Wednesday, July 17, 2024
Homeشخصیاتمحقق بریلوی اور جدید اصول تحقیق

محقق بریلوی اور جدید اصول تحقیق

محقق بریلوی اور جدید اُصولِ تحقیق

ڈاکٹر غلام مصطفی نجم القادری

تاریخی ادوار میں چودھویں صدی ہجری نقش کالحجر کی طرح اَنمٹ ہے اور اَنمٹ رہے گی۔

اس کے اُفق سے عالم اسلام کی ایک ایسی عبقری شخصیت نے طلوع فرمایا، پوری دنیا جس کے علمی و فکری، تحقیقی و تدقیقی شعاعِ نور میں ڈوب گئی۔ جہاں جہاں اس کی تحقیق کا اُجالا پھیلا شک و تردّد کی تاریکیوں میں صبح انقلاب کی دھمک محسوس کی گئی۔

چوں کہ امام احمد رضا محقق بریلوی مبدأ فیاض کی خصوصی فیض بخشیوں کے شاہکار اور نگاہِ رحمت کا حسین انتخاب تھے۔

یہی وجہ ہے کہ آپ کی ذات نادر دہر، نازشِ عصر، نابغۂ روزگار اور مجمع باغ و بہار تھی۔ اب جوں جوں چہرۂ لیل و نہار پر پڑی غفلت کی دبیز چادر کے گرد صداقت و حقانیت کا اُجالا پھیل رہا ہے، رُخِ روشن کی تابانی سے فضا بقعۂ نور ہوتی چلی جارہی ہے۔

قدرت نے آپ کو ایسا دراک دل اور مواج دماغ بخشا تھا کہ ہمیشہ فکر و تخیل، تحقیق و تدقیق اور شعور و آگہی کے گل بوٹے آپ کے قلم حقیقت رقم سے دامنِ قرطاس پر بکھرتے ہی رہتے۔

علومِ عقلیہ و نقلیہ کا وہ کون سا شعبہ ہے جسے آپ نے اپنے افکارِ عالیہ سے مالا مال، اور افکارِ نافعہ سے خوش حال و نہال نہ کیا ہو۔

یوں تو علم و فن کا ہر گوشہ آپ کا ممنونِ کرم ہے تاہم لسانی خدمات کی بنیاد پر اگر جائزہ لیا جائے تو بھی معاصرین سے بہت آگے نظر آتے ہیں۔

ہمیں آپ کی معاصر شخصیتوں میں کوئی شخصیت ایسی نظر نہیں آتی جس نے بیک وقت عربی و فارسی و اردو میں آپ کی مماثل خدمات انجام دی ہوں۔ اور آپ کی طرح سینکڑوں عدیم النظیر تصانیف چھوڑی ہوں۔

اس خصوص میں آپ تنہا، منفرد اور بے مثال ہیں۔ عربی ادب پر دستگاہ کا یہ عالم کہ علمائے عجم کوئی جانے منہ میں زباں نہیں اور علمائے عرب نہیں بلکہ جسم میں جاں نہیں پکارتے اور دادِ فکر و تحقیق دیتے نظر آتے ہیں۔

فارسی اور اردو کا یہ حال کہ اربابِ علم و دانش نے آپ کی زبان کو کوثر و تسنیم میں دُھلی زبان قرار دیا اور معنویت دیکھ کر محو حیرت رہ گئے۔

عربی فارسی پر عموماً اور اردو پر خصوصاً آپ کے وہ احسانات ہیں کہ زبانِ اردو کبھی بھول نہیں سکتی۔ اس کے ذخیرۂ ادب کو ایسے ایسے علمی و تحقیقی نوادرات کے لعل و گہر سے مملو و مزین کردیا ہے کہ اب یہ زبان دنیا کے کسی بھی عظیم ادب سے آنکھیں ملانے کا حوصلہ رکھتی ہے۔ آپ کی تقریباً ایک ہزار تصنیفات و تالیفات کا غالب حصہ اسی زبان میں ہے۔

اس لیے میں یہ کہنے میں مسرّت محسوس کرتا ہوں کہ آپ نے صدیوں تک کے تحفظ کا حصار کھینچ دیا ہے۔نتیجے میں ادب کے قلعے میں زبان محفوظ ہوگئی ہے۔

آج میر، غالب، اقبال وغیرہ شعرا کے ذکر و تذکرہ سے کالج و یونیورسٹی کے در و دیوار گونج رہے ہیں مگر محقق بریلوی نے شعر و سخن کے جو گلستان سجائے ہیں اس کی سچی نکہت ریزی کے آگے تمام خوشبوئیں پھیکی ہیں۔

ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خاں ایم اے، پی ایچ ڈی اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں:

’’اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خاں علیہ الرحمہ اپنے دور کے بے مثال علما میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کے فضل و کمال، ذہانت و فطانت، طباعی و دراکی کے سامنے بڑے بڑے علما، فضلا، یونی ورسٹی کے اساتذہ، محققین اور مستشرقین نظروں میں نہیں جچتے۔

مختصر یہ ہے کہ کون سا علم ہے جو انھیں نہیں آتا اور وہ کون سا فن ہے جس سے وہ واقف نہیں تھے۔ شعر و ادب میں بھی ان کی عظمت کا لوہا ماننا پڑتا ہے۔‘‘ ۱ ؎

حافظ نظیر لدھیانی لکھتے ہیں:

