Thursday, April 18, 2024
Homeعظمت مصطفیٰاسلحہ نبوی ﷺ اور ان کا تعارف

اسلحہ نبوی ﷺ اور ان کا تعارف

 تحریر  علامہ مفتی غفران رضا قادری رضوی اسلحہ نبوی ﷺ اور ان کا تعارف

اسلحہ نبوی ﷺ اور ان کا تعارف

حضورنبی کریم ﷺ کے اسلحہ میں کئی تلواریں بھی تھیں جو تاریخ میں اپنے ناموں سے جانی جاتی ہیں۔ ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تلواریں۔

کتب تاریخ وسیرسےپتہ چلتا ہے کہ رسول اللہﷺ کے پاس کل 9 تلواریں تھیں۔ روایت میں ہے کہ ان نو تلواروں میں سے دو تلواریں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو وراثت میں ملی تھیں ،اس کے علاوہ تین تلواریں رسول اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ و الہ وسلم کو مال غنیمت میں سے ملی تھیں۔ اس وقت ان  نو9   تلواروں میں سے آٹھ 8 تلواریں ترکی کے شہراستنبول میں ایک عجائب گھر(توپ کاپی میوزیم) میں محفوظ کیے گئے ہیں جبکہ ایک تلوار مصر میں ایک مسجد کے اندر محفوظ ہے۔ ان تلواروں کی تفصیل درج ذیل ہے 

۔(١)۔۔۔۔۔  العضب :۔ عضب تلوار

عضب رسول اللہ ﷺ  کی ایک تلوار ہے جو آپ کو حضرت سعد بن عبادہ الانصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تحفے میں دی تھی۔ اور یہی وہ تلوار ہے جو آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ و الہ وسلم نے غزوہ احد میں حضرت ابودجانہ الانصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو عطافرمائی  تاکہ میدان جنگ میں مخالفین کا سامنا کریں۔ یہ تلوار آج بھی مصر کے دار الحکومت قاہرہ کے ایک مسجد جس کا نام مسجد حسین بن علی ہے، اس میں محفوظ رکھی گئی ہے۔  ( یوم غزوہ احد یعنی شہادت سید اشہداء حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کی زندگی کا مختصر سوانح حیات ضرور پڑھیں

۔(٢)۔  الرسوب   :۔  رسوب تلوار

الرسوب وہ تلوار ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خاندان میں کئی پشتوں سے منتقل ہوتے ہوئے آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ و سلم کو ملی، یہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وراثتی تلواروں میں سے ایک ہے۔ اس تلوار کی لمبائی 140 سینٹی میٹر ہے اور یہ ترکی شہر استنبول میں توپ کاپی نامی عجائب گھر میں محفوظ ہے۔

۔(٣)۔۔۔۔  المخدم :   مخدم تلوار

المخدم تلوار کے حوالے سے دو مختلف رائیں سامنے آتی ہیں یعنی پہلی تو یہ کہ یہ تلوار رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے چچا زاد بھائی اپنے داماد ابو تراب حسنین کریمین کے والد بزرگوار سیدہ فاطمہ کے شوہر نامدارحضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کو عطا فرمائی اور بعد میں یہ تلوار حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ تعالٰی وجہہ الکریم کی اولاد میں وراثت کے طور پر نسل در نسل چلتی رہی۔

دوسری رائے یہ ہے کہ یہ تلوار حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کو شام میں ایک جنگ کے دوران مال غنیمت میں ملی تھی۔ اس تلوار کی لمبائی 97 سینٹی میٹر ہے۔ اور یہ تلوار بھی الرسوب کے ساتھ ترکی کے مشہور عجائب گھر توپ کاپی میں محفوظ ہے جو استنبول شہر میں واقع ہے۔

۔(٤)۔۔۔  القلعی  :۔   قلعی تلوار

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ایک ہے، اس تلوار کی لمبائی 100 سینٹی میٹر ہے اور یہ تلوار بھی ترکی کے مشہورِ زمانہ عجائب گھر ’’  توپ کاپی‘‘استنبول میں محفوظ ہے۔ قلعی تلوار ان تین تلواروں میں سے ایک تلوار ہے جو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یثرب کے یہودی قبیلے بنو قینقاع سے جنگ میں مالِ غنیمت کے طور پر ملی تھی۔ اس تلوار کے بارے میں یہ بات بھی کہی جاتی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دادا حضرت عبد المطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس تلوار اور سونے کے بنائے ہوئے دو ہرنوں کو زمزم کے کنویں سے نکلوایا تھا جو قبیلہ جرہم نے یہاں پر ایک زمانہ قبل دفن کیے تھے۔

بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دادا حضرت عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس تلوار کو دیگر قیمتی سامان کے ساتھ بیت اللہ شریف میں بحفاظت رکھوا یا۔ اس تلوار کے اوپر چند الفاظ بھی لکھے گئے ہیں جن کا اردو ترجمہ یہ ہے ۔” یہ تلوار محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے گھرانے کی عزت کی علامت ہے “۔

۔(٥)۔۔۔۔    الماثور   ماثور تلوار

الماثور یا لماثور الفجر، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تلوار جو آپ کو اپنے والد گرامی حضرت عبداللہ بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے بطور وراثت ملی تھی، ہجرت نبوی صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ  وسلم کے دوران جب آپ سفر کر رہے تھے تواس وقت بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ تلوار اپنے ساتھ لے گئے تھے۔

اس تلوار کا دستہ سونے کا بنایا گیا ہے اور دستہ دونوں اطراف سے مڑا ہوا ہے، مزید خوبصورتی کے لیے اس پر زمرد اور فیروزے جڑے ہوئے ہیں۔ تلوار کی لمبائی 99 سینٹی میٹر ہے اور یہ تلوار بھی ترکی کے مشہور عجائب گھر’ ’توپ کاپی میوزیم‘‘ میں محفوظ ہے جو استنبول شہر میں واقع ہے۔

