: ’’ قبرستان کے اندر ایسے راستے پر چلنا ممنوع ہے جس کے بارے میں گمان ہوکہ وہ نیا بنالیا گیا ہے یہاں تک کہ جب اپنی میت کی قبر تک کسی دوسری قبر کو پامال کیے بغیر نہ پہنچ سکتا ہو تو وہاں تک جانا ترک کرے۔‘‘ (فتاویٰ رضویہ جلد ۹/ ص: ۵۲۶) ۔

اور احکامِ شریعت میں اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں: ’’اور قبورِ اولیاے کرام و عباد اللہ الصالحین بلکہ عام مقابر مومنین ضرور مستحق ادب و تکریم ہیں ، ولہٰذا ان پر بیٹھنا ممنوع ، چلنا ممنوع،پاؤں رکھنا ممنوع یہاں تک کہ ان سے تکیہ لگانا ممنوع۔ امام احمد و حاکم و طبرانی ،مسند مستدرک کبیر میں عمارہ بن حرم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بسند حسن راوی ہیں :_ رانی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جالسا علیٰ قبر فقال یا صاحب القبرانزل من القبر لاتؤذی صاحب القبر ولا یؤذیک ‘‘ ترجمہ: رسول اللہﷺ نے مجھے ایک قبر پر بیٹھے دیکھا ، فرمایا او قبر والے ! قبر پر سے اتر آ۔ نہ تو صاحبِ قبر کو ایذا دے نہ وہ تجھے ۔ (احکامِ شریعت ص: ۸۵)۔

مگر مسلمانوں کی بڑی بدنصیبی یہ ہے کہ ان کے نیک کام خرافات بسا اوقات افراط و تفریط سے خالی نہیں ہوتے اور شیطان اپنے خفی ذریعہ سے ان کے لئے ایک کاموں میں برائی کی صورت پیدا کر دیتا ہے، ظاہر ہے کہ شب برات قرب الٰہی کے لئے عبادتوں کی رات ہے اس میں خوشیاں بھی منائی جا سکتی ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہم کو ایسی رات کی برکتوں سے نوازنے کا موقع مرحمت فرما یا مگر ہم خوشی کی حدوں کو پار کر جاتے ہیں

اور شیطانی وسوسے سے ایسے امور انجام دینے لگتے ہیں جو سرتا سرنا جائز وگناہ ہیں اور ہم کو احساس تک نہیں ہوتا کہ اپنی بھلائیوں میں برائیوں کی آمیزش کر رہے ہیں صرف اسی پر بات موقوف نہیں بلکہ تضییع مال، اسراف بیجا اور فضول خرچی جیسی بری چیزوں میں مبتلا ہو کر عصیاں کاری کا بوجھ اپنے ذمے لیتے ہیں۔

شب برات میں عبادت :

شب برارت میں عبادت کا اجر و ثواب عام راتوں کی فضیلت عبادت بہت زیادہ ہے اور خدائے پاک کے الطاف کریمانہ سے اس عبادت کو شرف قبول بھی حاصل ہے یعنی شرف قبول اور کثرت اجر و ثواب ہر لحاظ سے اس رات کی عبادت کو عام راتوں کی عبادت پر فضیلت و بزرگی حاصل ہے۔

اس لیے رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی امت کو اس رات میں قیام اللیل کا حکم دیا ہے ، اور خود بھی شب بیداری فرما کراس کا عملی نمونہ دنیا کے سامنے پیش کیا ہے ۔ ارشاد رسالت ہے:_ قُومُوا لَيْلَهَا وَصُومُوا نَهَارَهَا شب برات میں جاگ کر عبادت کرد اور دن میں روزہ رکھو نفل نمازیں ، اذکار، اور دعائیں سب عبادت میں داخل ہیں ۔

عَنْ عَائشة قالت : قام رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم من الليل يصلى فأطال السجود حتى ظننت أنها قد قبض الخ ترجمہ :_ حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم شب برات میں نماز پڑھنے لگے تو سجدہ اتنا دراز کیا کہ مجھے یہ خدشہ ہوگیا کہ آپ وصال فرما گئے ۔ (بیہقی )