’’جہاں تک میں سمجھتا ہوں اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خاں قدس سرہٗ کو امامِ نعت گویاں کہنا بالکل بجا اور درست ہے۔ اردو ادب میں ان کے پایہ کا نعت گو کوئی نہیں۔‘‘ ۲؎

اردو ایک نئی اور ارتقا پذیر زبان ہے۔ آئے دن حجلہ مشرق سے نکلتی، صبح اس کی پیشانی کا افشاں اور آغوشِ مغرب میں جھولتی ڈوبتی شام اس کی آنکھوں کا کاجل بنتی رہی اور بنتی ہی رہتی ہے۔ اب سے سو برس پہلے کی اس کی تصویر اگر دیکھیے تو نہ یہ حسن ہے اور نہ یہ بانکپن، نہ یہ جاذبیت ہے اور نہ یہ دل فریبی۔ اردو ایک اُکھڑی اُکھڑی، کھردری اور غیر مانوس زبان معلوم ہوتی ہے۔

نہ زبان فہمی و زبان دانی کا کوئی خاص قاعدہ ہے اور نہ لسانی مسائل و وسائل کا ٹھوس ضابطہ و اُصول۔

غالباً یہی وجہ ہے کہ ۱۹۴۷ء سے پہلے اردو محققین کی تعداد بہت مختصر اور تحقیقات ناقص نظر آتی ہیں۔

ڈاکٹر قمر رئیس لکھتے ہیں: ’’ہماری تحقیقی سرمائے کی عمر ابھی سو سال بھی نہیں ہے۔ اس کی کوتاہیاں اور کم رسائیاں بھی ہم پر روشن ہیں۔‘‘ ۳ ؎

مگر حیرت ہوتی ہے کہ اب سے سو برس پہلے جب کہ اردو کا دامن لسانی مسائل اور تحقیقی جواہر پاروں کے لیے دریوزہ گر ہے۔۔۔

محقق بریلوی نہ صرف یہ کہ اپنی کتابوں میں تحقیق کا اعلیٰ و ارفع معیار پیش کرتے ہیں بلکہ جو اُصول وضع فرماتے ہیں وہ دورِ جدید کے محققین کی نگاہوں کے لیے سرمۂ بصیرت ہیں۔

افسوس کہ ان نوادراتِ تحقیق اور جواہراتِ تنقید کی طرف توجہ نہیں دی گئی ورنہ لسانی مسائل میں جن عناصر کی تشنگی کا احساس فاضل ڈاکٹر موصوف کو ہے وہ شاید نہ ہوتا۔

حقائق نا آشنائی یا حقائق سے چشم پوشی کی اس سے قبیح مثال اور کیا ہوسکتی ہے کہ جن کا نام محققین و ناقدین کی فہرست میں اوّلین آنا چاہیے تھا

ان کے نام سے یہ فہرست خالی ہے اور جس کا نام بعد میں آیا یا آنا ہی نہیں تھا ان کا نام زینت فہرست ہے۔ حالاں کہ تمام محققین کی تحقیق کو محقق بریلوی کی تحقیق سے وہی نسبت ہے جو ذرّے کو آفتاب اور قطرے کو سمندر سے ہے۔

ڈاکٹر قمر رئیس رقم طراز ہیں: ’’اردو میں کوئی ایسا ادبی نقاد پیدا نہ ہوسکا جسے ہم فخر و اعتماد سے مغرب کے ممتاز ناقدین کی صف میں کھڑا کرسکیں۔

لیکن ایسے مستند عالم اور محقق ضرور ہیں جن کا موازنہ وثوق کے ساتھ دنیا کی ترقی یافتہ زبانوں کے محققوں سے کیا جاسکتا ہے۔‘‘۴؎ ہم پورے فخر و اعتماد کے ساتھ یہ کہہ رہے ہیں کہ فخر و اعتماد کے ساتھ جس مستند عالم اور محقق کو دنیا کی ترقی یافتہ زبانوں کے محققوں کی بزم میں پیش کیا جاسکتا ہے کم از کم اُنیسویں اور بیسویں صدی میں تو اس افتخار کا سہرا محقق بریلوی کی فرقِ اقدس پر سجتا ہے۔

ڈاکٹر قمر رئیس نے اگر تصانیفِ رضا کا سنجیدہ مطالعہ کیا ہوتا تو ان کی تحریر سے قنوطیت و یاسیت کی بوٗ نہیں آتی۔

مطالعہ اگر تشنہ ہو تو یہی سب مسائل قلم سے ٹپکتے ہیں۔ انصاف دنیا سے اگر رُخصت نہیں ہوگیا ہے تو مطالبۂ انصاف یہ ہے کہ ہر اعتبار سے امام احمد رضا ہی اس تمغہ کے حقدار ہیں۔

اس لیے کہ بقیہ جتنے بھی ہیں دو چار یا مبالغہ سے کام لیا جائے تو دس بیس سے زیادہ علوم و فنون کے ماہر نہیں نظر آتے اور اس پر ان کی تصنیفات اور مضامین و مقالات گواہ ہیں۔

مگر محقق بریلوی بقول انہی کے ۵۹؍ علوم و فنون میں مہارت رکھتے ہیں۔ بلکہ جدید تحقیق کے مطابق ۳۰۵؍ علوم و فنون کے ماہر ہیں۔ ۵؎ اور اس پر آپ کی تصانیف و مضامین و مقالات شاہد عدل ہیں۔