۔(٦)۔۔۔   الحتف   حتف تلوار

حتف تلوار کی لمبائی 112 سینٹی میٹر اور چوڑائی 8 سینٹی میٹر ہے۔ یہ تلوار بھی ترکی کے توپ کاپی عجائب گھر میں محفوظ ہے۔ یہ تلوار بھی رسول اللہ کو یثرب کے یہودی قبیلے بنو قینقاع سے بطور مالِ غنیمت ملی تھی۔ اس تلوار کے بارے میں یہ روایت ہے کہ یہ تلوار حضرت داؤود علیہ السلام کے مبارک ہاتھوں سے بنی ہوئی ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے لوہے کے سازوسامان بنانے میں خصوصی مہارت عطا فرمائی تھی، یہ تلوار یہودیوں کے قبیلے لاوی کے پاس اپنے باپ داداؤں بنو اسرائیل کی نشانیوں کے طور پر نسل در نسل چلی آ رہی تھی حتیٰ کہ آخر میں یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مبارک ہاتھوں میں مالِ غنیمت کے طور پر آپہنچی ۔

۔(٧)۔۔۔  البتار :   بتار تلوار

البتار رسول اللہ کی معروف تلوار ہے اور اس تلوار کی لمبائی 101 سینٹی میٹر ہے۔ اسے سیف الانبیاء یعنی نبیوں کی تلوار بھی کہا جاتا ہے،یہ تلواربھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یثرب کے یہودی قبیلے بنو قینقاع سے مالِ غنیمت کے طور پر ملی تھی، اس کے علاوہ اس تلوار پر حضرت داؤود علیہ السلام‘ حضرت سلیمان علیہ السلام‘حضرت ہارون علیہ السلام‘ حضرت یسع علیہ السلام‘ حضرت زکریا علیہ السلام‘ حضرت یحییٰ علیہ السلام‘ حضرت عیسی علیہ السلام۔

 اورہمارے آقا و مولی جناب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اسماء مبارکہ کنندہ ہیں۔ اس تلوار کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ تلوار حضرت داؤد علیہ السلام کو اس وقت مال غنیمت کے طور پر حاصل ہوئی جب ان کی عمر بیس سال سے بھی کم تھی۔

 اس کے علاوہ اس تلوار پر ایک تصویر سی بھی بنی ہوئی ہے جس میں حضرت داؤد علیہ السلام کو جالوت کا سر قلم کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے ،جالوت اس تلوار کا اصلی مالک تھا۔ تلوار پر ایک ایسا نشان بھی بنا ہوا ہے جو’’ بترا ‘‘ شہر کے قدیمی عرب باشندے البادیون اپنی ملکیتی اَشیاء پر بنایا کرتے تھے۔ بعض روایات میں یہ بات بھی ملتی ہے کہ یہی وہ تلوار ہے کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا تو حضرت عیسٰی اسی تلوار سے دجال کو قتل کر دیں گے۔

۔)٨)۔۔۔الذوالفقار :۔ ذوالفقار تلوار

ذو الفقار تلوار کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ تلوار رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو غزوہ بدر میں بطور مال غنیمت ملی تھی، یہ روایت بھی پائی جاتی ہے کہ آپ نے یہ تلوار بعد میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دی اور اسی تلوار سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے بیشتر مشرکین سرداروں کو شکست دی۔

۔(٩)۔۔۔۔ القضیب  :۔   قضیب تلوار

یہ تلوار کم چوڑائی والی ہے، تلوار کے اوپر کلمہ طیبہ لکھا ہوا ہے او آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نام مبارک بھی لکھا گیا ہے۔ تاہم یہ کہا جاتا ہے کہ یہ تلوار دفاع کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ہوتی تھی باقی جنگوں میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کا استعمال نہیں کیا ہے۔    یہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی وہ مبارک تلواریں تھیں جن کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت حاصل تھی ۔

معراج کی رات براق کی سواری

از قلم    خادم مشن قطبِ اعظم ماریشس حضرت علامہ ابراہیم خوشتر خلیفہ مجاز حضور تاج الشریعہ قدس سرہ

علامہ محمد غفران رضا قادری رضوی

ماریشس افریقہ بانی دارالعلوم رضائے خوشتر و جامعہ رضاے فاطمہ قصبہ سوار ضلع رام پور یوپی

Amazon    Bigbasket    Havelles   Flipkart

 

afkareraza
afkarerazahttp://afkareraza.com/
جہاں میں پیغام امام احمد رضا عام کرنا ہے
RELATED ARTICLES

1 COMMENT

  1. السلام و علیکم ورحمتہ اللہ وبراکاتہ ،
    میرا سوال ہے کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بزات خود تلوار سے گردن اتاری کسی کی؟
    جواب کا طالب۔
    محمد فہیم اقبال سیالوی پاکستان۔
    Email. ifaheem110@gmail.com

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular

Recent Comments

قاری نور محمد رضوی سابو ڈانگی ضلع کشن گنج بہار on تاج الشریعہ ارباب علم و دانش کی نظر میں
محمد صلاح الدین خان مصباحی on احسن الکلام فی اصلاح العوام
حافظ محمد سلیم جمالی on فضائل نماز
محمد اشتیاق القادری on قرآن مجید کے عددی معجزے
ابو ضیا غلام رسول مہر سعدی کٹیہاری on فقہی اختلاف کے حدود و آداب
Md Faizan Reza Khan on صداے دل
SYED IQBAL AHMAD HASNI BARKATI on حضرت امام حسین کا بچپن