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ جو پانچ راتوں میں شب بیداری کرے اس کے لئے جنت واجب ہے (انھیں میں ایک رات) شعبان پندرہویں رات شب برات ہے ۔ (بہار شریعت ) نیز ار شا د نبوت ہے کہ شب برات میں عبادت کرنے والوں کو فرشتے ندا دیتے ہیں ۔

طُوبٰی لِمَن رَكَعَ في هذه الليلة طوبٰی لِمَن سَجَدَ فِي هذه الليلةِ اس رات میں رکوع کرنے والوں کے لئے بشارت اور رحمت ہے ۔ اس رات میں سجدہ کرنے والوں کے لئے بھلائی اور سعادت ہے۔ (غنیتہ الطالبین ص ۱۳۶۹ ) ۔

مسلمانوں کو چاہیے کہ سرکار علیہ السلام کے ارشاد اور اسوۂ حسنہ پر عمل کرتے ہوئے اس مبارک رات میں جاگ کر ذکر عبادت کریں، دعا و مناجات میں مشغول رہیں اور جنت اور فرشتوں کی بشارت کے حقدار بنیں ۔ آج کی رات نہ خوابوں میں گزرنے پائے آج کی رات ہے رو رو کے دعا کرنے کی۔ (مبارک راتیں، تصنیف از: سراج الفقہاء مفتی نظام الدین مصباحی )

پندرہویں شعبان کا روزہ:

ابن ماجہ کی حدیث میں ہے کہ جب شعبان کی پندرہویں شب آئے تو اس میں قیام کرو اور دن میں روزہ رکھو، مندرجہ ذیل حدیث مسلم سے بھی پندرہویں شعبان کے روزے کی فضیلت ظاہر ہے ، ملاحظہ کریں:_ عن عمران بن حصين رضى الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال له أو لآخر أصُمتَ من سَرَرِ شعبان قال لا قال: اذا أفطَرْتَ فَصُم يومين مكانه (مسلم شریف: ۳۶۸ کتاب الصیام باب سوم سررشعبان)

عمران بن حصین رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ان سے یا کسی اور سے فرمایا تم نے شعبان کے وسط میں روزہ رکھا ہے؟ انہوں نے کہا نہیں، آپ نے فرمایا: عید کے بعد تم دو روزے رکھ لینا ۔

اس حدیث سے بھی شعبان بلکہ شب برات کے روزے کی فضیلت معلوم ہوتی ہے کہ اس کے ایک روزے کے بدلے بعد رمضان دوروزے کا حکم جسم دیا۔

اور وسط شعبان سے پندرہویں شعبان ہی مراد ہے تو اس سے شب نمات کے بعد والے دن کا روزہ بھی ثابت ہوا۔

از قلم : رضوان احمد مصباحی 

رکن : البرکات ایجوکیشنل اینڈ ویلفئیر ٹرسٹ ،ٹھاکرگنج ،کشن گنج 

زکوٰة احادیث کے آئینے میں
زکوٰة احادیث کے آئینے میں
afkareraza
afkarerazahttp://afkareraza.com/
جہاں میں پیغام امام احمد رضا عام کرنا ہے
RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular

Recent Comments

قاری نور محمد رضوی سابو ڈانگی ضلع کشن گنج بہار on تاج الشریعہ ارباب علم و دانش کی نظر میں
محمد صلاح الدین خان مصباحی on احسن الکلام فی اصلاح العوام
حافظ محمد سلیم جمالی on فضائل نماز
محمد اشتیاق القادری on قرآن مجید کے عددی معجزے
ابو ضیا غلام رسول مہر سعدی کٹیہاری on فقہی اختلاف کے حدود و آداب
Md Faizan Reza Khan on صداے دل
SYED IQBAL AHMAD HASNI BARKATI on حضرت امام حسین کا بچپن