مولانا عبدالکریم نعیمی بنگلہ دیش لکھتے ہیں: صرف فتاویٰ رضویہ ہی کو لیجیے، اس میں آپ نے ہزاروں مسائل پر بے لاگ تحقیق و تدقیق فرمائی ہے۔ آپ کی تصانیف کا مطالعہ کرنے والوں کو پہلا احساس یہ ہوتا ہے کہ آپ قلم کے بادشاہ ہیں۔

پورے چون ۵۴برس مسندِ افتا پر متمکن رہے اور اس عرصے میں اتنا لکھا کہ علامہ حسنین رضا خاں صاحب نے جب حساب لگایا تو فی دن چھپن صفحات کتاب و تحریر کے نکلے۔ ۶ ؎

پوری اُنیسویں اور بیسویں صدی چھان ڈالیے، نہ کوئی ایسا کثیر التصانیف مستند عالم نظر آتا ہے، نہ اتنے علوم و فنون پر کامل عبور رکھنے والا فاضل اور نہ ہی ایسی ندرتِ تحقیق کا حامل محقق۔

آپ کی اس خوبی کا اعتراف اپنے اور بیگانے ہر منصف مزاج کو ہے۔ آپ کی کتاب کا منصف قاری اس حقیقت کا اعتراف کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ چنانچہ مولوی ابوالحسن علی ندوی اپنے طویل مضمون میں یوں اعتراف کرتے ہیں:

’’فاضل بریلوی نے علمائے حجاز سے بعض فقہی و کلامی مسائل میں مذاکرہ و تبادلۂ خیالات کیا، حرمین کے اثنائے قیام میں انھوں نے بعض رسائل لکھے اور علماے حرمین کے پاس آئے ہوئے سوالات کے جوابات دیے۔

وہ حضرات آپ کے وفورِ علم و فقہی متون اور اختلافی مسائل پر دقتِ نظر، وسعتِ معلومات، سرعتِ تحریر اور ذکاوتِ طبع سے حیران رہ گئے۔‘‘ ۷؎

حق کو چھپایا نہیں جاسکتا، صداقت کی پردہ پوشی نہیں ہوسکتی۔ یہ ایک ایسی خوشبو ہے جو قید و بند کی مشقت سے آزاد و بے پرواہ ہے۔ ایسی بہت ساری مثالیں موجود ہیں کہ آپ کی تحقیقات نے خیالات و نظریات کی دنیا میں انقلاب برپا کردیے۔

نئی ہلچل مچ گئی اور طبیعت کچھ کھونے کچھ پانے پر مجبور ہوگئی۔ حکیم الامت صاحبِ تصانیف ِ کثیرہ و مفسّر قرآن مفتی احمد یار خاں نعیمی علیہ الرحمہ نے اعلیٰ حضرت کے ایک رسالہ ’’عطایا القدیر فی حکم التصویر‘‘ کا جب مطالعہ کیا تو اتنے متحیر ہوئے کہ اپنا تاثر ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں:

’’چوں کہ میری طالب علمی دیوبندی مکتب فکر کے اساتذہ سے متاثر تھی، اس لیے میرے ذہن میں یہی بات بیٹھی ہوئی تھی کہ علمی تحقیق صرف علماے دیوبند کی تالیفات میں ملتی ہے۔

جب میں نے مذکورہ رسالہ کا مطالعہ کیا تو اس کے لکھنے والے کے تبحر علمی اور دقت ِ نظری کے کمال کا گرویدہ ہوگیا۔ سچ یہ ہے کہ اس رسالے نے میری ذہنی اور اعتقادی دنیا میں انقلاب برپا کردیا۔ ۸؎

حقیقت یہ ہے کہ محقق بریلوی کی تصنیفات کا بنظر انصاف مطالعہ نہیں کیا گیا۔ مسلکی اور اعتقادی تعصب مانع رہا اور اس طرح لوگ اپنے ہی کثیر دینی دولت کی زیارت سے محروم رہے اور عظیم معقولی و منقولی محقق سے نا آشنا۔ مولانا یٰسین اختر مصباحی آپ کی محققانہ بصیرت پر طویل بحث کے اخیر میں تحریر فرماتے ہیں:

’’امام احمد رضا فاضل بریلوی کے عدیم النظیر تحقیقات و تدقیقات کا بنظر غائر مطالعہ کیاجائے تو بلاشبہ ہر انصاف پسند آپ کی عبقریت کا قائل ہوجائے گا اور کھلے دل سے آپ کو ایشیا کا عظیم محقق قرار دے گا۔‘‘ ۹؎

درحقیقت اس مضمون کی تحریک کا سبب محقق بریلوی کے وہ اُصولیاتِ تحقیق ہیں جو آپ کی تصنیف ’’حجب العوار عن مخدوم بہار‘‘کے صفحات پر آسمان کے تاروں کی طرح بکھرے ہوئے ہیں۔

غالباً جس کی اولین رونمائی اور تعارف کا سہرا ماہر رضویات حضرت پروفیسر مسعود احمد مظہری کے سر ہے۔ جس کا تفصیلی تذکرہ آپ نے اپنے وقیع مقالہ ’’امام اہلِ سنّت‘‘ میں کیا ہے۔

تحقیق کا ایک ادنیٰ طالب ہونے کے ناطے جب ان نوادر پر میری نظر پڑی تو حیران رہ گیا اور بار بار جدید محققین کے آرا سے موازنہ کرنے لگا۔

ذیل میں ہم نے ایسے ہی بکھرے حقائق کا تقابل اور استخراج نتائج پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ جدید تحقیق میں جو چیز اساسی حیثیت کی حامل ہے وہ ہے:

(۱) متن اور

(۲) تصحیح متن۔

اپنی فکری جولانی اور جواد طبعی سے کتابوں کے ڈھیر لگا دینا اور باتوں باتوں میں مضامین کے گلستان سجا دینا اور بات ہے اور تحقیق و تصحیح متن کی پابندی اور رعایت کے ساتھ کہنا اور لکھنا کارِ دیگر۔

محقق بریلوی کا کمالِ تحقیق یہ ہے کہ آپ نے معیارِ تحقیق کو ہمیشہ پیش نظر رکھا اور اس انداز میںآپ نے اُصولوں کو برتا کہ آج آپ کی تحقیقات خود ہی معیارِ تحقیق کا درجہ رکھتی ہے۔

باوجودیکہ آپ سیکڑوں کتابوں کے مصنف ہیں مگر ایک بات مستقلاً اگر کسی کتاب میں ذکر فرما دیتے ہیں اور وہی بات ضمناً کسی کتاب میں آئی ہے تو اسی شانِ احتیاط اور غیر معمولی قوتِ استقرا کے ساتھ گویا کہ بیان کی ہوئی بات کا ہر جزو کُل اپنے اپنے مالہ و ما علیہ کے ساتھ ہمیشہ مدنظر رہتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ آپ کی تحقیقات تضاد بیانی کے عیب سے مبرّا ہے اور اُصول شکنی کے الزام سے منزہ ماہر رضویات پروفیسر مسعود احمد مظہری یوں رقم طراز ہیں:

’’مولانا کثیر التصانیف عالم تھے، مگر کثیر التصانیف ہونا فی نفسہٖ کوئی خوبی نہیں، جب تک یہ نہ معلوم ہو کہ مصنف کا تحقیق معیار کیا ہے اور وہ رطب و یابس بیان کرنے کا عادی تو نہیں۔ تحقیق و ریسرچ میں صحت نسخ و صحت متن کو اساسی اہمیت حاصل ہے۔

دیکھایہ گیا ہے کہ محققین بھی اس کی پرواہ نہیں کرتے اور اس کے مندرجات کو بلا تامل مصنف سے منسوب کردیتے ہیں۔

مولانا بریلوی اس معاملے میں بہت محتاط تھے۔ انھوں نے ایک مختصر رسالے میں صحت نسخ، صحت متون، اتصالِ سند، تواتر، تداول، احتیاط، استدلال وغیرہ پر بحث کی ہے۔‘‘ ۱۰؎

محقق بریلوی نے جن مبادیات و مصطلحات تحقیق و تدوین کی طرف رہنمائی کی ہے اچھے اچھے دانش ور اس معیار پر پورے نہیں اُترتے اور بالغ نظر محققین کی جھولی بھی ان جواہرات سے خالی معلوم ہوتی ہے۔

یہی وہ تشنگی ہے جس کی وجہ سے شدت کے ساتھ آج یہ ضرورت محسوس کی جارہی ہے کہ لسانی، اُصولی اور جدید تحقیقی شعور کی بنیاد پر اردو کی ضابطہ بندی کی جائے۔

اردو کے بے لاگ محقق رشید حسن خان لکھتے ہیں: ’’تحقیق اور تدوین میں جو فرق ہے وہ جس طرح نگاہوں سے اوجھل ہوگیا تھا اس سے ایک نقصان یہ بھی پہنچا کہ تحقیق کے مسائل اور آداب پر تو کچھ نہ لکھا گیا لیکن تدوین کو نسبتاً آسان کام سمجھ لیا گیا تھا۔

(اس وہم نے بہتوں کو گنہ گار کیا ہے) پندرہ بیس سال کے عرصے میں اس طرف بطور خاص توجہ کی گئی ہے۔ اگرچہ ابھی تک اس موضوع پر کوئی ایسی تصنیف سامنے نہیں آئی ہے جس میں سارے مسائل کا احاطہ کرلیا گیا ہو۔‘‘ ۱۱ ؎

تحقیق و تصحیح کے وسائل کی جستجو اور مسائل کے تجزیہ و احاطہ کے لیے مفکّروں کی ٹیم اور محققوں کا گروہ مسلسل شب و روز مصروفِ عمل ہے اور اس باب میں بڑی تیزی سے کام ہورہا ہے۔ یہ ایک بہت اچھی کوشش اور خوش انجام جدوجہد ہے۔ (اگر دیانت داری سے کی جائے تو) تاہم سو برس پہلے محقق بریلوی نے اپنی ذہانت و فطانت کی بنیاد پر جو اُصول وضع فرمادیے ہیں، اس کی گہرائی کہاں سے آئے جو اس خصوص میں آپ کا طرۂ امتیاز ہے۔

آئیے محقق بریلوی کے مرتب کردہ اُصول و نکات کا آج کے اُصولِ تحقیق سے تقابلی جائزہ لیں اور اس روشنی میں اصل نتائج تک پہنچنے کی پاک سعی کریں۔ اجزائے تحقیق کا جس ترتیب سے اوپر ذکر آیا ہے، اسی نہج سے الگ الگ ہم سب کو پیش کرتے ہیں۔

محقق بریلوی

صحتِ نسخ (۱)

(الف) کوئی کتاب یا رسالہ کسی بزرگ کے نام منسوب ہونا اس سے ثبوتِ قطعی کو مستلزم نہیں ۱۲؎ کسی کتاب کا ثابت ہونا اس کے ہر فقرے کا ثابت ہونا نہیں۔ ۱۳ ؎

جدید محققین

اختلافِ متن یا انتسابِ کلام کے تحت جس فراخ دلی کے ساتھ تذکروں میں چھپے ہوئے اشعار کا حوالہ دیا جاتا ہے وہ تو اور زیادہ غیر مناسب ہے کیوں کہ بیشتر مطبوعہ تذکروں میں اشعار کے متن کا حال سب سے زیادہ سقیم ہے۔ ایسے تذکروں کو جب تک آدابِ تدوین کی مکمل پابندی کے ساتھ مرتب نہ کیا جائے اُس وقت تک متن کو شبہات سے محفوظ قرار نہیں دیا جاسکتا۔

عقیدت زود یقینی اور ان جیسی تصوف پسند اور مغالطہ آفریں خوش اخلاقیوں کی تحقیق میں گنجائش نہیں۔ ۱۴ ؎

(ب) کسی مخطوطہ قلمی نسخے یا قدیم مطبوعہ روایت میں شامل کسی متن، حصۂ متن لفظ یا عبارت کی صحت و عدم صحت کے سلسلے میں کسی قطعی فیصلے پر پہنچنے سے پہلے خارجی و داخلی وسائل کی قطعی یا قابلِ اطمینان شہادت درکار ہوتی ہے۔ ۱۵ ؎

محقق بریلوی۔۔۔ اتصالِ سند (۲)

(الف) علما کے نزدیک ادنیٰ درجہ ثبوت یہ تھا کہ ناقل کے لیے مصنف تک سند مسلسل، متصل بذریعہ ثقات ہو۔ ۱۶ ؎

(ب) اگر ایک اصل تحقیق معتمد سے اس نے مقابلہ کیا ہے تو یہ بھی کافی ہے یعنی اُصولِ معتمدہ متعددہ سے مقابلہ زیادتِ احتیاط ہے۔ یہ اتصال سند وہ شے ہے جس پر اعتماد کرکے مصنف کی طرف نسبت جائز ہوسکے۔ ۱۷؎

جدید محققین

(الف) حوالے کا قابلِ قبول ہونا متعدد باتوں پر منحصر ہوتا ہے۔ مثلاً یہ کہ واقعے اور روایت کے درمیان زمانی فصل نہ ہو کہ روایت کا تسلسل ٹوٹ جائے۔

روایت اگر ذاتی معلومات پر مبنی ہے اور راوی غیر معتبر بھی نہیں، اس صورت میں امکان کی حد تک یہ بھی دیکھ لیا جائے کہ غلط فہمی جانب داری یا ایسے کسی محرک کے اثرات تو کارفرما نہیں۔ ۱۸؎

(ب) کسی متن کو قدیم اور اصل قرار دینے کے لیے یا کسی عہد کی شخصیت سے وابستہ کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ یہ معلوم کیا جائے کہ اس کے حق میں معاصر شہادتیں کیا ہیں اور متن کے قدیم تر قلمی نسخے کس زمانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایسی شہادتوں کی عدم موجودگی میں یہ شبہ کیا جاسکتا ہے کہ یہ متن اس عہد یا اس شخص سے تعلق نہیں رکھتا۔ ۱۹؎

محقق بریلوی۔۔۔ تواتر (۳)

(الف)کسی کتاب کا چھپ جانا اسے متواترنہیں کردیتاکہ چھاپے کی اصل وہ نسخہ ہے جو کسی الماری میں ملا، اس سے نقل کرکے کاپی ہوئی۔ ۲۰ ؎

(ب) متعدد بلکہ کثیر و وافر علمی نسخے موجود ہونا بھی ثبوت تواتر کو بس نہیں، جب تک ثابت نہ ہو کہ یہ سب نسخے جدا جدا اصل مصنف سے نقل کیے گئے یا ان نسخوں سے جو اصل سے نقل ہوئے، ورنہ ممکن ہے کہ بعض نسخۂ محرفہ ان کی اصل ہوں۔ ان میں الحاق ہوا ہو اور یہ ان سے نقل در نقل ہوکر کثیر ہوگئے ہوں۔ ۲۱ ؎

جدید محققین

(الف) تدوین کا یہ مسلّمہ اُصول ہے کہ کسی متن کے جتنے اہم نسخے ممکن الحصول ہوں ان سب سے استفادہ کیا جائے ۔ متعدد مجموعہ ہائے کلام کے متعلق معلوم ہے کہ ان میں الحاق کلام موجود ہے یا یہ کہ متن میں تحریف کی گئی ہے۔

تحقیق کے طلبا کے ذہن میں یہ بات رہنی چاہیے کہ ان کے متن کو سند اور ثبوت کے طور پر اس وقت تک پیش نہیں کیا جاسکتا جب تک کہ معتبر نسخوں سے مقابلہ نہ کرلیا جائے۔ ۲۲ ؎

(ب) عام حالتوں میں یہ فیصلہ کہ کسی متن کی صحیح حدود کیا ہونی چاہیئں، اس کے معتبر نسخے کو سامنے رکھ کر لیا جاسکتا ہے لیکن ان حدود کے تحقیقی تعین کے لیے مختلف قلمی اور مطبوعہ نسخوں کا تقابلی مطالعہ ضروری ہے۔ اس ضمن میں مصنف کے اپنے قلمی نسخے کے علاوہ باقی نسخوں پر بھی اعتمادِ کلّی کا اظہار کرنا ممکن ہے۔ ۲۳؎

محقق بریلوی۔۔۔ تداول

(الف) اور متاخرین نے کتاب کا علما میں ایسا مشہور و متداول ہوجانا جس سے اطمینان ہو کہ اس میں تغیر و تحریف نہ ہوئی۔ اسے بھی مثل اتصال سند جانا۔ ۲۴ ؎

(ب) تداول کے یہ معنی کہ کتاب جب سے اب تک علما کے درس و تدریس یا نقل و تمسک یا ان کے مطمح نظر رہی ہو جس سے روشن ہو کہ اس کے سارے مقامات و مقالات علما کے زیر نظر آچکے اور وہ بحالت موجودہ اسے مانا کیے۔

زبانِ علما میں صرف وجود کتاب کافی نہیں کہ وجود و تداول میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ ۲۵ ؎

جدید محققین

(الف) معلومہ قلمی نسخوں میں سب سے اہم وہ قلمی نسخے ہوسکتے ہیں جو خود مؤلف کے اپنے دست و قلم کے مرہونِ منت ہوں اور جن کے بارے میں اس امر کی کافی و شافی شہادت (داخلی و خارجی سطح پر) موجود ہو کہ یہ صاحبِ تصنیف کا اپنا خطی نسخہ ہے

دوسرے درجے پر ایسے قلمی نسخے رکھے جاسکتے ہیں جو مصنف کے ایما سے بڑے اہتمام کے ساتھ تیار کیے گئے ہوں یا جن کی تیاری میں اس کے کسی عزیز شاگرد ، مرید یا دوست کا ہاتھ رہا ہو۔ ۲۶ ؎

(ب) اگر مصنف کے ہاتھ کا لکھا مخطوطہ ہاتھ لگ جائے تو ’گویا گنج یاد آورد‘ مل گیا۔ لیکن ایسا بہت شاذ ہوتا ہے۔ یہ طے کرنے میں بڑی احتیاط کی ضرورت ہے کہ مخطوطہ مصنف کے ہاتھ کا ہے یا نہیں۔

کیوں کہ یہ گنجائش رہتی ہے کہ کسی جعل ساز نے نسخے کا نرخ بالا کرنے کے لیے اسے مصنف کے ساتھ منسوب کردیا ہو۔ ۲۷ ؎

(ج) متن کے گم شدہ سلسلوں کی بازیافت کے لیے معاصرین کی تصانیف کی طرف رجوع اور اس مجموعہ ہائے کلام کا تقابلی مطالعہ ضروری ہے۔

بالعموم ایک مصنف کے مختلف مجموعوں میں یا اس کی تالیف کے مختلف نسخوں میں متن کے حدود ایک نہیں ہوتے اور ان کے تحقیقی مطالعے سے جس طرح الحاقات و اضافات کا پتہ چلتا ہے اسی طرح الحاقات کے مطالعے سے اصل متن کی بازیابی ممکن ہوجاتی ہے۔ ۲۸؎

محقق بریلوی۔۔۔ احتیاط نقل و استدلال (۵)

(الف) علما نے فرمایا جو عبارت کسی تصنیف کے نسخے سے ملے، اگر صحت نسخہ پر اعتماد ہے یوں کہ اس نسخہ کو خود مصنف یا کسی اور ثقہ نے خاص اصل مصنف سے مقابلہ کیا ہے یا اس نسخے سے جسے اصل پر مقابلہ کیا تھا، یوں ہی اس ناقل تک تو یہ کہنا جائز ہے کہ مصنف نے فلاں کتب میں یہ لکھا ورنہ جائز نہیں۔ ۲۹ ؎

(ب) اس نسخہ صحیحہ معتمدہ سے جس کا مقابلہ اصل مصنف یا اور ثقہ نے کیا وسائط زاید ہوں تو سب کا اسی طرح کے معتمدات سے ہونا معلوم ہو، یہ بھی ایک طریقہ روایت ہے اور ایسے نسخے کی عبارت کو مصنف کا قول بتانا جائز۔ ۳۰ ؎

جدید محققین

تاریخ ادب کی کتابیں لغات، انتخابات، نصابی کتابیں، ان کتابوں میں اور ان جیسی کتابوں میں قدیم و جدید شاعری کا کلام اور نثر کے اجزا محفوظ ہیں۔

چوں کہ یہ معلوم ہے کہ ایسی بیشتر کتابوں میں نقل در نقل سے کام لیا گیا ہے اور یہ بھی کہ عام طور پر ایسے مجموعوں میں بے احتیاطیوں کی کارفرمائی پائی جاتی ہے اور ان کے مرتبین نے تحقیق اور تدوین کی پابندی نہیں کی ہے، اس لیے صحت انتساب اور صحت متن کی حد تک ان کو مستند ماخذ کی حیثیت حاصل نہیں ہوں گی۔ ۳۱ ؎

(ب) یہ اُصول بھی قاعدہ کلیہ کے طور پر کام نہیں آسکتا کہ صرف ان روایتوں کو لیا جائے جو ایک سے زیادہ نسخوں میں ملتی ہیں۔

محض یہ صورت کہ ایک روایت ایک سے زیادہ نسخوں میں موجود ہے، اس کی صحت کی دلیل نہیں ہوسکتی۔ اس لیے کہ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ سب نسخے ایک روایت پر مبنی ہوں۔ ایسی صورت میں اساسی طور پر ان کو ایک ہی نسخہ مانا جائے گا، کئی نسخے نہیں۔

جب تک کہ اس کے برعکس نتیجے تک پہنچنے کے لیے قابلِ وثوق شواہد یا قرائن موجود نہ ہوں۔ اسی طرح پر ایک نسخہ ہو یا اور نسخے ہوں ان کے صحت و سقم پر غور و تامل اور تحقیقی تنقید ضروری ہے۔ ۳۲ ؎

بغیر کسی تبصرے کے ہم نے محقق بریلوی اور جدید محقق کے اقوال و آرا نقل کردیے ہیں،محض مطابقت کی کوشش میں کہیں کہیں تو بڑے بڑے پیراگراف کی نقل سے بھی ہم نے گریز نہیں کیا ہے، پھر بھی صحت و سقم کے اعتبار سے ان دونوں میں جو امتیاز ہے وہ اربابِ نقد و نظر اچھی طرح معلوم کرسکتے ہیں، میرے فہم ناقص میں جو چند باتیں آئیں وہ یہ ہیں:

(۱) محقق بریلوی کے یہاں ایجاز و اختصار ہے اور جدید محققین کے یہاں گراں نظر شرح و بسط۔

(۲) محقق بریلوی کے یہاں جامعیت و مانعیت کی ہم آہنگی ہے اور جدید محققین کے یہاں طول کلامی اور تشنہ بیانی۔

(۳) محقق بریلوی کے یہاں ضابطہ بندی کے اُصول کے تحت چھوٹے چھوٹے جملوں میں وسیع المفاہیم پیرا بندی ہے اور جدید محققین کے یہاں بڑے بڑے ذہن کو بوجھل کرنے والے جملوں کی کارفرمائی۔

(۴) محقق بریلوی کے مرتبہ آئین میں قوتِ گرفت و گزاشت اور بست و کشاد کی فراوانی ہے اور جدید محقق کے یہاں اس کی کمی معلوم ہوتی ہے۔

(۵) محقق بریلوی کی نظر دفعات کے جزو کل پر حاوی ہے اسی لیے بہت دور تک تعاقب کا تصور ملتا ہے اور جدید محققین کے یہاں کیف و کم کی زولیدگی کی وجہ سے کوشش تسلی بخش نہیں۔

(۶) محقق بریلوی کے یہاں یقین و اذعان کی بوقلمونی ہے۔ اور جدید محققین کے یہاں شک و ارتیاب کی حکمرانی۔ امام احمد رضا نے یہ اُصولِ تحقیق اس وقت تحریر فرمائے ہیں جب باضابطہ طور پر اردو زبان میں تحقیقی و تدوینی اُصول پر کوئی جامع کتاب موجود نہیں تھی۔ اس طرح تحقیقی اُصول کے بھی پیشوا امام احمد رضا ثابت ہوتے ہیں۔

محقق بریلوی جدید محققین کے جھرمٹ میں مثل آفتاب و ماہتاب درخشاں نظر آرہے ہیں۔ آپ کی بخشی ہوئی روشنی سے تحقیق کے تاریک گوشوں کو چمکایا جاسکتا ہے اور اس سے یہ اندازہ بھی لگایا جاسکتا ہے کہ آئین کی تدوین و تزئین پر جس کی نظر اتنی گہری ہو، اس کے تحقیقی رشحات کا معیار کتنا بلند ہوگا اور اس نے تحقیقی تخلیقات اور دیگر علمی تصنیفات کی حلقہ بندی میں کیسی جگر کاوی کی ہوگی۔

یہی وہ آپ کی فکری آگہی اور فنی بلند نگاہی ہے جس نے عرب و عجم کو ششدر کررکھا ہے۔ تلاش بسیار کے بعد بھی جدید محققین کا کشکولِ فکر آپ کے پیش کردہ بعض نکات سے خالی ہی نظر آتا ہے۔

پروفیسر مسعود احمد مظہری تحریر فرماتے ہیں: امام احمد رضا کے مطالعہ و تحقیق کا معیار بھی بہت بلند ہے۔ انھوں نے کبھی لکھی لکھائی اور سنی سنائی بات پر تکیہ نہ فرمایا۔ بلکہ اصل متون کا خود مطالعہ فرمایا۔ اور جب تک خود مطمئن نہ ہوتے حوالے نہ دیتے۔

ان کے پایۂ تحقیق کا اندازہ ’’حجب العوار عن مخدوم بہار‘‘ کے مطالعے سے ہوتا ہے۔ جس میں انھوں نے متن کتاب کی تحقیق سے متعلق وہ نکات و اُصول بیان فرمائے ہیں جو دورِ جدید کے محققین کے وہم و خیال میں بھی نہیں۔ اور دنیا کا کوئی محقق متن کے لیے یہ اہتمام نہیں کرتا جو امام احمد رضا اہتمام فرماتے تھے۔ ۳۲ ؎

جدید تحقیق کے جو اُصول و ضوابط آج تحقیقاتی اِداروں اور ان اِداروں کی زیر نگرانی شائع ہونے والی کتابوں میں موجود ہیں، یہ جدید تحقیقاتی اُصول اب کے ہیں اور متعدد دانش وروں کے ہیں۔ امام احمد رضا نے تنہا ان مروجہ اُصول سے بہت پہلے نہ صرف یہ کہ اپنی کتابوں میں ان کو برتا ہے بلکہ جہاں جہاں پیش کش میں شبہات کی گنجائش نکل سکتی تھی، ان تمام مقامات کے لیے آپ نے تحقیقی اُصول خود مرتب و مدوّن فرماکر جدید محققین کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ اب کسی کی مجال نہیں ہے کہ غیر معتمد اور غیر ثقہ حوالوں کا سہارا لے کر اپنی تخلیقات کو تحقیقات کی مسند پر بٹھا سکے۔

امام احمد رضا کی چھوٹی بڑی تقریباً ایک ہزار کتابیں ہیں مگر ان کتابوں میں آپ نے تحقیقی اُصول، تدوینی ضابطے، احتیاطی نکات کا ایسا لحاظ و خیال رکھا ہے کہ ہزار اختلاف کے باوجود اب تک کسی میں ہمت نہ ہوئی کہ آپ کی کسی تصنیف، تالیف، تدوین، مضمون یا مقالہ، ملفوظ یا مکتوب کو تحقیقی معیار سے ذرا بھی ہٹا ہوا ثابت کردے۔

یہ تحقیقی اُصول کی پابندی، تصنیفی ضابطے کا لحاظ، تدوینی احتیاط کی پاسداری و خیال کا نتیجہ ہے کہ اس سو سال کے اندر ہزاروں تصانیف مختلف مکاتب فکر کی سامنے آئیں مگر جن کی تصانیف کو کل کی طرح آج بھی بالا دستی حاصل ہے وہ صرف امام احمد رضا کی تصنیف ہے۔ حوالے

1)کلام رضا

اصغر حسین خاں نظیر لدھیانوی ص 5

2)کلام رضا ؍؍ ؍؍ ؍؍ ص 96

3)اُصولِ تحقیق و ترتیب متن

ڈاکٹر تنویر احمد علوی،ص 12

4)؍؍ ؍؍ ؍؍؍ ؍؍ ؍؍ ص 12

5)امام احمد رضا کی فقہی بصیرت

پروفیسر مسعود احمد مظہری،ص 15

6)قاری دہلی کا امام احمد رضا نمبر

مضمون، مولانا عبدالکریم، ص 358

7)نزہۃ الخواطر

دائرۃ المعارف العثمانیہ، ص 41

8)امام احمد رضا اور ردِّ بدعات و منکرات:  مولانا یٰسین اختر مصباحی ص 402

9) ؍؍ ؍؍ ؍؍ ؍؍ ؍؍ ص 409

10)امام اہلِ سنّت پروفیسر مسعود احمد مظہری ص 48

11)ادبی تحقیق مسائل اور تجزیہ رشید حسن خاں،ص 92،93

12)حجب العوار عن مخدوم بہار امام احمد رضا،ص 3

13)امام اہلِ سنّت پروفیسر مسعود احمد مظہری ص 48

14)ادبی تحقیق مسائل اور تجزیہ رشید حسن خاں،ص 177،118

15)اُصولِ تحقیق و ترتیب متن ڈاکٹر تنویر احمد علوی، ص 178

16)حجب العوار عن مخدوم بہار امام احمد رضا،ص5

17)امام اہلِ سنّت پروفیسر مسعود احمد مظہری ص 49

18)ادبی تحقیق مسائل اور تجزیہ رشید حسن خاں،ص 16

19)اُصولِ تحقیق و ترتیب متن :  ڈاکٹر تنویر احمد علوی،ص102

20)حجب العوار عن مخدوم بہار امام احمد رضا،ص 5

21)امام اہلِ سنّت پروفیسر مسعود احمد مظہری ص 49

22)ادبی تحقیق مسائل اور تجزیہ رشید حسن خاں،ص 138

23)اُصولِ تحقیق و ترتیب متن : ڈاکٹر تنویر احمد علوی، ص 81،82

24)حجب العوار عن مخدوم بہار امام احمد رضا،ص 7،8

25) امام اہلِ سنّت پروفیسر مسعود احمد مظہری ص 49،50

26)ادبی تحقیق مسائل اور تجزیہ

رشید حسن خاں، ص 27

27)تجزیے ڈاکٹر گیان چند جین،ص 71

28)اُصولِ تحقیق و ترتیب متن : ڈاکٹر تنویر احمد علوی،ص 93

29)حجب العوار عن مخدوم بہار امام احمد رضا،ص 6

30)ادبی تحقیق مسائل اور تجزیہ رشید حسن خاں،18

31)اُصولِ تحقیق و ترتیب متن:  ڈاکٹر تنویر احمد علوی،ص 21

32)امام احمد رضا کی فقہی بصیرت مقدمہ: پروفیسر مسعود احمد مظہری،ص 18

afkareraza
afkarerazahttp://afkareraza.com/
جہاں میں پیغام امام احمد رضا عام کرنا ہے
RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular

Recent Comments

قاری نور محمد رضوی سابو ڈانگی ضلع کشن گنج بہار on تاج الشریعہ ارباب علم و دانش کی نظر میں
محمد صلاح الدین خان مصباحی on احسن الکلام فی اصلاح العوام
حافظ محمد سلیم جمالی on فضائل نماز
محمد اشتیاق القادری on قرآن مجید کے عددی معجزے
ابو ضیا غلام رسول مہر سعدی کٹیہاری on فقہی اختلاف کے حدود و آداب
Md Faizan Reza Khan on صداے دل
SYED IQBAL AHMAD HASNI BARKATI on حضرت امام حسین کا بچپن